بر ی بات کو ظاھر کرنے والے

اللہ تعالٰی کا بری بات ظاھر کرنے والوں کو ناپسند کرنا

الجھر بالسوء من القول

فرمایا:

لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَــهْرَ بِالسُّوْۗءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ  ۭ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِـــيْمًا     148 النساء

اللہ تعالیٰ بری بات کے ظاہر کرنے کو پسند نہیں فرماتا سوائے اس شخص کے جس پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

یعنی کسی کی برائی بیان کرنا عام حالات میں جائز نہیں، البتہ اگر کسی پر ظلم ہوا ہو تو وہ اس ظلم کا تذکرہ لوگوں سے کرسکتا ہے، اس تذکرے میں ظالم کی جو برائی ہوگی معاف ہے(تفسیر آسان قرآن)۔

حضرت ابن عباس (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کرلے تو افضل یہی ہے۔ ابو داؤد میں ہے ” حضرت عائشہ صدیقہؓ کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سن کر فرمایا ! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو ؟ ” حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے دعا (اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ) یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے، آپ سے ایک اور روایت میں مروی ہے کہ اگرچہ مظلوم کے ظالم کو کو سنے کی رخصت ہے مگر یہ خیال رہے کہ حد سے نہ بڑھ جائے۔ عبدالکریم بن مالک جزری (رح) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ” گالی دینے والے کو یعنی برا کہنے والے کو برا تو کہہ سکتے ہیں لیکن بہتان باندھنے والے پر بہتان نہیں باندھ سکتے۔ ” ایک اور آیت میں ہے (وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ مَا عَلَيْهِمْ مِّنْ سَبِيْلٍ ) 42 ۔ الشوری :41) جو مظلوم اپنے ظالم سے اس کے ظلم کا انتقام لے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ ابو داؤد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” دو گالیاں دینے والوں کا وبال اس پر ہے، جس نے گالیاں دینا شروع کیا۔ ہاں اگر مظلوم حد سے بڑھ جائے تو اور بات ہے۔ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں جو شخص کسی کے ہاں مہمان بن کر جائے اور میزبان اس کا حق مہمانی ادا نہ کرے تو اسے جائز ہے کہ لوگوں کے سامنے اپنے میزبان کی شکایت کرے، جب تک کہ وہ حق ضیافت ادا نہ کرے۔ ابو داؤد، ابن ماجہ وغیرہ میں ہے ” صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ آپ ہمیں ادھر ادھر بھیجتے ہیں۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ ہماری مہمانداری نہیں کرتے ” آپ نے فرمایا ” اگر وہ میزبانی کریں تو درست، ورنہ تم ان سے لوازمات میزبانی خود لے لیا کرو۔ مسند احمد کی روایت میں فرمان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے کہ ” جو مسلمان کسی اہل قبلہ کے ہاں مہمان بن کر جائے اور ساری رات گذر جائے لیکن وہ لوگ اس کی مہمانداری نہ کریں تو ہر مسلمان پر اس مہمان کی نصرت ضروری ہے تاکہ میزبان کے مال سے اس کی کھیتی سے بقدر مہمانی دلائیں۔ مسند کی اور حدیث میں ہے ” ضیافت کی رات ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر کوئی مسافر صبح تک محروم رہ جائے تو یہ اس میزبان کے ذمہ قرض ہے، خواہ ادا کرے خواہ باقی رکھے ” ان احادیث کی وجہ سے امام احمد (رح) وغیرہ کا مذہب ہے کہ ضیافت واجب ہے، ابو داؤد شریف وغیرہ میں ہے ” ایک شخص سرکار رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے میرا پڑوسی بہت ایذاء پہنچاتا ہے، آپ نے فرمایا ایک کام کرو، اپنا کل مال اسباب گھر سے نکال کر باہر رکھ دو ۔ اس نے ایسا ہی کیا راستے پر اسباب ڈال کر وہیں بیٹھ گیا، اب جو گذرتا وہ پوچھتا کیا بات ہے ؟ یہ کہتا میرا پڑوسی مجھے ستاتا ہے میں تنگ آگیا ہوں، راہ گزر اسے برا بھلا کہتا، کوئی کہتا رب کی مار اس پڑوسی پر۔ کوئی کہتا اللہ غارت کرے اس پڑوسی کو، جب پڑوسی کو اپنی اس طرح کی رسوائی کا حال معلوم ہوا تو اس کے پاس آیا، منتیں کر کے کہا ” اپنے گھر چلو اللہ کی قسم اب مرتے دم تک تم کو کسی طرح نہ ستاؤں گا(تفسیر ابن کثیر)۔

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی علانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچانے والے مثلاً گالی گلوچ، قذف اور سب دشتم کرنا۔ اس لئے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے مثلاً ذکر الٰہی اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ (الا من ظلم)  مگروہ جو مظلوم ہو۔یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لئے بد دعا کرسکتا ہے، شکایت کرسکتا ہی اور اس شخص کو علانیہ بری بات کہہ سکتا ہے جس نے اعلانیہ بری بات کہی ہے، البتہ اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس پر بہتان لگائے یا اس کے ظلم سے بڑھ کر زیادتی کرے یا ظالم کے علاوہ کسی اور کو گالی وغیرہ دے۔ بایں ہمہ معاف کردینا اور ظلم و زیادتی میں مقابلہ نہ کرنا اولیٰ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فمن عفا و اصلح فاجرہ علی اللہ) (الشوری : 30/32) پس جس کسی نے معاف کردیا اور اصلاح کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے (تفسیر السعدی)۔

آیت کے عموم میں یہ سب باتیں شامل ہیں کہ کسی کی غیبت کی جائے کسی پر بہتان باندھا جائے کسی کے عیب اور گناہ کو مجھ سے بیان کیا جائے یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ اگر کسی کا عیب اور گناہ معلوم ہوجائے تو اس کی پردہ پوشی کرے نہ یہ کہ اسے اڑائے اور ادھر ادھر پہنچائے۔ بہت سے لوگوں کو غیبت کرنے اور دوسروں کی پردہ دری کرنے اور گناہوں کو مشہور کرنے اور ادھر ادھرلیے پھرنے کا ذوق ہوتا ہے ایسے لوگ اپنی بربادی کرتے ہیں اور آخرت میں اپنے لیے عذاب تیار کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص سے کوئی زیادتی ہوجائے اول تو بہت یہ ہے کہ اسے معاف کر دے اور اگر معاف کرنے کی ہمت نہیں ہے تو بدلہ لے سکتا ہے(تفسیر بیان القرآن)۔

مصنف فلاح الکونین : ص : ١٢١: اسی آیت کے تحت لکھتا ہے کہ آیت مجیدہ مظلوم کے حق کو ادا کر رہی ہے کہ ظلم وستم جو اس پر روا رکھے گئے ان کو بیان کرے اور ظالم کی شکایت کرے ، ہماری مجالس ہمارا گریہ وماتم کا مقصد امام مظلوم کی حمایت اور کربلا کے سانحہ عظیم کو دنیا کے سامنے آشکار کرنا ہے جس سے بڑھ کر وحشت وبربریت ظلم وستم عداوت وشقاوت کی روئے زمین پر اور کوئی مثال نہیں اب بتائیں ا سے زیادہ قرآن کریم سے مرثیہ خانی اور سینہ زنی کا کیا جواز ہوسکتا ہے ؟ ۔  جواب : جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے کہ اس آیت میں مظلوم کو صرف زبان سے ظالم کی شکایت کرنے کیا جازت دی گئی ہے تاکہ مدد طلب کی جائے اور ظالم سے بدلہ لیا جائے لیکن اس آیت کے بعد دوسری آیت : ١٤٩) (آیت)” ان تبدوا خیرا او تخفوہ او تعفوا عن سواء فان اللہ کان عفوا قدیرا “۔ مقبول حسین دہلوی نے اس آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے ” اگر تم کسی نیکی کا اظہار کرو گے یا اس کو چھپاؤ گے یا کسی برائی سے در گزر کرو گے تو اللہ بھی بڑا درگزر کانے والا ہے قدرت رکھنے والا ہے “ اس ترجمہ سے یہ بات واضح ہے کہ جس کو مقبول حسین نے اسی ترجمہ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ جناب امام محمد باقر سے منقول ہے کہ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ مدد طلب کرنے میں کسی کو برا بھلا کہا جائے الا جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ ظالم کے برخلاف اتنی مدد مانگے جتنی مدد دینی دین میں جائز ہے اور اس مدد کے مانگنے میں اگر وہ ظالم کی برائیاں بیان کرے تو کوئی حرج نہیں طلب نصرت کی نظیر دوسری جگہ بھی قرآن مجید میں موجود ہے (آیت)” وانتصروا من بعد ما ظلموا ‘ (رض) ۔ بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا انہوں نے مدد مانگی :(ترجمہ مقبول : ص : ١٢١: آیت زیر بحث طبع ونشران افتخار بک ڈپو رجسٹرڈ کرشن نگر لاہور)  الغرض اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظالم کی شکایت کرنے کا مقصد لوگوں سے مدد طلب کرنا ہے تاکہ ظالم سے انتقام لیا جائے مقبول حسین دہلوی نے بھی اس آیت کا مطلب ماتم نہیں لیا ۔  ماتمیوں سے ایک سوال : ہم پوچھتے ہیں کہ ظالم کی شکایت کرنے اور اس کی برائی لوگوں کو بتانے کا مقصد تو یہ تھا کہ ظالم سے انتقام لیا جائے اور مظلوم کی مدد کی جائے مگر اب حضرت حسین (رض) کے قاتل تو موجود ہی نہیں تو ان سے بدلہ لینے کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے ؟ اور اگر آپ یہی کہیں کہ ہم نے قاتلان حسین کے حامیوں سے انتقام لینا ہے تو فرمائیے پاکستان میں قاتلان حسین کے حامی کون لوگ ہیں ؟ اور اگر آپ کے نزدیک ایسے لوگ موجود ہیں تو ان سے جنگ کرکے انتقام کیوں نہیں لیتے ؟ کیا انتقام لینے کا طریقہ شریعت نے یہ سکھایا کہ خود ہی اپنے منہ پر طمانچے مارو اور اپنے ہی بدن کو لہولہان کرو اس سے تو ظالم ہی کا مقصد پورا ہوتا ہے کہ اس نے جس کو زودکوب کرنا تھا ا سنے خود ہی وہ کام کردیا کہ ظالم سے انتقام لینے کا یہ طریقہ بھی سنت سے ثابت ہے ؟ کیا یہ طریقہ معقول بھی ہے ؟ (بشارت الدارین بالصبر علی شہادت الحسین) ۔ نیز ان آیات میں نہ تو کوئی رونے کا لفظ ہے نہ سینہ کو بی کا نہ مرثیہ کا پھر آپ کا دعوی ماتم کیسے ثابت ہوگیا ؟ اور یہ بھی کوئی خوبی نہیں ہے کہ ظالم کی شکایت کو مستقل مشن بنایا جائے جس بات کی اجازت ہے وہ وقتی ہے اور بضرورت اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔ مرثیہ کا یہ مطلب ہے کہ نظم یا نثر میں مرنے والی کی خوبیاں بیان کی جائیں اور آیت میں تو ظالم کی برائی بیان کرنے کی اجازت ہے لیکن آپ نے اس کے خلاف یہ سمجھ لیا کہ آیت میں مظلوم کی خوبیاں بیان کرنے کی اجازت ہے اگر آپ کے نزدیک مرثیہ کا معنی میت پر رونا ہے ماتم کرنا ہے ماتمی جلوس نکالنے ہیں تو اس کا اس آیت میں کہیں بھی ذکر نہیں اگر آپ کی مراد جزع فزو ہو شریعت نے میت پر صبر کا حکم دیا ہے جزع فزع کی ممانعت فرمائی ہے(تفسیر معارف الفرقان) ۔