المحسنین

اللہ تعالٰی کا محسنین کو پسند کرنا

المحسنین

محسنین سے وہ لوگ مراد ہیں جو اسلام‘ ایمان اور تقویٰ کی منزلیں طے کرتے ہوئے درجۂ احسان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ کی توفیق سے اس درجہ کو حاصل کرلیتے ہیں(تفسیر بیان القرآن)۔

 ان کی صفات  مختلف مقامات پر آئیں ہیں جیسے فرمایا:

بَلٰي ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗٓ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ 112 البقرہ

ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

جب یہود اور نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا تو اس کا جواب دیا گیا کیوں نہیں۔ جس نے بھی اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردیا اور صرف اسی کا ہو کر رہ گیا اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کیا۔ اور ہر کام میں صرف اللہ کی رضا کو مد نظر رکھا تو اس کا اجر ہرگز ضائع نہیں ہوگا بلکہ خدا کے یہاں محفوظ رہیگا(تفسیر جواہر القرآن)۔احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے(تفسیر مفردات القرآن) ۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ    ٻوَاَحْسِنُوْا ڔ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ   195البقرہ

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

حضرت ابوایوب انصاری نے کہا : سبحان اللہ۔ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی تھی اور دین کو غالب کیا تھا تو ہم نے کہا : آؤ اب ہم اپنے اموال کی دیکھ بھال کریں اور ان کی اصلاح کریں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : وانفقوا فی سبیل اللہ۔ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے اموال کی طرف متوجہ ہوں ان کی اصلاح کریں اور جہاد کو چھوڑدیں (تفسیر قرطبی)۔ جاننا چاہئے کہ احسان عبادات میں بھی ہوتی ہے اور معاملات میں بھی عبادات کی خوبی وہ ہے جو ایک طویل حدیث کے تحت میں حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے جناب رسول اللہ سے دریافت کیا یا رسول اللہ فرمائیے احسان کیا چیز ہے فرمایا احسان ی یہ ہے کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کر کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تو اس کو نہیں دیکھتا تو وہ تجھ کو دیکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حاضرقلب اور خشوع اور خضوع سے عبادت کر اور معاملات میں احسان وہ ہے جس کی صراحت رسول اللہ نے فرمائی ہے کہ جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہ ہی لوگوں کے لیے پسند کر اور جو اپنے لیے برا جانتا ہے وہ ہی لوگوں کے لیے برا جان اس حدیث کو امام احمد(رح) نے معاذ بن جبل (رض) سے روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ ہوں اس حدیث کو اصحاب سنن نے ابوہریرہ  (رض)سے روایت کیا ہے اور احمد  نے عمرو بن عنبسہ (رض) سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے تم میں سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جس کے اخلاق پسندیدہ ہوں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام امور میں خوبی کردار کو قرض فرمایا ہے پس جب تم قتل کرو تو اس کو اچھی طرح کرو ( یعنی مثلاً ناک کان مت کاٹو بچہ عورت بڈھے کو مت قتل کرو) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو چھری کو تیز کرلو اور جانور کو راحت دو اس حدیث کو مسلم نے شداد بن اوس (رض) سے روایت کیا ہے(تفسیر مظہری)۔

پھر ایک اور جگہ فرمایا:

لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً  ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ  ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ ۚ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ    236 البقرہ

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگ دسست اپنی حیثیت کے مطابق، نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

یعنی کسی شخص نے نکاح کرلیا لیکن زن و شوئی کا تعلق قائم کرنے سے پہلے عورت کو طلاق دیدی اور اس کا مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا تو ایسی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ پر کچھ دیکر اسے رخصت کرے، کیونکہ رشتہ ٹوٹنے سے عورت کو کچھ نہ کچھ نقصان پہنچ ہی جاتا ہے جس کی تلافی مشکل ہے تاہم ہدیہ پیش کرنے کی صورت میں اخلاقی اور نفسیاتی طور پر اچھے اثرات ہی مرتب ہوں گے (تفسیر دعوت قرآن)۔ ایک یہ کہ عورت ہی خود اپنے حق مہر کو جو خاوند پر واجب ہے معاف کرڈالے یا خاوند کا جو عورت پر حق ہے خاوند اس کو چھوڑ دے اور پورا حق مہر عورت کو دے دے کہ ان دونوں صورتوں میں دونون کو لینے دینے کا کچھ حق نہیں اور تمہارا خود اپنے حق کو چھوڑ دینا یہ متقین حضرات کے لیے تقوی کے زیادہ قریب ہے یعنی میاں بیوی سے کہا جائے کہ وہ اپنے اس حق کو معاف کردے جو ایک دوسرے پر واجب ہے تو یہ چیز تقوی سے زیادہ قریب ہے میاں بیوی کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور بھلائی کرنے سے غفلت نہیں برتنی چاہیے، اللہ تعالیٰ اس احسان اور بھلائی کو اچھی طرح دیکھ رہے ہیں(تفسیر ابنِ عباس)۔

پھر ایک جگہ اور فرمایا:

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ    134 آل عمران

جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں، اور جو ضبط کرنے والے ہیں غصہ کو اور جو لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ محبت فرماتا ہے اچھے کام کرنے والوں سے،

ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حبان (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت “والعافین عن الناس “جو خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں، اور جو ضبط کرنے والے ہیں غصہ کو اور جو لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ محبت فرماتا ہے اچھے کام کرنے والوں سے سے مراد ہے کہ وہ لوگ (اگر) کسی کام میں غصہ کرتے ہیں تو پھر بخش دیتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جو شخص ایسا کرتا ہے وہ محسن ہے لفظ آیت “واللہ یحب المحسنین” اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت فرمایا یہ لوگ میری امت میں تھوڑے ہیں مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچالیں (غصہ سے) اور ان امتوں میں ایسے لوگ بہت زیادہ تھے جو پہلے گذر چکیں(تفسیر درمنثور)۔ احسان کی دو صورتیں ہیں ایک جلب منفعت اور دوسری دفع مضرت تو یہ اہل تقویٰ اس مرتبہ کے لوگ ہیں کہ ان سے کسی کو نقصان کا خطرہ نہیں اور ہر حال میں مخلوق کو ان سے فائدہ ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ اور یہ لوگ چونکہ احسان میں کامل ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کو ان سے محبت بھی کامل ہے اور وہ ان محسنین سے بہت محبت کرتا ہے۔ بہت محبت ہم نے اسی غرض سے کہا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جن متقیوں کی تعریف کی گئی ہے وہ کمال تقویٰ پر فائز ہیں۔ اہل تقویٰ کی دوسری قسم کا ذکر آگے آتا ہے اور یہ جو فرمایا کہ وہ جنت متقیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ کیونکہ اہل تقویٰ کے جو معنی ہم نے رض کئے ہیں اس سے ہر مسلمان کا متقی ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کوئی کم درجہ کا متقی ہے اور کوئی بڑے درجہ کا متقی ہے اسی طرح انفاق میں بھی عموم ہے مال سے نفع پنچانا یا علم سے نفع پہنچانا غرض خدا کی مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں(تفسیر کشف الرحمٰن)۔

اس سے آگے فرماتے ہیں:

وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ 135آل عمران

اور وہ لوگ جنہوں نے جب کوئی برا کام کیا یا اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اللہ کو یاد کیا اور اپنے گناہوں کی مغفرت چاہی اور گناہوں کو کون بخشے گا سوائے اللہ کے اور انہوں نے اپنے کیے پر اصرار نہیں کیا وہ جانتے ہیں،

مطلب یہ ہے کہ ایسے گناہ گار جو گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں لیکن گناہ کے بعد فوراً ہی ان کو تنبیہ ہوتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی گرفت کا تصور کر کے گناہ معاف کرانے کی فکر میں لگ جاتے ہوں اور توبہ کرنے لگتے ہوں اور توبہ بھی کامل کرتے ہوں اور وہ یہ کہ پھر اس گناہ پر اڑتے نہ ہوں اور اس پر ہٹ دھرمی نہ کرتے ہوں اور دوبارہ اس کا ارتکاب نہ کرتے ہوں اور ان کی حالت یہ ہو کہ وہ جانتے ہوں کہ ہم نے گناہ کیا ہے اور گناہ کی توبہ ضروری ہے اور یہ بھی جانتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ توبہ کا قبول کرنے والا اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے تو ایسے مسلمان بھی متقیوں میں شامل ہیں اگرچہ یہ لوگ کم درجہ کے متقی ہیں(تفسیر کشف الرحمٰن)۔

ایک جگہ اور فرمایا:

فَاٰتٰىھُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ  ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ    148 آل عمران

سو اللہ نے ان کو دنیا کا بدلہ دیدیا اور آخرت کا عمدہ بدلہ دیا اور اللہ پسند فرماتا ہے اچھے کام کرنے والوں کو۔

وا اللہ یحب المحسنین اور اللہ اہل احسان کو پسند فرماتا ہے۔ یُحِبُّہُمْ نہیں فرمایا بلکہ ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو ذکر کیا تاکہ اس امر کی صراحت ہوجائے کہ مذکورہ مقولہ کے قائل ہی اہلِ احسان ہیں کیونکہ احسان کا معنی ہے اللہ کو حاضر ناظرسمجھتے ہوئے عبادت کرنا یعنی ہر طرح کی غفلت دور کرکے دل کو حاضر رکھنا پس احسان کا تقاضا ہے کہ مقولۂ مذکورہ زبان سے کہا جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ راحت و رنج اور دکھ سکھ سب اللہ کی طرف سے آتا ہے مگر اللہ کریم ہے اس لیے انسان جب تک اپنی اطاعت میں کوئی قصور نہ کرے اللہ کی طرف سے نعمت نہیں بدلی جاتی جب اطاعت میں کمی آتی ہے تو اللہ اپنی نعمت بدل دیتا ہے اور نعمت کی جگہ کچھ تکلیف بھیج دیتا ہے۔ تاکہ انسان بیدار ہو کر معافی کا طلبگار ہو اور دنیوی سزا بھگت کر پاک صاف ہوجائے(تفسیر مظہری)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا 125 النساء

اور اس شخص سے کس کا دینا اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکو کار بھی ہے اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو (مسلمان) تھے؟

یعنی جس نے اپنی ذات کو اللہ کے لئے خالص کردیا کہ اس کے قلب کی کوئی علمی یا میلانی وابستگی اور آوپختگی غیر خدا سے نہیں رہی۔ دل اور سارا بدن اللہ کے اوامرو نواہی کا پابند ہوگیا یہاں تک کہ عالم امکان میں اپنا یا کسی اور کا کوئی وجود اصلی حقیقی اس کو نظر ہی نہیں آتا کسی کے مستقل وجود یا کسی کو معبود و محبوب ماننے کا تو ذکر ہی کیا ہے(تفسیر مظہری)۔ پہلے معلوم ہوچکا کہ اللہ کے نزدیک اعمال کا اعتبار ہے بیہودہ آرزو کا کوئی نتیجہ نہیں۔ اہل کتاب وغیرہ سب کے لئے یہی قاعدہ مقرر ہے جس میں اشارہ تھا اہل اسلام یعنی حضرات صحابہ کی تعریف اور فضیلت کی طرف اور اہل کتاب کی مذمت اور برائی کی طرف۔ اب کھول کر فرماتے ہیں کہ دینداری میں ایسے شخص کا مقابلہ کون کرسکتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے حکم پر سر رکھے ہوئے ہو اور نیک کاموں میں دل سے لگا ہوا ہو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی سچی پیروی کرتا ہو جو سب کو چھوڑ کر اللہ کا ہوگیا تھا اور اس کو اللہ نے اپنا دوست بنا لیا۔ ظاہر ہے کہ یہ تینوں خوبیاں حضرات صحابہ میں علیٰ وجہ الکمال موجود تھیں نہ کہ اہل کتاب میں اب اس سے اہل کتاب کی وہ آرزو جو پہلے گزری لغو محض اور باطل ہوگئی(تفسیر عثمانی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰي خَاۗىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ      13  المائدہ

سو ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان کو ملعون قرار دے دیا اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت بنا دیا وہ کلمات کو ان کے مواقع سے بدل دیتے ہیں اور وہ اس نصیحت کا بہت بڑا حصہ بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی اور آپ برابر ان کی طرف سے کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے بہ استثنا، تھوڑے سے لوگوں کے، سو آپ انہیں معاف فرما ئیے اور درگزر کیجئے۔ بلا شبہ اللہ خوبی کا معاملہ کرنے والے کو پسند فرماتا ہے

ان اللہ یحب المحسنین حقیقت یہ ہے کہ اللہ بھلائی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ یہ حکم معافی کی علت اور عفو کی ترغیب ہے اور اس بات پر تنبیہ ہے کہ خیانت کار کافر کو معاف کردینا بھی اچھا کام ہے دوسرے لوگوں کا تو ذکر ہی کیا ہے(تفسیر مظہری)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ   93 المائدہ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان پر اس بارے میں کوئی گناہ نہیں کہ انہوں نے کھایا پیا جبکہ انہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے پھر تقویٰ اختیار کیا اور نیک اعمال میں لگے اور اللہ اچھاعمل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

محققین نے لکھا ہے کہ تقویٰ (یعنی مضار دینی سے مجتنب ہونے کے) کئی درجے ہیں۔ اور ایمان و یقین کے مراتب بھی بلحاظ قوت و ضعف متفاوت ہیں تجربہ اور نصوص شرعیہ سے ثابت ہے کہ جس قدر آدمی ذکر و فکر، عمل صالح اور جہاد فی سبیل اللہ میں ترقی کرتا ہے اسی قدر خدا کے خوف اور اس کی عظمت و جلال کے تصور سے قلب معمور اور ایمان و یقین مضبوط و مستحکم ہوتا رہتا ہے۔ مراتب سیر الی اللہ کی اسی ترقی و عروج کی طرف اس آیت میں تقویٰ اور ایمان کی تکرار سے اشارہ فرمایا اور سلوک کے آخری مقام احسان اور اس کے ثمرہ پر بھی تنبیہ فرمادی۔ (تفسیر عثمانی)