المفسدین

اللہ تعالٰی کا مفسدین کو نا پسند کرنا

المفسدین

یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں (تفسیر مفردات القرآن) ۔

فاسقین فاسق کی جمع ہے، یہ لفظ فسق سے مشتق ہے جس کا معنی ہے حکم عدولی کرنا اور فرمانبرداری سے باہر ہوجانا، یہ لفظ کافروں کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور گناہ کبیرہ کے مرتکب کے لیے بھی ہر ایک کی حکم عدولی اپنے اپنے عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے ہے۔۔۔فساد بگاڑ کو کہتے ہیں اور یہ بہت جامع لفظ ہے۔ کفر اختیار کرنا، منافق بننا، مشرک ہونا، اللہ کی وحدانیت کا منکر ہونا، دوسروں کو ایمان سے روکنا۔ حق اور اہل حق کا مذاق بنانا، حقوق کا غصب کرنا، چوری کرنا، ڈاکہ ڈالنا، قتل و خون کرنا جس کی شریعت میں اجازت نہیں دی گئی۔ یہ سب فساد فی الارض میں داخل ہے۔ (تفسیر انوارالبیان)۔

اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:

ۭ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۭكُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّـلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ ۙوَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا  ۭوَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ       64 المائدہ

، اور ہم نے ڈال دی انکے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک، انہوں نے جب کبھی لڑائی کی آگ جلائی اللہ نے اسے بجھا دیا۔ اور یہ لوگ فساد کے لیے دوڑتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا

ابن ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپﷺ نے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی ؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ ﷺنے یہی آیت تلاوت فرمائی “۔ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر حضرت ابن لبید(رض) نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا ؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ ﷺنے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا۔ پھر فرمایا ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے(تفسیر ابنِ کثیر)۔

 اور ہم نے یہود و نصاری کو قتل و غارت گری اور دشمنی میں مبتلا کردیا ہے، العیاذ باللہ جب بھی یہ لوگ اپنی سرکشی میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دست درازی کا اراداہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا شیرازہ بکھیر دیتا ہے اور یہ زمین میں لوگوں کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور توحید خداوندی سے دور کرنے کے لیے فساد کرتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ یہود اور ان کے تحریف شدہ دین کو پسند نہیں فرماتے(تفسیر ابنِ عباس)۔

 اور اہل کتاب میں آج کل بظاہر بہت اتحاد اور اتفاق دیکھا جاتا ہے اس واقعہ کی تکذیب تو ہو نہیں سکتی تو اس سے اس آیات میں شبہ ہوسکتا ہے جواب یہ ہے کہ اس سے اوپر یہود کا ذکر ہے تواول تو جب تک ان میں اتحاد ثابت نہ کیا جائے آیت کے مضمون پر کوئی شبہ نہیں دوسرے اگر اس کے قبل اہل کتاب کا ذکر ہونے کی وجہ سے مطلق اہل کتاب کی طرف بھی ضمیر کو راجع کیا جائے تو جواب یہ ہے کہ اس عدوات سے مراد مذہبی عداوت ہے اور اب جن لوگوں میں اتحاد دیکھا جاتا ہے وہ مذہب سے بالکل علیحدہ ہیں۔ ان میں جو اتحادہے وہ اغراض دینوی ہی میں ہے(تفسیر اشرف التفاسیر)۔

 قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل کیا اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا تو یہودی مجوسیوں کے ماتحت تھے پھر فرمایا : (آیت) ” ویسعون فی الارض فسادا “ یعنی وہ اسلام کے ابطال کے لیے کوشش کرتے ہیں یہ بہت بڑا فساد ہے، واللہ اعلم(تفسیر قرطبی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ   77 القصص

اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے دار آخرت حاصل کرنے کی کوشش کرو اور مت بھولو تم دنیا سے اپنا حصہ اور لوگوں کے ساتھ احسان کرو ‘ جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت مچاؤ ‘ یقیناً اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا

یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرر فرمودہ حقوق اور فرائض سے جان مت چرا اور گناہوں میں خرچ نہ کر، ریا کاری کے کاموں میں نہ لگا کیونکہ یہ زمین میں فساد برپا کرنے کی چیزیں ہیں (اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا) قوم نے جو فساد سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی نصیحت کی تھی اس کے جواب میں قارون نے کہا (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ) (کہ یہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو کہ اللہ نے میرے ساتھ احسان فرمایا ہے مجھے مال دیا ہے میں اس بات کو نہیں مانتا مجھے تو یہ مال میری دانشمندی اور ہنر مندی کی وجہ سے ملا ہے) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ قارون سونا بنانے کی صنعت یعنی کیمیا گری سے واقف تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے تجارت کے طریقوں سے اور کسب اموال کے مختلف ذرائع سے یہ مال کمایا ہے (قرطبی) پس جب میری محنتوں سے ملا تو مجھے اختیار ہونا چاہیے کہ اپنا مال جہاں لگاؤں جس طرح لگاؤں اور کسی کو دوں یا نہ دوں (تفسیر انوار البیان)۔

اپنے سیاق وسباق کے حوالے سے یہ بہت اہم ہدایت ہے۔ وہ کون سا فساد تھا جس میں قارون ملوث تھا ؟ یہ سمجھنے کے لیے مصر کے اس ماحول کا تصور کریں جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دن رات ہمہ تن کار نبوت اور فرائضِ رسالت کی ادائیگی میں لگے ہوئے تھے۔ اس معاشرے کے کچھ لوگ تو آپ ( علیہ السلام) کا ساتھ دے رہے تھے اور اس کام میں آپ ( علیہ السلام) کا ہاتھ بٹانے کی کوشش میں تھے ‘ جبکہ کچھ دوسرے لوگ آپ ( علیہ السلام) کی راہ میں روڑے اٹکانے اور آپ ( علیہ السلام) کے مشن کو ناکام بنانے کے لیے سازشوں میں مصروف تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ اس معاشرے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے جو خیر پیدا کرنا چاہتا تھا ‘ قارون اور اس کے گروہ کے لوگ مختلف حربوں سے اس خیر کا راستہ روکنے کی کوشش میں مصروف تھے ‘ اور یہی وہ ” فساد فی الارض “ ہے جس کا یہاں ذکر ہوا ہے۔اس حوالے سے اگر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدنی دور کا جائزہ لیں تو مدینہ کے منافقین بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشن کے خلاف اسی طرح کی منفی سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے۔ ان کی مفسدانہ سازشوں کا ذکر سورة البقرۃ میں اس طرح کیا گیا ہے : (وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ لاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِلا قالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ۔ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لاَّ یَشْعُرُوْنَ ) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار ! بلاشبہ وہی ہیں فساد کرنے والے ‘ لیکن وہ شعور نہیں رکھتے “۔ چناچہ کسی دینی جماعت یا تحریک کی اصلاحی اور انقلابی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ایسی جماعت کے نظم کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں کرنا گویا ” فساد فی الارض “ کے زمرے میں آتا ہے اور اللہ کو ایسے مفسد لوگ پسند نہیں ہیں۔ یعنی دین کی سربلندی کے لیے کی جانے والی کوشش کا حصہ بنو ‘ نہ کہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرو (تفسیر بیان القرآن)۔

وَلاَ تَبْعِ الْفَسَاد اور زمین پر فساد (بگاڑ) کا خواستگار نہ ہو۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس سے مراد ہے ظلم و بغی کی ممانعت۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ زمین پر فساد کا طلب گار ہوا (یعنی گناہ اور اللہ کی نافرمانی ہی فساد اور تباہی ہے)۔ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ یعنی بداعمالوں کی بداعمالی کی وجہ سے اللہ ان کو پسند نہیں کرتا(تفسیر مظہری) ۔

مفسدین کی صفات کو قرآن میں مختلف مقامات پر ذکر کیا گیا  ہے، ایک جگہ فرمایا:

الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِه   ٖ  ۠   وَ يَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ   ۭ   اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ   27البقرۃ

جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے (ساتھ کیے ہوئے) عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد۔ اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے  یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

اس قسم کی مثال سے یہودی گمراہ ہوتے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت تاکید وزور کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں اور پھر بدعہدی کا ارتکاب کرتے ہیں اہل ایمان اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ صلہ رحمی کو ختم کرتے ہیں اور لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن حکیم سے بدظن کرتے ہیں یہی لوگ دنیا وآخرت کے تباہ ہونے کی وجہ سے گھاٹے اور خسارے میں ہیں(تفسیر ابنِ عباس)۔

ٍ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کی تین صفات بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ اللہ سے کیا ہوا عہد توڑتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ رشتہ داروں کے حقوق پامال کرتے ہیں اور تیسرے یہ کہ زمین میں فساد مچاتے ہیں، ان میں سے پہلی چیز اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں  نہ وہ عقیدہ رکھتا ہے جو رکھنا چاہئے اور نہ اس کی وہ عبادت کرتا ہے جو ان پر فرض ہے، دوسری اور تیسری چیز کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اللہ تعالیٰ نے مختلف رشتوں کے جو حقوق مقرر فرمائے ہیں، ان کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی سے ہی ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے، اگر ان رشتوں کو کاٹ کر باپ، بیٹے، بھائی بھائی، شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے حقوق پامال کرنا شروع کردیں تو وہ خاندانی نظام تباہ ہوجاتا ہے جس پر ایک صحت مند تمدن کی بنیاد قائم ہوتی ہے، لہذا اس کا لازمی نتیجہ زمین میں فساد کی صورت میں نکلتا ہے اسی لئے قرآن کریم نے رشتوں کو کاٹنے اور زمین میں فساد مچانے کو سورة محمد (٢٦: ٢٢) میں بھی ایک ساتھ ملاکر ذکر فرمایا ہے . آیت: فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم(تفسیر آسان قرآن)۔

غیر اللہ کی حاکمیت (sovereignty) کو تسلیم کرنا سب سے بڑی بغاوت ‘ سرکشی ‘ فسق اور نافرمانی ہے خواہ وہ ملوکیت کی صورت میں ہو یا عوامی حاکمیت (popular sovereignty) کی صورت میں(تفسیر بیان القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا 56 الاعراف

انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی معاشرت تمدن و اخلاق کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے نظام میں خرابی کی بیشمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصد ہے قانون اسلام کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے ہی سے عالم کی اصلاح ہوتی ہے اور مکمل دستور العمل سے انکار و انحراف ہی سے پہلے فساد عقائد اور فساد اعمال و اخلاق پیدا ہوتے ہیں جو جرائم، معاصی، قتل و گا رت گری غرضیکہ ہر قسم کے فساد کا باعث ہے جس کی وجہ سے عالم میں فساد برپا ہوتا ہے(تفسیر جلالین)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

ۭقَدْ جَاۗءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْـيَاۗءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا  85 الاعراف

اور ہم نے مدین (والوں) کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اہل مدین سے) فرمایا کہ میری قوم تم (صرف) اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (بننے کے قابل) نہیں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (میرے نبی ہونے پر) واضح دلیل (کہ کوئی معجزہ ہے) آچکی ہے (جب میری نبوت ثابت ہے) تو (احکام شرعیہ میں میرا کہنا مانو چناچہ میں کہتا ہوں کہ) تم ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو (جیسا کہ تمہاری عادت ہے) اور روئے زمین میں بعد اس کے کہ (تعلیم و توحید و بعثت انبیاء و ایجاب عدل و ادائے حقوق مکیال و میزان سے) اس کی درستی (تجویز) کردی گئی فساد مت پھیلاو (یعنی ان احکام کی مخالفت اور کفر مت کرو کہ موجب فساد ہے)(تفسیر معارف القرآن)۔

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ کے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو رسول بنا کر مبعوث فرمانے سے پہلے اس زمین میں معاصی اور گناہوں کے اعمال کیے جا رہے تھے، محارم کو حلال سمجھا جا رہا تھا اور اسمیں خون بہایا جا رہا تھا۔ فرمایا : پس یہی اس کا فساد ہے(تفسیر قرطبی)۔

 اس سے آگے فرمایا:

وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَتَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَتَبْغُوْنَهَا عِوَجًا  ۚ86 الاعراف

فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ۔ ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کیلئے جو آنا چاہتا ہے اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو۔ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو۔ راہ حق کو ٹیڑھا کردینا چاہتے ہو ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت سے تو قتل و غارت سے روک کے لئے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو(تفسیر ابنِ کثیر)۔

اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ان کے یہ دو جرم الگ الگ تھے۔ راستوں پر بیٹھ کر لوٹ کھسوٹ بھی کرتے تھے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے روکتے تھے۔ پہلے جملہ میں پہلا مضمون اور دوسرے جملہ میں دوسرا مضمون بیان فرمایا ہے۔ تفسیر بحر محیط وغیرہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور راستوں پر بیٹھ کر لوٹ کھسوٹ کرنے میں اس کو بھی داخل قرار دیا ہے جو خلاف شرع ناجائز ٹیکس وصول کرنے کے لئے راستوں پر چوکیاں بنائی جاتی ہیں(تفسیر معارف القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭاِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ 73 الانفال

مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں وہ مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے نہ مسلمان کافر کا وارث اور نہ کافر مسلمان کا وارث پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی(تفسیر ابنِ کثیر)۔

آیت کے ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مشرکوں سے علیحدگی اختیار نہ کی اور ایمان داروں سے دوستیاں نہ رکھیں تو ایک فتنہ برپا ہوجائے گا۔ یہ اختلاط برے نتیجے دکھائے گا لوگوں میں زبردست فساد برپا ہوجائے گا(تفسیر ابنِ کثیر)۔

اگر ان احکام پر عمل نہ کیا گیا تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا۔ یہ تنبیہ غالبا اس لئے کی گئی کہ جو احکام اس جگہ بیان ہوئے ہیں وہ عدل و انصاف اور امن عامہ کے لئے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان آیات نے یہ واضح کردیا کہ باہمی امداد و اعانت اور وراثت کا تعلق جیسے رشتہ داری پر مبنی ہے ایسے ہی اس میں مذہبی اور دینی رشتہ بھی قابل لحاظ ہے بلکہ نسبی رشتہ پر دینی رشتہ کو ترجیح حاصل ہے اسی وجہ سے کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ آپس میں نسبی رشتہ سے باپ اور بیٹے یا بھائی بھائی ہوں۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی تعصب اور عصبیت جاہلیت کی روک تھام کرنے کے لئے یہ بھی ہدایت دے دی گئی ہے کہ مذہبی رشتہ اگرچہ اتنا قوی اور مضبوط ہے مگر معاہدہ کی پابندی اس سے بھی زیادہ مقدم اور قابل ترجیح ہے۔ مذہبی تعصب کے جوش میں معاہدہ کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہدایت دے دی گئی کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے ولی اور وارث ہیں ان کی شخصی ولایت و وراثت میں مداخلت نہ کی جائے۔ دیکھنے کو تو یہ چند فرعی اور جزئی احکام ہیں مگر در حقیقت امن عالم کے لئے عدل و انصاف کے بہترین اور جامع بنیادی اصول ہیں۔ اسی لئے اس جگہ ان احکام کو بیان فرمانے کے بعد ایسے الفاظ سے تنبیہ فرمائی گئی جو عام طور پر دوسرے احکام کے لئے نہیں کی گئی کہ اگر تم نے ان احکام پر عمل نہ کیا تو زمین میں فتنہ اور فساد پھیل جائے گا۔ ان الفاظ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ احکام فتنہ و فساد کو روکنے میں خاص دخل اور اثر رکھتے ہیں(تفسیر معارف القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

.فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ  ۙ السِّحْرُ   ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبْطِلُهٗ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ81 یونس

اور جب انہوں نے ڈال دیاتو موسیٰ نے فرمایا کہ تم لوگ جو کچھ لائے ہو یہ جادو ہے۔ یقیناً اللہ اسے ابھی باطل کر دے گا۔ بیشک اللہ مفسدوں کے عمل کو کامیاب نہیں کرتا

حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ،قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں   یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے (تفسیر مظہری)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّةٍ يَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْهِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ       116 ھود

تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں حق کے ایسے علمبردار ہوتے جو (اپنی اپنی قوموں کے لوگوں کو) روکتے زمین میں فساد مچانے سے مگر بہت تھوڑے لوگ ایسے تھے جنہیں ہم نے ان میں سے بچالیا اور پیچھے پڑے رہے وہ ظالم ان عیش و آرام کی چیزوں کے جو انہیں دی گئی تھیں اور وہ مجرم تھے

مطلب یہ کہ نافرمانی تو ان میں عام طور پر رہی اور منع کرنے والا کوئی ہوا نہیں اس لیے سب ایک ہی عذاب میں مبتلا ہوئے ورنہ کفر کا عذاب عام ہوتا۔ اور فساد کا خاص اب بوجہ نہ منع کرنے کے غیر مفسد بھی مفسد ہونے میں شریک قرار دیے گئے اس لیے جو عذاب مجموعہ کفر و فساد پر نازل ہوا وہ بھی عام رہا(تفسیر بیان القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 41 الروم

بحر و بر میں فساد رونما چکا ہے لوگوں کے اعمال کے سبب تاکہ وہ انہیں مزہ چکھائے ان کے بعض اعمال کا تاکہ وہ لوٹ آئیں

مفسرین نے فسادکے مختلف معنی مراد لئے ہیں، بعض حضرات نے قحط اور وبائی امراض اور ہر شئ سے خیروبرکت کا اٹھ جانا مراد لیا ہے، نیز مذکورہ آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آفات کا سبب انسانوں کے اعمالِ بد ہیں جن میں شرک وکفر سب سے زیادہ شدید ہے(تفسیر جلالین)۔

یہ آیت جس شان سے آج دنیا کے افق پر نمایاں ہوئی ہے شاید اپنے نزول کے وقت اس کی یہ کیفیت نہیں تھی۔ آج سے پندرہ سو سال پہلے نہ تو دنیا کی وسعت کے بارے میں لوگوں کو صحیح اندازہ تھا اور نہ ہی فساد  کی اقسام میں وہ تنوع سامنے آیا تھا جس کا نظارہ آج کی دنیا کر رہی ہے۔ آج پوری دنیا میں جس جس نوعیت کے فسادات رونما ہو رہے ہیں ان کی تفصیلات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آج چونکہ پوری دنیا سمٹ کر گلوبل ویلج  کی صورت اختیار کرچکی ہے اس لیے دنیا کے کسی بھی گوشے میں رونما ہونے والے فساد  کے اثرات ہر انسان کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ چناچہ ان حالات میں آج اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے (تفسیر بیان القرآن)۔

جس معاشرہ میں انسان کی جان، عزت وناموس اور مال محفوظ نہ  ہوکیا وہاں امن و سکون میسر آسکتا ہے؟آپ عہد جاہلیت کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالیں ہر ملک میں آپ کو اس آیت کی عملی تفسیر دکھائی دینے لگے گی۔ اور اگر آپ عصر حاضر کے حالات کا جائز ہ لیں، تو آپ کو پتہ چلے گا کہ انسان کو خدا فراموشی، نوامیس فطرت سے سرتابی اور اسلام کے پیش کیے ہوئے نظام حیات سے روگردانی کی سزاکس طرح مل رہی ہے۔ نہ خشکی پر کہیں امن ہے، نہ سمندر کی بیکر اں وسعتوں میں کوئی گوشہ عا فیت نظر آتا ہے۔ زمین پر جگہ جگہ میزائل کے اڈے قائم ہیں جہاں سے ایک براعظم سے دوسرے براعظم پر ایٹم بم برساکرہر چیز کو خاک سیاہ بنایا جاسکتا ہے۔ سمندر کی سطح بلکہ سمندروں کو ابلتے ہوئے جہنم میں تبدیل کرسکتی ہے۔۔۔ بڑی قوتیں مہلک سے مہلک اسلحہ بنانے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے ملکی ثروت کو پانی کی طرح بہا رہی ہیں۔ خانگی زندگی بھی ہماری بداعمالیوں سے جنم لینے والے فساد سے محفوظ نہیں۔ میاں بیوی کے درمیان اعتماد( جو خانگی زندگی کی مسرتوں کے لیے شرط اول ہے) تیزی سے مفقود ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ماں باپ اپنی عیش کشی کے باعث اولاد کی صحیح تربیت سے قاصر ہیں۔ غیر تربیت یافتہ اولاد بڑی ہو کر اپنے والدین کا ادب ملحوظ نہیں رکھتی بلکہ انہیں ایک ناقابل برداشت بوجھ خیال کرتی ہے۔ بڑوں کے دلوں میں چھوٹوں کے لیے رحم اور شفقت نہیں رہی۔ چھوٹوں کی آنکھیں شرم و حیا کے نور سے محروم ہوگئی ہیں اور اپنے سے بڑوں کی پگڑی اچھالنا فیشن بن گیا ہے۔ جب ہمارے گردو پیش اس قسم کے حالات ہوں تو پھر اس آیت کو مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی(تفسیر ضیاءالقرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ       22 محمد

پس تم سے اس کے سوا کچھ متوقع نہیں ہے کہ اگر تم لوگوں کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد مچائو گے اور اپنے رحمی رشتے کاٹو گے۔

جہاد کا ایک مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے دنیا میں انصاف قائم ہو، اور غیر اسلامی حکومتوں کے ذریعے جو ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، اس کا خاتمہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر تم جہاد سے منہ موڑ لوگے تو دنیا میں فساد پھیلے گا اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کے نتیجے میں ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہوگا جس کی ایک شکل یہ ہے کہ رشتہ داریوں کے حقوق پامال ہوں (تفسیر آسان قرآن) ۔

اس اہم نکتے پر آج ان تمام دینی جماعتوں کو بھی خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جو اپنی دانست میں غلبہ دین کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اگر یہ جماعتیں اپنے کارکنوں کی مناسب تربیت پر توجہ نہیں دیں گی اور ان کے اندر اخلاص اور للہیت کے پاکیزہ جذبات پروان چڑھانے کے لیے موثر اقدامات نہیں کریں گی تو انہیں اقتدار ملنے کے نتیجے میں اصلاح کی بجائے الٹا فساد پیدا ہوگا اور ایسی صورت حال میں دین اور غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے بدنامی کا باعث بنے گی۔ کیونکہ فاسق و فاجر قسم کے لوگوں اور لا دینی قوتوں کے پیدا کردہ فساد کو تو دنیا کسی اور زاویے سے دیکھتی ہے  لیکن اگر کسی دینی جماعت کے اقتدار کی چھتری کے نیچے  “فساد فی الارض”کی کیفیت پیدا ہوگی تو اس سے جماعت کی شہرت کے ساتھ دین بھی بدنام ہوگا(تفسیر بیان القرآن)۔