اعمال ظاہرہ و باطنہ میں اہل سنت کا مسلک

اب مشکل ہم لوگوں کی ہے کہ نہ وہابی نہ بدعتی ہمارا مشرب یہ ہے کہ اعمال ظاہرہ میں فقہا کی تقلید کرتے ہیں اور اعمال باطنہ میں صوفیہ کی

اور اعمال ظاہرہ میں صوفیہ کی تقلید نہیں کرتے مثلاً سماع وغیرہ کہ ان کو باطن میں کچھ دخل نہیں خود یہ جائز و ناجائز دونوں سے مرکب تو اس میں تو ہم فقہا کے  مقلد ہیں اور جو اعمال باطنہ ہیں اس میں ہم صوفیہ کے مقلد ہیں۔ مثلاً ذکر جہر کو فقہا مکروہ کہتے ہیں اور صوفیہ جائز اور اس کو باطن میں دخل ہے تو اس میں ہم صوفیہ کے مقلد ہیں تو ہمارے بزرگوں کا مشرب حنفی صوفی ہے تو ایسے شخص کی کمبختی دونوں طرف سے آتی ہے۔اب عرس میں شریک نہ ہوئے تو وہابی اور ذکر جہر کیا تو بدعتی ہونے کا اعتراض۔ اسی طرح فیض قبور میں نہ تو ہم ایسے قائل کہ سب کام وہی کرتے ہیں اور نہ اس کے قائل کہ اس سے کچھ ہوتا ہی نہیں۔

دین میں تنگی نہیں تھانوی صاحب صفحہ ۵۴۔۵۵