المسرفین

اللہ تعالٰی کا مسرفین کو ناپسند کرنا

المسرفین

السرف کے معنی انسان کے کسی کام میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے کے ہیں مگر عام طور پر استعمال انفاق یعنی خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرجانے پر ہوتا پے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بیجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں ۔ وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے ( یعنی بڑے ہو کہ تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے ) اسے فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا ۔ اور یہ یعنی بےجا سرف کرنا مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولاجاتا ہے چناچہ حضرت سفیان ( رح ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی میں ایک حبہ بھی صرف کیا جائے تو وہ اسراف میں داخل ہے ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] اور بےجانہ اڑاکہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں ۔ یعنی جو اپنے امور میں احد اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے نکل جانے والا ( اور ) جھوٹا ہے ۔ اور قوم لوط (علیہ السلام) کو بھی مسرفین ( حد سے تجاوز کرنے والے ) کیا گیا ۔ کیونکہ وہ بھی خلاف فطرف فعل کا ارتکاب کرکے جائز حدود سے تجاوز کرتے تھے اور عورت جسے آیت : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ۔ میں حرث قرار دیا گیا ہے ۔ میں بیچ بونے کی بجائے اسے بےمحل ضائع کر ہے تھے اور آیت : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ( اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہدد وکہ ) اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی میں اسرفوا کا لفظ مال وغیرہ ہر قسم کے اسراف کو شامل ہے اور قصاص کے متعلق آیت : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] تو اس کا چاہئے کہ قتل ( کے قصاص ) میں زیادتی نہ کرے ۔ میں اسراف فی القتل یہ ہے کہ غیر قاتل کو قتل کرے اس کی دو صورتیں ہی ۔ مقتول سے بڑھ کر باشرف آدمی کو قتل کرنے کی کوشش کرے ۔ یا قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کرے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا ۔ (تفسیر مفردات القرآن) ۔

چناچہ فرمایا:

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ   ۭ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ   ڮ وَلَا تُسْرِفُوْا    ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ    141الانعام

اور وہ وہی ہے جس نے باغیچے پیدا فرمائے جو چڑھائے جاتے ہیں چھپریوں پر، اور ایسے بھی ہیں جو چھپریوں پر نہیں چڑھائے جاتے، اور پیدا فرمائے کھجور کے درخت اور کھیتی جس میں مختلف قسم کے کھانے کی چیزیں ہیں اور پیدا فرمایا زیتون کو اور انار کو جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اور غیر مشابہ بھی ہیں۔ کھاؤ ان کے پھلوں سے جبکہ پھل لائیں اور کٹائی کے دن اس کا حق دے دو اور فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔

عربی میں اسراف حد سے آگے بڑھنے کو کہتے ہیں۔ عام طور سے اس لفظ کا ترجمہ فضول خرچی سے کیا جاتا ہے اور چونکہ اس میں بھی حد سے آگے بڑھ جانا ہے اس لیے یہ معنی بھی صحیح ہے۔ اور فضول خرچی کے علاوہ جن افعال اور اعمال میں حد سے آگے بڑھا جائے ان سب کے بارے لفظ اسراف مشتمل ہوتا ہے۔ اگر سارا ہی مال فقراء کو دیدے اور تنگ دستی کی تاب نہ ہو تو یہ بھی اسراف میں شمار ہوتا ہے۔ صاحب روح المعانی نے ج ٨ ص ٣٨ پر حضرت ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس (رض) کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے ایک دن کھجوروں کے باغ کے پھل توڑے اور کہنے لگے کہ آج جو بھی شخص آئے گا اسے ضرور دے دوں گا، لوگ آتے رہے اور یہ دیتے رہے حتیٰ کہ شام کے وقت ان کے پاس کچھ بھی نہ بچا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ حضرت ابو مسلم نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ کٹائی سے پہلے پیداوار میں سے مت کھاؤ کیونکہ اس سے فقراء کے حق میں کمی آئے گی۔ حضرت ابن شہاب زہری نے آیت کا مطلب یہ بتایا کہ پیداوار کو گناہوں میں خرچ نہ کرو(تفسیر انوارالبیان)۔

یعنی صدقہ و خیرات میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو، یعنی نفلی صدقات میں اسلئے کہ صدقات واجبہ تو محدود و متعین ہیں ان میں اسراف کا سوال ہی نہیں ہے(تفسیر جلالین)۔

 (٢٢) امام ابن ابی حاتم نے عمر (رح) جو غفرہ کے آزاد کردہ غلام تھے ان سے روایت کیا کہ جو چیز تو اللہ کی اطاعت پر خرچ کرے وہ اسراف نہیں۔ (٢٣) امام ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اگر تو ابو قیس کی مثل سونا خرچ کرے اللہ کی اطاعت میں تو یہ اسراف نہ ہوگا۔ اور اگر تو ایک صاع نافرمانی میں خرچ کرے تو یہ اسراف ہے۔ (٢٤) امام عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولا تسرفوا کے بارے میں فرمایا کہ صدقہ کو نہ روکو ورنہ تم نافرمان ہوجاؤ گے۔ (٢٥) امام ابن ابی حاتم نے عون بن عبد اللہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت انہ لا یحب المسرفین کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسروں کا مال کھاتا ہے۔ (٢٦) امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واتوا حقہ یوم حصادہ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے اس کا عشر اور حکمرانوں کے لئے فرمایا لفظ آیت ولا تسرفوا یعنی نہ لو اس مال کو جس کا تمہارے لئے حق نہیں ہے اور لفظ آیت انہ لا یحب المسرفین یعنی ان لوگون کا حکم فرمایا کہ اپنا حق ادا کرو اور حکمرانوں کو حکم فرمایا کہ (کسی کا مال) مت لو مگر حق کے ساتھ۔ (٢٧) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تسرفوا کے بارے میں فرمایا کہ اپنا مال (اتنا) مت دو کہ (خود) فقیر بن کر بیٹھ جاؤ۔ (٢٨) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب (رض) سے روایت کیا کہ لفظ آیت کلوا من ثمرہ اذا اثمر سے مراد ہے کہ پکی ہوئی کھجوروں اور انگوروں میں سے اور جو کچھ بھی ہو (اس میں یہ خوب کھاؤ) اور جب کاٹنے کا دن ہو تو اس کا حق دو اس کے کاٹنے کے دن میں لفظ آیت ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین سے مراد ہے کہ اسراف یہ ہے کہ اس کا حق نہ دو ۔ (٢٩) امام ابو الشیخ نے ابو بشر (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں نے ایاس بن معاویہ (رض) کے پاس چکر لگایا اور کہا اسراف کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ اس کے ذریعہ جو کچھ اللہ کے حکم سے تجاوز کیا جائے وہ اسراف ہے سفیان بن حسین نے فرمایا کہ اس کے ذریعہ اللہ کے حکم میں جو کچھ کم کیا جائے وہ اسراف ہے(تفسیر درمنثور)۔

اسراف اور فضول خرچی ہر طرح کی ممنوع ہے۔ چناچہ علماء کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ فقرا اور مساکین کو دیتے وقت بھی میانہ روی کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور ایسا نہ کرے کہ ہر چیز لٹا کر خود دوسروں کا دست نگر ہوجائے۔ تو جب اسلام نے کار خیر میں فضول خرچی سے منع کیا ہے تو دوسرے کاموں میں فضول خرچی کو کب برداشت کیا جائے گا(تفسیر ضیاءالقرآن)۔

میں ( مفسر) کہتا ہوں : اس بنا پر تو تمام مال صدقہ کرنا اور مسکینوں کا حق نکالنے سے روکنا دونوں سرف کے حکم میں داخل ہیں اور عدل اس کے خلاف ہے کہ وہ صدقہ بھی کرے اور باقی بھی رکھے جیسا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خیر الصدقۃ ما کان عن ظھر غنی (صحیح بخاری، کتاب الزکوٰۃ، جلد ١، صفحہ ١٩٢) ( بہترین صدقہ ہو ہے جو حاجات سے فالتو مال سے ہو) مگر یہ کہ اس کا نفس قوی ہو، غنی ہو، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والا ہو اور منفرد ہو اس کے اہل و عیال نہ ہوں، تو پھر اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا تمام مال صدقہ کر دے۔ اور اسی طرح وہ مال میں سے وہ حق نکالے جو اس پر واجب ہو مثلا زکوٰۃ وغیرہ اور بعض احوال میں جو اسے مال میں متعینہ حقوق میں پیش آتے رہتے ہیں (انہیں وہ ادا کرے) ۔ اور عبدا لرحمن بن زید بن اسلم نے کہا ہے : اسراف وہ ہے جسے وہ صلاح اور درستگی کی طرف لوٹا نے پر قادر نہ ہو۔ اور سرف وہ ہے جسے وہ صلاح کی طرف لوٹانے کی قدرت رکھتا ہو۔ اور نضر بن شمیل نے کہا ہے : اسراف کا معنی فضول خرچی کرنا اور زیادتی کرنا ہے اور سرف کا معنی غفلت اور جہالت ہے ( آدمی اس کام سے غافل اور جاہل ہوتا ہے اس لیے وہ اس پر خرچ کر ڈالتا ہے)(تفسیر قرطبی)۔

تمام میوہ جات تمہارے لئے حلال ہیں بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے نام پر ہوں مساکین کا حق ادا کرو اور اسراف نہ کرو یعنی غیر اللہ کے نام پر نیاز مت دو (تفسیر معارف الفرقان)۔

یہاں سوال یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اگر کوئی شخص اپنا سارا مال بلکہ جان بھی خرچ کر دے تو اس کو اسراف نہیں کہا جاسکتا، بلکہ حق کی ادائیگی کہنا بھی مشکل ہے، پھر اس جگہ اسراف سے منع کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب یہ ہے کہ کسی خاص شعبہ میں اسراف کا نتیجہ عادةً دوسرے شعبوں میں قصور و کوتاہی ہوا کرتا ہے، جو شخص اپنی خواہشات میں بےدریغ حد سے زائد خرچ کرتا ہے وہ عموماً دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کیا کرتا ہے، یہاں اسی کوتاہی سے روکا گیا ہے، یعنی ایک طرف کوئی آدمی اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں لٹا کر خالی ہو بیٹھے تو اہل و اولاد اور رشتہ داروں بلکہ خود اپنے نفس کے حقوق کیسے ادا کرے گا، اس لئے ہدایت یہ کی گئی کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں بھی اعتدال سے کام لے تاکہ سب حقوق ادا ہو سکیں(تفسیر معارف القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا  ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ    31 الاعراف

اے اولاد آدم ! تم مسجد کی حاضری کے وقت اپنی آرائش لے لیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے آگے مت بڑھو، بیشک اللہ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

۔۔۔ خدا کی دی ہوئی پوشاک جس سے تمہارے بدن کا تستّر اور آرائش ہے اس کی عبادت کے وقت دوسرے اوقات سے بڑھ کر قابل استعمال ہے تاکہ بندہ اپنے پروردگار کے دربار میں اس کی نعمتوں کا اثر لے کر حاضر ہو، خدا نے جو کچھ پہننے اور کھانے پینے کو دیا ہے اس سے تمتّع کرو۔ بس شرط یہ ہے کہ اسراف نہ ہونے پائے۔ ” اسراف ” کے معنی ہیں ” حد سے تجاوز کرنا ” جس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً حلال کو حرام کرلے، یا حلال سے گزر کر حرام سے بھی متمتع ہونے لگے یا اناپ شناپ بےتمیزی اور حرص سے کھانے پر گرپڑے، یا بدون اشتہاء کے کھانے لگے، یا ناوقت کھائے یا اس قدر کم کھائے جو صحت جسمانی اور قوت عمل کے باقی رکھنے کے لئے کافی نہ ہو، یا مضر صحت چیزیں استعمال کرے وغیر ہ، لفظ ” اسراف ” ان سب امور کو شامل ہوسکتا ہے۔ بےجا خرچ کرنا بھی اس کی ایک فرد ہے(تفسیر عثمانی)۔

 زمانہ جاہلیت کے عرب جیسا کہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرنے کو صحیح عبادت اور بیت اللہ کا احترام سمجھتے تھے اسی طرح ان میں یہ رسم بھی تھی کہ ایام حج میں کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے، صرف اتنا کھاتے تھے جس سے سانس چلتا رہے، خصوصاً گھی، دودھ اور پاکیزہ غذاؤں سے بالکل اجتناب کرتے تھے (ابن جریر)۔ان کے اس بیہودہ طریقہ کار کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، جس نے بتلایا کہ ننگے ہو کر طواف کرنا بےحیائی اور سخت بےادبی ہے، اس سے اجتناب کریں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پاکیزہ غذاؤں سے بلاوجہ اجتناب کرنا بھی دین کی بات نہیں بلکہ اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرانا گستاخی اور عبادت میں حد سے تجاوز کرنا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے، اس لئے ایام حج میں خوب کھاؤ پیو، ہاں اسراف نہ کرو، حلال غذاؤں سے بالکل اجتناب کرنا بھی اسراف میں داخل ہے، اور حج کے اصل مقاصد اور ذکر اللہ سے غافل ہو کر کھانے پینے ہی میں مشغول رہنا بھی اسراف میں داخل ہے۔ یہ آیت اگرچہ جاہلیت عرب کی ایک خاص رسم عریانی کو مٹانے کے لئے نازل ہوئی ہے جس کو وہ طواف کے وقت بیت اللہ کی تعظیم کے نام پر کیا کرتے تھے، لیکن ائمہ تفسیر اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی حکم کے کسی خاص واقعہ میں نازل ہونے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ حکم اسی واقعہ کے ساتھ خاص ہے، بلکہ اعتبار عموم الفاظ کا ہوتا ہے جو چیزیں ان الفاظ کے عموم میں شامل ہوتی ہیں سب پر یہی حکم عائد ہوتا ہے۔ ۔۔جس طرح آیت کا پہلا جملہ جاہلیت عرب کی رسم عریانی کو مٹانے کے لئے نازل ہوا، مگر عموم الفاظ سے اور بہت سے احکام و مسائل اس سے معلوم ہوئے، اسی طرح دوسرا جملہ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا بھی اگرچہ جاہلیت عرب کی اس رسم کو مٹانے کے لئے نازل ہوا کہ ایام حج میں اچھی غذا کھانے پینے کو گناہ سمجھتے تھے، لیکن عموم الفاظ سے یہاں بھی بہت سے احکام و مسائل ثابت ہوتے ہیں۔کھانا پینا بقدر ضرورت فرض ہے ۔اول یہ کہ کھانا پینا شرعی حیثیت سے بھی انسان پر فرض و لازم ہے، باوجود قدرت کے کوئی شخص کھانا پینا چھوڑ دے، یہاں تک کہ مر جائے، یا اتنا کمزور ہوجائے کہ واجبات بھی ادا نہ کرسکے تو یہ شخص عند اللہ مجرم و گناہگار ہوگا۔اشیاء عالم میں اصل اباحت و جواز ہے جب تک کسی دلیل سے حرمت ممانعت ثابت نہ ہو کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔ ایک مسئلہ اس آیت سے احکام القرآن جصاص کی تصریح کے مطابق یہ نکلا کہ دنیا میں جتنی چیزیں کھانے پینے کی ہیں، اصل ان میں یہ ہے کہ وہ سب جائز و حلال ہیں، جب تک کسی خاص چیز کی حرمت و ممانعت کسی دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوجائے ہر چیز کو جائز و حلال سمجھا جائے گا، اس کی طرف اشارہ اس بات سے ہوا کہ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا کا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کیا چیز کھاؤ پیو، اور علماء عربیت کی تصریح ہے کہ ایسے مواقع پر مفعول ذکر نہ کرنا اس کے عموم کی طرف اشارہ ہوا کرتا ہے کہ ہر چیز کھا پی سکتے ہو بجز ان اشیاء کے جن کو بالتصریح حرام کردیا گیا ہے (احکام القرآن، جصاص)۔کھانے پینے میں اسراف جائز نہیں۔ آیت کے آخری جملہ وَلَا تُسْرِفُوْا سے ثابت ہوا کہ کھانے پینے کی تو اجازت ہے، بلکہ حکم ہے، مگر ساتھ ہی اسراف کرنے کی ممانعت ہے، اسراف کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا، پھر حد سے تجاوز کرنے کی کئی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ حلال سے تجاوز کرکے حرام تک پہنچ جائے، اور حرام کو کھانے پینے برتنے لگے اس کا حرام ہونا ظاہر ہے۔دوسرے یہ کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو بلاوجہ شرعی حرام سمجھ کر چھوڑ دے جس طرح حرام کا استعمال جرم و گناہ ہے اسی طرح حلال کو حرام سمجھنا بھی قانون الہی کی مخالفت اور سخت گناہ ہے۔ (ابن کثیر، مظہری، روح المعانی)۔ اسی طرح یہ بھی اسراف ہے کہ بھوک اور ضرورت سے زیادہ کھائے پئے، اسی لئے فقہاء نے پیٹ بھرنے سے زائد کھانے کو ناجائز لکھا ہے (احکام القرآن وغیرہ) اسی طرح یہ بھی اسراف کے حکم میں ہے کہ باوجود قدرت و اختیار کے ضرورت سے اتنا کم کھائے جس سے کمزور ہو کر ادائے واجبات کی قدرت نہ رہے، ان دونوں قسم کے اسراف کو منع کرنے کے لئے قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد ہے : (آیت) ان المبذرین کانو اخوان الشیطین یعنی فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا : (آیت) والذین اذا انفقوا تا قواما۔ یعنی اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو خرچ کرنے میں تو سط اور میانہ روی رکھتے ہیں نہ حد ضرورت سے زیادہ خرچ کریں اور نہ اس سے کم خرچ کریں

کھانے پینے میں اعتدال ہی نافع دین و دنیا ہے

 حضرت فاروق اعظم (رض) نے فرمایا کہ بہت کھانے پینے سے بچو، کیونکہ وہ جسم کو خراب کرتا ہے، بیماریاں پیدا کرتا ہے، عمل میں سستی پیدا کرتا ہے، بلکہ کھانے پینے میں میانہ روی اختیار کرو کہ وہ جسم کی صحت کے لئے بھی مفید ہے اور اسراف سے دور ہے، اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فربہ جسم عالم کو پسند نہیں فرماتے (مراد یہ ہے کہ جو زیادہ کھانے سے اختیاری طور پر فربہ ہوگیا ہو) اور فرمایا کہ آدمی اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کو دین پر ترجیح نہ دینے لگے (روح عن ابی نعیم) سلف صالحین نے اس بات کو اسراف میں داخل قرار دیا ہے کہ آدمی ہر وقت کھانے پینے ہی کے دھندے میں مشغول رہے، یا اس کو دوسرے اہم کاموں میں مقدم جانے، جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس کا مقصد زندگی یہی کھانا پینا ہے، انہی حضرات کا مشہور مقولہ ہے کہ ” خوردن برائے زیستن ست نہ زیستین برائے خوردن “۔ یعنی کھانا اس لئے ہے کہ زندگی قائم رہے، یہ نہیں کہ زندگی کھانے پینے ہی کے لئے ہو۔ ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی اسراف میں داخل فرمایا ہے کہ جب کسی چیز کو جی چاہئے اس کو ضرور پورا کرلے، ان من الاسراف ان تاکل کل ما اشتھیت (ابن ماجہ عن انس)۔ اور بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کو ایک مرتبہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ دن میں دو مرتبہ کھانا تناول فرمایا، تو ارشاد فرمایا اے عائشہ ! کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہارا شغل صرف کھانا ہی رہ جائے۔ اور میانہ روی کا یہ حکم جو کھانے پینے کے متعلق اس آیت میں مذکور ہے صرف کھانے پینے کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ پہننے اور رہنے سہنے کے ہر کام میں درمیانی کیفیت پسند اور محبوب ہے، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جو چاہو کھاؤ پیو، اور جو چاہو پہنو، صرف دو باتوں سے بچو، ایک یہ کہ اس میں اسراف یعنی قدر ضرورت سے زیادتی نہ ہو، دوسرے فخر و غرور نہ ہو۔

ایک آیت سے آٹھ مسائل شرعیہ

 خلاصہ یہ ہے کہ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا، کے کلمات سے آٹھ مسائل شرعیہ نکلے۔ اول یہ کہ کھانا پینا بقدر ضرورت فرض ہے، دوسرے یہ کہ جب تک کسی چیز کی حرمت کسی دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوجائے ہر چیز حلال ہے، تیسرے یہ کہ جن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ممنوع کردیا اس کا استعمال اسراف اور ناجائز ہے، چوتھے یہ کہ جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی اسراف اور سخت گناہ ہے، پانچویں یہ کہ پیٹ بھر جانے کے بعد اور کھانا ناجائز ہے، چھٹے یہ کہ اتنا کم کھانا جس سے کمزور ہو کر ادائے واجبات کی قدرت نہ رہی، درست نہیں ہے، ساتویں یہ کہ ہر وقت کھانے پینے کی فکر میں رہنا بھی اسراف ہے، آٹھویں یہ بھی اسراف ہے کہ جب کبھی کسی چیز کو جی چاہے تو ضروری ہی اس کو حاصل کرے(تفسیر معارف القرآن)۔