ٹخنہ سے نیچے کپڑا

صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت نہ کرے گا نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کیلئے دردناک عذاب ہیں، ایک تو  دے کر احسان جتانے والا، دوسرا ٹخنوں سے نیچے پاجامہ اور تہبند لٹکانے والا، تیسرا اپنے سودے کو جھوٹی قسم کھا کر بیچنے والا۔

جابر بن سلیم (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے، تو آپﷺ نے (چند اہم امور کا تذکرہ کرنے کے بعد) فرمایا : تہبند کو نیچے نہ لٹکاؤ، کیونکہ تہبند کا (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔[ أحمد : ٥؍٦٤، ح : ٢٠٦٦٣ ]

حضرت ابو سعید خدری (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے (اور) اس میں اس پر کوئی گناہ نہیں کہ آدھی پنڈلیوں اور ٹخنوں کے درمیان ہو، اور جو اس کے نیچے ہو وہ دوزخ میں لے جانے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، جس نے اپنا تہبند اتراتے ہوئے گھسیٹا (رواہ ابوداؤد صفحہ ٢١٠: ج ٢) کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا گناہ صرف تہبند ہی میں نہیں۔ بلکہ دوسرے کپڑوں میں بھی ہے، کرتہ، عمامہ، پائجامہ کو اگر کوئی ٹخنوں سے نیچے لٹکائے تو یہ بھی اسی ممانعت میں شامل ہیں۔

قال النبی الاسبال فی الا زار و القمیص و العمامۃ من جرمنھا شیئا خیلاء لم ینظر اللّٰہ الیہ یوم القیامۃ۔ (رواہ ابوداود صفحہ ٢١٠: ج ٢)

حضرت جابر بن سلیم (رض) کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو نصیحتیں فرمائیں ان میں سے یہ بھی ہے اِیَّاکَ وَ اِسْبَال الازار فَاِنَّھَا مِنَ الْمخِیْلَۃِ وَ اِنَّ لاَ یُحِبُّ الْمُخِیْلَۃَ (کہ تہبند کو لٹکانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے اور بیشک اللہ تکبر پسند نہیں کرتا۔ (رواہ ابو داؤد صفحہ ٢١٠: ج ٢)

آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اَنَّھَا مِنَ الْمُخِیْلَہِ فرما کر ان لوگوں کی بات کی تردید فرما دی ہے جو ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تکبر کی وجہ سے نہیں پہنتے جو لوگ ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنتے ہیں اگر اونچا پہن لیں تو اس میں اپنی اہانت سمجھتے ہیں اور جو لوگ اونچا کپڑا پہنتے ہیں ان کو حقیر جانتے ہیں یہی تو تکبر ہے یہ لوگ کسی بھی طرح آدھی پنڈلی تک تہبند باندھ کر بازار میں جا کر دکھا دیں دیکھو نفس گوارا کرتا ہے یا نہیں ؟ اس سے پتہ چل جائے گا کہ ٹخنوں سے نیچا پہننا تکبر کے لیے ہے یا نہیں ؟ سابقہ امتوں میں سے ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ وہ تکبر سے اپنے تہبند کو گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا لہٰذا اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا، وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ ( رواہ البخاری صفحہ ٨٦١: ج ٢)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص تکبر کرتے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ (رواہ البخاری صفحہ ٨٦١)

حضرت ابو سعید خدری (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے (اور) اس میں اس پر کوئی گناہ نہیں کہ آدھی پنڈلیوں اور ٹخنوں کے درمیان ہو، اور جو اس کے نیچے ہو وہ دوزخ میں لے جانے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، جس نے اپنا تہبند اتراتے ہوئے گھسیٹا (رواہ ابوداؤد صفحہ ٢١٠: ج ٢) کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا گناہ صرف تہبند ہی میں نہیں۔ بلکہ دوسرے کپڑوں میں بھی ہے، کرتہ، عمامہ، پائجامہ کو اگر کوئی ٹخنوں سے نیچے لٹکائے تو یہ بھی اسی ممانعت میں شامل ہیں۔

قال النبی الاسبال فی الا زار و القمیص و العمامۃ من جرمنھا شیئا خیلاء لم ینظر اللّٰہ الیہ یوم القیامۃ۔ (رواہ ابوداود صفحہ ٢١٠: ج ٢)

حافظ عبدالسلام بھٹوی الاسرا۔37

ایک آدمی کی لنگی ٹخنوں سے نیچے تھے اس کو نبی کریم نے فرمایا کہ دوبارہ جاکروضو کرو اور نماز پڑھ۔ اس نے کہا حضرت میراوضوا بھی ہے اور میں نے نماز آپ کے ساتھ پڑھی ہے ، آپ نے فرمایا تیری نماز نہیں ہوئی ، اس نے کہا ، حضرت وجہ ؟ آپ نے فرمایا، اسبلت ازارک، تونے اپنی لنگی ٹخنوں سے نیچے لٹکائی ہوئی ہے ، یہ ابوداؤد شریف کی رو آیت ہے کہ صحیح سند کے ساتھ۔ سرفراز خان صفدر النمل۔1

احمد والطبرانی نے شرید بن سوید (رض) نے روایت کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنی چادر کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے تھے آپ نے اس سے فرمایا اپنی چادر کو اونچا کر اس نے کہا یارسول اللہ میں احنف ہوں میرے گھٹنے آپس میں ٹکراتے ہیں آپ نے فرمایا اپنی چادر کو اونچا کر ہر چیز کو اللہ نے خوبصورت بنایا۔

نبی کریمﷺ تہبند کی انتہا لخنہ معین کی ہے اور جو اس سے بھی نیچے ہو اس پر دھمکی دی ہے ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اپنے دامنوں کو نیچے چھوڑے رکھتے ہیں اپنے کپڑوں کو لمبا کرتے ہیں پھر اپنے ہاتھوں سے انہیں اوپر اٹھاتے ہیں یہ تکبر کی حالت ہے اور عجب (اپنے عمل پر خوشی کا اظہار کرنا) کا طریقہ ہے۔ اس معاملہ میں سب سے شدید معاملہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں کپڑوں کو ناپاک کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے ساتھ جاملاتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے غیر کو نہیں ملایا اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی کو لاحق کیا ہے۔

نبی کریمﷺ کا فرمان ہے : جس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ صحیح کے الفاظ یہ ہیں جس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے تہبند کو گھسیٹا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا، حضرت ابوبکر(رض) نے عرض کیا یارسول اللہ میرے تہبند کا ایک پہلوڈھیلارہتا ہے مگر اس میں اس صورت میں اگر میں اس کا خیال رکھوں۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا، تو ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے نہی کو عام رکھا اور حضرت ابوبکر(رض) کو مستثنی قرار دیا توکمینے لوگوں نے اپنے آپ کو بلند مرتبہ لوگوں کے ساتھ ملانے کا قصد کیا یہ ان کے لیے جائز نہیں۔تفسیر جلالین