المتقین

اللہ تعالٰی کا متقین کو پسند کرنا

المتقین

تقویٰٰ

اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے(تفسیر مفردات القرآن) ۔

متقیوں کو اللہ کا قرب حاصل ہے چناچہ ایک جگہ فرمایا:

بَلٰي مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ   76 آل عمران

ہاں جس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔

یعنی خیانت و بدعہدی میں گناہ کیوں نہیں، جبکہ خدا تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ جو کوئی خدا کے اور بندوں کے جائز عہد پورے کرے اور خدا سے ڈر کر تقویٰ کی راہ چلے یعنی فاسد خیالات مذموم اعمال اور پست اخلاق سے پرہیز کرے، اسی سے خدا محبت کرتا ہے۔ اس میں امانتداری کی خصلت بھی آگئی(تفسیر عثمانی)۔

اس آیت میں عہد پورا کرنے کی اہمیت کا بھی ذکر ہے۔ اللہ سے عہد ہو یا بندوں سے اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ اللہ سے اہل کتاب کا یہ عہد تھا کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں گے اسے انہوں نے پورا نہ کیا اور ہر مسلمان کا اللہ سے عہد ہے کہ میں آپ کے احکام کی تعمیل کروں گا۔ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے ایک بات بتا دیجیے جس کے بعد مجھے آپ کے علاوہ کسی اور سے پوچھنا نہ پڑے اور یہ بات اسلام کی باتوں میں سب سے زیادہ جامع ہو آپ نے فرمایا : قال اٰمنت باللّٰہ ثم استقم (تو امنت باللہ کہہ دے اور اس پر جما رہے) ۔ (رواہ مسلم کمافی المشکوٰۃ صفحہ ١٢) .اسلام کا کلمہ پڑھ لینا محض زبانی بات نہیں ہے اس کی ذمہ داریاں ہیں اس میں اللہ تعالیٰ سے اقرار ہے اور عہد ہے کہ میں آپ کے احکام پر چلوں گا جو آپ کی کتاب اور آپ کے رسول کے ذریعے مجھے پہنچے ہیں۔ اسلام کی جو پابندیاں ہیں ہر مسلمان ان کے پورے کرنے کا عہد کرچکا ہے ان کا پورا کرنا لازم ہے اور بندوں سے بھی بہت سے عہد کیے جاتے ہیں ان میں سے جو گناہ نہ ہو اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ ۚاِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا  ) (اور عہد کو پورا کرو بلاشبہ عہد کے بارے میں باز پرس ہونے والی ہے) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں جس شخص میں ہوں گی خالص منافق ہوگا اور جس میں ان میں ایک خصلت ہوگی جب تک اسے چھوڑ نہ دے گا اس میں نفاق کی ایک خصلت موجود ہوگی (١) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (٢) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (٣) جب عہد کرے تو دھوکہ دے۔ (٤) جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان) (تفسیر انوار البیان)۔

یُحبھم کی جگہ یُحِبُّ الْمتقِیْن کہنے میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ تمام امور کا مدار تقویٰ پر ہے وفاء عہد اور تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب تقویٰ ہی کی شاخیں ہیں۔ اسی عموم کی وجہ سے بجائے ضمیر کے المتقین کو ذکر کیا(تفسیر مظہری)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ  4 التوبہ

سوائے ان مشرک لوگوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ ذرا کمی نہ کی اور نہ تمہارے مقابلہ میں کسی کی مدد کی۔ سو تم ان کے معاہدہ کو ان کی مدت مقررہ تک پورا کر دو ۔ بلاشبہ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

 یعنی بیشک اللہ تعالیٰ احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ معاہدہ پورا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیں۔ عام قوموں کی طرح اس میں حیلے اور تاویلیں نکال کر خلاف ورزی کی راہ نہ ڈھونڈیں(تفسیر معار ف القرآن)۔

بیشک اللہ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو۔وہ لوگ جنہوں نے ان ذمہ داریوں کو ادا کیا جن کا انہیں حکم دیا گیا اور شرک، خیانت اور دیگر گناہوں سے بچے(تفسیر السعدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ  ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ    7 التوبہ

اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کا عہد کیسے رہے گا مگر جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک عہد لیا، سو جب تک یہ لوگ تم سے سیدھی طرح رہیں تم بھی ان سے سیدھی طرح رہو۔ بلاشبہ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے

ان آیات میں اول تو مشرکین کی بد عہدی کے مزاج کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ان کا عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے پہلے بھی عہد توڑا ہے اور آئندہ بھی توڑتے رہیں گے۔ ان کا حال یہ ہے کہ ظاہر میں زبانوں سے عہد ہے اور دلوں میں بغض کی آگ ہے اگر مسلمانوں پر غلبہ پاجائیں تو نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں اور نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا۔ بس یہ مسلمانوں کو اپنی زبانی باتوں سے راضی رکھنا چاہتے ہیں۔ (وفائے عہد اور اطاعت کا زبانی وعدہ کرتے ہیں) اور ان کے دل ان کی اپنی زبانی باتوں سے راضی نہیں ہیں۔ اور ان میں اکثر فاسق ہیں۔ یعنی شرارت سے بھرے ہوئے ہیں کہ کسی بھی عہد کی پاسداری کرنے کو تیار نہیں۔ اکا دکا کوئی شخص عہد کی پاسداری کرنا چاہے تو اس کی بات چلنے والی نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ کے احکام کو قبول نہیں کرتے کیونکہ ان کے سامنے حقیر دنیا ہے۔ انہوں نے حقیر دنیا کو لے لیا اور اللہ کے احکام کو چھوڑ دیا۔ تھوڑی سی حقیر دنیا کے جانے کا جو وہم تھا اس کی وجہ سے انہوں نے ایمان قبول نہ کیا کیونکہ جو شخص دنیا ہی کو سامنے رکھے گا وہ اللہ کے راستہ پر نہیں چل سکتا ایسے لوگ خود بھی ایمان قبول نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی ایمان قبول نہیں کرنے دیتے۔ جن کاموں میں یہ لگے ہوئے ہیں ان کے یہ کام برے ہیں(تفسیر انوارالبیان)۔

ان آیا ت سے وعدہ اور عہد کی پابندی اور تقویٰ کا انتہائی گہرا تعلق صاف ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اور مقامات پر اللہ تعالیٰ نے متقیوں کی صفات بیان فرمائیں ہیں۔ فرمایا:

 

الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ۔2 البقرہ

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے، اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اگرچہ قرآن کریم نے صحیح راستہ ہر ایک کو دکھایا ہے خواہ وہ مومن ہو یا کافر اس لئے اس معنی کے لحاظ سے اس کی ہدایت سب کے لئے ہے لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھاجائے تو اس ہدایت کا فائدہ انہی  کو پہنچتا ہے جو اس کی بات کو مان کر اس کے تمام احکام اور تعلیمات پر عمل کریں، اس لئے فرمایا گیا کہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں، پرہیز گاری اور ڈر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھے کہ اسے ایک دن اللہ کے حضور اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہے لہذا مجھے کوئی کام ایسا نہ کرنا چاہئے جو اس کی ناراضی کا باعث ہو اسی خوف اور دھیان کا نام تقوی ٰہے۔ بے دیکھی چیزوں کے لئے قرآن کریم نے ” غیب “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتیں، نہ ہاتھ سے چھوکر یا ناک سے سونگھ کر انہیں محسوس کیا جاسکتا ہے، بلکہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں، یعنی یا تو قرآن کریم میں ان کا ذکر ہے یا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وحی کے ذریعے وہ باتیں معلوم کرکے ہمیں بتائی ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کی صفات، جنت و دوزخ کے حالات، فرشتے وغیرہ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ان متقی بندوں کی تعریف کی جارہی ہے جو غیب کی چیزوں کو بغیر دیکھے صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات پر یقین کرکے دل سے مانتے ہیں جو انہوں نے آنکھوں سے نہیں دیکھیں، یہ دنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لئے اگر یہ چیزیں آنکھوں سے نظر آجاتیں اور پھر کوئی شخص ان پر ایمان لاتا تو کوئی امتحان نہ ہوتا، اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو انسان کی نگاہ سے پوشیدہ رکھا ہے لیکن ان کے وجود کے بیشمار دلائل مہیا فرمادئے ہیں کہ جب کوئی شخص ذرا انصاف سے غور کرے گا تو ان باتوں پر ایمان لے آئے گا اور امتحان میں کامیاب ہوگا(تفسیر آسان قرآن)۔

فرمایا کہ ایک بار مولانا صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ قرآن کے متعلق ارشاد ہورہا ہے ھُدًی لِلْمُتَّقِیْن سو متقین تو پہلے ہی سے ہدایت پر ہیں تو یہ تحصیل حاصل ہو۔ اس کے جواب مختلف حضرات نے مختلف دیئے چناچہ ایک جواب صاحب جلالین نے دیا ہے کہ مراد متقین سے صائرین الی التقوی ہیں مگر مولانا محمد قاسم نے ایک دوسرا جواب دیا کہ یہاں تقویٰ سے مراد اس کے اصطلاحی معنی نہیں بلکہ لغوی معنی ہیں یعنی خوف اور کھٹک تو آیت کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کے قلب میں کھٹک ہے اور فکر ہے اور قصد ہے اپنی اصلاح کا ان کو قرآن ہدایت کرتا ہے باقی جو شخص اپنی اصلاح کا قصد ہی نہ کرے اس کا ذ مہ دارو ہ  خود ہے ،قرآن کا اس میں کیا نقص ہے(تفسیر اشرف التفسیر)۔

تقویٰ کا لفظی معنی ہے بچنا۔ ” وَقٰی۔ یَقِی “ کا مفہوم ہے ” کسی کو بچانا “ جبکہ تقویٰ کا معنی ہے خود بچنا۔ یعنی کج روی سے بچنا ‘ غلط روی سے بچنا اور افراط وتفریط کے دھکوں سے بچنا۔ جن لوگوں کے اندر فطرت سلیمہ ہوتی ہے ان کے اندر یہ اخلاقی حس موجود ہوتی ہے کہ وہ بھلائی کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہر بری چیز سے بچنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو قرآن مجید کے اصل مخاطبین ہیں۔ گویا جس کے اندر بھی بچنے کی خواہش ہے اس کے لیے یہ کتاب ہدایت ہے(تفسیر بیان القرآن)۔

علماء نے تقویٰ کی مختلف تعریف کی ہیں۔ حضرت خواجہ حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ تقویٰ وہ ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے کسی اور کا حکم نہ مانے اور یقین رکھنا کہ سارے کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں ابراہیم ادھم بن منصور بلخی فرماتے ہیں تقویٰ یہ ہے کہ مخلوق تیری زبان میں کوئی عیب پائوے نہ ملائکہ تیرے افعال میں نہ فرشتے تیرے دل میں۔ بعض کا قول ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ تیرا مالک تجھ کو نافرمانی کی حالت میں نہ دیکھے۔ اس قسم کے بہت سے اقوال علماء نے تعریف میں نقل کی ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ جس کے دل میں خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے تو اس کے دل میں یہ سب حقیقتیں پیدا ہوتی جاتی ہیں۔ جناب باری نے ہدایت پانے والوں کی کئی صفتیں بیان کی ہیں۔ سب سے پہلے ان کو متقی کہا چونکہ ایمان اور اس کی تمام فروعات کی اصل خوفِ الٰہی ہے جس کے دل میں خوف نہیں اس کو کچھ بھی نہیں۔ پہلا اثرجو خوفِ الٰہی پر مرتب ہوتا ہے وہ تقویٰ ہے یعنی خود کو عذاب سے بچانا(تفسیر حقانی)۔

واضح ہو : کہ تقویٰ کہ جس کی اصل و قایہ (یعنی نہایت محفوظ رکھنا) ہے عرف شرع میں ان چیزوں سے اپنے تئیں محفوظ رکھنا ہے کہ جو اس کو آخرت میں مضر ہیں اور اس کے تین مرتبہ ہیں : (اول) عذاب دائمی سے محفوظ رکھنا اور کفر و شرک کو عمل میں نہ لانا۔ پس اس لحاظ سے ہر مسلمان کو خواہ وہ کیسا ہی ہو متقی کہہ سکتے ہیں۔ چناچہ اسی آیت میں اس تقویٰ کی طرف اشارہ ہے : وَاَلْزَمَھُمْ کَلِمَۃُ التَّقْویٰ ، یعنی کلمہ توحید۔ (دوسرا) ہر گناہ سے بچنا اور اس کے وبال سے محفوظ رکھنا، اکثر کے نزدیک کبائر سے جو پرہیز کرے گا، متقی شمار ہے اور بعض کہتے ہیں کبائر صغائر جب تک سب سے پرہیز نہ کرے گا شرع میں اس پر لفظ متقی نہ بولا جاوے گا اور اس آیت میں اسی مرتبہ کی طرف اشارہ ہے وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰی آمَنُوْا وَاتَّقُوْا۔ (تیسرا مرتبہ) یہ ہے کہ سوائے خدائے تعالیٰ کے اور کسی کا خیال بھی دل میں نہ آوے جمیع خطرات اور خیالات سے آئینہ دل کو صاف کرکے ہمہ تن جمال جہاں آراء میں محو اور مشغول ہوجاوے اور یہ تقویٰ حقیقی ہے۔ اس مرتبہ کے متقی صرف انبیاء و اولیاء ہوتے ہیں اور یہ تقویٰ قرآن میں اکثر جگہ مذکور ہے۔ وَاتَّقُو اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ اور اس آیت میں بھی یہی مراد ہے وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا کہ سب سے ٹوٹ کر اس کی طرف آئے اور ھُدًی لِّـــلْمُتَّقِیْنَ میں بھی تینوں طرح کے تقویٰ مراد ہیں۔فوائد : امام احمد اور ترمذی وغیرہما محدثین نے عطیہ سعدی سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بندہ کو مرتبہ تقویٰ جب نصیب ہوتا ہے کہ جب ان چیزوں کو بھی کہ جن میں خطرئہ شرعی ہے ترک کرے، اس خوف سے کہ حرام میں گرفتار نہ ہوجاوے۔ اور ابن ابی الدنیا نے کتاب التقویٰ میں حضرت خواجہ حسن بصری سے نقل کیا ہے کہ متقیوں کے ساتھ اس وقت تک تقویٰ رہتا ہے کہ جب تک وہ حرام کے خوف سے بہت سی حلال چیزوں سے بھی دست کش رہتے ہیں۔ ابونعیم نے حلیۃ الاولیاء میں میمون بن مہران سے روایت کیا ہے کہ کوئی شخص بغیر اس بات کے متقی نہیں ہوسکتا کہ ہر روز اپنے نفس سے ایسا سخت حساب نہ لے کہ جیسا شریک سے لیتے ہیں کہ تیرا یہ کھانا کہاں سے ہے اور یہ پینا کہاں سے ہے اور یہ لباس کہاں سے آیا۔ حلال سے ہے یا حرام سے ہے۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں تقویٰ کے بہت فضائل اور بڑی تاکید آئی ہے اور اس میں سریہ ہے کہ جس طرح امراض جسمانی میں پرہیز نہایت نافع ہے اور بدپرہیزی کا اثر جسم پر فوراً ظاہر ہوتا ہے اسی طرح انسان کے اعمال اوراقوال و اعتقادات کا اثر اس کی روح پر پہنچتا ہے اور یہ روحانی امراض ہیں جن کا برا اثر دنیا میں کم اور مرنے کے بعد پورا نمودار ہوتا ہے۔ اسلام  کا ایک روشن اصول تقویٰ بھی ہے کہ جس سے اس کو جمیع مذاہب پر شرف ہے اس کے سوا رضا بالقضا اور شکر نعماء اور پابندی احکام اور ہمہ وقت یاد الٰہی میں مصروف رہنا کبائرو صغائر تو کیا مشتبہ چیزوں سے بھی پرہیز کرنا یہی اصول اسلام ہیں۔ الغرض زبان اور دل اور ہاتھ پائوں کو خدائے تعالیٰ کی فرماں برداری میں لانا اصول تقویٰ ہیں۔ اسلام نے ان کو طرح طرح سے تعلیم فرمایا ہے جس کا اثر اسلامیوں پر یہ ہوا کہ غیر محرم عورت کو دیکھنا اور بےفائدہ بات منہ سے بولنا بھی دل کو سیاہ کرنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا، افسوس کہ آج کل یورپ کے الحاد کا اثر بعض بددینوں کی وجہ سے ہندوستان کے اہل اسلام میں بھی نمودار ہونے لگا، اس وقت نوتعلیم یافتہ عبادت ‘ ریاضت ‘ تقویٰ و طہارت کی باتوں پر قہقے اڑاتے ہیں جس کا اثر بےبرکتی اور تاریکی نمایاں ہے۔ الٰہی ہم اہل اسلام کو اپنے نبی عربی سیدالمتقین ﷺکے طفیل سے اس تاریکی روحانی اور سواد الوجہ جاودانی سے بچا۔ آمین۔ چونکہ ہر مذہب میں تقویٰ کا دعویٰ ہے اور ہر شخص اپنے خیالات فاسدہ کی پیروی کو تقویٰ سمجھتا ہے اور باعث نجات جانتا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے اس بات کو کھول دیا اور متقین کے اوصاف اصلی بنا دیے(تفسیر حقانی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَيْرَۨا  ښ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ بِالْمَعْرُوْفِ  ۚ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ    180 البقرہ

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کر جائے (خدا سے) ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے

حضرت ابوہریرہ (رض) مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آدمی نیک لوگوں کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے اور وصیت میں ظلم کرتا ہے اور برائی کے عمل پر خاتمہ ہونے کی وجہ سے جہنمی بن جاتا ہے اور بعض لوگ ستر برس تک بد اعمالیاں کرتے رہتے ہیں لیکن وصیت میں عدل وانصاف کرتے ہیں اور آخری عمل ان کا بھلا ہوتا ہے اور وہ جنتی بن جاتے ہیں(تفسیر ابنِ کثیر)۔

متقین کے ساتھ اس وجوب کی تخصیص کا فائدہ یہ ہے کہ وصیت کرنا تقویٰ کی نشانی ہے اور لوگوں پر چونکہ لازم ہے کہ و سب کے سب متقی بنیں۔ اس لیے ان پر وصیت کا فعل لازم ہے(تفسیر احکام

القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ   183 البقرہ

مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

اے ایمان والو تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے (امتوں کے) لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اس توقع پر کہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاؤ (کیونکہ روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کو اس کے متعدد تقاضوں سے روکنے کی اور اسی عادت کی پختگی بنیاد ہے تقویٰ کی سو) تھوڑے دنوں روزہ رکھ لیا کرو (ان تھوڑے دنوں سے مراد رمضان ہے جیسا اگلی آیت میں آتا ہے (تفسیر معارف القرآن)۔

لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ میں اشارہ ہے کہ تقویٰ کی قوت حاصل کرنے میں روزہ کو بڑا دخل ہے کیونکہ روزہ سے اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ایک ملکہ پیدا ہوتا ہے وہی تقوے کی بنیاد ہے(تفسیر معارف القرآن)۔

یعنی روزہ سے نفس کو اس کی مرغوبات سے روکنے کی عادت پڑیگی تو پھر اس کو ان مرغوبات سے جو شرعا حرام ہیں روک سکو گے اور روزہ سے نفس کی قوت و شہوت میں ضعف بھی آئے گا تو اب تم متقی ہوجاؤ گے بڑی حکمت روزہ میں یہی ہے کہ نفس سرکش کی اصلاح ہو اور شریعت کے احکام جو نفس کو بھاری معلوم ہوتے ہیں ان کا کرنا سہل ہوجائے اور متقی بن جاؤ، جاننا چاہیے کہ یہود و نصاریٰ پر بھی رمضان کے روزے فرض ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنی خواہشات کے موافق ان میں اپنی رائے سے تغیر و تبدل کیا تو لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون میں ان پر تعریض ہے معنی یہ ہونگے کہ اے مسلمانو تم نافرمانی سے بچو یعنی مثل یہود اور نصاریٰ کے اس حکم میں خلل نہ ڈالو(تفسیر عثمانی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ ۭحَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ241 البقرہ

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان نفقہ دینا چاہئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

شریعت نے مطلقہ عورت کے لئے عدت مقرر کی ہے اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ یہ حاملہ تو نہیں۔ اس میں سراسر خاوند کے نسب کی حفاظت ملحوظ ہے گویا عورت ابھی اسی کے حقوق کی نگہداشت کے لئے محبوس ہے اس لئے اس کے اخراجات کی ذمہ داری خاوند کو سونپی گئی۔ اور یہی عین انصاف ہے(تفسیر ضیاءالقرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

اَلصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالْقٰنِـتِيْنَ وَالْمُنْفِقِيْنَ وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بِالْاَسْحَارِ17 آل عمران

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

متقی لوگ جن کے لئے جنت اپنی تمام زیب وزینت اور دل آویزیوں کے ساتھ چشم براہ ہے۔ جن پر رضائے الٰہی سایہ فگن ہے۔ ان کے چند اوصاف کا ذکر ہو رہا ہے تاکہ تقویٰ کا قرآن مفہوم واضح ہوجائے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوجائے کہ ان پر یہ انعام واکرام بلاوجہ نہیں(تفسیر ضیاءالقرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ۔201 الاعراف

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں ۔

فرمان ہے کہ وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جنہیں اللہ کا ڈر ہے جو نیکیوں کے عامل اور برائیوں سے رکنے والے ہیں انہیں جب کبھی غصہ آجائے، شیطان ان پر اپنا کوئی داؤ چلانا چاہے، ان کے دل میں کسی گناہ کی رغبت ڈالے، ان سے کوئی گناہ کرانا چاہے تو یہ اللہ کے عذاب سے بچنے میں جو ثواب ہے اسے بھی یاد کرلیتے ہیں رب کے وعدے وعیدکو یاد کرتے ہیں اور فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں، توبہ کرلیتے ہیں، اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطانی شر سے پناہ مانگنے لگتے ہیں اور اسی وقت اللہ کی جناب میں رجوع کرتے ہیں اور استقامت کے ساتھ صحت پر جم جاتے ہیں(تفسیر ابن کثیر)۔

گناہ کی خواہش نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آجاتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے(تفسیر آسان قرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ  32 الحج

اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے

شعائر کے معنی ہیں وہ علامتیں جن کو دیکھ کر کوئی دوسری چیز یاد آئے۔ اللہ تعالیٰ نے جو عبادتیں واجب قرار دی ہیں، اور خاص طور پر جن مقامات پر حج کی عبادت مقرر فرمائی ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کے شعائر میں داخل ہیں، اور ان کی تعظیم ایمان کا تقاضا ہے(تفسیر آسان قرآن)۔

خلاصہ پوری آیت کا یہ ہے کہ جو شخص علامات دینی یعنی اعمال کی تعظیم کرے گا یعنی ان کو موافق شریعت کے ادا کرے گا فانھا یعنی یہ ان اعمال کی تعظیم من تقوی القلوب کے تقویٰ سے ناشی ہونے والی ہے یعنی یہ علامت ہے کہ خدا تعالیٰ کا خوف اس شخص کے دل میں ہے کیونکہ خوف خدا ہی ایک ایسی شیے ہے کہ جو تعظیم شعائر اللہ کا باعث ہے۔ اگر کوئی کہے کہ حکومت سے بھی تعظیم شعائر کی متصور ہوسکتی ہے جو اب یہ ہے کہ حکومت سے جو تعظیم ہوگی وہ صورت تعصیم ہوگی۔ تعظیم کی جو حقیقت ہے وہ نہ ہوگی۔ جیسے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں منفقین نماز پڑھتے تھے لیکن اس لئے نہ پڑھتے تھے کہ خدا ہم سے راضی ہو بلکہ یہ غرض تھی کہ مسلمان ہم سے راضی ہوجائیں۔ بتلائیے کہ حکومت سے حقیقت کہاں پائی گئی پس جو کوئی تعظیم شعائر اللہ کرے گا وہ قلوب کے تقویٰ ہی سے ہوگی یعنی خوف خدا ہی اس کا منشا ہوگا کسی قاعدہ اور قانون اور ضابطے سے نہ ہوگی اور جملہ فانھا من تقوی القلوب (یعنی ان کی تعظیم قلوب کے تقویٰ سے ہوتی ہے) قائم مقام جزا کے ہے اور اس جزاء کی علت ہے جزاء محذوف ہے اور جزایہ ہے فانہ متق قلبہ (اس کا قلب متقی ہے) یعنی جو شعائر اللہ کی تعظیم کرے اس کا قلب متقی ہے کیونکہ یہ تعظیم تقوی ہی سے ہوتی ہے اور قلوب کا لفظ جو بڑھایا ہے اس سے ایک مسئلہ واضح ہوگیا وہ یہ کہ تقویٰ قلب کی صفت ہے چناچہ حدیث شریف بھی ہے التقویٰ ھھنا واشارالی صدرہ (یعنی تقویٰ اس جگہ سے اور آپ نے اپنے قلب کی طرف اشارہ کیا) اور یہاں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ محض اپنے کو متقی جاننے سے متقی نہیں ہوتا جب تک قلب اضد ادتقویٰ سے پاک نہ ہو(تفسیر اشرف التفاسیر)۔

شعائر بمعنی علامات اعمال ہیں دین کے۔ اس لئے کہ ان اعمال سے معلوم ہوجاتا ہے کہ دیندار ہے جیسے نماز حج وغیرہ(تفسیر اشرف التفاسیر)۔

اب تعظیم شعائر کی حقیقت معلوم کرنا چاہیے کہ وہ کیا ہے تعظیم شعائر یہ ہے کہ ان اعمال کا حق جس طرح شریعت مطہرہ نے حکم فرمایا ہے ادا کیا جائے حاصل آیت کا یہ ہوا کہ جو شخص اعمال دین موافق احکام الٰہیہ ادا کرے اب اس ترجمہ سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ مضمون عام ہے قربانی اور غیر قربانی سب اس میں داخل ہیں میں نے جو اول اس مضمون کے عموم کا دعویٰ کیا تھا وہ ثابت ہوگیا(تفسیر اشرف التفاسیر)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا  ۭ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ    83-القصص

وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے

یہ جنت ہم ان ہی لوگوں کیلیے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں مال و دولت کی وجہ سے نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ گناہ اور برائیاں کرتے ہیں اور جنت کفر وشرک تکبر و فساد سے بچنے والوں کے لیے ہے(تفسیر ابن عباس)۔

اللہ تعالیٰ نے یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اس کے دین کی سر بلندی کے لیے جدوجہد میں خود کو کھپا رہے ہیں۔ لیکن اس کٹھن راستے کے مسافروں کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اگر اس جدوجہد کے دوران میں دل کے کسی گوشے میں ہوس اقتدار کی کوئی کو نپل پھوٹ پڑی یا اپنا نام اونچا کرنے کی خواہش نے نفس کے کسی کونے میں جڑ پکڑ لی تو اللہ کے ہاں ایسا ” مجاہد “ نااہل (disqualified) قرار پائے گا اور اس کی ہر ” جدوجہد “ مستردکر دی جائے گی(تفسیر بیان القرآن)۔

فساد سے مراد عام فساد ہے۔ عقیدہ کا فساد ہو یا عمل کا۔ اگر کوئی کفر و شرک کی ترویج کریگا تو وہ بھی مفسد ہے اور اگر کوئی فسق و فجور کا ارتکاب کرے گا اور اس کا بازار گرم کرنے کے لیے کوشش کرے گا تو وہ بھی مفسد ہے(تفسیر ضیاء القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ    17الذاریات

رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

(اور رات کا معقول حصہ ذکر وفکر، تسبیح وتلاوت ہی میں صرف کیا کرتے تھے) یہ مراد (نعوذ باللہ) تو نہیں ہوسکتی کہ راتوں کو سینما اور تھیڑ، ناچ ورنگ اور طرح طرح کی رنگ رلیوں اور فحش کاریوں میں جاگ جاگ کر برباد کرتے تھے۔ جو لوگ شب میں نوافل تک کیلئے یہ اہتمام رکھتے ہوں، ظاہر ہے کہ فرائض وواجبات کی ادائی کا وہ شب وروز کیا الترام رکھتے ہوں گے(تفسیر ماجدی)۔

 آگے  فرمایا:

وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ      18 الذاریات

اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے

یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ اس استغفار سحری میں ان متقین کا بیان ہو رہا ہے جن کا حال اس سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ رات کو اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں، بہت کم سوتے ہیں، ان حالات میں استغفار کرنے کا بظاہر کوئی جوڑ معلوم نہیں ہوتا کیونکہ طلب مغفرت تو گناہ سے کی جاتی ہے، جن لوگوں نے ساری رات عبادت میں گزار دی وہ آخر میں استغفار کس گناہ سے کرتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ ان حضرات کو چونکہ حق تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کو پہچانتے ہیں اور اپنی ساری عبادت کو اس کے شایان شان نہیں دیکھتے، اس لئے اپنی اس تقصیر و کوتاہی سے استغفار کرتے ہیں (تفسیر  معارف قرآن)۔

مزید  آ گے  فرمایا:

وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ       19 الذاریات

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا

سائل سے مراد وہ غریب حاجت مند ہے جو اپنی حاجت لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے اور لوگ اس کی مدد کرتے ہیں اور محروم سے مراد وہ شخص ہے کہ فقیر و مفلس اور حاجت مند ہونے کے باوجود شرافت نفس کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتا، اس لئے لوگوں کی امداد سے محروم رہتا ہے، اس آیت میں مومنین متقین کی یہ صفت بتلائی گئی کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے وقت صرف سائلین یعنی اپنی حاجات ظاہر کرنے والوں ہی کو نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے اور حالات کی تحقیق سے باخبر رہتے ہیں جو اپنی حاجت کسی سے کہتے نہیں  اور ظاہر ہے کہ مقصد آیت کا یہ ہے کہ یہ مومنین متقین صرف بدنی عبادت نماز اور شب بیداری پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ مالی عبادت میں بھی ان کا بڑا حصہ رہتا ہے کہ سائلین کے علاوہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں جو شرافت کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتے مگر اس مالی عبادت کا ذکر قرآن کریم نے اس عنوان سے فرمایا (وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ) یعنی یہ لوگ جن فقراء و مساکین پر خرچ کرتے ہیں ان پر کوئی احسان نہیں جتلاتے، بلکہ یہ سمجھ کردیتے ہیں کہ ہمارے اموال خدا داد میں ان کا بھی حق ہے اور حق دار کا حق اس کو پہنچا دینا کوئی احسان نہیں ہوا کرتا، بلکہ ایک حق اور ذمہ داری سے اپنی سبکدوشی ہوتی ہے(تفسیر معارف القرآن)۔

متعلقہ احادیث

ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کہیں سے ایک ریشمی جوڑا ہدیہ میں آیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پہن کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔ مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 505

اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بےغبار نکل جائیں گے۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869

روایت:-ایک دن  ابی بن کعب(رض) سے  امیر المومنین حضرت عمر (رض) نے دریافت کیا کہ “تقوی کی حقیقت کیا ہے”؟

انھوں نے فرمایا کہ ” کبھی کانٹوں بھرے کسی راستے پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے”؟

حضرت عمر (رض) نے جواب دیا ” کیوں نہیں! بارہا ایسے راستوں پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے”

حضرت ابی (رض) نے فرمایا”اس وقت آپ نے کیا کیا”؟

حضرت عمر (رض) نے فرمایا” میں نے اپنے جسم اور کپڑوں کو سنبھالا اور خوب کوشش کی کہ اپنے جسم اور کپڑوں کا کانٹوں سے بچا کر صحیح سالم نکل جاؤں”

حضرت ابی (رض) نے فرمایا” فذالک التقوی ” (بس یہی تقوی کی حقیقت ہے) ابن کثیر جلد اول ص 40