الکفرین

اللہ تعالٰی کا کفار کو ناپسند کرنا

الکفرین

اصل میں کفر کے معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتاہے  اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوت کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا(تفسیر مفردات القرآن) ۔

چناچہ ایک جگہ کفار سے ناپسندیدگی کا اظہار  فرمایا:

يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ 276 البقرہ

اللہ مٹاتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کو، اور اللہ دوست نہیں رکھتا کسی کفر کرنے والے، گناہ کرنے والے کو

یعنی جو شخص سود کی حرمت کا قائل نہ ہو اس کو حلال سمجھے اور کفر اختیار کرے اور سود کھا کھاکر خدائے پاک کی نافرمانی کرے اللہ تعالیٰ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے وہ شخص اللہ کا مبغوض ہے(تفسیر انوار البیان)۔

۔۔۔پھر فرمایا ناپسندیدہ کافروں، نافرمان زبان زور اور نافرمان فعل والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صدقہ خیرات نہ کریں اور اللہ کی طرف سے صدقہ خیرات کے سبب مال میں اضافہ کے وعدہ کی پرواہ کئے بغیر دنیا کا مال دینار جمع کرتے پھریں اور بدترین اور خلاف شرع طریقوں سے کمائیاں کریں لوگوں کے مال باطل اور ناحق طریقوں سے کھا جائیں، یہ اللہ کے دشمن ہیں ان ناشکروں اور گنہگاروں سے اللہ کا پیار ممکن نہیں(تفسیر ابنِ کثیر)۔

اس کے اندر دونوں قسم کے نافرمان آگئے، وہ جو سود کا کاروبار کرتے ہیں اور وہ جو اپنے عمل کے ساتھ ساتھ، حرمت سود کے عقیدۃ بھی منکر ہیں۔ (آیت) ” کفار “ کافر کا صیغہ مبالغہ ہے، ناشکرے اور کفران نعمت کرنے والے کے مفہوم میں کفور کا مرادف اور اس سے بلیغ تر۔ یہاں مراد وہی لوگ ہیں جو جواز سود کے قائل ہیں۔۔۔۔(آیت) ” کفار “۔ کے لفظی معنی بڑے ناشکرے کے ہیں۔ جس شخص پر اللہ اپنا اتنا فضل کرے کہ اسے اس کی اپنی ضروریات سے زیادہ مال دے او وہ اس مال کو بندوں کی آزار رسانی پر صرف کرے تو اس سے بڑھ کر سوء استعمال کی مثال اللہ کے فضل کی اور کیا ہوگی اور ایسے بدبخت سے بڑھ کر ناشکرا اور کون قرار پائے گا ؟(تفسیر ماجدی)

۔۔ اشارہ فرما دیا ہے کہ جو لوگ سود کو حرام ہی نہ سمجھیں وہ کفر میں مبتلا ہیں اور جو حرام سمجھنے کے باوجود عملاً اس میں مبتلا ہیں وہ گنہگار فاسق ہیں(تفسیر معارف القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ  32 آل عمران

 آپ فرما دیجیے کہ اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی، سو اگر وہ اعراض کریں تو بلاشبہ اللہ دوست نہیں رکھتا کافروں کو۔

اور یہ لوگ کافر ہی تو ہیں جو اطاعت رسول سے منہ موڑے ہوئے ہیں خواہ محبت الہی کے جیسے ہی دعوے ان کی زبانوں پر ہوں) (آیت) ” فان تولوا “ یعنی ایسے صاف وصریح حکم کے ماننے سے انکار کریں (تفسیر ماجدی)۔

 یہاں بتلا دیا گیا کہ کافر کبھی خدا کا محبوب نہیں ہوسکتا۔ اگر واقعی محبوب بننا چاہتے ہو تو اسکے احکام کی تعمیل کرو، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کہا مانو اور خدا کے سب سے بڑے محبوب کے نقش قدم پر چلے آؤ(تفسیر عثمانی)۔

اس آیت میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اطاعت رسول کی بھی تاکید کرکے واضح کردیا کہ اب نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے اور اس سے انحراف کفر ہے اور ایسے کافروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا چاہے وہ اللہ کی محبت اور قرب کے کتنے ہی دعویدار کیوں نہ ہوں(تفسیر جلالین)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ 38 الحج

بلاشبہ اللہ ایمان والوں سے رفع فرما دے گا بلاشبہ اللہ کسی بھی خیانت کرنے والے نا شکرے کو پسند نہیں فرماتا

دغا باز ناشکرے اللہ کی محبت سے محروم ہیں اپنے عہدو پیمان پورے نہ کرنے والے اللہ کی نعمتوں کے منکر اللہ کے پیار سے دور ہیں(تفسیر ابنِ کثیر)۔

ہر کافر اور مشرک خیانت کرنے والا ہے اس کے ذمہ ہے کہ اپنے خالق ومالک وحدہ لا شریک کی عبادت کرے اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو مانے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا لہٰذا وہ بہت بڑا خائن ہے۔ اسی لیے لفظ خوان مبالغہ کے صیغہ کے ساتھ لایا گیا ہے اور ہر کافر کفور یعنی نا شکرا بھی ہے پیدا تو فرمایا اللہ تعالیٰ نے اور عبادت کرتا ہے غیر اللہ کی اور ان دینوں کو اختیار کرتا ہے جنہیں لوگوں نے خود تراشا ہے یہ خالق جل مجدہ کی بہت بڑی نا شکری ہے کہ نعمتیں اس کی کھائیں اور اسی کے دین سے منحرف رہیں اللہ تعالیٰ ان سے محبت نہیں فرماتا مشرک اور کافر سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہیں آخر یہ لوگ مغلوب ہوں گے اور اللہ کے مومن بندے ہی کامیاب ہوں گے(تفسیر انوارالبیان)۔

یہ یقیناً مشرکین مکہ کا تذکرہ ہے ‘ جو ایک طرف خیانت کی انتہائی حدود کو پھلانگ گئے تو دوسری طرف ناشکری میں بھی ننگ انسانیت ٹھہرے۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی وراثت کے امین تھے۔ بیت اللہ گویا ان لوگوں کے پاس ان بزرگوں کی امانت تھی۔ یہ گھر تو تعمیر ہی اللہ کی عبادت کے لیے ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی گواہی ان الفاظ میں دی تھی : (رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ) (ابراہیم : ٣٧) کہ پروردگار ! میں اپنی اولاد کو اس گھر کے پہلو میں اس لیے بسانے جا رہا ہوں کہ یہ لوگ تیری عبادت کریں۔ پھر آپ ( علیہ السلام) نے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے یہ دعا بھی کی تھی : (وَاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ ) کہ پروردگار  مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی کی لعنت سے بچائے رکھنا۔ چناچہ مشرکین مکہّ نے اللہ کے اس گھر اور توحید کے اس مرکز کو شرک سے آلودہ کر کے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی نہیں کی تھی بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی متبرک امانت میں خیانت کا ارتکاب بھی کیا تھا۔دوسری طرف یہ لوگ اپنے کرتوتوں سے اللہ کی نا شکری کے مرتکب بھی ہوئے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ پورے جزیرہ نمائے عرب میں مکہ کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ بیت اللہ کی وجہ سے ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف تھے کہ مشرق و مغرب کے درمیان تجارتی میدان میں ان کی اجارہ داری خانہ کعبہ ہی کے طفیل قائم ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شام (موسم گرما) اور یمن (موسم سرما) کے درمیان ان کے قافلے قبائلی حملوں اور روایتی لوٹ مار سے محفوظ رہتے تھے تو صرف اس لیے کہ وہ بیت اللہ کے متولی تھے۔ یہی وہ حقائق تھے جن کی طرف ان کی توجہ سورة القریش میں دلائی گئی ہے : (لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ ۔ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَالصَّیْفِ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ ۔ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍلا وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ ) ” قریش کو مانوس کرنے کے لیے ! انہیں سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے مانوس کرنے کے لیے ! پس انہیں چاہیے کہ وہ (اس سب کچھ کے شکر میں) اس گھر کے رب کی بندگی کریں ‘ جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا ‘ اور خوف میں امن بخشا۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود انہوں نے نا شکری کی انتہا کردی۔ انہوں نے اللہ کی بندگی کے بجائے بت پرستی اختیار کی اور بیت اللہ کو توحید کا مرکز بنانے کے بجائے اسے ُ بت خانے میں تبدیل کردیا۔ اس پس منظر کو ذہن نشین کر کے آیت زیر نظر کا مطالعہ کیا جائے تو سیاق وسباق بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ وہ خائن اور ناشکرے لوگ کون ہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا(بیان القرآن)۔

پسند نہ کرنے سے مراد ہے نفرت کرنا۔ خوان یعنی امانت الٰہیہ میں بڑی خیانت کرنے والا کفور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا۔زجاج نے کہا جو شخص ذبح کے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام لیتا ہے اور دوسرے کے نام پر قربانی کرتا ہے اور بھینٹ چڑھا کر بتوں کا تقرب حاصل کرتا ہے وہ خوان کفور ہے(تفسیر مظہری)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ  45 الروم

تاکہ اللہ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، بلاشبہ وہ کفر اختیار کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

انہ لا یحب الکفرین سے غرض یہ ہے کہ گو وہ باعتبار تکوین کے کافروں اور منکروں سے تعرض نہیں کرتا ۔ اور ان کے افعال و اعمال میں مزاحم نہیں ہوتا مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں  کہ وہ ان کے اعمال کو پسند بھی کرتا ہے اور وہ ان کو باوجود سرکشیوں کے محبوب بھی رکھتا ہے ۔ کائنات کی مصالح کا تقاضا ہے کہ منکر کو انکار میں اور مومن کو ایمان میں پوری پوری آزادی بخشی جائے اس لئے وہ برائی کی طرف بڑھنے والوں کو روک تو نہیں دیتا ہے مگر اس کی خواہش یہی ہے کہ اس کے بنا سے کفر سے بچیں اور ایمان وتقویٰ کی دعوت کو قبول کریں (تفسیر سراج البیان)۔

یعنی قیامت کا سب سے اہم اور مثبت پہلو یہی ہے کہ اللہ اپنے وفادار بندوں کو اپنے فضل سے نوازے۔ رہے کافر اور سرکش لوگ تو اللہ انہیں ہرگز پسند نہیں کرتا اور جب وہ پسند نہیں کرتا تو ان کو وہ کیوں اپنے فضل سے نوازنے لگے۔ انہوں نے جیسا کیا ویسا بھریں گے(تفسیر دعوت قرآن)۔

کفار کی صفا ت میں ایک جگہ فرمایا:

وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ    ۠   وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا  وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ 41 البقرہ

اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمد ﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب (تورات) کو سچا کہتی ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکر اول نہ بنو اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) نہ حاصل کرو اور مجھ ہی سے خوف رکھو

بنی اسرائیل کو یاد دلایا جارہا ہے کہ قرآن کریم وہی دعوت لے کر آیا ہے جو تورات اور انجیل کی دعوت تھی اور جن آسمانی کتابوں پر وہ ایمان رکھتے ہیں قرآن کریم انہیں جھٹلانے کے بجائے دو طرح سے ان کی تصدیق کرتا ہے ایک اس لحاظ سے کہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ کتابیں اللہ ہی کی نازل کی ہوئی تھیں (یہ اور بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے ان میں کافی رد وبدل کرڈالا جس کی حقیقت قرآن نے واضح فرمائی) اور دوسرے قرآن اس حیثیت سے ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے کہ ان کتابوں میں آخری نبی کی تشریف آوری کی جو پیشینگوئیاں کی گئی تھیں قرآن کریم نے انہیں سچا کردکھایا اس کا تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل عرب کے بت پرستوں سے پہلے اس پر ایمان لاتے ؛ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جس تیز رفتاری سے بت پرست اسلام لارہے ہیں اس رفتار سے یہودی ایمان نہیں لارہے ہیں اور اس طرح گویا بنی اسرائیل قرآن کی تکذیب کرنے میں پیش پیش ہیں اس لئے کہا گیا کہ تم ہی سب سے پہلے اس کے منکر نہ بن جاؤ، بعض یہودیوں کا طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ رشوت لے کر تورات کی تشریح عام لوگوں کی خواہشات کے مطابق کردیا کرتے تھے اور بعض اوقات اس کے احکام کو چھپالیتے تھے ان کے اس طرز عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا میری آیتوں کو معمولی سی قیمت لے کر نہ بیچو اور حق کو باطل کے ساتھ گڈمڈ نہ کرو اور نہ حق بات کو چھپاؤ(تفسیر آسان قرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا  ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ170 البقرہ

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے ؟)

یعنی حق تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے باپ دادا کا اتباع کرتے ہیں اور یہ بھی شرک ہے چناچہ بعض جہال مسلمان بھی ترک نکاح بیوگاں وغیرہ رسوم باطلہ میں ایسی بات کہہ گزرتے ہیں اور بعض زبان سے گو نہ کہیں مگر عمل درآمد سے ان کے ایسا ہی مترشح ہوتا ہے سو یہ بات اسلام کے خلاف ہے(تفسیر عثمانی)۔

اس میں پوری وضاحت سے ثابت ہوگیا کہ آباء کی تقلید باطل میں حرام ہے حق میں جائز بلکہ مستحسن ہے(تفسیر معارف القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ104 المائدہ

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ بھلا ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی ؟ )

جاہلوں کی سب سے بڑی حجت یہ ہی ہوتی ہے کہ جو کام باپ دادا سے ہوتا آیا ہے اس کا خلاف کیسے کریں۔ ان کو بتلایا گیا کہ اگر تمہارے اسلاف بےعقلی یا بےراہی سے قعر ہلاکت میں جا گرے ہوں تو کیا پھر بھی تم ان ہی کی راہ چلو گے ؟ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ” باپ کا حال معلوم ہو کہ حق کا تابع اور صاحب علم تھا تو اس کی راہ پکڑے نہیں تو عبث ہے ” یعنی کیف ما اتفق ہر کسی کی کو رانہ تقلید جائز نہیں(تفسیر عثمانی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَـقِّ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ لَفِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍ176 البقرہ

یہ اس لیے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آ کر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

یعنی بھٹک کر حق وصداقت سے بہت ہی دور جاپڑے ہیں۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ یہ غفلت ان میں اس سے پیدا ہوگئی ہے کہ اللہ کے سچے کلام میں انہوں نے از راہ نفسانیت خواہ مخواہ اختلاف کیا اور اس لیے اور زیادہ بھٹک گئے(تفسیر ماجدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

 فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِهٖ څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ  ڤ7 آل عمران

 تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا

جن کے دلوں میں حق طلبی، حق جوئی و تلاش صداقت نہیں ہوتی وہ اس ادھیڑ بن میں لگے رہتے ہیں کہ دین میں کوئی نہ کوئی فتنہ برپا کریں اور بجائے اس کے کہ خود دین کی راہ پر چلیں، دین کو اپنی راہ پر چلانا چاہتے ہیں اور یہ لوگ نصوص کلام الہی کو توڑنے مروڑنے میں کوئی باک نہیں رکھتے۔ جیسا کہ آجکل بھی ہر فرقہ باطل کی تاویلات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ الفتنۃ ھی الکفر والضلال فی ھذا الموضع (جصاص) (آیت) ” ابتغآء الفتنۃ “۔ اس غلط تعبیری میں بھی یہ لوگ مخلص نہیں۔ مقصود ہی ان کا عوام مسلمین کو تشویش میں ڈالنا اور وحدت دین میں رخنہ پیدا کرنا ہے(تفسیر ماجدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا136 النساء

 اور جو شخص خدا اور اسکے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روز قیامت سے انکار کرے وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑا

یعنی جو اسلام قبول کرے اس کو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر دل سے یقین لائے۔ اس کے ارشادات میں سے اگر کسی ایک ارشاد پر بھی یقین نہ لائے گا تو وہ مسلمان نہیں۔ صرف ظاہری اور زبانی بات کا اعتبار نہیں ہے(تفسیر عثمانی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا  ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا  ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ51 الاعراف

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا، تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے اسی طرح آج بھی انہیں بھلا دیں گے۔

کافروں نے اپنے دین کو (جو اللہ نے ان کے لیے بھیجا تھا) لہو و لعب کھیل تماشا بنا دیا تھا اس کو قبول نہیں کرتے تھے اور الٹا اس کا مذاق بناتے تھے۔ دنیاوی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈالا اسی کے لیے عمل کرتے رہے اور سب کچھ اسی کو سمجھتے رہے آخرت کے لیے فکر مند نہ ہوئے اور جس دین کے ذریعے آخرت میں نجات ہوتی اسے قبول کرنے سے دور رہے(تفسیر انوار البیان)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ24 النحل

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

یہ گہرا فشانی قرآن مجید جیسی محقق کتاب سے متعلق ! مشرکین مکہ تو خیر اپنی بیخبر ی، تاریک خیالی اور جہالت کیلئے ضرب المثل ہی ہیں، کمال یہ ہے کہ آج فرنگستان کے بڑے بڑے  روشن خیال مدعیان علم و دانش بہک بہک کر بس یہی کہتے ہیں کہ قرآن میں ہے کیا، یہود ونصاری کی کتابوں سے کچھ قصے لے لے کر انہیں مسخ وتحریف کے بعد جمع کردیا گیا ہے۔(آیت) لھم سے مراد مشرکین قریش ہیں۔ (آیت) واذا قیل لھم یعنی جب ان سے باہر کا کوئی شخص سوال کرتا ہے۔ یا خود آپس میں یہ ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ کرتے ہیں(تفسیر ماجدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا  ۙ اَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِيًّا 73 مریم

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں ؟

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب آیات تلاوت کی جاتی تھیں جو اپنے معانی کے اعتبار سے واضح ہیں اور جن کے معانی ظاہر ہیں تو انھیں سن کر ایمان لانے کے بجائے معاندین مزید سرکشی پر تل جاتے تھے اور جنھوں نے ایمان قبول کیا ان سے کہتے تھے کہ دیکھو ایک فریق ہمارا ہے اور ایک فریق تمہارا ہے اب بتاؤ کہ دونوں میں سے کون سا فریق مقام اور مرتبہ کے اعتبار سے اور مجلس کے اعتبار سے بہتر اور اچھا ہے ؟ ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم لوگ دنیا میں اچھے حال میں ہیں اچھا کھاتے پیتے اور اچھا پہنتے ہیں ہماری مجلسیں بھی اچھی ہیں بن سنور کر خوشبو لگا کر عمدہ کپڑے پہن کر مجلسوں میں جمع ہوتے ہیں اور تم لوگ ایسے ہو کہ نہ کھانے کو اور نہ پہننے کو، ان حالات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم حق پر ہیں اور اللہ کے مقبول بندے ہیں(تفسیر انوار البیان)۔

یہ جاہلی استدلال آج جس زور وشور سے پیش کیا جارہا ہے، پیشتر شاید کبھی نہ ہوا ہو۔ صرف اہل باطل ہی نہیں، بلکہ ان سے مرعوب بہت سے مسلمان بھی مسیحی قوموں، مشرک قوموں، لامذہب قوموں کی مثالیں پیش کر کرکے پکار پکار کر مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں۔ کہ ان کی ترقیاں دیکھو، ان کی دولت، حکومت، عظمت، جاہ و ثروت دیکھو، ان کی اقبال مندی پر نظر کرو، اور تم اگر اپنی ترقی اور رفاہ چاہتے ہو تو انہیں کے طریقہ اختیار کرو، انہیں کی روش پر چلو اور وہی کرو جو یہ ترقی یافتہ اقبال مند قومیں کر رہیں ہیں۔ ترقی و فلاح  نام ہی انہیں دنیا پرست قوموں کی تقلید کا ہے !(تفسیر ماجدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ  ۭ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا  ۭ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ اَلنَّارُ  ۭ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا  ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ 72 الحج

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے

آیات قرآنی کی جب تلاوت کی جاتی ہے تو اہل ایمان خوش ہوتے ہیں، اور کلام الٰہی کی مٹھاس اور شیرینی ان کے رگ و پے میں سما جاتی ہے لیکن یہ لوگ جنہوں نے کفر و شرک کے باعث اپنے ذوق سلیم کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے۔ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات بینات پڑھی جاتی ہیں تو ان کے چہروں پر ناگواری اور ناپسندی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور اگر ان کا بس چلے تو پڑھنے والے پر حملہ کرکے اس کی تکا بوٹی کردیں۔ المنکر : الغضب والعبوس۔ ناراضگی اور ناگواری۔ یسطون : شدۃ البطش۔ یعنی قرآن کریم کی آیات سن کر تمہارا دل ڈوبنے لگتا ہے۔ تمہاری طبیعت میں قلق اور اضطراب کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ تمہاری پیشانی پر بل پڑنے لگتے ہیں۔ کچھ دیر بعد تمہیں ایک ایسی چیز سے پالا پڑنے والا ہے جو تمہارے لیے ان سے بھی کہیں زیادہ خطرناک اور ہوشربا ہوگی۔ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کی آنچ کو ہر لحظہ تیز کیا جا رہا ہے۔ جس کے شعلے تمہیں بھسم کرنے کے لیے ماہی بےآب کی طرح بیتاب ہیں۔ اگر تم نے عقل و فہم کی خداداد قوتوں سے کام لے کر حق کو قبول نہ کیا تو یاد رکھو تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا(تفسیر ضیاءالقرآن)۔

مُسْتَكْبِرِيْنَ ڰ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ 67 المومنون

ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بے ہودہ بکواس کرتے تھے

مشرکین کا ایک حال جو آیات الٰہیہ سے انکار کا سبب بنا ہوا تھا , حرم مکہ کی نسبت و خدمت پر ان کا ناز تھا۔ دوسرا حال یہ بیان فرمایا کہ یہ لوگ بےاصل اور بےبنیاد قصے کہانیوں میں مشغول رہنے کے عادی ہیں ان کو اللہ کی آیات سے دلچسپی نہیں۔تھجرون، یہ لفظ ہجر بضم الہاء سے مشتق ہے جس کے معنے فضول بکواس اور گالی گلوچ کے ہیں یہ تیسرا حال ان مشرکین کا بیان کیا گیا کہ یہ لوگ فضول بکواس اور گالی گلوچ کے عادی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں بعض ایسے ہی گستاخانہ کلمات کہتے رہتے ہیں۔

رات کو افسانہ گوئی کا مشغلہ عرب و عجم میں قدیم سے چلا آتا ہے اور اس میں بہت سے مفاسد اور وقت کی اضاعت تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس رسم کو مٹانے کے لئے عشاء سے پہلے سونے کو اور عشاء کے بعد فضول قصہ گوئی کو منع فرمایا۔ حکمت یہ تھی کہ عشاء کی نماز پر انسان کے اعمال یومیہ ختم ہو رہے ہیں جو دن بھر کے گناہوں کا بھی کفارہ ہوسکتا ہے۔ یہی اس کا آخری عمل اس دن کا ہو تو بہتر ہے اگر بعد عشاء فضول قصہ گوئی میں لگ گیا تو اولاً یہ خود فعل عبث اور مکروہ ہے اس کے علاوہ اس کے ضمن میں غیبت جھوٹ اور دوسرے طرح طرح کے گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے اور ایک برا انجام اس کا یہ ہے کہ رات کو دیر تک جاگے گا تو صبح کو سویرے نہیں اٹھ سکے گا اسی لئے حضرت فاروق اعظم(رض) جب کسی کو عشاء کے بعد فضول قصوں میں مشغول دیکھتے تو تنبیہ فرماتے تھے اور بعض کو سزا بھی دیتے تھے اور فرماتے کہ جلد سو جاؤ شاید آخر رات میں تہجد کی توفیق ہوجائے (تفسیر معارف القرآن)۔

ایک جگہ  ان کفر کرنے والوں سے مقابلہ کافرمایا:

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا    52الفرقان

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس (قرآن) کے حکم کے مطابق بڑے شدو مد سے لڑو

چناچہ مکہّ میں بارہ سال تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو جہاد کیا وہ جہاد بالسیف نہیں تھا بلکہ جہاد بالقرآن تھا۔ اس جہاد کی آج پھر ہمارے معاشرے میں شدید ضرورت ہے (تفسیر بیان القرآن)۔

ایک اور جگہ ان کی صفات کے بارے میں  فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِيْٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ7 لقمان

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

ان لوگوں(کافرین) کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔ شرافت اور نیکی کا جذبہ دم توڑ چکا ہے۔ اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے کہ خدارا اپنی نوخیز نسل پر رحم کرو، اپنی قوم پر ترس کھاؤ، معاشرہ کے امن و سکون کو غارت نہ کرو، دولت کی محبت میں اتنے دیوانے نہ بن جاؤ کہ تمہیں اپنے انجام کا بھی ہوش نہ رہے تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا الٹا غصے اور غرور سے منہ پھیر لیتے ہیں اور اکڑ کر گزر جاتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے گویا انہوں نے کوئی بات سنی ہی نہیں کیا ان کے کان بہرے ہیں انہیں کچھ سنائی دیتا ہی نہیں۔ وقر کانوں کی گرانی جس کے باعث سنائی نہیں دیتی(تفسیر ضیاء القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ 4 مومن

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے،  رواہ البغوی (تفسیر مظہری)۔

یہ جدال جس کو قرآن و حدیث نے کفر قرار دیا اس سے مراد قرآنی آیات پر طعن کرنا اور فضول قسم کے شبہات نکال کر اس میں جھگڑا ڈالنا ہے یا کسی آیت قرآن کے ایسے معنی بیان کرنا جو دوسری آیات قرآن اور نصوص سنت کے خلاف ہوں جو تحریف قرآن کے درجہ میں ہے ورنہ کسی مبہم یا مجمل کلام کی تحقیق یا مشکل کلام کا حل تلاش کرنا یا کسی آیت سے احکام و مسائل کے استنباط میں باہم بحث و تحقیق کرنا اس میں داخل نہیں بلکہ وہ تو بڑا ثواب ہے(تفسیر معارف القرآن)۔

یہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے سب مسلمانوں کو سمجھانا مقصود ہے کہ اے مسلمانو ! ان غیر مسلموں کے مادی وسائل ان کی طاقت  ترقی اور ٹیکنالوجی تمہیں مرعوب نہ کرے۔ دیکھو ! کسی دنیوی سپر پاور کے دھوکے میں آکر کہیں تم اللہ کی قدرت اور طاقت کو بھول نہ جانا !(تفسیربیان القرآن)۔