مختالا فخورا

 اللہ تعالٰی کا  فخر کرنے والے کو ناپسند کرنا

مختالا فخورا

الفخر ( ن ) کے معنی ان چیزوں پر اترانے کے ہیں جو انسان کے ذاتی جوہر سے خارج ہوں مثلا مال وجاہ وغیرہ اور اسے فخر ( بفتح الخا ) بھی کہتے ہیں اور فخر کرنے والے کو فاخر کہا جاتا ہے اور فخور وفخیر صیغہ مبالغہ ہیں یعنی بہت زیادہ اترانے والا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتالٍ فَخُورٍ [ لقمان/ 18] کہ خدا کسی اترانے والے کو خود پسند کو پسند نہیں کرتا ۔ فخرت فلان علٰی صاحبہ افخرہ فخرا ایک کو دوسرے پر فضیلت دینا اور ہر نفیس چیز کو فاخر کہا جاتا ہے چوب فاخر قیمتی کپڑا اور جس اونٹنی کے تھن تو بڑے بڑے ہوں مگر دودھ بہت کم دے اسے فخور کہتے ہیں ۔ الفخار منکوں کو کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹھوکا لگانے سے اس طرح زور سے بولتے ہیں جیسے کوئی کوئی بہت زیادہ فخر کررہا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنْ صَلْصالٍ كَالْفَخَّارِ [ الرحمن/ 14] ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے (تفسیر مفردات القرآن)۔

فرمایا:

وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا     36 النساء

اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور پاس والے پڑوسی اور دور والے پڑوسی اور پہلو کے ساتھی کے ساتھ اور مسافر کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو مالکانہ طور پر تمہارے قبضہ میں ہیں اچھا سلوک کرو، بیشک اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں فرماتا جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے، شیخی کی باتیں کرے

مختال اورفخور میں فرق : ۔۔۔۔۔ مختال عملی طور پر تکبر کرنے والا یعنی جو وضع قطع میں عملی طور پر تکبر کرتا ہو۔ فخور جو دل میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہو۔ چونکہ فخر اور خود پسندی کا مرض بہت زیادہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا(تفسیر معارف الفرقان) ۔

مختال مغرور و متکبر کو کہتے ہیں اور فخور اس کو کہتے ہیں جو اپنی تعریف وثنا میں ہی رطب اللسان رہے اور اپنی خوبیاں اور کمالات ہی بیان کرتا رہے۔ آخر آیت میں ان دو صفات کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ ایسا انسان ہی کسی کے ساتھ مہربانی اور شفقت سے پیش آنے میں اپنی کسر شان سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں سر نیاز خم کرنے کے شوق سے محروم رہتا ہے(تفسیر ضیاءالقرآن)۔

لفظ مختال خیلاء سے ماخوذ ہے اور باب افتعال سے اسم فاعل کا صیغہ ہے، یہ لفظ اپنے کو بڑا سمجھنے، اترانے، آپے میں پھولے نہ سمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اپنے کو بڑا سمجھنا یہ دل کا بہت بڑا روگ ہے اور اکثر گناہ اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔ شہرت کا طالب ہونا، اعمال میں ریا کاری کرنا، بیاہ شادی میں دنیاداری کی رسمیں برتنا اور یہ خیال کرنا کہ ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے، یہ سب تکبر کے شعبے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص تکبر کرتے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ (رواہ البخاری صفحہ ٨٦١)حضرت ابو سعید خدری (رض) نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے (اور) اس میں اس پر کوئی گناہ نہیں کہ آدھی پنڈلیوں اور ٹخنوں کے درمیان ہو، اور جو اس کے نیچے ہو وہ دوزخ میں لے جانے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، جس نے اپنا تہبند اتراتے ہوئے گھسیٹا (رواہ ابوداؤد صفحہ ٢١٠: ج ٢) کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا گناہ صرف تہبند ہی میں نہیں۔ بلکہ دوسرے کپڑوں میں بھی ہے، کرتہ، عمامہ، پائجامہ کو اگر کوئی ٹخنوں سے نیچے لٹکائے تو یہ بھی اسی ممانعت میں شامل ہیں۔قال النبی الاسبال فی الا زار و القمیص و العمامۃ من جرمنھا شیئا خیلاء لم ینظر اللّٰہ الیہ یوم القیامۃ۔ (رواہ ابوداود صفحہ ٢١٠: ج ٢)حضرت جابر بن سلیم (رض) کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو نصیحتیں فرمائیں ان میں سے یہ بھی ہے اِیَّاکَ وَ اِسْبَال الازار فَاِنَّھَا مِنَ الْمخِیْلَۃِ وَ اِنَّ لاَ یُحِبُّ الْمُخِیْلَۃَ (کہ تہبند کو لٹکانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے اور بیشک اللہ تکبر پسند نہیں کرتا۔ (رواہ ابو داؤد صفحہ ٢١٠: ج ٢)آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اَنَّھَا مِنَ الْمُخِیْلَہِ فرما کر ان لوگوں کی بات کی تردید فرما دی ہے جو ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تکبر کی وجہ سے نہیں پہنتے جو لوگ ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنتے ہیں اگر اونچا پہن لیں تو اس میں اپنی اہانت سمجھتے ہیں اور جو لوگ اونچا کپڑا پہنتے ہیں ان کو حقیر جانتے ہیں یہی تو تکبر ہے یہ لوگ کسی بھی طرح آدھی پنڈلی تک تہبند باندھ کر بازار میں جا کر دکھا دیں دیکھو نفس گوارا کرتا ہے یا نہیں ؟ اس سے پتہ چل جائے گا کہ ٹخنوں سے نیچا پہننا تکبر کے لیے ہے یا نہیں ؟ سابقہ امتوں میں سے ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ وہ تکبر سے اپنے تہبند کو گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا لہٰذا اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا، وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ ( رواہ البخاری صفحہ ٨٦١: ج ٢)تکبر کے چند شعبے :ناحق پر اصرار کرنا، حق کو ٹھکرانا، غلط بات کہہ کر غلطی واضح ہوجانے پر حق قبول نہ کرنا، شریعت پر چلنے میں خفت محسوس کرنا، گناہوں کو اس لیے نہ چھوڑنا کہ معاشرہ والے کیا کہیں گے، یہ سب تکبر سے پیدا ہونے والی چیزیں ہیں، ایک صحابی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، جوتا اچھا ہو (کیا یہ تکبر ہے ؟ ) فرمایا اللہ جل شانہ جمیل ہے جمال کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو حقیر جانے۔ (رواہ مسلم صفحہ ٦٥: ج ١)مختال کی مذمت کے ساتھ فخور کی مذمت بھی فرمائی ہے، لفظ فخور فخر سے ماخوذ ہے شیخی بگھارنا اپنی جھوٹی سچی تعریفیں کرنا، ان سب کو فخر شامل ہے بہت سے لوگوں میں یہ مرض ہوتا ہے کہ مال یا علم یا عہدہ کی وجہ سے نشہ میں چور رہتے ہیں، شیخی بگھارتے ہیں اور فخر کرتے ہیں ان کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے، اور وہ اللہ کے عاجز بندے ہیں، جو کچھ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائی ہیں اس انداز میں لوگوں کے سامنے ان کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے ان کے حاصل ہونے میں ان کا کمال شامل ہے اور جن کے پاس وہ چیزیں نہیں ان سے اپنے کو بلند اور برتر سمجھتے ہیں اور اپنے خالق ومالک کو بھول جاتے ہیں، اس نے جس کو دیا ہے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اور جس کو نہیں دیا اس میں اس کی حکمت ہے بندہ کا مقام یہ ہے کہ اپنے کو عاجز سمجھے اور شکر گزار رہے اور اللہ کے دوسرے بندوں کو حقیر نہ سمجھے۔ صاحب روح المعانی نے مذکورہ بالا احکام ذکر کرنے کے بعد متصلاً تکبر فخر و مباہات کی مذت بیان کرنے کا ارتباط ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے ای ذی خیلاء کبریانف من جیرانہ مثلاً واقاربہ ولا یلتف الیھم یعد مناقبہ علیھم تطاولا وتعاظماً والجملۃ تعلیل الامر السابق مطلب یہ ہے کہ تکبر و غرور اور شیخی والا اپنے عزیزوں پڑوسیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور ان کے مقابلہ میں اپنی فضیلتیں شمار کرتا ہے اور تکبر و فخر کی وجہ سے حسن سلوک سے متعلق جو احکام ہیں ان پر عمل نہیں کرتا، صاحب روح المعانی نے ٹھیک فرمایا جن لوگوں میں اپنی بڑائی اور برتری کا دھیان ہوتا ہے، وہ اعزہ واقربا پڑوسیوں کی مدد تو کیا کرتے ان کی تو خواہش یہی رہتی ہے کہ یہ لوگ حاجت مند غریب اور فقیر ہی رہیں تاکہ ہماری برابری نہ کرسکیں۔ اگر ایک بھائی پیسے والا ہے تو غریب بھائی کے گھر آنا جانا بھی گوارا نہیں کرتا۔ اور اس میں خفت و بےآبروئی محسوس کرتا ہے۔ یہ جذبہ تکبر صلہ رحمی سے مانع رہتا ہے(تفسیر انوار البیان)۔

پھر فرمایا کہ خودبین، معجب، متکبر، خود پسند، لوگوں پر اپنی فوقیت جتانے والا، اپنے آپ کو تولنے والا اپنے تئیں دوسروں سے بہتر جاننے والا اللہ کا پسندیدہ بندہ نہیں، وہ گو اپنے آپکو بڑا سمجھے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ ذلیل ہے لوگوں کی نظروں میں وہ حقیر ہے بھلا کتنا اندھیر ہے کہ خود تو اگر کسی سے سلوک کرے تو اپنا احسان اس پر رکھے لیکن رب کی نعمتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہیں شکر بجا نہ لائے لوگوں میں بیٹھ کر فخر کرے کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں میرے پاس یہ بھی ہے اور وہ بھی ہے حضرت ابو رجاہروی (رح) فرماتے ہیں کہ ہر بدخلق متکبر اور خود پسند ہوتا ہے پھر اسی آیت کو تلاوت کیا اور فرمایا ہر ماں باپ کا نافرمان سرکش اور بدنصیب ہوتا ہے پھر آپ نے (وَځ ا بِوَالِدَتِيْ ۡ وَلَمْ يَجْعَلْنِيْ جَبَّارًا شَقِيًّا) 19 ۔ مریم :32) پڑھی، حضرت عوام بن حوشب (رح) بھی یہی فرماتے ہیں حضرت مطرب (رح) فرماتے ہیں مجھے حضرت ابوذر (رض) کی ایک روایت ملی تھی میرے دل میں تمنا تھی کہ کسی وقت خود حضرت ابوذر (رض) سے مل کر اس روایت کو انہی کی زبانی سنوں چناچہ ایک مرتبہ ملاقات ہوگئی تو میں نے کہا مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا ہاں یہ سچ ہے میں بھلا اپنے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہتان کیسے باندھ سکتا ہوں ؟ آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا اسے تو تم کتاب اللہ میں پاتے بھی ہو، بنو ہجیم کا ایک شخص رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتا ہے مجھے کچھ نصیحت کیجئے آپﷺ نےفرمایا کپڑا ٹخنے سے نیچا نہ لٹکاؤ کیونکہ یہ تکبر اور خود پسندی ہے جسے اللہ ناپسند رکھتا ہے(تفسیر ابن کثیر)۔

من کان مختالا فخورا . ایسے لوگوں کو جو اپنے کو بڑا سمجھتے اور شیخی کی باتیں کرتے ہوں۔ مختال سے مراد وہ شخص ہے جو تکبر کرتا اپنے قرابت داروں ‘ پڑوسیوں اور ساتھیوں سے ناک چڑھاتا اور ان کی طرف التفات نہ کرتا ہو اور فخور وہ شخص ہے جو دوسروں پر اپنی فوقیت جتاتا ہو۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک آدمی دو چادریں (یعنی پورا سوٹ) پہنے مٹکتا اتراتا چلا جا رہا تھا۔ اللہ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک اس میں گھستا چلا جائے گا۔ حضرت ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص غرور سے اپنا کپڑا (زمین پر) گھسیٹتا چلتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا۔ بخاری و مسلم۔حضرت عیاض بن حمار اشجعی کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ تم لوگ آپس میں تواضع کرتے رہو (یعنی ایک دوسرے کے سامنے جھکا رہے) کوئی کسی پر بڑائی نہ کرے ‘ نہ زیادتی کرے۔ رواہ مسلم۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے گروہ اہل اسلام اللہ سے ڈرتے رہو۔ کوئی شبہ نہیں کہ جنت کی ہوا ہزار سال کی مسافت سے محسوس کی جائے گی مگر نہ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اس کو پائے گا نہ رشتہ داری قطع کرنے والا نہ بوڑھا زانی اور نہ وہ شخص جو غرور سے اپنا تہبند گھسیٹتا چلتا ہے۔ بڑائی صرف رب العلمین کو زیبا ہے۔ الحدیث۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط(تفسیر مظہری)۔

ابو یعلی والضیاء المقدسی نے مختارہ میں ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائیں گے تو ایک آگ سامنے آئے گی جس کا بعض بعض پر سوار ہوگا جبکہ اس کے داروغے اس کو روک رہے ہوں گے۔ تو وہ کہے گی میرے رب کی عزت کی قسم ! تم میرے گھر اور میرے ازواج کے درمیان راستہ خالی کر دو گے یا پھر میں تمام لوگوں پر ایک ہی طرح غالب آجاؤں گی۔ لوگ کہیں گے تیرے ازواج کون ہیں وہ کہے گی ہر متکبر جبار پھر وہ اپنی زبان کو نکالے گی اور لوگوں کے درمیان ان کو اٹھا لے گی اور ان کو اپنے پیٹ میں ڈال لے گی پھر پیچھے ہٹ جائے گی پھر آگے آئے گی اس کا بعض حصہ بعض پر سوار ہوگا اس کے داروغے اس کو رد کر رہے ہوں گے اور وہ کہے گی میرے رب کی عزت تم ضرور مجھے چھوڑ دو میری ازواج کے درمیان ورنہ میں سب لوگوں پر ایک گردن کی طرح سوار ہوجاؤں گی لوگ کہیں گے تیرے ازواج کون ہیں ؟ وہ کہے گی ہر تکبر کرنے والا فخر کرنے والا پھر اپنی زبان سے سب لوگوں کے سامنے ان کو اپنے منہ میں ڈالے گی اپنے پیٹ میں ان کو پھینک دے گی۔ پھر پیچھے ہٹ جائے گی اور اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے۔ ابن ابی شیبہ واحمد و ابوداؤد والنسائی والبیہقی نے شعب الایمان میں جابر بن عتیک (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ ایسی غیرت بھی ہے جو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں اور ایسی غیرت بھی ہے جو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں اور ایسا تکبر بھی ہے جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں اور ایسا تکبر بھی ہے جس کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں۔ وہ غیرت جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں وہ شک کے بارے میں غیرت ہے اور وہ غیرت جس کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں وہ شک کے علاوہ میں غیرت ہے اور وہ تکبر جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں وہ جنگ اور صدقہ کے وقت انسان کا اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنا ہے۔ اور وہ تکبر جس کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتے ہیں وہ آدمی کا اپنے آپ پر فخر اور سرکشی کرنا۔ احمد وحاکم نے (اس کو صحیح کہا) جابر بن سلیم ہجیمی (رض) سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ منورہ کے بعض راستوں سے آیا۔ میں نے کہا علیک السلام یا رسول اللہ آپ ﷺنے فرمایا علیک السلام یہ مردے کا سلام ہے۔ سلام علیکم، سلام علیکم، سلام علیکم، اسی طرح کہا کرو۔ جابر بن سلیم(رض) نے کہا کہ میں نے آپ سے ازار کے بارے میں پوچھا آپ نے اس کو پشت کے بلند حصہ پر کیا اور پنڈلی کے موٹے حصے کو پکڑا پھر فرمایا یہاں چادر باندھو اگر تو اس کا انکار کرے تو اسے نیچے کرے اور اگر تو اس کا انکار کرے تو ٹخنوں کے اوپر تک اگر تو (اس کا بھی) انکار کرے تو اللہ تعالیٰ نہیں پسند فرماتے ہر تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو۔پھر میں نے پوچھا نیکی کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا ہرگز حقیر نہ جانو تھوڑی سی نیکی کو بھی اور اگر تو کسی کو رسی کا بچا ہوا ٹکڑا ہی دے۔ اور اگر تو کسی کو جوتے کا تسمہ ہی دے اور تو پانی ڈال دے اپنے ڈول سے پینے والے برتن میں اور اگر کسی (تکلیف دینے والی) چیز کو لوگون کے راستے سے ہٹا دے جو ان کو تکلیف دیتی ہے۔ اور اگر تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملے اور اگر تو اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے۔ اور اگر تو بےآسرا لوگوں سے موافقت کرے زمین میں اور اگر کوئی آدمی تیری ایسی برائی بیان کرتا ہے جس کو وہ تیرے اندر جانتا ہے اور تو بھی اس کے اندر اسی قسم کی برائی کو جانتا ہے تو اس کی برائی بیان نہ کر تو اس کا اجر تیرے لئے ہوگا اور اس کا گناہ اس پر ہوگا اور جو بات تیرے کان کو اچھی لگے اس پر عمل کر اور جو بات تیرے کان کو بری لگے تو اس سے بچ جا۔ احمد وابن المنذر وابن ابی حاتم اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور بیہقی نے شعب میں مطرف بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوذر (رض) سے کہا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ تم گمان کرتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو بیان فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو پسند کرتے ہیں اور تین آدمیوں کو ناپسند کرتے ہیں فرمایا ہاں ! (میں بیان کرتا ہوں) میں نے کہا وہ تین آدمی کون سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ؟ فرمایا ایک وہ آدمی جس نے فی سبیل اللہ جنگ کی صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے جہاد کرتے ہوئے وہ دشمن سے ملا اور دشمنوں سے قتال کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا اور تم اس کو پاتے ہو اپنے پاس اللہ کی نازل کردہ کتاب میں پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانہم بنیان مرصوص  “ اور دوسرا آدمی جس کا پڑوسی اس کو تکلیف دیتا ہے اور وہ اس کی تکلیف پر صبر کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ زندگی میں یا موت کے بعد اور وہ آدمی جو قوم کے ساتھ سفر کرے اور وہ شروع رات سے سفر کریں یہاں تک کہ وہ آخررات میں تھے کہ ان پر نیند غالب ہوگئی تو پھر وہ آدمی کھڑا ہوا اور اس نے وضو کیا اللہ کے لئے ڈرتے ہوئے اور اس چیز میں رغبت کرتے ہوئے جو اس کے پاس ہے میں نے (پھر) کہا ان تین آدمیوں میں سے وہ کون ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں ؟ فرمایا تکبر کرنے والافخر کرنے والا۔ اور اگر تم اس کو پاتے ہو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں تو (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت ” ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا “ میں نے کہا اور کون ہے ؟ فرمایا بخیل احسان جتانے والے پھر میں نے کہا کون ہے فرمایا قسم کھا کر بیچنے والا۔ ابن جریر نے ابو رجاء ہر وی (رح) سے روایت کیا کہ تو نہیں پائے گا برے مزاج والے کو مگر وہ تکبر کرنے والا اور فخر کرنے والا ہوگا۔ اور یہ آیت ” وما ملکت ایمانکم ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا “ تلاوت فرمائی اور کسی نافرمان بیٹے کو نہیں دیکھے گا وہ سرکش اور بدبخت ہوگا اور (یہ آیت) ” وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارا شقیا “ تلاوت فرمائی۔ ابن ابی حاتم نے العوام بن حوشب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔  احمد وابو داؤد اور نسائی نے والبغوی والباوردی والطبرانی وابن ابی حاتم نے بلجیم کے ایک آدمی سے روایت کیا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے وصیت فرمائیے آپ نے فرمایا چادر کو نیچے لٹکانے سے بچ کیونکہ چادر کو نیچے لٹکانا تکبر میں سے ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔ لبغوی وابن قانع نے معجم الصحابہ میں والطبرانی وابن مردویہ نے ثابت بن قیس بن شماس (رض) سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا آپ نے یہ آیت ” ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا “ تلاوت فرمائی پھر آپ نے تکبر کو بیان فرمایا اور اس کا بڑا گناہ ہونا بیان فرمایا تو ثابت(رض) رونے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کس بات نے تجھ کو رلایا ؟ میں نے کہا یا رسول اللہ ! میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں حتی کہ میں اس بات کو بھی پسند کرتا ہوں کہ میرے جوتے کا تسمہ بھی اچھا ہو آپ نے فرمایا تو جنت والوں میں سے ہے کیونکہ تکبر یہ نہیں ہے کہ سواروں اور تیری کجاوہ خوبصورت ہو لیکن تکبر یہ ہے کہ وہ حق کو بےوقوفی سمجھے اور لوگوں کو حقیر جانے۔  احمد نے سمرہ بن فاتک (رض) سے روایت کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سمرہ کتنا اچھا جوان ہے اگر لمبے بالوں کو کاٹ دے اور تہبند کا لٹکا ہوا حصہ بھی کاٹ لے(تفسیر درمنثور)۔

۔۔پچھلے آٹھ نمبروں میں جن لوگوں کے حقوق کی تاکید آئی ہے اس میں کوتاہی وہ ہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں تکبر اور فخر و غرور ہے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے۔حضرت عبداللہ مسعود (رض)سے روایت ہے وہ شخص جہنم میں (ہمیشہ کے لئے) نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو اور جنت میں ایسا کوئی شخص نہیں جاسکے گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے مقدار تکبر ہو۔حضرت ابن مسعود (رض)سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو سکے گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو، حاضرین میں سے ایک آدمی نے سوال کیا، لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے کپڑے اچھے ہوں ان کے جوتے اچھے ہوں (تو کیا یہ بھی تکبر میں داخل ہے ؟ ) آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خود بھی جمیل ہیں اور جمال کو پسند بھی فرماتے ہیں، تکبر نام ہے حق رد کرنے کا اور لوگوں کو ذلیل سمجھنے کا(تفسیر معارف القرآن)۔

اب یہاں سے ان موانع کا بیان ہے جو ادائے حقوق کی راہ میں حائل ہوتے رہتے ہیں ان میں سے پہلی چیز خود بینی ہے اور دوسری چیز نمائش وحب جاہ، مختال وہ ہے جو اپنی بڑائی کے خیال میں گرفتار رہتا ہے اور عزیزوں، قریبوں، پڑوسیوں کی طرف التفات کرنے میں کسر شان سمجھتا ہے (آیت) ” فخور “۔ وہ ہے جو دوسروں پر اپنا فخر زبان سے جتلاتا رہتا ہے(تفسیر ماجدی)۔

آخر میں فرما دیا کہ جس کے مزاج میں تکبر اور خود پسندی ہوتی ہے کہ کسی کو اپنے برابر نہ سمجھے، اپنے مال پر مغرور اور عیش میں مشغول ہو وہ ان حقوق کو ادا نہیں کرتا سو اس سے احتراز رکھو اور جدا رہو(تفسیر عثمانی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ 18 لقمان

اور تو لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین پر اترا کر مت چل، بلاشبہ تکبر کرنے والے کو اللہ پسند نہیں فرماتا

علامہ ابن منظور لکھتے ہیں کہ صعر اونٹوں کی ایک بیماری کا نام ہے۔ جب یہ لگتی ہے تو اونٹ کی گردن ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔۔۔ علامہ ابن اثیر کا حوالہ دیتے ہیں کہ ان کے نزدیک مرح اس نشاط کو کہتے ہیں جس میں خفت یعنی ہلکا پن اور سبکی پائی جائے۔ جس طرح کم ظرف لوگ خوشی اور مسرت کے وقت ادب و اخلاق کے تقاضوں کو بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ حیاء اور مروت کی چادر بھی اتار کر پرے پھینک دیتے ہیں۔ اور ایسی ناشائستہ حرکتیں کرتے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر شم کی آنکھ نمناک ہوجاتی ہے۔۔۔ مختال : اس متکبر کو کہتے ہیں جس میں تکبر کے علاوہ خودپسندی کا عیب بھی پایا جاتا ہو۔۔۔یعنی مختال اس لاف زنی کرنے والے نادان کو کہتے ہیں جو اپنے غریب رشتہ داروں سے نفرت کرتا ہے اور مفلس پڑوسیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا۔ فخور۔ مبالغہ کا صیغہ ہے بہت اترانے والا۔ فخر کرنے والا۔ خصوصا وہ شخص جو ایسی چیزوں پر فخر کرے جو اس کے ذاتی کمالات سے نہیں، بلکہ خارجی امور کی بنا پر اترائے مثلاً مال و دولت، جاہ و منصب وغیرہ۔ ان کلمات کی لغوی تحقیق کے بعد اب اس آیت کو پڑھئے اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کیجئے آپ کو مزہ آجائے گا۔ اور قرآن کے حسن اعجاز پر آپ سو جان سے قربان ہونے لگیں گے۔ آیت کا مدعا تو تکبر و غرور سے اجتناب کرنے کی تاکید کرنا ہے، لیکن غرور کی کوئی ایک شکل تو نہیں۔ اس کے متعدد مظاہر اور روپ ہیں۔ کئی جلی اور کئی خفی۔ ایک جملہ میں سبھی کی نشاندہی بھی کردی اور ان سے دور رہنے کا حکم بھی دے دیا(تفسیر ضیاء القرآن)۔

حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے یہ بھی کہا کہ اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرو یعنی اس طرح چلو کہ دوڑ بھاگ نہ ہو کیونکہ وقار کے خلاف ہے، اور اس میں خود اپنی ذات کو اور زمین پر رہنے اور بسنے والوں اور چلنے پھرنے والوں کے لیے بھی خطرہ ہے، اور نہ بہت آہستہ چلو کہ تکبر اور تصنع والے چلتے ہیں تاکہ لوگوں پر اپنا امتیاز ظاہر کریں ہاں اگر کوئی بیمار اور ضعیف ہے تو وہ دوسری بات ہے(تفسیر بیان القرآن)۔

اور تکبر اور بڑائی میں لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر یا یہ کہ غریب مسلمانوں کو کمتر مت سمجھ اور زمین پر بڑائی کے ساتھ مغرور ہو کر مت چل۔ بیشک اللہ تعالیٰ کبھی تکبر کرنے والے اور نعمت خداوندی پر فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا(تفسیر ابن عباس)۔

امام احمد بن حنبل (رح) نے اپنی مسند 291؛292/5 میں یہ حدیث پاک نقل فرمائی ہے۔ حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دس باتیں ناپسند تھیں۔ 1)بڑھاپے کے آثار ختم کرنا،2) سونے کی انگوٹھی پہننا،3) تہبند زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلنا،4) خواہ مخواہ کی زیب وزینت کیے رکھنا،5) مادہ تولید کو اس کے مقام سے ہٹ کر گرا دینا،6) تعویذ لٹکانا،7) اور معوذات کے علاوہ کسی اور چیز سے دم کرنا(تفسیر ابن مسعود)۔ ، 8)رضاعت کے ایام میں بیوی سے قربت کر کے بچے کی صحت خراب کرنے کو، لیکن ان چیزوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام قرار نہیں دیا،  اور 9)اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کو اور10) گوٹیوں سے کھیلنے کو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناپسند فرماتے تھے۔ مجاہد کا قول ہے کہ مختال متکبر کو کہتے ہیں۔ فخور اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر لوگوں کے سامنے ڈینگیں مارتا اور انہیں حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ اس کا یہ رویہ قابل مذمت ہوتا ہے کیونکہ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکرادا کرنا چاہیے نہ کہ ان نعمتوں کو اس کی نافرمانی کا ذریعہ بنایا جائے(تفسیر احکام القرآن للجصاص)۔

یہ تین الفاظ ہیں مختال اور فخور راہ متکبرین اور تینوں کی نسبت لایحب نہیں پسند کرتے ۔کیا جامع کلام ہے ان تین تفظوں کی شرح یہ ہے کہ کبر کے آثار کبھی تو ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی تہذیب کی وجہ سے دل میں رہتے ہیں تو یہ تو متکبر ہیں کیونکہ استکبار کے معنی ہیں بڑا سمجھنا اور یہ دل سے ہوتا ہے اس کی نسبت فرماتے ہیں ان اللہ لا یحب المتکبرین یعنی جن لوگوں کے دل میں تکبر ہے خواہ وہ ظاہر نہ ہو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ بھی مبغوض ہیں اور کبھی تہذیب کم ہوئی تو کبر کا اثر ظاہر بھی ہوجاتا ہے اس ظہور کے مرتاب مختلف ہوتے ہیں کبھی زبان پر تو نہیں آتا مگر چال ڈھال سے ظاہر ہے مثلاً کوئی آدمی فیشن بناتا اور طرح طرح کی وضع اختیار کرتا ہے جن سب کا خلاصہ یہی ہے اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنا چاہتا ہے اس کے متعلق ارشاد ہے لایحب کل مختال فخور یہ سب مختال کے اندر داخل ہیں اور بعضوں کی زبان سے بھی تکبر کے کلمات نکلنے لگتے ہیں ان کو فخور فرمایا پس مختال تو وہ ہے جس کے دل میں تکبر اور افعال سے بھی ظاہر ہو مگر اقوال سے ظاہر نہ ہو اور فخور وہ ہے جس کی زبان سے بھی ظاہر ہونے لگے تو تین مرتبہ ہوئے ایک مستکبرین مختال اور ایک فخور تینوں کے واسطے لفظ لایحب فرمایا خلاصہ یہ کہ تکبر کا ظہور ہو نہ ہو یعنی زبان سے تکبر ہو یا قلب سے یا افعال سے سب کو ان اللہ لایحب المستکبرین سے منع فرما دیا ان میں سے ایک درجہ کی بھی اجازت نہیں(تفسیر اشرف التفاسیر)۔

میں کہتا ہوں : اسی معنی میں وہ روایت ہے جسے امام مالک نے ابن شہاب سے وہ حضرت انس بن مالک (رض) سے نقل کرتے ہیں فرمایا : ” باہم بغض نہ رکھا کرو ایک دوسرے سے اعراض نہ کیا کرو، باہم حسد نہ کیا کرا اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جائو، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن تک لا تعلق رہے “۔ حدیث میں موجود لفظ التدابر کا معنی ہے اعرض کرنا، کلام، سلام وغیرہ ترک کرنا۔ اعراض کو تدابر کا نام دیا گیا کیونکہ جس سے تو بغض کرتا ہے تو اس سے اعراض کرتا ہے اور اپنی پشت کو اس کی طرف کرلیتا ہے، اسی طرح وہ تیرے ساتھ اسی طرح کرتا ہے۔ جس سے تو محبت کرتا ہے تو اپنا منہ اس کی طرف کرلیتا ہے اور تو اس کے بالمقابل ہوتا ہے تاکہ تو اس سے خوش ہو اور وہ تجھ سے خوش ہو۔ جو آدمی اپنا رخسار پھیر لیتا ہے اس میں تدابر کا معنی موجود ہے، مجاہدنے بھی اس کے ساتھ تفسیر بیان کی ہے۔ ابن خویز منداد نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ولا تصعر خدک لناس سے مراد ہے گویا اللہ تعالیٰ نے منع کیا کہ انسان اپنے آپ کو بغیر ضرورت کے ذلیل کرتا رہے اس کی مثل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے فرمایا : لیس للانسان ان یذل نفسہ ، انسان کے لیے مناسب نہیں کہ اپنے آپ کو ذلیل ورسوا کرے(تفسیر قرطبی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ 23 الحدید

تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر رنج نہ کرو اور جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے اس پر اتراؤ نہیں، اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے شیخی باکو پسند نہیں کرتا

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ مصیبت یا راحت، خوشی یا غم انسان کو پیش آتا ہے وہ سب حق تعالیٰ نے لوح محفوظ میں انسان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لکھ رکھا ہے، اس کی اطلاع تمہیں اس لئے دی گئی تاکہ تم دنیا کے اچھے برے حالات پر زیادہ دھیان نہ دو ، نہ یہاں کی تکلیف و مصیبت یا نقصان و فقدان کچھ زیادہ حسرت و افسوس کرنے کی چیز ہے اور نہ یہاں کی راحت و عیش یا مال و متاع اتنا زیادہ خوش اور مست ہونے کی چیز ہے جس میں مشغول ہو کر اللہ کی یاد اور آخرت سے غافل ہوجاؤ(معارف القرآن)۔

یعنی اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر مغرور ہوجائے اور دوسروں پر فخر جتانے لگے۔ عکرمہ نے کہا : ہر شخص (حصول نعمت سے) خوش اور (فوت نعمت سے) غمگین تو ہوتا ہی ہے اس لیے مراد یہ ہے کہ تم خوشی کو (باعثِ ) شکر اور غم کو (موجبِ ) صبر بنا لو۔ حضرت جعفر (رض) صادق نے فرمایا : اے ابن آدم ! تو کیوں ایسی چیز کے مفقود ہونے پر افسوس کرتا ہے جو دست فوت تجھے واپس نہیں دے گا اور کیوں ایسی چیز پر اتراتا ہے جو تیرے پاس موجود ہے کیونکہ موت اس کو تیرے پاس رہنے نہ دے گی(تفسیر مظہری)۔

یعنی کوئی نعمت یا عطیہ الہی تمہارے دلوں میں اتراہٹ یا فخر کے جذبات نہ پیدا کرنے پائے جو طاعت الہی سے مانع ہوجاتا ہے۔ باقی رہی طبعی مسرت تو وہ تو جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن ہے۔ اتراہٹ تو اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان کسی خوبی کو اپنی ذاتی استحقاق کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کی جڑ کاٹ دی، جب نعمت کے لیے محض حق تعالیٰ کے حکم ومشیت کا استحضار ہوگیا تو اب اتراہٹ ہونے ہی کیوں لگی ؟(تفسیر ماجدی)

چناچہ انسان کو مال و دولت اور دوسری نعمتوں پر اترانے کے بجائے ان کے حساب کتاب کی فکر کرنی چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ چیزیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے طور پر دی گئی ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش میں ناکام ہوگیا تو یہی نعمتیں آخرت میں اس کے گلے کا طوق بن جائیں گی۔ اس حوالے سے امام احمد بن حنبل – کا ایک واقعہ بہت عبرت انگیز ہے۔ آپ (رح) کو خلیفہ وقت کی طرف سے ” خلق ِقرآن “ کے مسئلے پر جیل میں ڈالا گیا۔ خلیفہ آپ (رح) سے اپنی مرضی کا فتویٰ حاصل کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے خلیفہ کے حکم پر جیل میں آپ (رح) پر بےپناہ تشدد ہوا۔ روایات میں آتا ہے کہ جس انداز میں آپ (رح) کو پیٹا جاتا تھا ایسی مار کسی ہاتھی کو پڑتی تو وہ بھی بلبلا اٹھتا ‘ مگر اس بےرحم تشدد کو آپ (رح) نے ایسے حوصلے اور صبر سے برداشت کیا کہ کبھی آنکھوں میں آنسو تک نہ آئے۔ مگر جب نئے خلیفہ کے دور میں آپ (رح) کو جیل سے رہا کیا گیا اور خلیفہ کے ایلچی آپ (رح) کی خدمت میں اشرفیوں کے تھیلے لے کر حاضر ہوئے تو ان تھیلوں کو دیکھ کر آپ (رح) رو پڑے۔ آپ (رح) نے روتے ہوئے اللہ کے حضور عرض کی کہ اے اللہ ‘ یہ آزمائش بہت سخت ہے ! میں اس سے عہدہ برآ ہونے کے قابل نہیں ہوں ‘ مجھے اس امتحان میں مت ڈال ! اس حوالے سے دوسری انتہا پر برصغیر کے قوم فروشوں کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر میں انگریزوں نے بڑی بڑی جاگیروں ‘ عہدوں اور خطابات کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو خریدا اور حکمرانوں کے ہاتھوں بکنے کے بعد وہ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے اپنے آقائوں کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ بہرحال یہ ہر انسان کا اپنا فیصلہ ہے کہ اس کی ترجیح دنیا ہے یا آخرت ؟ (تفسیر بیان القرآن)

یعنی اس حقیقت پر اس لیے مطلع کردیا کہ تم خوب سمجھ لو کہ جو بھلائی تمہارے لیے مقدر ہے ضرور پہنچ کر رہے گی اور جو مقدر نہیں وہ کبھی ہاتھ نہیں آسکتی۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے علم قدیم میں ٹھہرچکا ہے، ویسا ہی ہو کر رہے گا۔ لہذا جو فائدہ کی چیز ہاتھ نہ لگے اس پر غمگین و مضطرب ہو کر پریشان نہ ہو اور جو قسمت سے ہاتھ لگ جائے اس پر اکڑو اور اتراؤ نہیں بلکہ مصیبت و ناکامی کے وقت صبرو و تسلیم اور راحت و کامیابی کے وقت شکرو تحمید سے کام لو(تفسیر عثمانی)۔