المقسطین

اللہ تعالٰی کا مقسطین کو پسند کرنا

المقسطین

القسط ( اسم ) نصف ومصفۃ کی طرح قسط بھی مبنی بر عدل حصہ کو کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مارنا بھی آتے ہیں اس لئے یہ ظلم اور جو رے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے القسط پاؤں میں ٹیڑھا پن یہ افجع کی ضد ہے جس کے نزدیک اور ایڑیوں کی جانب سے دور ہو نیکے ہیں ۔ الا قساط اس کے اصل معنی کسی کو اس کا حق دینے کے ہیں اسی چیز کا نام انصاف ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قسط الرجل فھو قاسط ) کے معنی ظلم کرنے اوراقسط کے معنی انصاف کرنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] اور گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] اور انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ فقسطنا بیننا ہم نے ( کسی چیز کو آپس میں برا بر تقسیم کرلیا چناچہ القسطاس تراز وکو کہتے ہیں اور لفظ میزان کی طرح اس سے بھی عدل وانصاف کے معنی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] اور جب تول کر دو تو ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو (تفسیر مفردات القرآن)۔

چناچہ فرمایا:

ۭوَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ  ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ      42 المائدہ

اگر آپ فیصلہ دیں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیے بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

ابتداء جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی یہودی اس وقت ایک باقاعدہ اسلامی ریاست کی باقاعدہ رعایا نہیں تھے بلکہ اسلامی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے، یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی ان کے مذہبی مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق ان کے اپنے جج کرتے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یا آپ کے مقررہ کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کیلئے وہ روئے قانون مجبور نہ تھے لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے ان کا فیصلہ کرانے کے لئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس امید پر آجاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان کیلئے کوئی دوسرا حکم ہو اور اس طرح وہ اپنے قانون سے بچ جائیں(تفسیر جلالین)۔

احکام خداوندی میں تبدیلی کرکے یہ(یہودی) لوگ رشوت اور حرام کھانے والے ہیں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے پاس بنوقریظہ، اور نضیر یا خیبر والے آئیں اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہیں تو ان کے درمیان سنگسار کرنے کا فیصلہ فرما دیجیے یا اعراض کیجیے یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیصلہ فرمائیں تو رجم کا فیصلہ فرمائیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں اور کتاب اللہ (تورات) کے حکم رجم پر عمل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے(تفسیر ابنِ عباس)۔

یعنی جب فیصلہ کیا جائے تو عدل و انصاف کو پیش نظر رکھا جائے کسی کا یہودی یا منافق اور دشمن دین ہونا اس پر ظلم کرنے اور اس کا حق ضائق کرنے کے لئے وجہ جواز نہیں بن سکتا(تفسیر ضیاء القرآن)۔

میں کہتا ہوں فریقین ذمی کافر ہوں یا حربی اگر مسلمان حاکم کے سامنے اپنا مقدمہ لائیں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا حاکم پر واجب ہے۔ بادشاہ کی طرف سے وہ اس کا ذمہ دار بنا ہے۔ اسی طرح اگر صرف مدعی علیہ ذمی ہو یا مسلمان ہو تب بھی حاکم پر مقدمہ کا فیصلہ واجب ہے۔ مسلمان تو بہرحال مسلمان ہے اور ذمی اہل اسلام کی ذمہ داری میں آچکا ہے۔ ہاں اگر مدعیٰ علیہ حربی ہو تو چونکہ اس نے شریعت اسلامیہ کے احکام کا التزام نہیں کیا ہے ‘ اس لئے حاکم پر بھی اس کا فیصلہ کرنا واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر دونوں مسلمان ہوں یا دونوں ذمی ہوں یا دونوں حربی ہوں یا ایک حربی اور ایک ذمی ہو اور دونوں جا کر کسی مسلمان سے فیصلہ کرانا چاہیں مگر یہ مسلمان حاکم عدالت نہ ہو بلکہ اس کی حیثیت پنچ کی ہو تو پنچ بننا اور فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔ فیصلہ کر دے یا نہ کرے دونوں باتوں کا اختیار ہے(تفسیر مظہری)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ 9 الحجرات

اور اگر ایمان والوں کی دو جماعتیں آپس میں قتال کرنے لگیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو ، پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو اس سے جنگ کرو جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، سو اگر وہ رجوع کرلے تو ان دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اگر دو مسلمان شخصوں میں یا دو گروہوں میں لڑائی ہوجائے جو لوازم بشریہ سے ہے تو تم لوگ اس میں تماشہ نہ دیکھا کرو۔ بلکہ ان دونوں میں اصلاح کر کے فساد رفع کردیا کرو۔ خوب دل سے توجہ کر کے مصالحت میں کوشش کیا کرو اور سمجھ رکھو کہ جتنا گناہ فساد کرنے والوں کو ہے اتنا بلکہ اس سے بڑھ کر اس فساد پر خاموش رہنے والوں کو ہے۔ کیونکہ وہ اپنے فرض سے غافل ہیں ان کی خاموشی سے فساد میں ترقی ہوتی ہے ان کو چاہیے تھا کہ فساد دور کرنے میں دلی کوشش کرتے مگر وہ الگ بیٹھ کر تماشہ دیکھتے ہیں۔ اس لئے وہ ذمہ دار ہیں باوجود کوشش کے پھر اگر دیکھو کہ کوئی فریق دوسرے پر ظلم زیادتی کرتا ہے یعنی صلح کی طرف مائل نہیں ہوتا یا بعد مصالحت ہوجانے کے پھر بگاڑ کرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں تمہارا فرض بھی منقلب ہوجائے گا۔ یعنی بجائے درمیانی بنکر اصلاح کرنے کے تم پر فرض ہوگا کہ تم لوگ مظلوم اور مائل بصلح فریق سے مل کر اس زیادتی کرنے والے فریق کا مقابلہ کرو جتنی تم میں طاقت ہو اس کو تنگ کرو اس کو بدنام کرو اس کی نسبت لوگوں میں پھیلائو کہ فساد اسی کا ہے۔ جو مصالحت یا شرعی فیصلہ کی طرف نہیں آتا یا آکر پھرجاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ حکم الٰہی اور شرعی فیصلہ کی طرف مائل ہو۔ پھر بھی اگر وہ باغی فریق ‘ اپنی شرارت اور نافرمانی سے باز آجائے تو عدل کے ساتھ ان دونوں فریقوں میں اصلاح کردیا کرو اور … اصلاح کرنے میں اس فریق کے …انکار یا بغاوت سابقہ کی وجہ سے طبیعت میں ملال پیدا کر کے کسی طرح کی بےانصافی نہ کیا کرو بلکہ ہر حال میں انصاف ہی کیا کرو جو جس معاملہ میں جتنا قصور وار ہو اس کو اتنا ہی قصور وار سمجھا کرو۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ دیکھو یہ رنجشیں جو مسلمانوں میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ خواہ کسی رنگ میں ہوں دینی صورت میں یا دنیاوی شکل میں ان رنجشوں کو خانگی رنجشیں سمجھ کر زیادہ طول نہ دیا کرو۔ کیونکہ آخر بات تو یہی ہے کہ ایماندار سب آپس میں بھائی بند ہیں پس تم لوگ ان لڑنے والے اپنے بھائیوں میں مصالحت بلکہ اصلاح کردیا کرو۔ دیکھو اصلاح کرنے میں دونوں کو اپنا بھائی جانا کرو اور اس خدمت کے ادا کرنے میں اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے ایسا نہ ہو کہ جانبداری کرنے میں بجائے ثواب کے تم کو عذاب ہو(تفسیر ثنائی)۔

 (یعنی )کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادتی کرنے والے فریق کے خلاف طاقت کے استعمال کے دوران تم لوگ انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھو۔ ایسا ہرگز نہیں ہوناچاہیے۔ طاقت کا یہ استعمال صرف انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی حد تک ہو۔ ظاہر ہے ایک زیادتی کو روکنے کے لیے مزید کسی زیادتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی(تفسیر بیان القرآن)۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار کسی ظالم کے حوالے کردیتا ہے۔۔۔یہ جملہ بھی غور طلب ہے۔ یعنی اگر صلح کراتے وقت عدل و انصاف سے کام نہیں لیا جائے گا، ظلم اور بےانصافی کی بنیاد پر صلح کرائی جائے گی تو وہ صلح پائیدار ثابت نہ ہوگی۔ مظلوم فریق مطمئن نہیں ہوگا اور اپنی حق رسی کے لیے موقع کا منتظر ہوگا۔ جب حالات اجازت دیں گے تو پھر فتنہ کی آگ بھڑکا دے گا۔ اس لیے اسلام کو ایسی صلح سے کوئی دل چسپی نہیں جس کی بنیاد ظلم پر ہو اور جو ناپائیدار ہو۔ (تفسیر ضیاءالقرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ 8 الممتحنہ

اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کیساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، اللہ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے

یعنی جو غیر مسلم ،مسلمانوں سے نہ جنگ کرتے ہیں، اور نہ انہیں کوئی اور تکلیف دیتے ہیں، ان سے اچھا برتاؤ اور نیکی کا سلوک اللہ تعالیٰ کو ہرگز ناپسند نہیں ہے، بلکہ انصاف کا معاملہ کرنا تو ہر مسلم اور غیر مسلم کے ساتھ واجب ہے(تفسیر آسان قرآن)۔

حضرت لاہوری (رح) لکھتے ہیں کہ اس قسم کے کفار سے نرمی اور رواداری کرنی چاہیے تاکہ تالیف قلوب سے ممکن ہے کہ مائل با سلام ہوجائیں ۔ اس آیت میں اصل مقصود بر واحسان کرنے کی ہدایت ہے اس آیت سے ثابت ہوا نفلی صدقات ذمی اور مصلح کا فر کو بھی دیئے جاسکتے ہیں صرف حربی کافر کو دینا ممنوع ہے (تفسیر معارف الفرقان)۔