دس مثالیں

اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ تعالیٰ قرآ ن مجید میں ایک جگہ فرماتے ہیں:
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ۭ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ 21؀ الحشر
اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تم اسے دیکھتے کہ وہ اللہ کے رعب سے جھکا جارہا ہے، اور پھٹا پڑتا ہے۔ اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔

(یہاں) قرآن کریم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فی الواقع یہ پاک کتاب اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ دل اس کے سامنے جھک جائیں، رونگٹے کھڑے ہوجائیں، کلیجے کپکا جائیں، اس کے سچے وعدے اور اس کی حقانی ڈانٹ ڈپٹ ہر سننے والے کو بید کی طرح تھرادے، اور دربار اللہ میں سربہ سجود کرا دے، اگر یہ قرآن جناب باری تعالیٰ کسی سخت بلند اور اونچے پہاڑ پر بھی نازل فرماتا اور اسے غور و فکر اور فہم و فراست کی حس بھی دیتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا، پھر انسانوں کے دلوں پر جو نسبتاً بہت نرم اور چھوٹے ہیں۔ جنہیں پوری سمجھ بوجھ ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑنا چاہیے، ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و فکر کے لئے اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا، مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو بھی ڈر اور عاجزی کرنی چاہیے(تفسیر ابن کثیر)۔
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔ مثلا عین ضرورت پر کسی چیز کو کھودینے کے لئے الصیف ضیعت اللبن کا محاورہ وہ ضرب المثل ہے ۔ چناچہ قرآن میں امثال بیان کرنے کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ فکر کریں ۔ضَرْبُ المَثلِ۔۔۔ضرب الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] اور ہم نے ہر طرح مثال بیان کردی ہے(تفسیر مفردات القرآن) ۔
ایک جگہ اور فرمایا:
وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ 43؀ العنکبوت
ہم یہ مثالیں لوگوں کے فائدے کے لیے دیتے ہیں، اور انہیں سمجھتے وہی ہیں جو علم والے ہیں(ترجمہ آسان قرآن)۔
بغوی نے عطا اور ابو الزبیر کی روایت بیان کی کہ حضرت جابر نے آیت وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا للنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا الاَّ الْعٰلِمُوْنَ تلاوت کی اور فرمایا : عالم وہ ہے جس کو اللہ کی طرف سے سمجھ ملی ہو اور سمجھنے کے بعد وہ اللہ کی اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی سے پرہیز رکھے(تفسیر مظہری)۔
علم والوں سے مراد ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور آفاق میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر سوچ بچار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہی راسخ فی العلم کہلانے کے مستحق ہیں(تفسیر اشرف الحواشی)۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۡ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا 89؀بنی اسرائیل
اور ہم نے انسانوں کی بھلائی کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی حکمت کی باتیں طرح طرح سے بیان کی ہیں، پھر بھی اکثر لوگ انکار کے سوا کسی اور بات پر راضی نہیں ہیں(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
یعنی ہم نے اس میں ہر مثال کے ساتھ قول کی توجیہ بیان کی جس کے ساتھ اعتبار اور نظرو فکر واجب ہوتی ہے، مثلا آیات، عبرتیں، ترغیب و ترہیب، اوامرو نواہی، پہلے لوگوں کے قصص اور واقعات، جنت و دوزخ اور قیامت وغیرہ(تفسیر قرطبی)۔
یعنی ایک ایک مضمون بار بار مختلف طریقوں سے سہولت تفہیم کے لئے کھول کھول کر بیان کیا ہے(تفسیر ماجدی)۔
ان ہی امثال کے ضمن میں تقریباً دس مثالیں چنی گئیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم میں محفوظ فرمایا ہے۔
چنانچہ فرمایا :
مثال نمبر۱
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ۭ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ 26؀ۙالبقرۃ
بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ (کسی بات کو واضح کرنے کے لئے) کوئی بھی مثال دے، چاہے وہ مچھر (جیسی معمولی چیز) کی ہو، یا کسی ایسی چیز کی جو مچھر سے بھی زیادہ (معمولی) ہو ۔اب جو لوگ مومن ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ایک حق بات ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے۔ البتہ جو لوگ کافر ہیں وہ یہی کہتے ہیں کہ بھلا اس (حقیر) مثال سے اللہ کا کیا مطلب ہے ؟ (اس طرح) اللہ اس مثال سے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے (مگر) وہ گمراہ انہی کو کرتا ہے جو نافرمان ہیں (ترجمہ تقی عثمانی صاحب)
پس منظر
طبری نے جامع 1 / 398 میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود اور چند دیگر صحابہ کرام (رض) فرماتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان
مَثَلُھُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْـتَوْقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّآ اَضَاۗءَتْ مَا حَوْلَهٗ ذَھَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَتَرَكَھُمْ فِىْ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبْصِرُوْنَ 17؀ البقرہ
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک آگ روشن کی پھر جب اس ( آگ نے) اس کے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نور سلب کرلیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
اور
اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ فِيْهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ ۚ يَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِىْٓ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ۭ وَاللّٰهُ مُحِيْطٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ 19۝ البقرہ
یا پھر (ان منافقوں کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے برستی ایک بارش ہو، جس میں اندھیریاں بھی ہوں اور گرج بھی اور چمک بھی۔ وہ کڑکوں کی آواز پر موت کے خوف سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیتے ہیں۔ اور اللہ نے کافروں کو گھیرے میں لے رکھا ہے(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
اور
يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ ۭ كُلَّمَآ اَضَاۗءَ لَھُمْ مَّشَوْا فِيْهِ ڎ وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوْا ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَذَھَبَ بِسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ 20۝ۧ البقرہ
ایسا لگتا ہے کہ بجلی ان کی آنکھوں کو اچک لے جائے گی جب بھی ان کے لئے روشنی کردیتی ہے وہ اس (روشنی) میں چل پڑتے ہیں اور جب وہ ان پر اندھیرا کردیتی ہے تو وہ کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے سننے اور دیکھنے کی طاقتیں چھین لیتا، بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
منافقین کی مثال بیان فرائی تو وہ کہنے لگے اللہ تعالیٰ ایسی مثالیں بیان کرنے سے بلندو برتر ہے۔ ان کے یہ کہنے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ ۔۔۔ اولئک ھم الخسرون تک نازل فرمائی(تفسیر ابنِ مسعود)۔
ربیع بن انس فرماتے ہیں یہ خود ایک مستقل مثال ہے جو دنیا کے بارے میں بیان کی گئی۔ مچھر جب تک بھوکا ہوتا ہے زندہ رہتا ہے جہاں موٹا تازہ ہوا مرا۔ اسی طرح یہ لوگ ہیں کہ جب دنیاوی نعمتیں دل کھول کر حاصل کرلیتے ہیں وہیں اللہ کی پکڑ آجاتی ہے جیسے اور جگہ فرمایا آیت (فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ ) 6 ۔ الانعام :44) جب یہ ہماری نصیحت بھول جاتے ہیں تو ہم ان پر تمام چیزوں کے دروازے کھول دیتے ہیں یہاں تک کہ اترانے لگتے ہیں اب دفعتہً ہم انہیں پکڑ لیتے ہیں (ابن جریر ابن ابی حاتم) ۔ بعض سلف صالحین فرماتے ہیں جب میں قرآن کی کسی مثال کو سنتا ہوں اور سمجھ نہیں سکتا تو مجھے رونا آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ ان مثالوں کو صرف عالم ہی سمجھ سکتے ہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مثالیں خواہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ایماندار ان پر ایمان لاتے ہیں اور انہیں حق جانتے ہیں اور ان سے ہدایت پاتے ہیں (تفسیر ابن کثیر)۔
۔۔۔ ظاہر ہے کہ یہ اعتراض بڑا بےتکا اعتراض تھا کیونکہ مثال ہمیشہ مضمون کی مناسبت سے دی جاتی ہے اگر کسی حقیر و ذلیل کی مثال دینی ہو تو ایسی ہی کسی چیز سے دی جائے گی جو حقیر و ذلیل ہو، یہ کسی کلام کا عیب تو کیا ہوتا اس کی فصاحت و بلاغت کی دلیل ہے مگر یہ بات انہی کی سمجھ میں آتی ہے جو طالب حق ہوں اور حق پر ایمان لاچکے ہوں لیکن جنہوں نے کفر کی قسم کھا رکھی ہے انہیں تو ہر بات پر ہر حالت میں اعتراض کرنا ہے اس لئے ایسی بےتکی باتیں کہتے ہیں(تفسیر آسان قرآن)۔
۔۔۔اِن مثالوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ بہت سوں کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور بہت سوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ہدایت اور گمراہی کا دار و مدار انسان کی اپنی داخلی کیفیت (subjective condition) پر ہے۔ آپ کے دل میں خیر ہے ‘ بھلائی ہے ‘ آپ کی نیت طلب ہدایت اور طلب علم کی ہے تو آپ کو اس قرآن سے ہدایت مل جائے گی ‘ اور اگر دل میں زیغ ہے ‘ کجی ہے ‘ نیت میں ٹیڑھ اور فساد ہے تو اسی کے ذریعے سے اللہ آپ کی گمراہی میں اضافہ کر دے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا کسی کو ہدایت دینا اور کسی کو گمراہی میں مبتلا کردینا الل ٹپ نہیں ہے ‘ کسی قاعدے اور قانون کے بغیر نہیں ہے(تفسیر بیان القرآن)۔
مثال نمبر ۲
اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۭ وَمِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ڛ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاۗءً ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ 17۝ۭالرعد
اسی نے آسمان سے پانی برسایا جس سے ندی نالے اپنی اپنی بشاط کے مطابق بہہ پڑے، پھر پانی کے ریلے نے پھولے ہوئے جھاگ کو اوپر اٹھا لیا، اور اسی قسم کا جھاگ اس وقت بھی اٹھتا ہے جب لوگ زیور یا برتن بنانے کے لیے دھاتوں کو آگ پر تپاتے ہیں۔ اللہ حق اور باطل کی مثال اسی طرح بیان کر رہا ہے کہ ( دونوں قسم کا) جو جھاگ ہوتا ہے وہ تو باہر گر کر ضائع ہوجاتا ہے، لیکن وہ چیز جو لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اسی قسم کی تمثیلیں ہیں جو اللہ بیان کرتا ہے(ترجمہ تقی عثمان صاحب)۔
۔۔۔ پس جیسے یہ جھاگ بغیر کسی کو فائدہ دیے ختم ہوگیا یوں ہی قیامت کے دن باطل اہل باطل کو کوئی فائدہ نہ دے گا اور جیسے پانی نے فائدہ دیا یوں ہی حق اہل حق کو فائدہ دے گا یہ ہے مثال جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے(تفسیر ابن مسعود)۔
یعنی اللہ کے نازل کردہ علم (قرآن اور دوسری کتب سماویہ) سے لوگ طرح طرح کے دنیوی اور اخروی فائدے حاصل کرتے ہیں اور اپنے دلوں کی وسعت کے مطابق اس سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور یہ علم خداوندی قیامت تک بلکہ ہمیشہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے ‘ اس کو کبھی زوال نہیں ہے۔ اس کی تمثیل بارش کے پاس سے دی جاسکتی ہے۔ اوپر سے بارش ہوتی ہے ‘ ندی نالے بھر جاتے ہیں ‘ وادی میں بہہ نکلتے ہیں۔ وادی کی جتنی وسعت ہوتی ہے اور جیسی ضرورت ہوتی ہے ‘ اتنا ہی پانی وادی میں سماتا ہے۔ چھوٹی ندی میں تھوڑا پانی اور گہری بڑی ندی میں زیادہ پانی رواں ہوجاتا ہے۔ لوگ اس پانی سے فائدہ اندوز ہوتے ہیں۔ اس پانی کا کچھ حصہ زمین کے اندر بھی سما جاتا ہے اور اندر گھسنے کے بعد باؤلی ‘ چشموں اور کنوؤں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور کچھ حصہ زمین کے اوپر گڑھوں اور تالابوں میں رک جاتا ہے اور مدت تک باقی رہتا ہے۔یا اللہ کے نازل کردہ علم کو دھات سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ لوگ زیور برتن ہتھیار اور اوزار وغیرہ بناتے ہیں ‘ اس سے فائدہ اندوز ہوتے ہیں اور اس سے بنا ہوا سامان مدت دراز تک باقی رہتا ہے۔ رہا باطل یعنی منکرین و مشرکین (کی خودساختہ خرافات اور نفس) کی اختراعات اور شیطانی توہمات تو ظاہر ہے کہ وہ سب بےاصل ہیں ‘ پراگندہ اور منتشر ہیں۔ نہ ان کو پائیداری حاصل ہے ‘ نہ استقرار و ثبات ‘ نہ وہ فائدہ رساں اور نہ دنیا و دین میں منفعت بخش ہیں۔ ان کو ہم ان جھاگوں اور میل کچیل سے تشبیہ دے سکتے ہیں جو سیلاب اور پگھلائی ہوئی دھات کے اوپر آجاتا ہے۔ جو کوڑا کرکٹ سیلاب کے اوپر آجاتا ہے ‘ سیلاب اس کو ادھر ادھر پھینک دیتا ہے۔ اسی طرح حق بھی باطل کو جمنے نہیں دیتا ‘ ادھر ادھر پراگندہ کردیتا ہے (تفسیر مظہری)۔
ارشاد ہوتا ہے کہ جب ہم آسمان سے مینہ برساتے ہیں تو وہ زمین پر بہہ نکلتا ہے اور تالاب ندی نالے اپنی حیثیت کے موافق پانی لے لیتے ہیں کوئی زیادہ کوئی کم۔ اسی طرح انسان کے دل میں بھی فرق ہے کسی کا دل زیادہ علم دین حاصل کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور کوئی دل کم۔ پھر فرمایا کہ ندی نالے کے پانی میں جھاگ اٹھتا ہے یہ ایک مثال ہے اور سونا چاندی وغیرہ گلانے کے وقت بھی جھاگ اٹھتا ہے اسی طرح حق و ناحق ہے کہ پانی سے جس طرح زمین کو فائدہ پہنچتا ہے، اور سونا چاندی کام میں آتے ہیں اور ان دونوں کا جھاگ سوکھ سوکھا کرجاتا رہتا ہے اس کو قیام نہیں رہتا، اسی طرح حق بات ہمیشہ قائم رہتی ہے اور ناحق کو کوئی قیام نہیں، جھاگ کی طرح وہ ٹھہر نہیں سکتی اور حق بات سے ہمیشہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ناحق سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ اسی قسم کی مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ فائدہ اٹھاویں(تفسیر مظہر القرآن)۔
جب وحی آسمانی دین حق کو لے کر اترتی ہے تو قلوب بنی آدم اپنے اپنے ظرف اور استعداد کے موافق فیض حاصل کرتے ہیں۔ پھر حق اور باطل باہم بھڑ جاتے ہیں تو میل ابھر آتا ہے۔ بظاہر باطل جھاگ کی طرح حق کو دبا لیتا ہے لیکن اس کا یہ ابال عارضی اور بےبنیاد ہے۔ تھوڑی دیر بعد اس کے جوش و خروش کا پتہ نہیں رہتا۔ خدا جانے کدھر گیا۔ جو اصلی اور کارآمد چیز جھاگ کے نیچے دبی ہوئی تھی (یعنی حق و صداقت) بس وہ ہی رہ گئی دیکھو ! خدا کی بیان کردہ مثالیں کیسی عجیب ہوتی ہیں۔ کیسے موثر طرز میں سمجھایا کہ دنیا میں جب حق و باطل بھڑتے ہیں یعنی دونوں کا جنگی مقابلہ ہوتا ہے تو گو برائے چندے باطل اونچا اور پھولا ہوا نظر آئے، لیکن آخرکار باطل کو منتشر کر کے حق ہی ظاہر و غالب ہو کر رہے گا۔ کسی مومن کو باطل کی عارضی نمائش سے دھوکا نہ کھانا چاہیے۔ اسی طرح کسی انسان کے دل میں جب حق اتر جائے کچھ دیر کے لیے اوہام و وساوس زور شور دکھلائیں تو گھبرانے کی بات نہیں تھوڑی دیر میں یہ ابال بیٹھ جائے گا اور خالص حق ثابت و مستقر رہے گا۔ گزشتہ آیات میں چونکہ توحید و شرک کا مقابلہ کیا گیا تھا اس مثال میں حق و باطل کے مقابلہ کی کیفیت بتلا دی (تفسیر عثمانی)۔
ابن عباس (رض) فرماتے ہیں پہلی مثال میں بیان ہے ان لوگوں کا جن کے دل یقین کے ساتھ علم الہٰی کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دل وہ بھی ہیں، جن میں شک باقی رہ جاتا ہے پس شک کے ساتھ کا علم بےسود ہوتا ہے۔ یقین پورا فائدہ دیتا ہے۔ ابد سے مراد شک ہے جو کمتر چیز ہے، یقین کار آمد چیز ہے، جو باقی رہنے والی ہے۔ جیسے زیور جو آگ میں تپایا جاتا ہے تو کھوٹ جل جاتا ہے اور کھری چیز رہ جاتی ہے، اسی طرح اللہ کے ہاں یقین مقبول ہے شک مردود ہے۔ پس جس طرح پانی رہ گیا اور پینے وغیرہ کا کام آیا اور جس طرح سونا چاندی اصلی رہ گیا اور اس کے سازو سامان بنے، اسی طرح نیک اور خالص اعمال عامل کو نفع دیتے ہیں اور باقی رہتے ہیں۔ ہدایت وحق پر جو عامل رہے، وہ نفع پاتا ہے جیسے لوہے کی چھری تلوار بغیر تپائے بن نہیں سکتی۔ اسی طرح باطل، شک اور ریاکاری والے اعمال اللہ کے ہاں کار آمد نہیں ہوسکتے۔ قیامت کے دن باطل ضائع ہوجائے گا۔ اور اہل حق کو حق نفع دے گا(تفسیر ابن کثیر)۔
مثال نمبر ۳
اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ ؀ۙ تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ۔ ابراھیم 24-26
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کی کیسی مثال بیان کی ہے ؟ وہ ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوطی سے جمی ہوئی ہے، اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔ اپنے رب کے حکم سے وہ ہر آن پھل دیتا ہے۔ اللہ (اس قسم کی) مثالیں اس لیے دیتا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اور ناپاک کلمے کی مثال ایک خراب درخت کی طرح ہے جسے زمین کے اوپر ہی اوپر سے اکھاڑ لیا جائے، اس میں ذرا بھی جماؤ نہ ہو(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)
کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ ہے اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے کہ پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے جس کی جڑیں زمین میں مضبوطی کے ساتھ جمی ہوتی ہیں، اور تیز ہوائیں اور آندھیاں اسے نقصان نہیں پہنچاسکتیں، نہ اسے اپنی جگہ سے ہلا سکتی ہیں، اسی طرح جب توحید کا کلمہ انسان کے دل و دماغ میں پیوست ہوجاتا ہے تو ایمان کی خاطر اسے کیسی ہی تکلیفوں یا مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے اس کے ایمان میں کوئی کمزوری نہیں آتی ؛ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو ہر قسم کی اذیتیں دی گئیں ؛ لیکن توحید کا جو کلمہ ان کے دل میں گھر کرچکا تھا اس میں مصائب کی ان آندھیوں سے ذرہ برابر تزلزل نہیں آیا، کھجور کے درخت کی دوسری صفت اس آیت میں یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ اسکی شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں، اور زمین کی کثافتوں سے دور رہتی ہیں، اسی طرح جب توحید کا کلمہ مومن کے دل میں پیوست ہوجاتا ہے تو اسکے تمام نیک کام جو درحقیقت اسی کلمے کی شاخیں ہیں آسمان کی طرف بلند ہوتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچ کر اس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں، اور دنیا پرستی کی کثافتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔۔۔ یہ درخت سدا بہار ہے، اس پر کبھی خزاں نہیں ہوتی، اور وہ ہر حال میں پھل دیتا ہے اگر اس سے مراد کھجور کا درخت ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا پھل سارے سال کھایا جاتا ہے، نیز جس زمانے میں بظاہر اس پر پھل نہیں ہوتا، اس زمانے میں بھی اس سے مختلف فائدے حاصل کئے جاتے ہیں، کبھی اس سے نیرا نکال کر پیا جاتا ہے، کبھی اس کے تنے کا گودا نکال کر کھایا جاتا ہے، اور کبھی اس کے پتوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں، اسی طرح جب کوئی شخص توحید کے کلمے پر ایمان لے آتا ہے تو چاہے خوش حال ہو یا تنگدست، عیش و آرام میں یا تکلیفوں میں ہر حال میں اس کے ایمان کی بدولت اسکے اعمال نامے میں نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں اور اس کے نتیجے میں اس کے ثواب میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے، جو درحقیقت توحید کے کلمے کا پھل ہے(تفسیر آسان قرآن)۔
کلمہ کفر، جھوٹی بات اور ہر ایک کلام جو خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو ” کلمہ خبیثہ ” میں داخل ہے(تفسیر عثمانی)۔
ناپاک کلمہ سے مراد کفر کا کلمہ ہے، اس کی مثال ایسا خراب درخت ہے جس کی کوئی مضبوط جڑ نہ ہو ؛ بلکہ وہ جھاڑ جھنکاڑ کی شکل میں خود اگ آئے، اس میں جماؤ بالکل نہیں ہوتا، اس لئے جو شخص چاہے اسے آسانی سے اکھاڑ ڈالتا ہے، اسی طرح کافرانہ عقیدوں کی کوئی عقلی یا نقلی بنیاد نہیں ہوتی، ان کی تردید آسانی سے کی جاسکتی ہے، اور غالباً اس سے مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ کفر وشرک کے جن عقیدوں نے آج مسلمانوں پر زمین تنگ کی ہوئی ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو اس طرح اکھاڑ پھینکا جائے گا جیسے جھاڑ جھنکاڑ کو اکھاڑ پھینک دیا جاتا ہے(تفسیر آسان قرآن)۔
دونوں مثالوں کا حاصل یہ ہوا کہ مسلمانوں کا دعوائے توحید و ایمان پکا اور سچا ہے جس کے دلائل نہایت صاف و صحیح اور مضبوط ہیں، موافق فطرت ہونے کی وجہ سے اس کی جڑیں قلوب کی پہنائیوں میں اتر جاتی ہیں اور اعمال صالحہ کی شاخیں آسمان قبول سے جا لگتی ہیں۔ (اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ ) 35 ۔ فاطر :10) اس کے لطیف و شیریں ثمرات سے موحدین کے کام و دہن ہمیشہ لذت اندوز ہوتے ہیں۔ الغرض حق و صداقت اور توحید و معرفت کا سدا بہار درخت روز بروز پھولتا پھلتا اور بڑی پائیداری کے ساتھ اونچا ہوتا رہتا ہے اس کے برخلاف جھوٹی بات اور شرک و کفر کے دعوائے باطل کی جڑ بنیاد کچھ نہیں ہوتی۔ ہوا کے ایک جھٹکے میں اکھڑ کر جا پڑتا ہے۔ ناحق بات ثابت کرنے میں خواہ کتنے ہی زور لگائے جائیں، لیکن انسانی ضمیر اور فطرت کے مخالف ہونے کی وجہ سے اس کی جڑیں دل کی گہرائی میں نہیں پہنچتیں۔ تھوڑا دھیان کرنے سے غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یعنی سچ کی طرح اپنے پاؤں نہیں چلتا۔ نہ اس سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے(تفسیر عثمانی)۔
مثال نمبر ۴
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّمَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَـنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّجَهْرًا ۭ هَلْ يَسْتَوٗنَ ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ
وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَآ اَبْكَمُ لَا يَـقْدِرُ عَلٰي شَيْءٍ وَّهُوَ كَلٌّ عَلٰي مَوْلٰىهُ ۙ اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ۭهَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ 75.76؀ۧالنحل
اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ساری تعریفیں اللہ کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (ایسی صاف بات بھی) نہیں جانتے۔ اور اللہ ایک اور مثال دیتا ہے کہ دو آدمی ہیں ان میں سے ایک گونگا ہے جو کوئی کام نہیں کرسکتا، اور اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہ اسے جہاں کہیں بھیجتا ہے، وہ کوئی ڈھنگ کا کام کر کے نہیں لاتا، کیا ایسا شخص اس دوسرے آدمی کے برابر ہوسکتا ہے جو دوسروں کو بھی اعتدال کا حکم دیتا ہے اور خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے ؟
ایک شخص وہ ہے جو آزاد نہیں، دوسرے کا مملوک غلام ہے کسی طرح کی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ ہر ایک تصرف میں مالک کی اجازت کا محتاج ہے۔ بدون اجازت اس کے سب تصرفات غیر معتبر ہیں دوسرا آزاد اور با اختیار شخص ہے جسے خدا نے اپنے فضل سے بہت کچھ مقدرت اور روزی عنایت فرمائی جس میں سے دن رات سراً وعلانیۃً بےدریغ خرچ کرتا ہے۔ کوئی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔ کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ ہر چیز کا مالک حقیقی ہے، سب تعریفیں اور خوبیاں اس کے خزانہ میں ہیں جس کو چاہے دے۔ کوئی مزاحمت کرنے والا نہیں۔ ذرہ ذرہ پر کلی اختیار اور کامل قبضہ رکھتا ہے۔ یہ کس قدر ظلم ہوگا کہ ایک پتھر کے بت کو اس کے برابر کردیا جائے جو کسی چیز کا مالک نہیں بلکہ خود پرایا مال ہے۔ اگر مالک مجازی اور مملوک مجازی برابر نہیں ہوسکتے تو کوئی مملوک محض مالک حقیقی کا شریک کیسے بن سکتا ہے۔ یہاں سے یہ بھی سمجھ لو کہ خدائے واحد کا پرستار جسے مالک نے علم و ایمان کی دولت بخشی اور لوگوں میں شب و روز روحانی نعمتیں تقسیم کرنے کا ذریعہ بنایا، کیا ایک پلید مشرک کو جو بت کا مملوک، اھواء و اوہام کا غلام اور عمل مقبول سے محض تہی دست ہے اس مومن موحد کے ساتھ برابر کھڑا کیا جاسکتا ہے ؟ کلاّ واللہ(تفسیر عثمانی)۔
اللہ تعالیٰ اس کی مزید صراحت کے لیے بتوں کی ایک اور مثال بیان کرتے ہیں کہ دو شخص ہیں، ایک تو ان میں سے گونگا پتھر ہے، بات نہیں کرسکتا ہے جو ان کا بت ہے وہ اپنے مالک اور رشتہ دار پر ایک وبال جان ہے اور اس کو مشرق ومغرب کے جس کونے میں سے بھی پکارا جائے، کسی پکارنے والے کا جواب نہیں دے سکتا، یہ ان کے بتوں کی مثال ہے، کیا یہ بت اور ایسی ذات یعنی اللہ تعالیٰ جو توحید کی تعلیم کرتا ہو اور صراط مستقیم کی طرف لوگوں کو بلاتا ہو نفع پہنچانے اور تکالیف کے دور کرنے میں دونوں برابر ہوسکتے ہیں(تفسیر ابن عباس)۔
ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کرسکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں۔ قول و فعل دونوں سے خالی۔ پھر محض بوجھ، اپنے مالک پر بار، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے۔ پس ایک برابر ہوجائیں گے ؟ ایک قول ہے کہ ایک گونگا حضرت عثمان (رض) کا غلام تھا۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مومن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی۔ کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد حضرت عثمان بن عفان (رض) ہیں۔ اور غلام گونگے سے مراد حضرت عثمان (رض) کا وہ غلام ہے جس پر آپ خرچ کرتے تھے جو آپ کو تکلیف پہنچاتا رہتا تھا اور آپ نے اسے کام کاج سے آزاد کر رکھا تھا لیکن پھر بھی یہ اسلام سے چڑتا تھا، منکر تھا اور آپ کو صدقہ کرنے اور نیکیاں کرنے سے روکتا تھا، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے(تفسیر ابن کثیر)۔
اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں ملکیت کی نفی کے لئے بت کے مقابلہ میں ایک ایسے غلام کی مثال بیان کی جو گونگا نہیں تھا پھر دوسری آیت میں اس کمی میں اور اضافہ کرتے ہوئے فرمایا (ابکم لا یقدر علی شی وھو کل علی مولاہ اینما یوجھہ لایات بخیر) یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بتوں کا نقص اور ان میں خیر کی کمی کو مبالغہ کے طور پر بیان کرنے کے لئے آیت میں گونگا غلام مراد لیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ غلام کسی اور کا مملوک ہے جو اس میں تصرف کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے(تفسیر احکام القرآن للجصاص)۔
مثال نمبر ۵
وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ 112؁النحل
اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی اس کا رزق اس کو ہر جگہ سے بڑی فراوانی کے ساتھ پہنچ رہا تھا، پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری شروع کردی، تو اللہ نے ان کے کرتوت کی وجہ سے ان کو یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا پہننا اوڑھنا بن گیا(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
یہ اللہ تعالیٰ نے ایک عام مثال دی ہے کہ جو بستیاں خوشحال تھیں، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی پر کمر باندھ لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ کی بستی ہے جس میں سب لوگ خوشحالی اور امن کے ساتھ رہ رہے تھے، لیکن جب انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلایا تو ان پر سخت قسم کا قحط مسلط کردیا گیا جس کے نتیجے میں لوگ چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوئے۔ بعد میں انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ آپ قحط دور ہونے کی دعا فرمائیں۔ چناچہ وہ آپ کی دعا سے دور ہوا۔ (تفسیر آسان قرآن)۔
تاویل خاص کے اعتبار سے اس مثال میں یقیناً مکہ ہی کی طرف اشارہ ہے مگر اس کی عمومی حیثیت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ کوئی بستی بھی اس قانون خداوندی کی زد میں آسکتی ہے۔ جیسے پاکستان کے عروس البلاد کراچی کے حالات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب کراچی میں امن وامان وسائلِ رزق کی فراوانی اور خوشحالی کی کیفیت ملک بھر کے لوگوں کے لیے باعث کشش تھی ‘ مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر وہی نقشہ پیش کرنے لگا جس کی جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے۔ یعنی کفر ان نعمت کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کے باشندوں کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا(تفسیر بیان القرآن)۔
اس بستی کے رہنے والوں نے خدا کے انعامات کی قدر نہ پہچانی، دنیا کے مزوں میں پڑ کر ایسے غافل اور بدمست ہوئے کہ منعم حقیقی کا دھیان بھی نہ آیا۔ بلکہ اس کے مقابلہ میں بغاوت کی ٹھان لی۔ آخر خدا تعالیٰ نے ان کی ناشکری اور کفران نعمت کا مزہ چکھایا۔ یعنی امن چین کی جگہ خوف و ہراس نے اور فراخ روزی کی جگہ بھوک اور قحط کی مصیبت نے ان کو اس طرح گھیر لیا جیسے کپڑا پہننے والے کے بدن کو گھیر لیتا ہے۔ ایک دم کو بھوک اور ڈر ان سے جدا نہ ہوتا تھا(تفسیر عثمانی)۔
لباس سے تشبیہ اس لئے دی ہے کہ لباس پہننے والے کو ڈھانپ لیتا ہے۔ جس طرح کہ انسان پر غشی آئے تو وہ اس کے حواس کو ڈھانپ لیتی ہے اور بعض حوادث اس پر اس طرح سوار ہوجاتے ہیں جیسے لباس جسم پر۔ باقی رہی یہ بات کہ جوع و خوف کے لباس پر اذاقہ کا واقع کرنا اس لئے ہے جب وہ خوف و جوع میں سے جو چیز ڈھانپ لے جب اس کا اطلاق اس پر آتا ہے تو چکھنے کا اطلاق بھی اس پر درست ہے(تفسیر مدارک التنزیل)۔
مثال نمبر ۶
يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ ۭ وَاِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْـــــًٔـا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ ۭ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ 73؀ الحج
لوگو ! ایک مثال بیان کی جارہی ہے اب اسے کان لگا کر سنو ! تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو دعا کے لیے پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، چاہے اس کام کے لیے سب کے سب اکٹھے ہوجائیں، اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ ایسا دعا مانگنے والا بھی بودا اور جس سے دعا مانگی جارہی ہے وہ بھی (ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
اس سے قبل کی آیت میں شرک کی مذمت فرمائی تھی اور یہ بتایا تھا کہ ان مشرکوں کے پاس اس کی تائید کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ، اب اس عقیدے کی بےمائگی کا اظہار فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ انکے تمام معبود جمع ہوجائیں ، اور اپنی پوری قوت صرف کردیں ، جب بھی ایک مکھی تک پیدا کرنے میں قاصر رہیں گے ، حالانکہ مکھی ایک نہایت ہی ادنی درجہ کی مخلوق ہے ، اور مکھی کا پیدا کرنا تو بڑی بات ہے اگر وہ انکے کھانے میں سے کچھ چھین لے جائے تو یہ اس کو چھڑا بھی نہیں سکتے ۔جب مطلوب و معبود کی یہ کیفیت ہے کہ ادنی درجے کی مخلوق کے پیدا کرنے پر بھی وہ قادر نہیں ، اور ماننے والوں کی یہ حالت ہے کہ مکھی پر بھی اختیار نہیں ، تو پھر بت پرستی کیسی ؟ کیا اس بےچارگی اور عجز کے بعد بھی کسی شئے کو خدا مان لینا جائز اور درست ہو سکتا ہے ۔ ؟ حقیقت یہ ہے کہ شرک وبت پرستی میں کوئی معقولیت نہیں صرف وہ لوگ اس معصیت کے مرتکب ہوتے ہیں ، جو ذہناً نہایت پست اور ذلیل ہیں ، اور جنہیں مبدا فیاض سے عقل قطعا ارزانی نہیں ہوئی (تفسیر سراج البیان)۔
سلمان (رض) نے فرمایا کہ ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا اور ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوا۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیا تھی ؟ پھر انہوں نے ایک انسان کے کپڑوں پر ایک مکھی دیکھی کہا یہ مکھی ہے لوگوں نے پوچھا اور یہ کس طرح ہوا فرمایا دو مسلمان آدمی گزرے ایک قوم پر جو اپنے بت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی آدمی اس سے نہیں گزرتا تھا مگر وہ کوئی چیز اس بت کو پیش کرتا تھا ان لوگوں نے ان دونوں مسلمانوں سے کہا تم دونوں بھی ہمارے بت کے لیے کچھ پیش کرو انہوں نے کہا ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ان لوگوں نے کہا تم پیش کرو۔ اگرچہ ایک مکھی کیوں نہ ہو۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا تیرا کیا خیال ہے دوسرے نے کہا میں اللہ کے ساتھ کسی شریک نہیں کرتا۔ اس کو قتل کردیا گیا تو وہ جنت میں داخل ہوگیا۔ دوسرے نے کہا اور اپنے چہرے پر اپنے ہاتھ سے ایک مکھی کو پکڑا اور اس کو بت پر ڈال دیا۔ لوگوں نے اس کا راستہ چھوڑدیا تو اس وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوا(تفسیر در منثور)۔
توحید کا سبق تو یہ ہے : لَا مَحْبُوْبَ اِلاَّ اللّٰہ ! لَا مَقْصُوْدَ اِلاَّ اللّٰہ ! لَا مَطْلُوْبَ اِلاَّ اللّٰہ ! یعنی انسان کا محبوب و مقصود و مطلوب صرف اور صرف اللہ ہے۔ باقی کوئی شے مطلوب و مقصود نہیں ہے باقی سب ذرائع ہیں۔ انسان کو زندہ رہنے کے لیے اور اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے مدد لینی پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں توحید کا تقاضا یہی ہے کہ ان سب چیزوں کو ذرائع کے طور پر استعمال ضرور کریں مگر انہیں اپنا مطلوب و مقصود نہ بنائیں۔ نہ کھیتی کو ‘ نہ دکان کو ‘ نہ کسی ہنر کو ‘ نہ کسی پیشے کو ‘ نہ کسی رشتہ دار ‘ اور نہ اولاد کو ! یہ ہے توحید کاُ لبّ لباب ! جو شخص توحید کے اس تصور تک نہیں پہنچ سکتا اور اللہ کی معرفت اس انداز میں حاصل نہیں کرسکتا اس کے ذہن کی پستی اسے اللہ کو چھوڑ کر طرح طرح کی چیزوں کی پرستش کرنا سکھاتی ہے اور پھر اسی ڈگر پر چلتے ہوئے کوئی وطن پرست ٹھہرتا ہے تو کوئی قوم پرست قرار پاتا ہے کوئی دولت کی دیوی کا پجاری بن جاتا ہے تو کوئی اپنے نفس کو معبود بنا کر اپنے ہی حریم ذات کے گرد طواف شروع کردیتا ہے(تفسیر بیان القرآن)۔
مثال نمبر ۷
اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ ۭ اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ ۭ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ ۙ يَّكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْۗءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۭ نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ ۭ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ؀ۙ35
وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۢ بِقِيْعَةٍ يَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَاۗءً ۭ حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَهٗ لَمْ يَجِدْهُ شَـيْــــًٔـا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ ۭ وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ 39؀ۙ اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۭ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ۭ اِذَآ اَخْرَجَ يَدَهٗ لَمْ يَكَدْ يَرٰىهَا ۭ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ 40؀ۧالنور
اللہ تمام آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال کچھ یوں ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ رکھا ہو چراغ ایک شیشے میں ہو، شیشہ ایسا ہو جیسے ایک ستارا، موتی کی طرح چمکتا ہوا، وہ چراغ ایسے برکت والے درخت یعنی زیتون سے روشن کیا جائے جو نہ (صرف) مشرقی ہو نہ (صرف) مغربی ایسا لگتا ہو کہ اس کا تیل خود ہی روشنی دیدے گا۔ چاہے اسے آگ بھی نہ لگے، نور بالائے نور، اللہ اپنے نور تک جسے چاہتا ہے، پہنچا دیتا ہے، اور اللہ لوگوں کے فائدے کے لیے تمثیلیں بیان کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
اور (دوسری طرف) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹیل صحرا میں ایک سراب ہو جسے پیاسا آدمی پانی سمجھ بیٹھتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا اور اس کے پاس اللہ کو پاتا ہے، چناچہ اللہ اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔ اور اللہ بہت جلدی حساب لے لیتا ہے۔ یا پھر ان (اعمال) کی مثال ایسی ہے جیسے کسی گہرے سمندر میں پھیلے ہوئے اندھیرے، کہ سمندر کو ایک موج نے ڈھانپ رکھا ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، اور اس کے اوپر بادل، غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے۔ اگر کوئی اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ اور جس شخص کو اللہ ہی نور عطا نہ کرے، اس کے نصیب میں کوئی نور نہیں(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے اور ہدایت منجانب اللہ دو قسم کی ہوتی ہے تعریف اور تبیان یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ستاروں کے ساتھ اور زمین کو نباتات اور پانی کے ذریعے مزین کرنے والا اور رونق دینے والا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین والوں میں سے مسلمانوں کے دلوں کو روشن ومنور کرنے والا ہے، مسلمانوں کے اس نور یا یہ کہ مسلمان کے دل میں جو نور خداوندی ہے اس کی حالت عجیبہ ایسی ہے جیسے فرض کرو کہ ایک طاق ہے اور اس میں ایک چراغ رکھا ہے اور وہ چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں ہے اور وہ قندیل طاق میں رکھا ہے اور وہ ایسا شفاف ہے جیسا ان پانچ ستاروں یعنی عطارد، زہری، مشتری، بہرام، زحل میں سے ایک چمکدار ستارہ ہو اور اس قندیل میں ایک نہایت سفید درخت کا تیل دیا جاتا ہو اور وہ زیتون کا درخت جو جنگل میں بلندی پر ہے نہ اسے شرقی سایہ پہنچتا ہے اور نہ غربی سایہ یا یہ کہ ایسے مکان پر ہے کہ نہ سورج کے نکلنے کے وقت اس پر دھوپ پڑتی ہے اور نہ سورج کے غروب کے وقت اور اس درخت کا تیل اس قدر صاف ہے کہ اگر اس کو آگ بھی نہ چھوئے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود جل اٹھے گا اور اگر آگ لگ بھی گئی تو ” نور علی نور “ ہے یعنی ایک تو خود چراغ میں روشنی ہے اور پھر قندیل اس قدر نورانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زیتون کا تیل خود صاف اور روشن ہے چناچہ جس میں اس چیز کی صلاحیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنے اس نور معرفت کے ساتھ یا یہ کہ اپنے دین کے ساتھ سرفرازی عطا فرماتا ہے۔یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات بابرکت کا نور ہے جو اپنے آباء کی اصلاب میں ودیعت تھا ا خیر تک اسی وصف کے ساتھ۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی ذات میں مسلم حنیف کی صورت میں ظاہر ہوا اور زیتون سے مراد وہ دین حنیف ہے کہ جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی یعنی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور رہا یہ کہ اس کا تیل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود جل اٹھے گا یہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اعمال صالحہ کی حالت ہے کہ اسی وصف کے ساتھ ان کے آباء کی پشت میں منور ہونے کو ہیں اور وہ چراغ ایک نہایت سفید درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے یہ حالت عجیبہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نور کی ہے اور اگر اس کو آگ بھی نہ چھوئے یعنی اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت کے ساتھ سرفراز نہ کیا جاتا تب بھی ان میں یہ نور ودیعت تھا یا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مقرب نہ بناتا تب ان میں اس نور کو ودیعت نہ فرماتا یا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے مسلمان بندہ کو اس نور ہدایت کے ساتھ سرفراز نہ فرماتا تو اس میں یہ نور ہی نہ ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے معرفت خدا ندوی کی حقیقت بیان فرماتا رہتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس نعمت کے ساتھ سرفراز فرمانے میں بخوبی واقف ہے، یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کی ایک عجیب کیفیت بیان فرمائی اور ساتھ ساتھ اس کے منافع اور خوبیوں کا بھی تذکرہ فرمایا تاکہ انسان اس کا شکر ادا کریں۔ یعنی جیسا کہ چراغ کی روشنی سے راستہ معلوم کیا جاتا ہے اسی طرح معرفت خداوندی بھی ایک نور ہے جس کے ذریعے سے ہدایت حاصل کی جاتی ہے اور جیسا کہ قندیل ایک نور ہے کہ جس سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے اسی طرح معرفت بھی ہدایت حاصل کرنے کے لیے نور ہے اور جس طرح چمک دار اور روشن ستاروں سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح معرفت خداوندی سے بھی کفر وشرک کی تاریکیوں میں نجات حاصل کی جاتی ہے اور جیسا کہ قندیل میں تیل صاف سفید زیتون کے درخت سے پہنچایا جاتا ہے اسی طرح بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معرفت حاصل ہوتی ہے۔اور جیسا کہ زیتون درخت نہ شرقی ہے اور نہ غربی اسی طرح مومن کا دین بھی حنفی ہے نہ یہودی ہے اور نہ نصرانی اور جیسا کہ زیتون کا تیل خود بخود جل اٹھے گا اگرچہ ابھی تک اس کو آگ بھی نہ چھوئے، اسی طرح مومنین کے ایمان کے جو احکامات ہیں خود بخود ہی تعریف کے قابل ہیں، اگرچہ اس کے ساتھ اور دیگر فضائل نہ ہوں۔ اور جیسا کہ چراغ قندیل اور طاق یہ سب نور علی نور ہے، اسی طرح معرفت خداوندی بھی نور اور قلب مومن بھی نور اور اس کا سینہ بھی نور اور داخلہ کی جگہ بھی نور اس کے نکلنے کی جگہ بھی نور اور مومن نور علی نور ہے اور جو اس چیز کے لائق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے اس نور کے ساتھ سرفراز فرماتا ہے، غرض کہ اللہ تعالیٰ نے معرفت خداوندی کی یہ عجیب کیفیت بیان فرمائی ہے(تفسیر ابن عباس)۔
پس مومن کے دل کی صفائی کو بلور کے فانوس سے مشابہت دی اور پھر قرآن اور شریعت سے جو مدد اسے ملتی رہتی ہے اس کی زیتون کے اس تیل سے تشبیہ دی جو خود صاف شفاف چمکیلا اور روشن ہے۔ پس طاق اور طاق میں چراغ اور وہ بھی روشن چراغ۔ یہودیوں نے اعتراضاً کہا تھا کہ اللہ کا نور آسمانوں کے پار کیسے ہوتا ہے ؟ تو مثال دے کر سمجھایا گیا کہ جیسے فانوس کے شیشے سے روشنی۔ پس فرمایا کہ اللہ آسمان زمین کا نور ہے… نعمت پر شکر پھر وہ (مومن)اور تمام انسانوں میں ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی زندہ جو مردوں میں ہو۔ حسن بصری (رح) فرماتے ہیں اگر یہ درخت دنیا میں زمین پر ہوتا تو ضرور تھا کہ مشرقی ہوتا یا مغربی لیکن یہ تو نور الہٰی کی مثال ہے۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہ مثال ہے نیک مرد کی جو نہ یہودی ہے نہ نصرانی۔ ان سب اقول میں بہترین قول پہلا ہے کہ وہ درمیانہ زمین میں ہے کہ صبح سے شام تک بےروک ہوا اور دھوپ پہنچتی ہے کیونکہ چاروں طرف سے کوئی آڑ نہیں تو لامحالہ ایسے درخت کا تیل بہت زیادہ صاف ہوگا اور لطیف اور چمکدار ہوگا۔ اسی لئے فرمایا کہ خود وہ تیل اتنا لطیف ہے کہ گویا بغیر جلائے روشنی دے۔ نور پر نور ہے۔ یعنی ایمان کا نور پھر اس پر نیک اعمال کا نور۔ خود زیتون کا تیل روشن پھر وہ جل رہا ہے اور روشنی دے رہا ہے پس اسے پانچ نور حاصل ہوجاتے ہیں اس کا کلام نور ہے اس کا عمل نور ہے۔ اس کا آنا نور اس کا جانا نور ہے اور اس کا آخری ٹھکانا نور ہے یعنی جنت۔ کعب (رح) سے مروی ہے کہ یہ مثال ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کہ آپ کی نبوت اس قدر ظاہر ہے کہ گو آپ زبانی نہ بھی فرمائیں تاہم لوگوں پر ظاہر ہوجائے۔ جیسے یہ زیتون کہ بغیر روشن کئے روشن ہے۔ تو دونوں یہاں جمع ہیں ایک زیتون کا ایک آگ کا۔ ان کے مجموعے سے روشنی حاصل ہوتی ہوئی۔ اسی طرح نور قرآن, نور ایمان جمع ہوجاتے ہیں اور مومن کا دل روشن ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے پسند فرمائے، اپنی ہدایت کی راہ لگا دیتا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو ایک اندھیرے میں پیدا کیا پھر اس دن ان پر اپنا نور ڈالا جسے وہ نور پہنچا اس نے راہ پائی اور جو محروم رہا وہ گمراہ ہوا۔ اس لئے کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم کے مطابق چل کر خشک ہوگیا۔ (مسند وغیرہ) ۔اللہ تعالیٰ نے مومن کے دل کی ہدایت کی مثال نور سے دے کر پھر فرمایا کہ اللہ یہ مثالیں لوگوں کے سمجھنے لگ لئے بیان فرما رہا ہے، اسکے علم میں بھی کوئی اس جیسا نہیں، وہ ہدایت و ضلالت کے ہر مستحق کو بخوبی جانتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے دلوں کی چار قسمیں ہیں ایک تو صاف اور روشن، ایک غلاف دار اور بندھا ہوا، ایک الٹا اور اوندھا، ایک پھرا ہوا الٹا سیدھا۔ پہلا دل تو مومن کا دل ہے جو نورانی ہوتا ہے۔ اور دوسرا دل کافر کا دل ہے اور تیسرا دل منافق کا دل ہے کہ اس نے جانا پھر انجان ہوگیا۔ پہچان لیا پھر منکر ہوگیا۔ چوتھا دل وہ دل ہے جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی ہے۔ ایمان کی مثال تو اس میں ترکاری کے درخت کی مانند ہے کہ اچھا پانی اسے بڑھا دیتا ہے اور اس میں نفاق کی مثال دمثل پھوڑے کے ہے کہ خون پیپ اسے ابھار دیتا ہے۔ اب ان میں سے جو غالب آگیا وہ اس دل پر چھا جاتا ہے (تفسیر ابن کثیر)۔
یعنی ایک نور پر دوسرا نور۔ آگ کا نور، اس پر تیل کا نور، اس پر شیشے کا نور) سب جانتے ہیں کہ شیشے میں رکھنے سے آگ کی روشنی کئی گنا بڑھ جاتی ہے( پھر اوپر سے طاق جو نور کو یکجا رکھتا ہے(تفسیر اشرف الحواشی)۔
اس کی مثال ایسی سمجھو گویا مومن قانت کا جسم ایک طاق کی طرح ہے جس کے اندر ایک ستارہ کی طرح چمک دار شیشہ (قندیل) رکھا ہو۔ یہ شیشہ اس کا قلب ہوا جس کا تعلق عالم بالا سے ہے۔ اس شیشہ (قندیل) میں معرفت و ہدایت کا چراغ روشن ہے، یہ روشنی ایسے صاف و شفاف اور لطیف تیل سے حاصل ہو رہی ہے جو ایک نہایت ہی مبارک درخت (زیتون) سے نکل کر آیا ہے اور زیتون بھی وہ جو کسی حجاب سے نہ مشرق میں ہو نہ مغرب میں یعنی کسی طرف دھوپ کی روک نہیں کھلے میدان میں کھڑا ہے جس پر صبح و شام دونوں وقت کی دھوپ پڑتی ہے۔ تجربہ سے معلوم ہوا کہ ایسے زیتون کا تیل اور بھی زیادہ لطیف و صاف ہوتا ہے۔ غرض اس کا تیل اس قدر صاف اور چمکدار ہے کہ بدون آگ دکھلائے ہی معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود روشن ہوجائے گا۔۔۔خلاصہ یہ ہوا کہ مومن کا شیشہ دل نہایت صاف ہوتا ہے اور خدا کی توفیق سے اس میں قبول حق کی ایسی زبردست استعداد پائی جاتی ہے کہ بدون دیا سلائی دکھائے ہی جل اٹھنے کو تیار ہوتا ہے۔ اب جہاں ذرا آگ دکھائی یعنی وحی و قرآن کی تیز روشنی نے اس کو مس کیا فوراً اس کی فطری روشنی بھڑک اٹھی۔ اسی کو ” نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ ” فرمایا۔ باقی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے، جس کو چاہے اپنی روشنی عنایت فرمائے اور وہ ہی جانتا ہے کہ کس کو یہ روشنی ملنی چاہیے کس کو نہیں۔ (تفسیر عثمانی)۔
صاحب بیان القرآن نے اس مقام پر تشبیہ کو واضح کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ اسی طرح مومن کے قلب میں اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اس کا انشراح قبول حق کے لیے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لیے تیار رہتا ہے گو بالفعل بعض احکام کا علم بھی نہ ہوا ہو۔ کیونکہ علم تدریجاً حاصل ہوتا ہے جیسے وہ روغن زیتون آگ لگنے سے پہلے ہی روشنی کے لیے مستعد تھا مومن بھی علم احکام سے پہلے ہی ان پر عمل کے لیے مستعد ہوتا ہے اور جب اس کو علم حاصل ہوتا ہے تو نور عمل یعنی عمل کے پختہ ارادہ کے ساتھ نور علم بھی مل جاتا ہے جسے وہ فوراً ہی قبول کرلیتا ہے پس عمل و علم جمع ہو کر نور علی نور صادق آجاتا ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ علم احکام کے بعد اس کو کچھ عمل میں تامل و تردد ہو کہ اگر موافق نفس کے پایا قبول کرلیا ورنہ رد کردیا اسی انشراح اور نور کو دوسری آیت میں اسی طرح بیان فرمایا ہے (اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِنْ رَّبِّہٖ ) (یعنی جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک نور پر ہوتا ہے) اور ایک جگہ فرمایا (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ) ۔حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت کریمہ (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّھْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ) تلاوت فرمائی پھر فرمایا بلاشبہ جب نور سینہ میں داخل کردیا جاتا ہے تو پھیل جاتا ہے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس کے ذریعہ اس کو پہچان لیا جائے آپ ﷺنے فرمایا ہاں دارالغرور (دھو کے کے گھر یعنی دنیا) سے دور رہنا اور دارالخلود (ہمیشگی والے گھر) کی طرف متوجہ ہونا اور موت آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کرنا یہ اس نور کی علامت ہے۔ (اخرجہ البیھقی فی شعب الایمان کمافی المشکوۃ ص ٤٤٦) (تفسیر انوار البیان)۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کو سمجھانے کے لئے مثالیں بتلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر ایک چیز کا علم ہے اسی لئے تو اسکی کتاب جامع ہے اور اس مثال واضح تر مثال مذکور کا تتمہ ہنوز باقی ہے کہ وہ قندیل ایسے گھروں میں رکھی ہے جن کے حق میں اللہ کا حکم ہے کہ ان کو بلند کیا جائے اور ان میں اس اللہ کا نام ذکر کیا جائے اور وہ گھر ایسے ہیں کہ ان میں صبح شام اللہ کے نیک بندے تسبیحیں پڑھتے ہیں وہ ایسے بندے ہیں جن کو خرید وفروخت اللہ کے ذکر سے نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرسکتی دنیاوی کوئی کام بھی کریں ان کاموں کو نہیں بھولتے کیونکہ وہ جو کام کرتے ہیں مالک کی اجازت سے کرتے ہیں اس لئے جس وقت اور جس گھڑی مالک کی اجازت ان کو حاصل ہوتی ہے کام کرتے ہیں اور جس وقت نہیں ہوتی نہیں کرتے(تفسیر ثنائی)۔
کافر سمجھتا ہے کہ اس کا عمل مثلاً صدقہ اس کو نفع پہنچائے گا حتی کہ جب مرجائے گا اور اپنے رب کے پاس پہنچے گا تو اپنے عمل کو نہ پائے گا یعنی اس کا عمل اس کو کوئی نفع نہیں دے گا، اور اللہ کو اپنے عمل کے پاس پایا کہ اس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا یعنی (اللہ نے) اس (کافر) کے عمل کی جزا دنیا ہی میں پوری پوری دیدی، اور اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے والا ہے یعنی جلدی جزا دینے والا ہے یا کافروں کے اعمال سیئہ کی مثال ایسی ہے جیسا کہ گہرے سمندر کی تاریکی جس کو ایک بڑی موج نے ڈھانپ لیا ہو اور اس موج کے اوپر ایک اور موج ہو اور اس دوسری موج کے اوپر بادل ہو، یہ تاریکیاں تہہ بہ تہہ بہت سی تاریکیاں ہیں دریا کی تاریکی موج اول کی تاریکی موج ثانی کی تاریکی اور بادل کی تاریکی اگر دیکھنے والا ان تاریکیوں میں اپنا ہاتھ نکالے تو اس کو نہ دیکھ سکے، یعنی اس (ہاتھ) کے دیکھنے کا امکان ہی نہیں اور جس کو اللہ ہی نور نہ دے تو اسکو نور نہیں جس کو اللہ نے ہدایت نہ دی اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا(تفسیر جلالین)۔
اللہ تعالیٰ نے اس کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت ” اللہ نور السموت والارض “ انی ذات کے نور کے ساتھ شروع فرمایا پھر مومن کے نور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اس نور کی مثال جو اس کے ساتھ ایمان لایا اور ابی بن کعبؓ اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے آیت ” مثل نورہ “ یعنی وہ مومن جس نے ایمان اور قرآن کو سینے میں کردیا آیت ” کمشکوۃ “ یعنی مومن کا سینہ طاق کی طرح ” فیہا مصباح “ اور مصباح سے مراد ہے نور اور وہ قرآن اور ایمان ہے جس کو اس کے سینے نے محفوظ کرلیا آیت ” فی زجاجۃ “ اور زجاجہ اس کا دل آیت ” کانہا کوکب دری “ اور اس کا دل ان چیزوں میں سے ہے کہ جس میں قرآن اور ایمان روشن ہے۔ گویا کہ وہ ستارہ ہے چمکتا ہوا آیت ” یوقد من شجرۃ مبرکۃ “ اور شجرہ مبارکہ کی اصل اخلاص اللہ وحدہ لاشریک لہ کے لیے ہے اور اس کی عبادت ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ آیت ” زیتونۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ “ یعنی اس کی مثال اس درخت کی طرح ہے جس کو درختوں نے گھیر رکھا ہو۔ اور یہ ہرا بھرا نرم ہوتا ہے جس کو کسی حال میں بھی سورج نہیں پہنچتا نہ اس وقت جب طلوع ہوتا ہے اور نہ اس وقت جب غروب ہوتا ہے۔ یہی حالت مومن کی ہے اسے فتنوں سے بھی سورج نہیں پہنچتا نہ اس وقت جب طلوع ہوتا ہے اور نہ اس وقت جب غروب ہوتا ہے۔ یہی حالت مومن کی ہے اسے فتنوں سے محفوظ بنا دیا گیا اور اگر اسے آزمائش میں مبتلا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ثابت قدم رکھا اور اس میں چار خصلتیں ہوتی ہیں اگر گفتگو کرے تو سچ بولے اگر فیصلہ کرے تو انصاف کرے اگر دیا جائے تو شکر کرے اور کسی آزمائش میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور وہ سارے لوگوں میں ایک زندہ آدمی کی طرح ہے۔ جو مردوں کی قبروں میں چل رہا ہوتا ہے۔ آیت نور علی نور۔ اور وہ پانچ انوار میں گھومتا پھرتا ہے۔ اس کا کلام نور ہے۔ اس کا عمل نور ہے اور اس کے داخل ہونے کی جگہ نور ہے اور اسکے نکلنے کی جگہ نور ہے اور اس کے لوٹنے کی جگہ نور ہے وہ قیامت کے دن جنت کی طرف جائے گا پھر کافر کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت، والذین کفروا اعمالہم کسراب، اسی طرح کافر قیامت کے دن آئے گا اور وہ گمان کرے گا کہ اللہ کے نزدیک اس کے لیے خیر ہوگی مگر وہ اس کو نہیں پائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں داخل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر کی ایک اور مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت ” اوکظلمت فی بحر لجی “ اور وہ پانچ تاریکیوں میں گھومتا پھرتا ہے۔ اس کا کلام تاریکی ہے اس کا عمل تاریکی ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ تاریکی ہے اور اس کے داخل ہونے کی جگہ تاریکی ہے۔ اور اس کا ٹھکانہ قیامت کے دن تاریکیوں یعنی جہنم کی طرف ہوگا وہ اسی طرح زندوں میں سے مردہ دل لوگوں میں چلتا رہتا ہے۔ اور وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے لیے کیا ہے اور اس پر کیا ہے (یعنی اس کے حق میں کیا ہے اور اس کے خلاف کیا ہے ) (تفسیر در منثور)۔
مثال نمبر ۸
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ۭ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَاۗءَ فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِيْهِ سَوَاۗءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِيْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 28؀ الروم
وہ تمہیں خود تمہارے اندر سے ایک مثال دیتا ہے۔ ہم نے جو رزق تمہیں دیا ہے، کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اس میں تمہارا شریک ہے کہ اس رزق میں تمہارا درجہ ان کے برابر ہو (اور) تم ان غلاموں سے ویسے ہی ڈرتے ہو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو ؟ ہم اسی طرح دلائل ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو عقل سے کام لیں (ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
طبرانی نے ابن عساکر سے روایت کیا ہے کہ مشرکین اس طرح تلبیہ پڑھا کرتے تھے لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک۔ اس کے بعد کہا کرتے تھے الا شریکا ھو لک تملکہ ومالک یعنی نعوذ باللہ تیرا صرف ایک شریک ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ھل لکم (الخ) یعنی کیا تمہارے غلاموں میں کوئی تمہارا اس مال میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے شریک ہے ؟(تفسیر ابن عباس)
(اللہ تعالیٰ)فرماتا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضامند ہوگا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں۔ پس جس طرح تم یہ بات اپنے لئے پسند نہیں کرتے اللہ کے لئے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کرسکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لئے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لئے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے اتناسنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک وسہیم سمجھیں لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خون ہے؟ (تفسیر ابن کثیر)
مثال نمبر ۹
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْهِ شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 29؀الزمر
اللہ نے ایک مثال یہ دی ہے کہ ایک (غلام) شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی لوگ شریک ہیں جن کے درمیان آپس میں کھینچ تان بھی ہے اور دوسرا (غلام) شخص وہ ہے جو پورے کا پورا ایک ہی آدمی کی ملکیت ہے۔ کیا ان دونوں کی حالت ایسی جیسی ہوسکتی ہے ؟ الحمدللہ (اس مثال سے بات بالکل واضح ہوگئی) لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی(تفسیر آسان قرآن)۔
یہ تمثیل توحید عملی کا مفہوم واضح کرنے کے لیے بیان فرمائی جا رہی ہے۔ یہ دو غلاموں کی حالت کا تقابل ہے۔ ایک غلام کے کئی آقا ہیں اور وہ بھی ضدی ‘ مختلف الاغراض اور مختلف مزاج رکھنے والے۔ اور دوسرا غلام وہ ہے جس کا ایک ہی آقا ہے۔ مقامِ غور ہے کہ اگر چار آپس میں ضد رکھنے والے اور تند خو آدمیوں نے مل کر ایک غلام خرید رکھا ہے تو اس غلام کی جان تو ہر وقت مصیبت میں پھنسی رہے گی۔ ایک آقا اسے بیٹھنے کا کہے گا تو دوسرا اٹھنے کا حکم دے گا۔ تیسرا کوئی اور فرمائش کرے گا اور چوتھا کچھ اور کہے گا۔ وہ بےچارا ایک کو خوش کرنے کی کوشش کرے گا تو دوسرا ناراض ہوجائے گا۔ الغرض ایسے غلام کے لیے ایک وقت میں اپنے سب آقائوں کو خوش رکھنا کسی طور بھی ممکن نہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی غلام کا ایک ہی آقا ہو تو اس کے لیے اپنے اس آقا کو خوش کرنا اور مطمئن رکھنا بہت آسان ہوگا۔ اس مثال کی اہمیت انتظامی امور کے حوالے سے بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ اگر کسی ملک یا ادارے کا ایک مقتدر سربراہ ہوگا تو اس کا نظام درست رہے گا ‘ لیکن جہاں متوازی حکم چلانے والے کئی سربراہ ہوں گے تو وہاں لازمی طور پر فساد مچ جائے گا(تفسیر بیان القرآن)۔
اور اگر کسی کا یہ اشکال ہو کہ زمین آسمان میں بھی اللہ تعالیٰ کی اشراکیت ہے تو اس کے لئے آیت کافی ہو گی
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ 91؀ۙالمومنون
نہ تو اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہے، اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتے۔ پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں(ترجمہ تقی عثمانی صاحب)۔
یعنی زمین و آسمان اور ذرہ ذرہ کا تنہا مالک و مختار وہ ہی ہے نہ اسے بیٹے کی ضرورت نہ مددگار کی، نہ اس کی حکومت و فرمانروائی میں کوئی شریک جسے ایک ذرہ کا مستقل اختیار ہو۔ ایسا ہوتا تو ہر ایک با اختیار حاکم اپنی رعایا کو لے کر علیحدہ ہوجاتا اور اپنی جمعیت فراہم کر کے دوسرے پر چڑھائی کردیتا اور عالم کا یہ مضبوط و محکم نظام چند روز بھی قائم نہ رہ سکتا(تفسیر عثمانی)۔
مثال نمبر ۱۰
ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ ۝وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ ۘاِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 11۝ۙ -10التحریم
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، اللہ ان کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دونوں ہمارے دو ایسے بندوں کے نکاح میں تھیں جو بہت نیک تھے۔ پھر انہوں نے ان کے ساتھ بےوفائی کی، تو وہ دونوں اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے اور (ان بیویوں سے) کہا گیا کہ : دوسرے جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں چلی جاؤ۔اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کیا ہے ان کے لیے اللہ، فرعون کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب اس نے کہا تھا کہ : میرے پروردگار میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دیدے، اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی نجات عطا فرما۔
ان آیتوں میں تمثیل کے طور پر چار عورتوں کا ذکر فرمایا جن میں دو عورتیں حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہما السلام) دوپیغمبروں کی بی بیاں تھیں لیکن ان دونوں عورتوں کے ذاتی اعمال اچھے نہ تھے اس واسطے پیغمبروں کی رشتہ داری ان کے کچھ کام نہیں آئی بلکہ ان کے ذاتی عملوں کی خرابی کے سبب سے ان کی عقبی برباد ہوگئی تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کسی نبی کی بیوی سے بدکاری کا گناہ سرزد نہیں ہوا تھا کہ اللہ کے نبی کی کسر شان نہ ہو۔ اس قول کے موافق حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی دغا کے معنی ، بےدینی ، کے ہیں بدکاری کے معنی نہیں ہیں اب آگے مسلمانوں کی تسلی کے لیے فرعون کی بی بی کا قصہ بیان فرمایا، فرعون کی بی بی کا نام آسیہ بنت مزاحم تھا، حضرت موسیٰؑ کا جادوگروں پر غالب ہونے کا قصہ دیکھ کر جب آسیہ نے اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے کی دل سے تصدیق کی اور زبان سے اس کی تصدیق کا اقرار بھی کیا تو فرعون نے یہ حال سن کر ان پر طرح طرح کے عذاب شروع کردیے انہیں چومیخا کیا (ہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں گاڑ ھ دی تھیں)اور بھاری چکی سینہ پر رکھی اور دھوپ میں ڈال دیا لیکن آسیہ اپنے ایمان پر قائم رہی اور اسی عذاب کی حالت میں انہوں نے اللہ سے دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اللہ تعالیٰ نے آسیہ کی دعا قبول فرمائی اور بہت جلدی فرعون کے ظلم سے ان جنتی بی بی کو نجات دے کر عقبی میں بہت بڑا درجہ انہیں عنایت فرمایا۔۔۔ ، حاصل اس تمثیل کا یہ ہے کہ جس مرد یا عورت کے دل میں حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ کی بیویوں کی طرح بالکل نور ایمانی نہیں ہے ان کی نجات کے لیے اللہ کے پیغمبروں کی قرابت داری بھی کافی نہیں ہوسکتی، اور جن کے دل میں حضرت مریم اور آسیہ کی طرح نور ایمانی ہے ان کو فرعون جیسے بدقرابت داری کی بدی بھی کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتی ، اور جو لوگ حضرت نوح اور لوط (علیہما السلام) کی بیویوں کی طرح ایمان سے بالکل بےبہرہ نہیں ہیں بلکہ ان کے دل میں اگر ذرہ برابر بھی ایمان ہے تو ایسے لوگوں کی نجات کامل الایمان قرابت داروں مسلمانوں کی شفاعت سے ممکن ہے(تفسیر مظہر القرآن)۔
عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہاں خیانت سے مراد کفر ہے۔ سلیمان بن رقیہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کہا کرتی تھیں کہ حضرت نوح ؑمجنون ہیں ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی لوگوں کو آپ (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں بتاتی تھی۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : کسی نبی کی بیوی نے کبھی بھی بدکاری نہیں کی۔ قشیری نے ذکر کیا ہے : اس پر مفسرین کا اجماع ہے، ان کی خیانت دین کے معاملہ میں تھی۔ وہ دونوں مشرک تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ دونوں منافق تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان دونوں کی خیانت چغل خوری تھی۔ جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان دونوں انبیاء کی طرف وحی کی جاتی تو یہ دونوں مشرکوں پر اسے ظاہر کر دیتیں، یہ ضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا طریقہ یہ تھا جب کوئی مہمان آتا تو وہ دھواں دکھاتی تاکہ اس کی قوم کو معلوم ہوجائے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں مہمان آیا ہے کیونکہ مرد آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے(تفسیر قرطبی)۔
اللہ نے ایک پاک دامن عفیفہ معصومہ مریم بنت عمران کو (بطور مثال کے پیش کیا) جن کو ظالموں نے طرح طرح سے بدنام کیا ان کی پاک دامنی پر سیاہ دھبہ لگانا چاہا حق یہ ہے کہ اس ایماندار پاکدامن نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا تو ہم (اللہ) نے اس مریم کے اندر اپنی طرف سے زندگی کی روح پھونکی یعنی اس کے رحم میں بقدرت کاملہ بچہ پیدا کیا جس کا نام عیسیٰ بن مریم تھا چناچہ وہ پیدا ہوا تو مخالفوں کے طعن کے جواب میں مریم نے اسی بچہ کی طرف اشارہ کر کے کہا اسے پوچھ لو یہ کیسے پیدا ہوا ہے اس بچے نے ان کو معقول جواب دئیے پس مخالف یہودیوں کے مطاعن غلط سمجھو کیونکہ مریم عفیفہ پاکدامن تھی اور اس نے اپنے رب کے احکام اور کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اللہ کے فرمانبرداروں میں تھی۔ پس تم اس کی نسبت کسی قسم کی بدگمانی نہ کرو ورنہ اللہ کے راست باز بندوں کے حق میں بد گو سمجھے جائو گے(تفسیر ثنائی)۔
چناچہ اب عورتوں پر واضح کیا جا رہا ہے کہ وہ خود کو اپنے شوہروں کے تابع سمجھتے ہوئے آخرت کے حساب سے غافل نہ ہوجائیں۔ اسلام میں عورت اور مرد کا درجہ انسان ہونے کی حیثیت سے برابر ہے۔ لہٰذا عورتیں اپنے دین و ایمان اور اعمال و فرائض کی خود ذمہ دار ہیں۔ اگر ان کا ایمان درست ہوگا اور اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا تبھی نجات کی کوئی صورت بنے گی۔ ان کے شوہر خواہ اللہ کے کتنے ہی برگزیدہ بندے کیوں نہ ہوں اس معاملے میں وہ ان کے کچھ کام نہیں آسکیں گے۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ان آیات میں چار خواتین کی مثالیں دی گئی ہیں۔۔۔ ان دو عبرت انگیز مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوجانی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے وہ اولوا العزم پیغمبر (علیہ السلام) جنہوں نے ساڑھے نو سو سال اللہ تعالیٰ کے پیغام کی دعوت میں صرف کیے وہ اگر اپنی بیوی کو برے انجام سے نہیں بچا سکے تو اور کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے کسی عزیز رشتے دار کی سفارش کرسکے گا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دعوت کے آغاز میں قبیلہ قریش بالخصوص اپنے قریبی عزیز و اقارب کو جمع کر کے فرمایا تھا : (یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ! اشْتَرُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ اللّٰہِ لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا،‘ یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ! لَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ! لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ! لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ! سَلِیْنِیْ بِمَا شِئْتِ لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا) ” اے قریش کے لوگو ! اپنے آپ کو اللہ (کی گرفت) سے بچانے کی کوشش کرو ‘ میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا۔ اے بنی عبدالمطلب ! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب ! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا۔ اے صفیہ ‘ اللہ کے رسول کی پھوپھی ! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا۔ اے فاطمہ ‘ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی ! تم مجھ سے (میرے مال میں سے) جو چاہو طلب کرلو ‘ لیکن میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہ آسکوں گا۔ “ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں :
(یَافَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ ‘ فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا) ” اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لخت جگر فاطمہ (رض) ! اپنے آپ کو آگ سے بچائو ‘ کیونکہ مجھے تمہارے بارے میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ “(تفسیر بیان القرآن)