الفرحین

اللہ تعالٰی کا الفرحین کو ناپسند کرنا

الفرحین

ا لفرح :کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] اور جو تم کو اس نے دیا ہوا اس پر اترایا نہ کرو ۔ وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] اور ( کافر ) لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہورہے ہیں ۔ ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم ۔۔۔۔۔ خوش کرتے تھے (تفسیر مفردات القرآن)

 چنانہ فرمایا:

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي فَبَغٰى عَلَيْهِمْ  ۠ وَاٰتَيْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْۗاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِي الْقُوَّةِ  ۤ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ    76 القصص

بلاشبہ قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا سو وہ ان کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا اور ہم نے اسے خزانوں میں سے اس قدر دیا تھا کہ اس کی چابیاں ایسی جماعت کو گراں بار کردیتی تھیں جو قوت والے لوگ تھے جبکہ اس کی قوم نے اس سے کہا کہ تو مت اترا، بلاشبہ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا

یعنی اس فانی و زائل دولت پر کیا اتراتا ہے جس کی وقعت اللہ کے ہاں پر پشہ کی برابر بھی نہیں۔ خوب سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کو اکڑنے اور اترانے والے بندے اچھے نہیں معلوم ہوتے اور جو چیز اس مالک کو نہ بھائے اس کا نتیجہ بجز تباہی و ہلاکت کے کیا ہے(تفسیر عثمانی)۔

حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کا مال صرف وہ ہے جو تین کاموں میں لگ گیا جو کھایا اور فنا کیا اور جو پہنا اور پرانا کردیا اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دے دیا سو اس نے اپنے لیے ذخیرہ بنا لیا اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے اسے لوگوں کے لیے چھوڑ کر چلا جائے گا (یعنی مرجائے گا) (رواہ المسلم ص ٤٠٧: ج ٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (حاضرین سے) سوال فرمایا کہ تم میں ایسا کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبت ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم میں سے ایسا کوئی بھی نہیں جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبت ہو ! آپ نے فرمایا کہ اب تم سمجھ لو کہ اپنا مال وہ ہے جو آگے بھیج دیا (یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کردیا تاکہ آخرت میں ثواب ملے اور وارث کا مال وہ ہے جو اپنے پیچھے چھوڑ کر چلا گیا۔ یعنی موت آنے پر خود اسی کا مال اس کے وارثوں کا ہوجائے گا) اب ہر شخص سوچ لے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے مال خرچ کرنے میں کنجوسی کرنا اور اس مال کو وارثوں کے لیے چھوڑ جانا یہ اپنے مال سے محبت نہ ہوئی بلکہ وارث کے مال سے محبت ہوئی۔ انسان کا یہ عجیب مزاج ہے کہ جتنا زیادہ مال ہوجائے اسی قدر کنجوس ہوتا چلا جاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے خرچ نہیں کرتا۔ ایک فیکٹری کے بعد دوسری فیکٹری کروڑوں میں خریدے گا اور اگر کوئی سائل آجائے تو سو پچاس ہاتھ پر رکھ دے گا اگر مسجد و مدرسہ میں خرچ کرنے کے لیے کہا جائے تو سو پچاس روپے سے زیادہ کی ہمت نہ کرے گا۔ مالدار اکثر دنیا دار ہوتے ہیں آگے بھی دنیا پیچھے بھی دنیا، سوتے بھی دنیا جاگتے بھی دنیا اگر نماز پڑھنے لگے تو اس میں بھی دکان کا حساب لگانے کا دھیان، امپورٹ اور ایکسپورٹ کے بارے میں غور و فکر(تفسیر انوار البیان)۔

اس قصہ میں ان لوگوں کے لئے بہت بڑی عبرت ہے جو کفار کے جاہ ومال پر رشک کرتے ہں۔ اور ان کو ترقی یافتہ اقوام کہہ کر ہر وقت ترقی کی دھن میں رہتے ہیں۔ اور دوسروں کو اس طرف مائل کرتے ہیں ۔ اور جو ان کے ساتھ موافقت نہیں کرتے ان کو پست خیال وغیرہ کہتے ہیں۔ کیونکہ اس قصہ میں حق تعالیٰ نے قارون کی ترقی پر رشک کرنے والوں کو طالب دنیا قرار دیا ہے۔ اور ان کے مخالفین کو اہل علم۔ اور دوسری بات قابل عبرت یہ ہے کہ قارون کے جاہ و مال پر رشک کرنے والوں کو اس کا انجام دیکھ کر اپنی غلطی پر تنبہ ہوگیا۔ لیکن ہمارے طالبان ترقی کو کسی طرح تنبہ نہیں ہوتا(تفسیر حل قرآن)۔

فَرْحٌ کا لغوی ترجمہ :خوشی اور مرغوب چیز پا کر سینہ کی کشائش۔ جس فرح کی ممانت کی گئی ہے وہ فرح بمعنی غرور ہے۔ جب انسان اپنے کو غنی پاتا ہے تو اترانے لگتا ہے ‘ مغرور ہوجاتا ہے ‘ تکبر کرنے لگتا ہے۔ ایسی فرح کی ممانعت ہے ‘ اللہ نے اسی کو طیغان (پھولنا نہ سمانا ‘ حد سے تجاوز کرنا) فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے : اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی انسان نے اپنے کو غنی پایا تو طغیان (غرور ‘ تکبر) کرنے لگا۔ قاموس میں ہے : فرح کا معنی ہے خوشی اور (اپنے کو) دیکھنا۔ بغوی نے لاَ تَفْرَحُ کا ترجمہ کیا ہے نہ اترا ‘ غرور نہ کر ‘ نہ اکڑ۔فرح یعنی حصول مقصد سے خوشی تو فطری امر ہے ‘ بندہ کے اختیار کو اس میں دخل نہیں اس لئے اس کی ممانعت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ دنیا ملنے پر خوش ہونا مطلقاً مذموم ہے (خواہ غرور وتکبر پیدا ہو یا نہ ہو) کیونکہ دنیا کی محبت اور دنیا کی پسندیدگی موجب ہے زوال دنیا کی طرف سے غافل ہوجانے کی اور فنا وزوال کی طرف سے غافل ہونا بہرحال مذموم ہے یہ سمجھ لینا کہ دنیا فانی ہے ‘ اس کی ہر لذت زوال پذیر ہے ‘ یہ آنی جانی ہے ‘ انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ دنیا سے دل نہ لگائے اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے : لاَ تَاْسَوْا عَلٰی مَافَاتَکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوْا بِمَا اٰتٰکُمْ جو چیز تم کو نہ ملی اس کا غم نہ کرو اور جو کچھ اللہ نے تم کو عطا فرما دیا ہے اس پر خوش نہ ہو۔لاَ تَفْرَحْ (یعنی ممانعت فرح) کی علت یہ ہے کہ یہ فرح ہم کو اللہ کی محبت سے روکتی ہے اسی لئے فرمایا۔اِنَّ اللہ لاَ یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ یعنی جو دنیا کی پرفریب لذتوں سے خوش ہوتے اور غرور وتکبر کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے ‘ اللہ ان کو پسند نہیں کرتا۔بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے کہ قرآن مجید کے اندر متعدد آیات میں فرح کی مذمت کی گئی ہے۔ ایک جگہ فرمایا ہے : وَلَمَّا جَآءَ تْھُمْ رُسُلْنَا بالْبَیِّنَاتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ۔ دوسری جگہ فرمایا ہے : وَفَرِحُوْا بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۔ تیسری جگہ فرمایا ہے : ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرِحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ۔ ایک اور جگہ فرمایا ہے : حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا بِمَا اُوْتُوْا۔فرح کی اجازت صرف آیت فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا میں اور آیت وَيَوْمَىِٕذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللہِ میں دی گئی ہے۔ میرے نزدیک قول فیصل یہ ہے کہ دنیا میں اس نعمت کے ملنے پر جو آخرت میں کام آنے والی ہے ‘ فرح کرنا بہرحال قابل تعریف ہے اور اسی کا حکم آیت فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا میں دیا گیا ہے۔ اور جس دنیاوی نعمت کے ملنے پر اللہ کا شکر بھی ادا کیا جائے اس پر بھی خوش ہونا اچھا ہے۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھانے والا شکرگزار روزہ دار صابر کی طرح ہے۔ ہاں اگر دنیوی لذتوں کے حصول کے بعد طغیان ‘ سرکشی اور ناشکری پیدا ہوجائے تو قطعاً ایسی نعمت پر خوش ہونا مذموم ہے۔ خوش ہونے کا مذموم یا محمود ہونا شکر اور ناشکری کی بنا پر ہے۔ فی نفسہ بذات خود حصول مطلوب پر خوش ہونا تو فطری امر ہے ‘ انسان کے اختیار کو اس میں دخل نہیں ‘ شریعت کا کوئی حکم ا سے متعلق نہیں (غیراختیاری) چیز کا انسان مکلف نہیں) اگر بندہ کو اللہ سے سچی محبت ہوگی تو وہ اس چیز سے ضرور خوش ہوگا جو اللہ کی خوشنودی حاصل ہونے کا ذریعہ ہو ‘ پس اللہ سے محبت اس کو نہیں ہوسکتی جو اپنے مطلب کے حصول سے صرف اس لئے خوش ہوتا ہے کہ وہ اس کا مطلوب ہے ‘ مرغوب خدا ہونے نہ ہونے کا اس کو کوئی خیال نہیں ہوتا(تفسیر قرطبی)۔