الظلمین

اللہ تعالٰی کا ظالموں کو ناپسند کرنا

الظلمین

اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر ۔بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔

(2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں  (تفسیر مفردات القرآن)۔

ظالموں کے بارے میں ایک جگہ فرمایا:

وَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَھُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ57 آل عمران

اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے تو وہ ان کو ان کا پورا اجر دے گا اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول، کتابوں پر ایمان رکھنے والے حضرات کو درآں حالیکہ انہوں نے خلوص کے ساتھ نیکی کام بھی کیے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت میں ان کو پورا پورا ثواب دیں گے اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں سے ان کے ظلم اور شرک کی وجہ سے محبت نہیں رکھتے(تفسیر ابنِ عباس)۔

ظلم کی حقیقت افراط وتفریط ہے۔ یہاں ظالموں سے مراد یہود کا ہونا تو ظاہر ہی ہے، جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت وصداقت بلکہ شرافت نسب تک کے منکر تھے لیکن دوسری طرف اس کے تحت میں مسیحی بھی آئے جاتے ہیں۔ جو حضرت کو عبد کے بجائے معبود اور رسول کے بجائے مظہر یا اوتار قرار دے رہے ہیں۔ اور اس طرح حضرت (علیہ السلام) کے باب میں دونوں ہی ظالم ہیں۔ یعنی مقام عدل و اعتدال سے بہت ہی ہٹے ہوئے(تفسیر ماجدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ  ۭ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ  ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ  ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ  140 آل عمران

اگر تم کو زخم پہنچ گیا تو تمہاری مقابل قوم کو اس جیسا زخم پہنچ چکا ہے۔ اور یہ دن ہیں جنہیں ہم باری باری بدلتے رہتے ہیں لوگوں کے درمیان اور تاکہ اللہ جان لے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور بنا لے تم میں سے شہادت پانے والے، اور اللہ پسند نہیں فرماتا ظالموں کو۔

 ظالمین سے مراد اگر مشرکین ہیں جو (جنگ) احدمیں فریق مقابل تھے تو یہ مطلب ہوگا کہ ان کی عارضی کامیابی کا سبب یہ نہیں کہ خدا ان سے محبت کرتا ہے۔ بلکہ دوسرے اسباب ہیں۔ اور منافقین مراد ہوں جو عین موقع پر مسلمانوں سے الگ ہوگئے تھے، تو یہ بتلا دیا کہ خدا کے نزدیک مبغوض تھے، اس لئے ایمان و شہادت کے مقام سے انہیں دور پھینک دیا گیا(تفسیر عثمانی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ   40 الشوریٰ

اور برائی کا بدلہ ہے اسی جیسی، سو جو شخص معاف کردے اور صلح کرلے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے، بلاشبہ وہ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا

یعنی اگر کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کی جائے تو مظلوم  کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اتنی ہی تکلیف ظالم کو پہنچا دے جتنی اُس نے پہنچائی تھی لیکن آگے اس بات کی بڑی فضیلت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان بدلہ لینے کے بجائے صبر کر کے معاف کردے(تفسیر آسان قرآن)۔

ان آیات میں اولاً تو یہ بتایا کہ برائی کا بدلہ بس اسی قدر لینا جائز ہے جتنی زیادتی دوسرے فریق نے کی ہو، اگر کسی نے اس سے زیادہ بدلہ لے لیا جو اس پر زیادتی کی گئی تھی تو اب وہ اسی قدر ظلم کرنے والا ہوجائے گا۔ ثانیاً یہ فرمایا کہ بدلہ لینا جائز تو ہے لیکن افضل یہ ہے کہ بدلہ نہ لیا جائے معاف کردیا جائے، جو شخص معاف کردے گا اس کا یہ معاف کردینا ضائع نہ جائے گا اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے اس کا اجر عطا فرمائے گا معاف نہ کرے تو زیادتی بھی نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ جس شخص پر کوئی ظلم کیا گیا اور اس نے اسی قدر بدلہ لے لیا جتنا اس پر ظلم ہوا تھا تو اب اس کا مواخذہ کرنا جائز نہیں کیونکہ اس نے اپنا حق لیا ہے ظالم یا ظالم کی مدد کرنے والا دوست احباب کنبہ و قبیلہ کے لوگ اب اگر اس سے بدلہ کا بدلہ لیں گے تو یہ لوگ ظالم ہوجائیں گے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جگہ ان کی گرفت ہوگی یہ لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ رابعاً ایک عام اعلان فرما دیا کہ صبر کرنا اور معاف کرنا بڑی ہمت اور صبر کے کاموں میں سے ہے، ہر شخص اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتا حالانکہ اس کا اجر وثواب بہت بڑا ہے(تفسیر انوار البیان)۔

بسا اوقات انتقام لینے سے ظالم کا دماغ درست ہوجاتا ہے اور وہ لوگوں پر ظلم وتعدی سے باز آجاتا ہے اور بسا اوقات انتقامی کاروائی سے فتنہ بڑھتا ہے اور شوروشر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہاں اہل ایمان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی جا رہی ہے کہ اگر عفو در گزر سے بگڑے ہوئے حالات اصلاح پذیر ہوجاتے ہوں اور مشتعل جذبات ٹھنڈے پڑجاتے ہوں تو اگر کوئی شخص انتقام لینے کی اجازت کے باوجود معاف کر دے اور اپنے احساسات اور جذبات پر قابو پالے تو وقتی طور پر اسے تکلیف ضرور ہوگی۔ لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا اجر خدا وند کریم ایسا عطا فرمائے گا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی اور دل مسرور ہوجائے گا۔  وہ شخص جو ظلم کی ابتدا کرتا ہے اور وہ مظلوم جو جوش انتقام میں اندھا ہوجاتا ہے اور حد سے تجاوز کرتا ہے، دونوں ظالم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی ظالم کو پسند نہیں کرتا(تفسیر ضیاء القرآن)۔