معتدین

اللہ تعالٰی کا معتدین کو نا پسند کرنا

المعتدین

معتد (سے مراد)حد سے تجاوز کرنے والا۔ یعنی اس نے کبھی حق و انصاف کے حدود کا لحاظ نہیں رکھا۔ بلکہ اسکی گفتگو، اس کے کردار اور اس کے احکام میں سرکشی اور سرتابی کی جھلک صاف نمایاں ہے(تفسیر ضیاء القرآن)۔

ان معتدین کی صفات کے بارے میں ایک جگہ ارشاد ہوا:

ۭوَاِنَّ كَثِيْرًا لَّيُضِلُّوْنَ بِاَهْوَاۗىِٕهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ 119 الانعام

یقیناً بہت سے آدمی اپنے من گھڑت خیالات پر بغیر کسی (عقلی یا نقلی) دلیل کے (لوگوں کو) بےراہ کرتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ حد سے نکلنے والوں کو خوب جانتا ہے یعنی جو حق سے نکل کر باطل کی طرف اور حلال سے آگے بڑھ کر حرام کی طرف جاتے ہیں ان کو خوب جانتا ہے(تفسیر مظہری)۔

 اور بہت سے لوگ بہکاتے ہیں اپنی خواہشات سے “ یعنی مجرو خواہشات نفس کے ذریعے سے (بغیر علم) بغیر کسی علم اور بغیر کسی دلیل کے۔پس بندے کو اس قسم کے لوگوں سے بچنا چاہیے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کئے ہیں۔ ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی دعوت کسی دلیل اور برہان پر مبنی نہیں ہے اور نہ ان کے پاس کوئی شرعی حجت ہے۔ پس ان کی فاسد خواہشات اور گھٹیا آراء کے مطابق ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے بندوں پر ظلم وتعدی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے ہدایت یافتہ لوگ حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی دعوت کو دلائل عقلیہ و نقلیہ کی تائید فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنی دعوت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کے سوا اور کوئی مقصد پیش نظر نہیں رکھتے( تفسیر السعدی)۔

 اس آیت سے معلوم ہوا کہ محض ہواء نفسانی کی بنا پر تقلید کرنا مذموم اور حرام ہے اور ہم جو ائمہ دین کی تقلید کرتے ہیں ‘ وہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے ائمہ کے اقوال قرآن اور حدیث کی نصوص پر مبنی ہیں اور ہمارے ائمہ نے یہ تصریح کی ہے کہ اگر ہمارا قول کسی حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اس قول کو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرو اور تقلید صحیح اور تقلید باطل میں یہی فرق ہے کہ تقلید صحیح کا مبنی قرآن اور حدیث ہے اور تقلید باطل کا مبنی ہوائے نفس ہے(تفسیر تبیان القرآن)۔

ایک اور جگہ  کچھ اور صفات کا ذکر کر کے  کفار کے بارے میں فرمایا:

لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً  ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ 10 التوبۃ

اس جگہ لا یرقبون سے مراد یہودی اور وہ عرب مراد ہیں جن کو ابوسفیان  (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)نے جمع کر کے کھانا کھلایا تھا (اور مسلمانوں کے مقابلہ میں لایا

تھا) ۔واولئک ھم المعتدون۔ اور یہ ہی بلاشبہ (شرارت اور بدی میں) حد سے بڑھ جانے والے ہیں (تفسیر مظہری)۔

 یہ لوگ کسی مسلمان کے بارے میں نہ کسی قرابت کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی قول وقرار کا اور اللہ سے ڈرتے نہیں ہیں۔ یہی لوگ بدعہدی وغیرہ کے ذریعہ حرام کاموں کے مرتکب ہورہے ہیں (تفسیر ابنِ عباس)۔

سابقہ امتوں کے حوالے سے فرمایا:

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَاۗءُوْھُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ ۭ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ 74 یونس

پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے بعد اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا، سو وہ ان کے پاس اوامر ونواہی اور معجزات لے کر آئے، پھر بھی جس چیز کے عہد ومیثاق سے پہلے انہوں نے تکذیب کردی تھی یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیں اسی طرح ہم ایسے لوگوں کے دلوں پر جو کہ حلال و حرام سے تجاوز کرتے ہیں مہریں لگادیتے ہیں( تفسیر ابنِ عباس)۔ یعنی نوحؑ کے بعد ہودؑ صالحؑ لوطؑ ابراہیمؑ شعیبؑ وغیرہ انبیاء کو اپنی اپنی قوم کی طرف کھلے ہوئے نشانات دے کر بھیجا، لیکن جس جہالت اور کفر کی حالت میں وہ لوگ اپنے اپنے پیغمبر کی بعثت سے پہلے تھے اور جن چیزوں کو پیشتر سے جھٹلاتے چلے آرہے تھے، یہ توفیق نہ ہوئی کہ انبیاء کے تشریف لانے اور سمجھانے کے بعد ان کو مان لیتے۔ بلکہ جن اصول صحیحہ کی تکذیب پہلے قوم نوح کرچکی تھی، ان سبھوں نے بھی ان کے ماننے سے انکار کردیا۔ اور جب پہلی مرتبہ منہ سے ” نہ ” نکل گئی، ممکن نہ تھا کہ پھر کبھی ” ہاں ” نکل سکے، اسی بےایمانی اور تکذیب حق پر آخر تک اڑے رہے۔ جو لوگ تکذیب و عداوت حق میں حد سے نکل جاتے ہیں ان کے دلوں میں مہر لگنے کی یہ ہی صورت ہوتی ہے کہ اول تکذیب کرتے ہیں، پھر اس پر ضد اور اصرار کرتے محض دشمنی اور عناد کی روش اختیار کرلیتے ہیں۔ یہاں تک کے دل کی کلیں بگڑ جاتی ہیں اور قبول حق کی استعداد باقی نہیں رہتی (تفسیر عثمانی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

مَّنَّاعٍ لِّــلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِۨ 25 ق

(یہ کافر وہی ہے جو) نیکی سے روکنے والا، حد سےبڑھا ہوا (اور) کش میں ڈالنے والا تھا (تفسیر فیوض القرآن)۔

 جو خدا کے حقوق کے منکر و معاند ہوں گے لازماً وہ اس کے بندوں کے حقوق کے معاملے میں بھی نہایت بخیل و ممسک اور دوسروں کو ان سے روکنے والے ہوں گے اور ساتھ ہی وہ معتدی یعنی حدود سے تجاوز کرنے والے حقوق کو غصب کرنے والے بھی ہوں گے۔ لفظ خیر یوں تو تمام نیکیوں اور بھلائیوں کے لئے عام ہے لیکن انفاق کی نیکی کے لئے یہ معروف ہے جس کا تعلق بندوں سے ہے۔ لفظ مناع میں رکنے اور روکنے دونوں کا مفہوم موجود ہے۔ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ صرف خود ہی بخیل بننے پر قانع نہیں رہتے بلکہ دوسروں کو بھی بخیل بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی بخیل کا راز فاش نہ ہو۔ مزید برآں اس طرح کے لوگ معتدی بھی ہوتے ہیں یہ صرف اتنے پر صبر نہیں کرتے کہ دوسروں کے جو حقوق ان کے ذمہ ہیں ان کو دبائے بیٹھے رہیں بلکہ تعدی کر کے یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسروں کے پاس جو کچھ ہے وہ بھی ان کے پاس نہ رہنے پائے بلکہ اس کے مالک بھی یہی بن بیٹھیں(تفسیر تدبر القرآن)۔

اس ہی طرح ایک اور جگہ فرمایا:

مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ 68 القلم

بھلے کام سے روکے حد سے بڑھے بڑا گنہگار

واضح مفہوم یہ ہے کہ ایسا بخیل ہے کہ نہ خود خرچ کرے نہ بھلائی کی خاطر خرچ کرنے دے اور لوگوں کو دین حق کے قبول سے روکے۔ ولید بن مغیرہ اپنے اعزاہ کو قبول اسلام سے یہ کہہ کر روکتا تھا کہ اگر ان میں سے کسی نے اسلام قبول کیا تو وہ اس کے ما ل سے محروم رہے گا۔ غرضیکہ وہ ہر بھلائی سے شدید ترین روکنے و الا تھا(تفسیر الحسنات)۔

اور پھر  ایک اور جگہ فرمایا:

وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖٓ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ  12 المطففین

اور نہیں جھٹلاتا اس (دن) کو مگر ہر (وہ شخص جو) حد سے گزر جانے والا ہے، گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے

یعنی یوم الدین کی تکذیب صرف معتد اثیم ہی کرتا ہے۔ معتد وہ شخص جو جہالت اور جاہل آباؤ اجداد کی پیروی میں حد سے بڑھ گیا ہو ‘ یہاں تک کہ دوبارہ پیدا کرنے پر خدا کو بھی قادر نہ سمجھتا ہو۔ اثیم : وہ گناہ گار جو خواہشات نفس میں منہمک اور اتنا مشغول ہو کہ مخالفت خواہش امور کو اس نے پس انداز کردیا ہو اور اس انہماک نفسانی نے اس کو مخالف نفسانیات چیزوں کے انکار پر آمادہ کردیا ہو(تفسیر مظہری)۔

جو شخص روزِ جزا کا منکر ہے فی الحقیقت اللہ کی ربوبیت، اس کی قدرت اور اس کے عدل و حکمت سب کا منکر ہے اور جو ان چیزوں کا منکر ہو وہ جس قدر گناہوں پر دلیر ہو تھوڑا ہے(تفسیر عثمانی)۔

معتد  کی نا پسندیدگی کا اظہارِ خداوندی

فرمایا:

 وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ   190 البقرہ

اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو ان لوگوں سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں، اور زیادتی مت کرو، بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

اس آیت میں حکم یہ ہے کہ مسلمان صرف ان کافروں سے قتال کریں جو ان کے مقابلہ پر قتال کے لئے آویں اس سے مراد یہ ہے کہ عورتیں، بچے، بہت بوڑھے اور اپنے مذہبی شغل میں دنیا سے یکسو ہو کر لگے ہوئے عبادت گذار راہب، پادری وغیرہ اور ایسے ہی اپاہج ومعذور لوگ یا وہ لوگ جو کافروں کے یہاں محنت مزدوری کا کام کرتے ہیں ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو جہاد میں قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حکم آیت کا صرف ان لوگوں سے قتال کرنے کا ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں قتال کریں اور مذکورہ قسم کے سب افراد قتال کرنے والے نہیں اسی لئے فقہاء رحمہم اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی عورت یا بوڑھا یا مذہبی آدمی وغیرہ کفار کی طرف سے قتال میں شریک ہوں یا مسلمانوں کے بالمقابل جنگ میں ان کی مدد کسی طرح سے کررہے ہوں ان کا قتل جائز ہے(معارف القرآن )۔

حضرت مجاہد کے اس قول کے کہ جو لڑیں ان سے ہی لڑا جائے، یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے رک جائیں تو وہ ظلم یعنی شرک سے ہٹ گئے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان سے جنگ وجدال ہو، یہاں لفظ عدوان جو کہ زیاتی کے معنی میں ہے وہ زیادتی کے مقابلہ میں زیادتی کے بدلے کے لئے ہے حقیقتا وہ زیادتی نہیں جیسے فرمایا آیت (فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠  194البقرہ) یعنی تم پر جو زیادتی کرے تم بھی اس پر اس جیسی زیادتی کرلو اور جگہ ہے آیت (جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ) 10 ۔ یونس :27) یعنی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جگہ فرمان ہے آیت (وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ) 16 ۔ النحل :126) یعنی اگر تم سزا اور عذاب کرو تو اسی مثل سزا کرو جو تم کئے گئے ہو، پس ان تینوں جگہوں میں زیادتی برائی اور سزا ” بدلے ” کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ فی الواقع وہ زیادتی برائی اور سزا و عذاب نہیں (تفسیر ابنِ کثیر)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا  ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ  87 المائدہ

اے ایمان والو ! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام مت قرار دو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں، اور حد سے آگے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے بڑھ جانے والے کو پسند نہیں فرماتا۔

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرع میں جو حلال و حرام ٹھرادی ہے ہر ایماندار کو اس حد کی پابندی ضروری ہے۔ جس سے معلوم ہو کہ اپنے طو رپر شرعی حلال کو حرام یا حرام کو حلال ٹھرانا شیطانی بہکاوے کے اثر سے ہوتا ہے اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے(تفسیر مظہر القرآن)۔

چند جلیل القدر صحابہ جن میں حضرت صدیق وعلی (رض) بھی شریک تھے۔ حضرت عثمان بن مظعون(رض) کے گھر میں جمع ہوئے اور یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ وہ ہمیشہ روزہ رکھا کریں گے، ساری رات عبادت میں گزاریں گے۔ بستروں پر نہیں سوئیں گے۔ گوشت، گھی وغیرہ نہیں کھائیں گے۔ عورتوں اور خوشبو سے بالکل اجتناب کریں گے۔ اونی لباس پہنیں گے۔ اور دنیا سے قطع تعلق کرلیں گے۔ رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ملی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بلا کر یہ حقیقت افروز ارشاد فرمایا :۔ مجھے ان باتوں کا حکم نہیں دیا گیا۔ ان لانفسکم علیکم حقا فصوموا وافطروا وقوموا وناموا فانی اقوم وانام واصوم وافطروا کل اللھم والدسم واتی النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی۔ (کشاف وغیرہ)اے میرے صحابہ ! تمہارے نفسوں کا بھی تم پر حق ہے اس لئے روزے بھی رکھو اور افطار بھی کرو۔ راتوں میں جاگ کر عبادت بھی کرو اور آرام سے سوؤ بھی۔ کیونکہ میں رات کو جاگتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ گوشت اور گھی بھی کھاتا ہوں۔ اور اپنی ازواج سے بھی مقاربت کرتا ہوں (یہ میرا طریق کار اور سنت ہے) جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ میری جماعت سے نہیں۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ نہ تو یہودیوں کی طرح لذات دنیا میں کھو جاؤ اور نہ مسیحی راہبوں کی طرح دنیا کی حلال لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر دو بلکہ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو۔ یہی دین اسلام کا طرہ امتیاز ہے۔ اس آیت میں لا تحرموا کا معنی یہ ہے کہ نہ تو یہ اعتقاد رکھو کہ یہ چیزیں حرام ہیں اور نہ زبان سے ایسا کہو اور نہ ان کے استعمال کو اس طرح ترک کرو جیسے حرام چیز کو ترک کیا جاتا ہے۔ اولیا کرام نفس سرکش کی سرکوبی کے لئے بعض حلال چیزوں کو استعمال نہیں کرتے تو وہ ان کی حرمت کے قائل نہیں ہوتے۔ بلکہ جس طرح جسمانی طبیب بعض اشیاء کو صحت جسمانی کے لئے مضر خیال کر کے مریض کو ان کے استعمال سے روک دیتا ہے اسی طرح یہ روحانی معالج بعض روحانی مفاسد کے پیش نظر بعض چیزوں سے وقت طور پر اجتناب کرتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی جاہل اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو اعتقادی یا قولی طور پر حرام جانے تو یہ باطل ہے اور گمراہی ہے(تفسیر ضیاء القرآن)

 اور فرمایا:

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً   ۭاِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ   55 الاعراف

تم اپنے رب کو پکارو عاجزی کے ساتھ اور چپکے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کو ناپسند فرماتا ہے جو حد سے آگے بڑھنے والے ہیں

حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بہت بڑے فقیہہ ہوجاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔ یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو(تفسیر ابنِ کثیر)۔

 بعض علماء کے نزدیک معتدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایسی بیکار دعائیں کرتے ہیں جن کا ہونا نہ عقل میں آتا ہے نہ ضابطۂ قدرت میں جیسے منازل انبیاء کی طلب آسمان پر پہنچ جانے کی دعا مرنے سے پہلے جنت میں پہنچ جانے کا سوال۔ بغوی نے اپنی سند سے ابو داؤد و سجستانی کے سلسلہ سے حسب روایت ابو نعامہ بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) بن مغفل نے اپنے بیٹے کو یوں دعا مانگتے سنا اے اللہ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کے دائیں جانب سفید محل عطا فرمانا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا بیٹے اللہ سے جنت کی دعا کر اور دوزخ سے اس کی پناہ طلب کر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے اس امت میں آئندہ کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو طہارت اور دعا حد (سنت) سے آگے بڑھ جائیں گے۔ کذا روی ابن ماجۃ و ابن حبان فی صحیحہ۔ابو یعلی نے مسند میں حضرت سعد (رض) کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعا میں حدود (سنت) سے تجاوز کریں گے آدمی کے لئے اتنا کہنا کافی ہے اے اللہ میں تجھ سے جنت کا اور اس قول و عمل کا جو جنت سے قریب کر دے خواستگار ہوں اور دوزخ سے اور دوزخ کے قریب لے جانے والے قول و عمل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ ابو یعلی نے کہا آدمی کے لئے اتنا کہنا کافی ہے۔ آخر کلام تک۔ معلوم نہیں یہ حضرت سعد کا قول ہے یا فرمان نبوی کا حصہ ہے۔عطیہ نے کہا المعتدین سے وہ لوگ مراد ہیں جو ناجائز طور پر مسلمان کے لئے بددعا کرتے ہیں۔ (مثلاً یوں کہتے ہیں اے اللہ ان پر لعنت بھیج۔ ایسی بددعائیں کرنے میں سب سے آگے رافضی ہیں جو صحابۂ کرام اور بعض اہل بیت پر لعنت کرتے ہیں۔ ابن جریج نے کہا اعتدائ سے مراد ہے چیخ چیخ کر دعا کرنا جس کی ممانعت اس فرمان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آئی جو حضرت ابو موسیٰ (رض) کی روایت سے منقول ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے اوپر نرمی اختیار کرو تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو۔ نہ کسی غیر حاضر کو۔میں کہتا ہوں اعتدائ سے مراد ہے حد شریعت سے تجاوز کرنا اس کے اندر تمام مذکورۂ بالا صورتیں بھی آجاتی ہیں اور ایسی دعا کرنا بھی اس میں شامل ہے جس میں کوئی گناہ یا قطع رحم ہو رہا ہو اور یہ الفاظ بھی اعتداء ہی کے ذیل میں آتے ہیں” میں نے دعا کی مگر میری دعا قبول نہ ہوئی”۔ “میں دعا کر رہا ہوں اور میری دعا ضرور قبول ہوگی”۔ یا اللہ سے ایسے نام لے کر کرے جو شریعت (قرآن و حدیث) میں مذکور نہیں ہیں (مثلاً بھگوان ‘ پر ماتما ‘ ایشور وغیرہ) (تفسیر مظہری)۔