المتوکلین

اللہ تعالٰی کا متوکلین کو پسند کرنا

المتوکلین

التوکل ( تفعل )

 اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے(تفسیر مفردات القرآن) ۔

فرمایا:

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۠ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ    159 آل عمران

سو آپ ان کو معاف فرما دیجیے اور ان کے لیے استغفار کیجئے اور کاموں میں ان سے مشورہ لیجیے پھر جب آپ پختہ عزم کرلیں تو اللہ پر توکل کیجئے بیشک تو کل کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں۔

توکل کا معنی عجز کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنا ہے اور اس کا اسم التکلان ہے، اسی سے کہا جاتا ہے : اتکلت علیہ فی امری (میں نے اپنے کام میں اس پر اعتماد کیا ہے)(تفسیر قرطبی)۔

مشورے کے بعد جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کا دل کسی رائے پر مطمئن ہوجائے اور آپﷺ ایک فیصلہ کرلیں تو اب کسی شخص کی بات کی پرواہ نہ کریں ‘ اب سارا توکل اللہ کی ذات پر ہو۔ غزوۂ احد سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشورہ کیا تھا ‘ اس وقت کچھ لوگوں کی رائے وہی تھی جو آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے تھی ‘ یعنی مدینہ میں محصور ہو کر جنگ کی جائے۔ لیکن کچھ حضرات نے کہا ہم تو کھلے میدان میں جنگ کرنا چاہتے ہیں ‘ ہمیں تو شہادت کی موت چاہیے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی رعایت کی اور باہر نکلنے کا فیصلہ فرما دیا۔ اس کے فوراً بعد جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ (رض) کے حجرے سے برآمد ہوئے تو خلاف معمول آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زرہ پہنی ہوئی تھی اور ہتھیار لگائے ہوئے تھے۔ اس سے لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ کچھ سخت معاملہ پیش آنے والا ہے۔ چناچہ ان لوگوں نے کہا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اپنی رائے واپس لیتے ہیں ‘ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے ہے آپ ﷺاس کے مطابق فیصلہ کیجیے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ نہیں ‘ یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔ نبی کو یہ زیبا نہیں ہے کہ ہتھیار باندھنے کے بعد جنگ کیے بغیر انہیں اتار دے۔ یہ آیت گویا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طرز عمل کی توثیق میں نازل ہوئی ہے کہ جب آپ ایک فیصلہ کرلیں تو اللہ پر توکل کیجیے(تفسیر بیان القرآن)۔

اس جگہ یہ بات بہت ہی قابل غور ہے کہ نظام حکومت اور دوسرے اہم امور میں تدبیر اور مشورہ کے احکام کے بعد یہ ہدایت دی گئی ہے کہ سب تدبیریں کرنے کے بعد بھی جب کام کرنے کا عزم کرو تو اپنی عقل و رائے اور تدبیروں پر بھروسہ نہ کرو بلکہ بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر کرو، کیونکہ یہ سب تدبیر مدبر الامور کے قبضہ قدرت میں ہیں، انسان کیا اور اس کی رائے و تدبیر کیا، ہر انسان اپنی عمر کو ہزاروں واقعات میں ان چیزوں کی رسوائی کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ مولانا رومی نے خوب فرمایا ہے۔

خویش رادیدیم و رسوائی خویش

 امتحان مامکن اے شاہ بیش

اس جملہ فاذا عزمت فتوکل علی اللہ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ توکل ترک اسباب اور ترک تدبیر کا نام نہیں بلکہ اسباب قریبہ کو چھوڑ کر توکل کرنا سنت انبیاء اور تعلیم قرآن کے خلاف ہے، ہاں اسباب بعیدہ اور دور دراز کار فکروں میں پڑے رہنا یا صرف اسباب اور تدابیر ہی کو مؤ ثر سمجھ کر مسبب الاسباب اور مدبر الامور سے غافل ہوجانا بیشک خلاف توکل ہے(تفسیر معارف القرآن)۔

فتوکل علی اللہ توا اللہ پر بھروسہ کرو، اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردو اور اس پر اعتماد رکھو۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہی حالت تھی۔ اسی لیے جب احد کے دن جنگ کے ارادہ سے برآمد ہوگئے تو فرمایا : کسی نبی کے لیے زیبا نہیں کہ جب اس نے زرہ پہن لی ہو تو بغیر جنگ کئے اتارے۔آیت کا مطلب یہ ہے کہ باہم مشورہ کے بعد مشورہ سے جو کچھ طے ہو اس پر عمل کرو اور اعتماد اللہ پر رکھو یہ مطلب نہیں کہ اپنی رائے پر عمل کرو (اور مشورہ کو نظر انداز کردو) کیونکہ غیب کا علم تو اللہ ہی کو ہے مگر باہم مشورہ کے بعد افکار و خیالات کے ردو بدل سے وہ بات نکل آتی ہے جو زیادہ مفید ہوتی ہے پھر بھی اجتماعی مشورہ قابل بھروسہ نہیں ہوتا کہ یقیناً مفید ہی ہو کیونکہ انسانی افکار کی رفتار کبھی اندھا دھند ہوتی ہے اور اللہ معمول کے خلاف کبھی نتیجہ پیدا کردیتا ہے اس لیے بھروسہ لوگوں کی رائے پر نہیں صرف اللہ پر ہونا چاہئے ۔توکل کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کے سپرد کردی جائے اسی سے درخواست کی جائے کہ کوشش کا نتیجہ اچھا نکلے اور اللہ پر بدگمانی نہ کی جائے حسن ظن رکھا جائے (کہ وہ ضروراچھا نتیجہ نکالے گا ) ۔بعض علماء کا قول ہے کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اللہ کی نافرمانی نہ کرنا توکل ہے اس قول پر اللہ کی طرف (رزق کے معاملے میں) رجوع کرنا لازم ہے لیکن گناہ کے معاملہ میں اللہ سے التجا کا کوئی معنی نہیں۔بعض علماء نے کہا کہ توکل کا معنی یہ ہے کہ اپنی ذات کے لیے اللہ کے سوا کسی کو نا صر اور رزق کا کسی کو خازن اور اعمال کا کسی کو نگران نہ قرار دیا جائے۔حضرت ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : میری امت کے سترّ ہزار آدمی بلا حساب جنت میں جائیں گے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺوہ کون ہوں گے ؟ فرمایا : وہ لوگ وہ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، منتر نہیں پڑھتے پڑھواتے، شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ (متفق علیہ) بغوی نے حضرت عمران بن حصین (رض) کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔حضرت عمر (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اگر تم اللہ پر توکل کرو جیسا توکل کا حق ہے تو اللہ تم کو اسی طرح رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے واپس آتے ہیں ۔اگر شبہ کیا جائے کہ حضرت ابن عباس (رض)کی روایت سے تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری معمولی اسباب کو ترک کردینا توکل ہے جیسے (زخم وغیرہ کے لیے) داغ نہ لگوانا اور منتر افسوں کو ترک کرنا۔ میں کہتا ہوں ایسا نہیں ہے (ترک اسباب نہیں) بلکہ اسباب پر اعتماد نہ کرنا توکل ہے دیکھو مشورہ لینا بھی تو ایک طرح کے سبب کا استعمال ہے جس کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس پر اعتماد کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ رہی حدیث ابن عباس تو اس کے آخر میں : و علی ربھم یتوکلون داغ نہ لگوانے اور افسوں نہ کرنے کرانے کی تفسیر نہیں ہے۔عطف غیریت کو چاہتا ہے اور ان دونوں جملوں کے مفہوم میں تغایر و تضاد نہیں ہے۔اور شاید سترّ ہزار سے مراد وہ لوگ ہیں جو اکثر اسباب کا استعمال نہیں کرتے (کیونکہ مطلقاً ترک اسباب تو ممکن ہی نہیں) یا ترک تشبث سے مراد ہے اسباب مکروہہ کو چھوڑ دینا کیونکہ اسباب کا استعمال تو زندگی کے لوازم میں سے ہے (ان کا ترک تو ناممکن ہے) کھانا پینا عادۃً زندگی کے اسباب میں سے ہے۔ نماز، روزہ غالباً دخول جنت کا سبب ہے اور ان کو ادا کرنا واجب اور ضروری ہے۔ان اللہ یحب المتوکلین جو لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور اللہ کا محبوب ہونا ہی سب سے اونچا مقصد ہے اس کے علاوہ توکل علی اللہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ مدد فرماتا ہے اور (دین دنیا کی) صلاح کا راستہ دکھا دیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَ مَنْ یَّتَّوَکَّلْ عَلَی اللہ فَھُوَ حَسْبُہٗ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میں اپنے بندہ کے گمان کے پاس ہوں (یعنی بندہ جیسا مجھ پر اچھا برا گمان کرتا ہے میں ویسا ہی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہوں) (تفسیر مظہری)۔

۔۔۔ توکل کا ایک درجہ تو یہ ہے کہ اعتقاداً ہر حال میں خالق پر نظر رہے اسی پر اعتماد ہو یہ تو فرض ہے یعنی اسباب ہوں یا نہ ہوں ہر حال میں بھروسہ خدا پر ہواصلی کار ساز اسی کو سمجھیں اسباب پر نظر نہ رکھیں۔ دوسرا درجہ توکل کا عملی ہے یعنی ترک اسباب اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ سبب کسی ضروری مقصود دینی کے لئے ہے تو اس کا ترک حرام ہے۔ جیسا کہ اسباب جنت میں سے نماز وغیرہ ہیں ان کا ترک جائز نہیں اور اگر مقصود نیوی کا سبب ہے تو پھر اس میں بھی تفصیل ہے اگر عادۃً اس مقصود کا توقف ثابت اور وہ مسبب مامور بہ ہے تو اس کا ترک بھی حرام ہے جیسے کھانا سبب شبع ہے اور پانی پینا سبب ارتوا ہے ان اسباب کا ترک جائز نہیں اور اگر سبب پر مقصود دنوی کا ترتب ضروری اور موقوف نہیں تو افویا کے لئے اس کا ترک جائز بلکہ بعض صورتوں میں افضل ہے اور اگر اشتغال میں کوئی دینی ضرر ہے تو اس کا ترک واجب ہے(تفسیر اشرف التفاسیر)۔

دوسرا اس آیت میں صرف حکام کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ رعایا سے مشورہ کرلیا کریں۔ رعایا کو تو یہ حق نہیں دیا گیا کہ تم ازخود استحقاقاً حکام کو مشورہ دیا کرو، چاہے وہ مشورہ لیں یا نہ لیں اہل مشورہ ان کو مشورہ سننے پر مجبور کرسکیں۔ چناچہ شریعت میں اشیروا الحکام وھو حقکم علیھم کہیں نہیں کہا گیا۔ جب رعیا کو از خود مشورہ دینے کا کوئی حق بدرجہ لزوم نہیں تو پھر اسلام میں جمہوریت کہاں ہوئی کیونکہ جمہوریت میں تو پارلیمنٹ کو از خود رائے دینے کا حق ہوتا ہے۔ چاہے بادشاہ ان سے رائے لے یا نہ لے یہاں تک کہ اگر بادشاہ پارلیمنٹ سے بغیر رائے لئے کوئی حکم نافذ کردے تو اس پر چاروں طرف سے لے دے ہوتی ہے کہ ہم سے بدوں مشورہ لئے یہ حکم کیوں جاری کیا گیا۔ بھلا رعایا کو یہ حکم اسلام میں کہاں دیا گیا ہے۔ ذرا کوئی صاحب ثابت تو کریں۔ پس یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ اسلام میں جمہوریت کی تعلیم ہے اور جس آیت سے یہ لوگ استدلال کرتے ہیں میں نے بتلادیا کہ اس سے استدلال نہیں ہوسکتا بلکہ اگر غور کریں تو اسی آیت سے شخصی حکومت کا ثبوت ہورہا ہے۔ اور اسی آیت میں فتوکل علی اللہ، جو حق تعالیٰ نے فرمایا ہے اس میں ایک عجیب حکمت ہے۔ یہ بات اسی وقت ذہن میں آئی ہے وہ حکمت یہ ہے کہ بعض لوگوں کا جو خیال ہے کہ ایک شخص کی تنہا رائے کبھی صحیح نہیں ہوسکتی۔ ضرور اسی میں غلطی ہوگی اس کا جواب فتوکل علی اللہ، میں دیا گیا ہے۔ سبحان اللہ حق تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ایک زمانہ ایسا بھی آوے گا جس میں مادہ پرستی غالب ہوگی اور بعض لوگوں کا یہ اعتقاد ہوگا کہ شخص واحد کی رائے ضرور غلطی کرے گی۔ اس لئے پہلے ہی سے اس کا جواب دے دیا اور ایسا جواب دیا جس میں گفتگو مجال نہیں۔ اس خیال کا ایک جواب تو یہ تھا کہ یہ مشاہدہ کے خلاف ہے تم تجربہ کرکے دیکھ لو معلوم ہوجائے گا بعض دفعہ ایک شخص کی رائے تمام دنیا کے خلاف صحیح ہوتی ہے مگر اس سے گفتگو قطع نہیں ہوتی اور تُوتُو میں میں شروع ہوجاتی ہے چناچہ آج کل یہ جواب دے کر دیکھ لو جو کبھی گفتگو قطع ہو۔ مخاطب کبھی اس کو اتفاق پر محمول کریگا۔ کبھی یہ کہے گا کہ واقع میں اکثر ہی کی رائے صحیح تھی مگر بعض موانع کی وجہ سے ان کو کامیابی نہیں ہوئی اور شخص واحد کی رائے واقع میں غلط تھی۔ مگر اسباب خارجہ ایسے پیش آئے جن کی وجہ سے اس کی رائے کامیاب ہوگئی۔ وعلی ھذا کچھ نہ کچھ تو ،تو جی ہیں نکال لی جائیں گی مگر حق تعالیٰ نے یہ جواب نہیں دیا حق تعالیٰ کی عادت ہے کہ جواب ایسا دیا کرتے ہیں جس سے مخاطب کی تسلی ہوجائے۔ قرآن میں مقدمات اور صغری کبری اور قیاس اشکال سے جواب نہیں دیا گیا کیونکہ اس سے گفتگو قطع نہیں ہوتی۔ مخاطب مقدمات میں گفتگو کرنے لگتا۔ بلکہ قرآن میں جواب ایسی مختصر بات سے دیا جاتا ہے جو دل میں گھس جائے اور مخاطب کو گفتگو کی جگہ نہ ملے چناچہ اس خیال کا دوسرا جواب وہ ہے جو فتوکل علی اللہ میں دیا گیا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ حاکم کا قلب مشورہ کے بعد جب ایک شق کی طرف مائل ہوجائے تو خدا پر بھروسہ کرکے عمل شروع کردے۔ تمہارے ہاتھ میں خزائن کامیابی نہیں ہیں بلکہ سب خزائن ہمارے ہاتھ میں ہیں تم خدا پر بھروسہ کرکے عمل کرو حق تعالیٰ شخص واحد کی رائے کو بھی کامیاب کرسکتے ہیں۔ بلکہ اگر وہ رائے غلط بھی ہوگی تب بھی توکل کی برکت سے صحیح ہوجائے گی اور اگر عقل اس کو تسلیم نہ کرے تو تم عقل کے فتوے پر عمل نہ کرو بلکہ ہمارے قانون پر عمل کرو۔ ہمارا قانون یہ ہے کہ مشورہ کے بعد حاکم کی رائے جس طرف قائم ہوجائے اس کو اپنی رائے کے موافق عمل کرنا چاہیے اور خدا پر نظر رکھنی چاہیے۔ وہ ایک آدمی کی رائے کو بھی تمام عالم کی رائے پر غالب کرسکتے ہیں۔ عقل اگر یہ کہے کہ ایک کی رائے صحیح نہیں ہوسکتی تو اس کی بات پر التفات نہ کرو، عقل بیچاری ہے کیا چیز جو قانون خداوندی میں اس کے فتویٰ سے مزاحمت کی جائے(تفسیر اشرف التفاسیر)۔