مجاھد

اللہ تعالٰی کا مجاہدین کو پسند کرنا

المجاھدین

۔۔اللہ کو سب سے زیادہ ان لوگوں سے محبت ہے جو اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں کے مقابلہ پر ایک آہنی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے ہیں اور میدان جنگ میں اس شان سے صف آرائی کرتے ہیں کہ گویا وہ سب مل کر ایک مضبوط دیوار ہیں جس میں سیسہ پلا دیا گیا ہے، اور جس میں کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں پڑ سکتا(تفسیر عثمانی)۔

فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ 4 الصف

بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بنا کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایسی عمارت ہیں جس میں سیسہ پلایا گیا ہے

اس سے جہاد کرنے اور جم کر لڑنے کی فضیلت معلوم ہوئی۔ بعض مرتبہ صف سے نکلنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے جبکہ دشمن کے افراد ھل من مبارز کہہ کر مسلمان کو مقابلہ کی دعوت دیں یہ کبھی کبھار اور تھوڑی دیر کو ہوتا ہے اصل جنگ وہ ہی ہے جس میں صف بنا کر جم کر اور ڈٹ کر لڑا جائے(تفسیر انوارالبیان)۔

کے لیے بنائی جاتی ہیں۔البتہ پرانے زمانے میں  اگر کسی دیوار  Dams کو کہا جائے گا ۔ایسی دیواریں بڑے بڑےReinforced concrete wallآج کے زمانے میں بنیان مرصوص

کو غیر معمولی طور پر مضبوط کرنا مقصود ہوتا توچنائی کرنے کے بعد اس کے اندر پگھلا ہوا تانبا ڈالا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں عام طور بنیان مرصوص کا ترجمہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے الفاظ میں کیا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں اس طریقہ سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنانے کا تصورسورۃ الکہف کی آیت ٩٦ میں بھی ملتا ہے۔ ذوالقرنین بادشاہ نے یاجوج ماجوج کے حملوں سے حفاظت کے لیے لوہے کے تختوں کی مدد سے دیوار کھڑی کرنے کے بعد حکم دیا تھا : { اٰ تُوْنِیْٓ اُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا ۔ } اب لائو میں اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دوں۔ بہرحال یہاں بنیان مرصوص سے مراد میدانِ جنگ میں مجاہدین کی ایسی صفیں ہیں جن میں کوئی رخنہ یا خلا نہ ہو اور ایک ایک مجاہد اپنی جگہ پر اس قدر مضبوطی سے کھڑا ہو کہ دشمن کے لیے صف کے کسی ایک حصے کو بھی دھکیلنا ممکن نہ ہو۔  یہاں ضمنی طور پر یہ مسئلہ بھی سمجھ لیں کہ نماز کے لیے ہماری صف بندی کی بھی یہی کیفیت ہونی چاہیے۔ ایک صف کے تمام نمازیوں کو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونا چاہیے اور ان کے پیروں کے محاذات بھی ایک ہونے چاہئیں ‘ یعنی تمام لوگوں کے پائوں ایک سیدھ میں ہوں تاکہ صف سیدھی رہے۔ دو آدمیوں کے درمیان خلا بالکل نہیں ہونا چاہیے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ جماعت کی صف میں دو نمازیوں کے درمیان خلا کی جگہ سے شیطان گزر جاتا ہے ۔ جماعت کے لیے صف بندی کا اہتمام کرانا دراصل امام کی ذمہ داری ہے ‘ لیکن مقام افسوس ہے کہ ہمارے اکثر ائمہ مساجد اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتے۔ البتہ اس ضمن میں ضرورت سے زیادہ شدت بھی مناسب نہیں ‘ جیسے بعض لوگ غیر معمولی طور پر ٹانگیں پھیلا کر دوسرے نمازی کے پائوں پر اپنا پائوں چڑھا دیتے ہیں اور دوسروں کے لیے کو فت کا باعث بنتے ہیں۔ بہرحال ہمارے لیے اس آیت کا اصل پیغام یہ ہے کہ اسلام میں سب سے بڑی نیکی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ” قتال فی سبیل اللہ “ ہے۔ فلسفے کی اصطلاح میں سب سے اعلیٰ خیر یا نیکی کو summum bonum کہتے ہیں۔ ہر فلسفہ اخلاق میں ایک ” خیر اعلیٰ “ (summum bonum) یا بلند ترین نیکی (highest virtue) کا تصور ہوتا ہے۔ چناچہ اس آیت کے اصل پیغام کو اگر فلسفہ کی زبان میں بیان کریں تو یوں کہیں گے کہ اسلام کے نظام فکر اور اس کے نظریہ اخلاق میں بلند ترین نیکی یا ” خیر اعلیٰ “ (summum bonum) قتال فی سبیل اللہ ہے۔ چناچہ جو کوئی اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہو اسے اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی اپنی جان اس کی راہ میں قربانی کے لیے پیش کرنا ہوگی۔ جو شخص اس قربانی کے لیے تیار نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت و قربت کا دعویٰ بھی نہ کرے (تفسیر بیان القرآن)۔

عبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے آیت ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کے بارے میں روایت کیا کہ تم عمارت والے کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ قطعاً پسند نہیں کرتا کہ اس کی عمارت میں اختلاف یعنی کوئی ٹیڑھا پن ہو تو اس طرح اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں فرماتے کہ اس کے حکم اور معاملہ میں اختلاف یا کوئی عیب ہو بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے ان کی جنگوں کا جو طریقہ کار بیان فرمایا وہی ان کے لیے نمازوں میں طریقہ بیان فرمایا سو تم لازم پکڑو اللہ کے حکم کو کیونکہ یہ حفاظت اور نجات کا ذریعہ اس شخص کے لیے جس نے اسے اپنا لیا یعنی اس کے حکم پر عمل کیا۔ ابن مردویہ نے براء بن عازب (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کھڑی ہوتی تو آپ ہمارے کندھوں کو اور ہمارے سینوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ اور فرماتے تھے اختلاف نہ کرو یعنی آگے پیچھے نہ ہوجاؤ ورنہ تمہارے دل بھی مختلف ہوجائیں گے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صفوں پر رحمتیں بھیجتے ہیں۔ اور تم کندھوں کو کندھوں کے ساتھ اور قدموں کو قدموں کے ساتھ ملا لو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نماز میں وہی پسند کرتا ہے جیسے لڑائی میں پسند کرتا ہے جیسے فرمایا آیت صفا کانہم بنیان مرصوص ایسی صف گویا کہ وہ سیسہ بلائی ہوئی دیوار ہے(تفسیر در منثور)۔