المستکبرین

اللہ تعالٰی کا مستکبرین کو ناپسند کرنا

المستکبرین

کبیر : اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کبر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔الاستکبار ( استتعال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا  اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مذموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا (تفسیر مفردات القرآن)۔

فرمایا:

اِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ  ۚ فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّهُمْ مُّسْـتَكْبِرُوْنَ     22 نحل

تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، سو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہورہے ہیں اور وہ تکبر کرنے والے ہیں

یعنی جو دلائل و شواہد اوپر بیان ہوئے ایسے صاف اور واضح ہیں جس میں ادنیٰ غور کرنے سے انسان توحید کا یقین کرسکتا ہے لیکن غور و طلب تو وہ کرے جسے اپنی عاقبت کی فکر اور انجام کا ڈر ہو۔ جن کو بعد الموت کا یقین ہی نہیں نہ انجام کی طرف دھیان ہے وہ دلائل پر کب کان دھرتے اور ایمان و کفر کے نیک و بدانجام کی طرف کب التفات کرتے ہیں۔ پھر دلوں میں توحید کا اقرار اور پیغمبر کے سامنے تواضع سے گردن جھکانے کا خیال آئے تو کہاں سے آئے(تفسیر عثمانی)۔

علماء نے کہا ہے : سوائے تکبر کے ہر گناہ کو چھپانا اور اسے مخفی رکھنا ممکن ہوتا ہے، کیونکہ یہ ایسا فسق ہے جس کا اعلان لازم ہوتا ہے، اور یہ تمام گناہوں کی اصل ہے(تفسیر قرطبی)۔

اس نکتے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین نہیں ہے وہ حق بات کو قبول کرنے سے کیوں جھجکتے ہیں اور ان کے اندر استکبار کیوں پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ جو شخص فطرت سلیمہ کا مالک ہے اس کے اندر اچھائی اور برائی کی تمیز موجود ہوتی ہے۔ اس کا دل اس حقیقت کا قائل ہوتا ہے کہ اچھائی کا اچھا بدلہ ملنا چاہیے اور برائی کا برا  ” گندم از گندم بروید جو زجو ! “یہی فلسفہ یا تصور منطقی طور پر ایمان بالآخرت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ مگر دنیا میں جب پوری طرح نیکی کی جزا اور برائی کی سزا ملتی ہوئی نظر نہیں آتی تو ایک صاحب شعور انسان لازماً سوچتا ہے کہ اعمال اور اس کے نتائج کے اعتبار سے دنیوی زندگی ادھوری ہے اور اس دنیا میں انصاف کی فراہمی کماحقہ ممکن ہی نہیں۔ مثلاً اگر ایکّ ستر سالہ بوڑھا ایک نوجوان کو قتل کر دے تو اس دنیا کا قانون اسے کیا سزا دے گا ؟ ویسے تو یہاں انصاف تک پہنچنے کے لیے بہت سے کٹھن مراحل طے کرنے پڑتے ہیں ‘ لیکن اگر یہ تمام مراحل طے کر کے انصاف مل بھی جائے تو قانون زیادہ سے زیادہ اس بوڑھے کو پھانسی پر لٹکا دے گا۔ لیکن کیا اس بوڑھے کی جان واقعی اس نوجوان مقتول کی جان کے برابر ہے ؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ وہ نوجوان تو اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا ‘ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوئے ‘ ایک نوجوان عورت بیوہ ہوئی ‘ خاندان کا معاشی سہارا چھن گیا۔ اس طرح اس کے لواحقین اور خاندان کے لیے اس قتل کے اثرات کتنے گھمبیر ہوں گے اور کہاں کہاں تک پہنچیں گے ‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ دوسری طرف وہ بوڑھا شخص جو اپنی طبعی عمر گزار چکا تھا ‘ جس کے بچے خود مختار زندگیاں گزار رہے ہیں ‘ جس کی کوئی معاشی ذمہ داری بھی نہیں ہے ‘ اس کے پھانسی پر چڑھ جانے سے اس کے پس ماندگان پر ویسے اثرات مرتب نہیں ہوں گے جیسے اس نوجوان کی جان جانے سے اس کے پس ماندگان پر ہوئے تھے۔ ایسی صورت میں دنیا کا کوئی قانون مظلوم کو پورا پورا بدلہ دے ہی نہیں سکتا۔ ایسی مثالیں عقلی اور منطقی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ یہ دنیا نا مکمل ہے۔ اس دنیا کے معاملات اور افعال کا ادھورا پن ایک دوسری دنیا کا تقاضا کرتا ہے جس میں اس دنیا کے تشنہ تکمیل رہ جانے والے معاملات پورے انصاف کے ساتھ اپنے اپنے منطقی انجام کو پہنچیں۔ اب ایک ایسا شخص جو فطرت سلیمہ کا مالک ہے ‘ اس کے شعور میں نیکی اور بدی کا ایک واضح اور غیر مبہم تصور موجود ہے ‘ وہ لازمی طور پر آخرت کے بارے میں مذکورہ منطقی نتیجے پر پہنچے گا اور پھر وہ قرآن کے تصور آخرت کو قبول کرنے میں بھی پس و پیش نہیں کرے گا ‘ مگر اس کے مقابلے میں ایک ایسا شخص جس کے شعور میں نیکی اور بدی کا واضح تصور موجود نہیں ‘ وہ قرآن کے تصور آخرت پر بھی دل سے یقین نہیں رکھتا اور فکر آخرت سے بےنیاز ہو کر غرور اور تکبر میں بھی مبتلا ہوچکا ہے ‘ اس کا دل پیغامِ حق کو قبول کرنے سے بھی منکر ہوگا۔ ایسے شخص کے سامنے حکیمانہ درس اور عالمانہ وعظ سب بےاثر ثابت ہوں گے(تفسیر بیان القرآن)۔

چناچہ فرمایا:

لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ    23 نحل

یہ بات ضروری ہے یقینی ہے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں، بلاشبہ وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

یعنی خوب سمجھ لو کبرو غرور کوئی اچھی اور پسندیدہ چیز نہیں، اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا، توحید کا انکار جو تم دلوں میں رکھتے ہو اور غرور وتکبر جس کا اظہار تمہاری چال ڈھال اور طور و طریق سے ہو رہا ہے، سب خدا کے علم میں ہے۔ وہ ہی ہر کھلے چھپے جرم کی سزا تم کو دے گا(تفسیر عثمانی)۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چھوٹی سرخ چیونٹی کے برابر غرور (والا) جنت میں نہیں جائے گا اور چھوٹی سرخ چیونٹی کے برابر ایمان (والا) دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم میں سے بعض لوگ چاہتے ہیں کہ ان کا لباس خوبصورت ہو (اور یہ غرور کی علامت ہے ‘ پھر ان کا نتیجہ کیا ہوگا) فرمایا : اللہ جمال والا ہے ‘ جمال کو پسند کرتا ہے (غرور کپڑوں کی پسندیدگی کا نام نہیں ‘ خوش لباسی کی خواہش تکبر نہیں بلکہ) تکبر ‘ حق سے تکبر کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے سے ہوتا ہے۔ اس حدیث میں الکبر من بطر الحق آیا ہے جس کا مطلب علماء نے مختلف طور پر بیان کیا ہے۔ نہایہ میں ہے : بطر الحق کا یہ معنی ہے کہ اللہ کی توحید اور عبادت کو باطل سمجھے باوجودیکہ اللہ نے اس کو حق قرار دیا ہے۔ بعض نے کہا کہ بطر الحق کا معنی ہے : حق کے مقابلہ میں مغرور ہوجانا ‘ حق کو حق نہ ماننا۔ بعض نے کہا : حق کو قبول نہ کرنے کا نام ہے بطر الحق۔ ان تمام اقوال کا حاصل (ایک ہی ہے ‘ وہ) یہ کہ اللہ کی عبادت کو لازم نہ سمجھے ‘ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ کا احسان اور مہربانی نہ قرار دے بلکہ اللہ پر اپنا حق سمجھے۔ میں کہتا ہوں : حدیث مذکور میں جو تکبر کے مقابلہ میں ایمان کا ذکر کیا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ مؤمن اپنے وجود اور تمام کمالات کو خداداد سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی ذات کو بھی اللہ کی امانت اور عاریت جانتا ہے اس لئے اپنے کمالات پر غرور نہیں کرتا اور کافر اپنی ہستی اور اپنے کمالات کو خودآوردہ جانتا ہے اور اللہ کو بھول جاتا ہے۔ تصوف میں جو لفظ فنا آیا ہے ‘ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدمی اپنے وجود کو بجائے خود معدوم سمجھے ‘ خود اپنی ہستی کو اپنی نہ سمجھے بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک عاریت جانے (اور ہر چیز میں ‘ ہر کمال مادی و علمی میں یہاں تک کہ اپنے وجودو ذات کے لحاظ سے بھی اپنے کو اللہ کا محتاج سمجھے۔ مترجم) (تفسیر مظہری)۔

خوب غور کرکے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دین حق قبول کرلینے کے بعد بہرحال نفس کو قانون الہی کی اطاعت میں دینا پڑتا ہے، اور یہ اکثر طبائع کو بھی سخت گراں گزرتا ہے۔ انکے انکار والحاد کی بنیاد عموما خود سری، خود بینی وخود رائی ہی پر ہوئی ہے(تفسیر ماجدی)۔