الصبرین

اللہ تعالٰی کا صبر کرنے والوں کو پسند کرنا

الصبرین

الصبر  کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»(تفسیر مفرادت القرآن)

فرمایا: اللہ تعالیٰ نے

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ۰ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ155 البقرہ

اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک سے اور نقصانوں سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے اور خوش خبری دے دو صبر کرنے والوں کو

مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف، کچھ بھوک، کچھ مال کی کمی، کچھ جانوں کی کمی یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب، دوست و احباب کی موت، کبھی پھلوں اور پیداوار کی نقصان وغیرہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما لیتا ہے، صبر کرنے والوں کو نیک اجر اور اچھا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بےصبر جلد باز اور ناامیدی کرنے والوں پر اس کے عذاب اتر آتے  ہیں(تفسیر ابنِ کثیر)۔

۔۔یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے کہ ان صابرین کو بشارت دے دیجئے جو مصیبت پہنچنے کے وقت یہ کہتے ہیں انا للہ وانا الیہ رجعون (ہم اللہ ہی کے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں) اس جملہ میں ایسا مضمون سکھلایا گیا ہے جورنج وغم کی بنیادیں اکھیڑنے والا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ کسی واقعہ سے صدمہ جب ہوا کرتا ہے جب وہ خلاف مرضی واقع ہوا ہو اور کوئی واقعہ خلاف مرضی جب ہوتا ہے کہ ہم پہلے سے اپنے ذہن میں اس کے متعلق کوئی شق تجویز کرلیں کہ یوں ہونا چاہیے جب اس کے خلاف دوسری شق ظاہر ہوتی ہے تو وہ ناگوار اور خلاف مرضی ہوتی ہے چناچہ کسی عزیز کی موت پر ہم کو صدمہ اسی لئے ہوتا ہے کہ ہم نے یہ تجویز کر رکھا تھا کہ یہ ہم سے بھی کبھی جدا نہ ہوا ہمیشہ پاس ہی رہے حق تعالیٰ نے اناللہ میں تجویز کا استیصال کردیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ تم کو یہ مضمون پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ہم خدا کی ملک ہیں خدا تعالیٰ ہمارے مالک ہیں اور ہم ان کے مملوک ہیں اور مملوک کی ہر چیز مالک کی ہوا کرتی ہے تو ہماری چیز ہی خدا ہی کی ملک ہے اس کے ساتھ ایک مقدمہ عقلیہ یہ ملا لو کہ تجویز کا حق مالک کو ہوتا ہے غلام کو کسی تجویز کا حق نہیں۔ جب تجویز کا حق مالک کو ہوتا ہے تو ہمارا کسی عزیز کی مفارقت پر اس لئے غم کرنا کہ ہم نے اس کے متعلق یہ تجویز کررکھا تھا کہ ہمیشہ ہمارے پاس رہے بڑی غلطی ہے آپ تجویز کرنے والے ہوتے کون ہیں۔ اس کی تو ایسی مثال ہوئی کہ گھر کی مالکہ نے الماری میں برتنوں کو ایک خاص ترکیب سے رکھ دیا ہو۔ جو ماما (خانساما)کی ترکیب کو دیکھ کر نالہ وشیون کرنے لگے کہ ہائے میری تجویز کے خلاف کیوں ہوا۔ تو بتلائیے آپ اس کو احمق کہیں گے یا نہیں یقینا ہر شخص اس کو پاگل کہے گا آخر کیوں۔ اسی وجہ سے کہ تجویز کا حق مالک کو ہے ماما کو کسی تجویز کا حق نہیں پھر حیرت ہے کہ آپ کی ادنی سی ملک تو ایسی ہو کہ اس کے سامنے دوسروں کا حق باطل ہوجائے اور خدا تعالیٰ کی حقیقی ملک کے سامنے آپ کی تجویز باطل نہ ہو یقینا اگر خدا تعالیٰ کو مالک حقیقی سمجھا جاتا تو آپ کو اور کسی کو تجویز کا حق نہ ہونا چاہیے پس سمجھ لیجئے کہ حق تعالیٰ نے عالم کے دو درجے بنائے ہیں۔ آسمان اور زمین جیسے الماری کے دور درجے اوپر نیچے ہوتے ہیں جس میں انہوں نے بعض ارواح کو اوپر کے درجہ میں رکھا ہے۔ یعنی آسمان میں اور بعض کو نیچے درجہ میں رکھا ہے یعنی زمین میں پھر وہ کبھی اس ترتیب کو بدل کر اوپر کی روحوں کو نیچے بھیج دیتے ہیں اور نیچے کی روحوں کو اوپر رکھ دیتے ہیں اور وہ مالک ہیں ان کو ہر طرح تصرف کا اختیار ہے۔ اس میں ہم غلاموں کا اس لئے نالو وشیون کرنا کہ ہائے ہماری تجویز کے خلاف کیوں کیا گیا حماقت ہے(تفسیر اشرف التفاسیر)۔

نیز حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کو جو بھی کوئی تکلیف، مرض، فکر، رنج، اذیت غم پہنچ جائے یہاں تک کہ اگر کانٹا بھی لگ جائے تو اللہ تعالیٰ شانہ اس کے ذریعہ اس کے گناہوں کا کفارہ فرمادیتے ہیں(تفسیر انوار البیان)۔

حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو دنیا ہی میں سزا دے دیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتے ہیں یہاں تک کہ اس کو قیامت کے دن پوری سزا دے دیں گے (رواہ التر مذی فی ابواب الزہد) ۔

حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورت کو جان مال اور اولاد میں برابر تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کریگا کہ اس کا کوئی گناہ بھی باقی نہ رہا ہوگا (رواہ التر مذی فی ابواب الزہد) ۔

مومن بندوں کے لیے تکالیف اور مصائب کوئی گھبرانے اور پریشان ہونے کی چیزیں نہیں ہیں۔ یہ تو اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ فانی دنیا میں تھوڑی بہت تکلیفیں پہنچ گئیں اور آخرت کے مواخذہ سے بچ گیا اور وہاں کی نعمتوں سے مالامال ہوگیا تو اس کے حق میں یہ سراسر بہترہی بہتر ہے۔ اور نفع کا سودا ہے بس صبر کرے۔ ثواب کی امید رکھے۔ اللہ کی قضا اور قدر پر راضی رہے۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ مصیبت اور تکلیف دور ہونے کی دعا نہ کرے کیونکہ دعا بھی سنت ہے اور ہمیشہ اللہ سے عافیت کا سوال کرے مصیبت تکلیف اور مرض کا سوال بھی نہ کرے، آجائے تو صبر کرے(تفسیر انوار البیان)۔

(بشار ت دے دیں)صبر کرنے والوں کو، یعنی ان بندوں کو جو حالت غم میں بھی حدودشریعت سے قدم باہر نہیں نکالتے، صبر کرنے کے معنی یہ نہیں کہ بندہ بالکل بےحس ہوجائے۔ اور غم کو غم محسوس ہی نہ کرے، اس کا نام صبر نہیں، بےحسی ہے۔ صبر یہ ہے کہ انتہائی غمناک ودردانگیز واقعہ پر بندہ عقل کو نفس پر غالب رکھے، زبان کو شکوہ اور ناشکری سے نہ آلودہ ہونے دے اور نظر مسبب الاسباب پر، اس کی مصلحت و حکمت پر اس کی شفقت و رحمت پر رکھے(تفسیر ماجدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَكَاَيِّنْ مِّنْ نَّبِيٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ  ۚ فَمَا وَهَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَكَانُوْا  ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ    146 آل عمران

اور بہت سے نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی، پھر جو مصیبتیں ان کو اللہ کی راہ میں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ ہمت ہارے نہ کمزور پڑے۔ اور نہ عاجز ہوئے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے،

یعنی تم سے پہلے بہت اللہ والوں نے نبیوں کے ساتھ ہو کر کفار سے جنگ کی ہے۔ جس میں بہت تکلیفیں اور سختیاں اٹھائیں لیکن ان شدائد و مصائب سے نہ ان کے ارادوں میں سستی ہوئی، نہ ہمت ہارے، نہ کمزوری دکھائی، نہ دشمن کے سامنے دبے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ثابت قدم رہنے والوں سے خاص محبت کرتا ہے۔ یہ ان مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی اور غیرت دلائی جنہوں نے (جنگ)احد میں کمزوری دکھلائی تھی۔ حتیٰ کہ بعض نے یہ کہہ دیا تھا کہ کسی کو بیچ میں ڈال کر ابو سفیان سے امن حاصل کرلیا جائے مطلب یہ ہے کہ جب پہلی امتوں کے حق پرستوں نے مصائب و شدائد میں اس قدر صبر و استقلال کا ثبوت دیا اس امت کو (جو خیرالامم ہے) ان سے بڑھ کر صبر و استقامت کا ثبوت دینا چاہیے(تفسیر عثمانی)۔

پہلے کتنے نبی ہوچکے ہیں جن کے ساتھ ہوکر بہت سے اللہ والوں نے (کفار سے) جنگ کی ہے اور نہ وہ اس مصیبت کی وجہ سے جو ان پر خدا کی راہ میں پڑی بعدے ہوئے اور نہ کمزور ہوئے اور نہ کفار سے دبے اور (اس صبر و استقلال کی وجہ سے وہ خدا کے محبوب ہوئے کیونکہ) حق تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور (اس جہاد و صبر و استقلال پر بھی) ان کا قول یہی تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ اور اپنے کام میں حد شرعی سے آگے بڑھ جانا معاف کردے اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور ہمیں جماعت کفار پر فتح دے (پھر وہ دین سے تو کیا ہٹتے یا اس سے ہٹنے کا یا اس کی مدد چھوڑنے کا ارادہ کرتے ) اس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کا عوض (ملک و جاہ و مال) بھی انہیں عطا کیا اور آخرت کا عمدہ بدلہ بھی (اور یہ انعامات اس لئے کئے کہ وہ نیک کام کرنے والے تھے) اور خدا نیک کام کرنے والوں سے محبت کرتا ہے(تفسیر حل قرآن)۔

اور اللہ نیکوکاروں یعنی مخلصوں کو محبوب رکھتا ہے اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ مصائب وشدائد میں تو بہ و استغفار میں لگ جائے بسا اوقات مصیبت کے آنے میں گناہوں کو کچھ دخل ہوتا ہے(معارف القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

 وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْر     آل عمران 186

 تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بہت بڑی ہمت کے کام ہیں۔

کفار ،رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام(رض) کو جو تکالیف پہنچاتے تھے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں۔ اپنے اموال کے ختم ہوجانے بیماریوں اور قتل ہر قسم کی تکالیف سے آزمائے جاؤ گے اور یہود و نصاری اور مشرکین عرب سے گالی گلوچ طعن وتشنیع اور اللہ تعالیٰ پر الزامات سنو گے، اگر ان الزامات اور اس طرح کی دیگر تکالیف میں صبر کرکے اللہ کی نافرمانی سے بچو گے تو یہ صبر بہترین کاموں اور بہت تاکیدی امور سے ہے(تفسیر ابنِ عباس)۔

یہ خطاب مسلمانوں کو ہے کہ آیندہ بھی جان و مال میں تمہاری آزمائش ہوگی اور ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑینگیں، قتل کیا جانا زخمی ہونا، قیدو بند کی تکلیف اٹھانا، بیمار پڑنا، اموال کا تلف ہونا اقارب کا چھوٹنا، اس طرح کی سختیاں پیش آئینگیں، نیز اہل کتاب اور مشرکین کی زبانوں سے بہت جگر خراش اور دل آزار باتیں سننا پڑینگیں۔ ان سب کا علاج صبر وتقویٰ ہے۔ اگر صبر و استقلال اور پرہیزگاری سے ان سختیوں کا مقابلہ کرو گے تو یہ بڑی ہمت اور اولوالعزمی کا کام ہوگا۔ جس کی تاکید حق تعالیٰ نے فرمائی ہے(تفسیر عثمانی)۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پہلے ہی بتا رہے ہیں کہ مدینہ کی غیر مسلم آبادی، مشرک اور اہل کتاب سے اچھے سلوک کی توقع مت رکھو۔ وہ تمہارے مال وجان کو گزند پہنچائیں گے۔ تمہیں کو سا جائے گا۔ تمہارے خلاف پروپیگنڈا کی خطرناک مہم چلائے جائے گی۔ تمہیں طرح طرح سے مطعون کیا جائے گا۔ اور تمہارے محبوب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں زبان درازی کی جائے گی۔ ایسی حالت میں عام طور پر جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں۔ زبان اور ہاتھ پر قابو نہیں رہتا اور انسان ہر طرح کی جوابی کاروائی کرنے کے لئے اپنے آپ کو مجبور اور ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کرنے کے لئے معذور پاتا ہے۔ اگر ایسے نازک حالات میں بھی تم نے صبرو استقامت کا دامن نہ چھوڑا اور اپنے بلند کردار پر جمے رہے تو تمہاری عظمت و رفعت پر انسانیت فخر کرے گی۔ اور ایسا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلکہ بڑی ہمت کا کام ہے(تفسیر ضیاءالقرآن)۔

یہ سب کچھ سنو اور صبر کرو۔ جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابتدا میں کہا گیا تھا : (وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا ) (المزمل) اور ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ ہوجایئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا کچھ نہیں سننا پڑا۔ کسی نے کہہ دیا مجنون ہے ‘ کسی نے کہہ دیا شاعر ہے ‘ کسی نے کہا ساحر ہے ‘ کسی نے کہا مسحور ہے۔ سورة الحجر کے آخر میں ارشاد ہے : (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَ نَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ) (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ ( مشرکین) جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کا سینہ بھنچتا ہے۔ ان کی زبانوں سے جو کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سننا پڑرہا ہے اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچتی ہے ‘ لیکن صبر کیجیے ! وہی بات مسلمانوں سے کہی جا رہی ہے(تفسیر بیان القرآن)۔

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس کی خبر دی تاکہ ان کے نفوس اس قسم کے شدائد برداشت کرنے کے لئے آمادہ ہوں اور جب سختیاں آنپڑیں تو ان پر صبر کریں۔ کیونکہ جب شدائد کا مقابلہ کرنے کے لئے  تیار ہوں گے تو ان کا برداشت کرنا ان کے لئے آسان ہوجائے گا اور ان کا بوجھ ہلکا لگے گا، تب وہ صبر اور تقویٰ کی پناہ میں لے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وان تصبروا وتتقوا) یعنی تمہاری جان و مال میں تم جس ابتلاء و امتحان میں پڑے ہوئے اہو اور تمہیں ظالموں کی اذیتوں کا جو اسمنا کرنا پڑا ہے اگر تم اس پر صبر کرو اور اس صبر میں تقویٰ کا التزام یعنی اس صبر میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کی نیت رکھو اور اپنے صبر میں صبر کی شرعی حدود سے تجاوز نہ کرو یعنی ایسے مقام پر صبر نہ کرو جہاں صبر کرنا جائز نہ ہو بلکہ وہاں تمہارا کام اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے انتقام لے لینا ہو (فان ذلک من عزم الامور) تو اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جس پر عزم کیا جاتا ہے اور جس میں رغبت کے لئے سبقت کی جاتی ہے اور اس کی توفیق صرف انہیں عطا ہوتی ہے جو باعزم اور بلند ہمت لوگ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وما یلقھا الا الذین صبروا وما یلقھآ الا ذوحظ عظیم) یہ بات صرف ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس بات سے صرف وہ لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو نصیب والے ہیں(تفسیر السعدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْہِ رَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً وَّيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَـنَۃِ السَّيِّئَۃَ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عُقْبَى الدَّارِ22 الرعد

اور وہ اپنے رب کی رضامندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں  اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اسے چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں  اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں  ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کا مفہوم بہت عام ہے۔ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تقاضوں کو جب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے دبا لے تو یہ صبر ہے۔ مثلا نفس کی خواہش یہ ہورہی ہے کہ اس وقت کی نماز چھوڑ دی جائے۔ ایسے موقع پر اس خواہش کی خلاف ورزی کر کے نماز پڑھنا صبر ہے۔ یا اگر کسی گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہورہی ہے تو اس کو دبا کر گناہ سے بچ جانا صبر ہے۔ اسی طرح اگر کسی تکلیف کے موقع پر اگر نفس کا تقاضا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر شکوہ اور غیر ضروری واویلا کیا جائے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اختیاری واویلا نہ کرنا بھی صبر ہے۔ اس طرح صبر کا لفظ دین کے تمام احکام پر عمل کو حاوی ہے(تفسیر آسان قرآن)۔

یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر عدم نارضای کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر صرف اپنے   رب کی رضا کی خاطر ہو کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لئے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے صادر ہوسکتا ہے، صبر کی یہ قسم درحقیقت ممدوح نہیں ہے۔ (تفسیر السعدی)۔

وہ (صابر لوگ)برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے بلکہ کوئی شخص اگر ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ جواباً اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں تاکہ اس کے اندر اگر نیکی کا جذبہ موجود ہے تو وہ جاگ جائے(تفسیر بیان القرآن)۔

یعنی برائی کرنے کے بعد نیکی کرتے ہیں یا گناہ کے بعد تو بہ کرتے ہیں یا یہ کہ اگر ان کے ساتھ کوئی زیادتی کرتا ہے تو وہ اس کے بدلہ میں زیادتی نہیں کرتے بلکہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں قال الحسن اذا حرموا اعطوا واذا قطعوا وصلوا یعنی اگر انہیں محروم کیا جاتا ہے تو وہ عطا کرتے ہیں اور جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ درگزر کرتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ قطع رحمی کی جائے تو وہ صلہ رحمی کرتے ہیں(تفسیر ضیاء القرآن)۔

یعنی مصائب و شدائد اور دنیا کی مکروہات پر صبر کیا۔ کسی سختی سے گھبرا کر طاعت کے راستہ سے قدم نہیں ہٹایا نہ معصیت کی طرف جھکے اور صبر و استقلال محض حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دکھلایا، اس لیے نہیں کہ دنیا انھیں بہت صابر اور مستقل مزاج کہے۔ نہ اس لیے کہ بجز صبر کے چارہ نہ رہا تھا مجبور ہوگئے تو صبر کر کے بیٹھ رہے(تفسیر عثمانی)۔

ابن کیسان نے کہا : آیت کا معنی یہ ہے کہ گناہ ‘ توبہ کے ذریعہ سے دفع کردیتے ہیں (یعنی حسنہ سے مراد تو بہ ہے) امام احمد نے عطاء کی مرسل روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو نے گناہ کیا ہو تو فوراً اس کے بعد توبہ کرلے۔ چھپے گناہ کی توبہ مخفی طور پر اور علانیہ گناہ کی توبہ علانیہ (الزہد)(تفسیر مظہری) ۔

 صبر کے معنی عربی زبان میں اس مفہوم سے بہت عام ہیں جو اردو زبان میں سمجھا جاتا ہے کہ کسی مصیبت اور تکلیف پر صبر کریں کیونکہ اس کے اصلی معنی خلاف طبع چیزوں سے پریشان نہ ہونا بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے کام پر لگے رہنا ہے اسی لئے اس کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں ایک صبر اعلی الطاعۃ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل پر ثابت قدم رہنا دوسرے صبر میں عن المعصیۃ یعنی گناہوں سے بچنے پر ثابت قدم رہنا صبر کے ساتھ اِبْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ کی قید میں یہ بتلایا کہ متعلقہ صبر کوئی فضیلت کی چیز نہیں کیونکہ کبھی نہ کبھی تو بےصبرے انسان کو بھی انجام کار ایک مدت کے بعد صبر آ ہی جاتا ہے جو صبر غیر اختیاری ہو اس کی کوئی خاص فضیلت نہیں نہ ایسی غیر اختیاری کفیت کا اللہ تعالیٰ کسی کو حکم دیتے ہیں اسی لئے حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یعنی اصلی اور معتبر صبر تو وہی ہے جو ابتدائے صدمہ کے وقت اختیار کرلیا جائے ورنہ بعد میں تو کبھی نہ کبھی جبری طور پر انسان کو صبر آ ہی جاتا ہے بلکہ قابل مدح وثناء وہ صبر ہے کہ اپنے اختیار سے خلاف طبع امر کو برداشت کرے خواہ وہ فرائض و واجبات کی ادائیگی ہو یا محرمات و مکروہات سے بچنا ہو اسی لئے اگر کوئی شخص چوری کی نیت سے کسی مکان میں داخل ہوگیا مگر وہاں چوری کا موقع نہ ملا صبر کر کے واپس آ گیا تو یہ غیر اختیاری صبر کوئی مدح وثواب کی چیز نہیں ثواب جب ہے کہ گناہ سے بچنا خدا کے خوف اور اس کی رضائی جوئی کے سبب سے ہو(تفسیر معارف القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

  ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً  ۭ اَتَصْبِرُوْنَ  20 الفرقان

اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے؟

کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد درمیان میں اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے خطاب فرما رہے ہیں کہ تمہارے مخالفین تم پر طرح طرح کے اعتراضات کر کے تمہیں جو تکلیفیں دے رہے ہیں، وہ اس لیے کہ ہم نے تمہیں ان کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ یہ حق واضح ہوجانے کے باوجود اسے مانتے ہیں یا نہیں، اور انہیں تمہاری آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے کہ تم ان کی پہنچائی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتے ہو یا نہیں کیونکہ تمہارے صبر ہی سے یہ ظاہر ہوگا کہ تم نے حق کو سچے دل سے قبول کیا ہے(تفسیر آسان قرآن)۔

مالدار کو نادار کے لئے مصیبت بنا دیا ‘ فقیر کہتا ہے میں اس مال دار کی طرح کیوں نہیں ہوا تندرست بیمار کے لئے مصیبت ہے ‘ اور شریف ذلیل کے لئے ۔حضرت ابن عباس (رض) نے (فتنہ کا معنی آزمائش (بیان کیا اور) فرمایا ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے آزمائش بنا دیا ہے تاکہ جو لوگ تمہارے مخالف ہیں اور تمہاری مخالفت میں باتیں کرتے ہیں اور تم ان کی باتوں کو سنتے اور ان کی مخالفتوں کو دیکھتے ہو تم ان کی اس اذیت رسانی پر صبر کرو اور اپنے سیدھے راستے پر چلتے رہو(تفسیر مظہری)۔

اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ حق تعالیٰ کو قدرت تو سب کچھ تھی وہ سارے انسانوں کو یکساں مالدار بنا دیتے، سب کو تندرست رکھتے، کوئی بیمار نہ ہوتا۔ سب کو عزت و جاہ کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز کردیتے کوئی ادنی یا کم رتبہ نہ رہ جاتا مگر نظام عالم میں اس کی وجہ سے بڑے رخنے پیدا ہوتے اس لئے حق تعالیٰ نے کسی کو مالدار بنایا، کسی کو غریب مفلس، کسی کو قوی، کسی کو ضعیف، کسی کو تندرست، کسی کو بیمار، کسی کو صاحب عزت و جاہ، کسی کو گمنام۔ اس اختلاف انواع و اصناف اور اختلاف احوال میں ہر طبقے کا امتحان اور آزمائش ہے۔ غنی کے شکر کا غریب کے صبر کا امتحان ہے اسی طرح بیمار و تندرست کا حال ہے۔ اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیم یہ ہے کہ جب تمہاری نظر کسی ایسے شخص پر پڑے جو مال و دولت میں تم سے زیاد ہے یا صحت وقوت اور عزت و جاہ میں تم سے بڑا ہے تو تم فوراً ایسے لوگوں پر نظر کرو جو ان چیزوں میں تم سے کم حیثیت رکھتے ہیں (تاکہ تم حسد کے گناہ سے بھی بچ جاؤ اور اپنی موجودہ حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے کی توفیق ہو۔ ) (رواہ البخاری و مسلم)(تفسیر مظہری)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ43 الشوریٰ

اور جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں

یعنی جس نے ظالم کے ظلم پر صبر کیا  معاف کردیا تو یہ صبر و عفو ان امور میں سے ہے جو شرعاً مطلوب ہیں۔ عزم بمعنی معزوم ہے اور معزوم کا مطلب ہے مطلوب مراد مطلوب شرعی، ایسا آدمی افضل الناس ہے(تفسیر مظہری)۔

 یعنی غصہ کو پی جانا اور ایذائیں برداشت کر کے ظالم کو معاف کردینا بڑی ہمت اور حوصلہ کا کام ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس بندہ پر ظلم ہو اور وہ محض اللہ کے واسطے اس سے درگز کرے تو ضرور ہے کہ اللہ اس کی عزت بڑھائے گا اور مدد کرے گا(تفسیر عثمانی)۔

آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے علامہ اسماعیل حقی لکھتے ہیں کہ صبر اور مغفرت ان امور میں سے ہیں جنہیں بندہ کو اپنے نفس کے اوپر واجب کرنا چاہئے کیونکہ یہ امور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محمود اور پسندیدہ  ہیں(تفسیر ضیاءالقرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ 7 المدثر

اور اپنے رب (کی رضا) کے لئے صبر سے کام لیتے رہو

جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسلام کی تبلیغ کا حکم ہوا تو اس بات کا پورا اندیشہ تھا کہ کافر لوگ آپ کو ستائیں گے، اس لئے حکم دیا گیا کہ فی الحال مسلح جدوجہد نہیں کرنی ہے، صبر سے کام لینا ہے اور ان کی زیادتیوں کی اصل سزا انہیں اس وقت ملے گی جب قیامت کے لئے صور پھونکا جائے گا جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے (تفسیر آسان قرآن) ۔

یہ ہمت اور اولوالعزمی سکھلائی کہ جو کسی کو دے (روپیہ پیسہ یا علم و ہدایت وغیرہ) اس سے بدلہ نہ چاہیے۔ محض اپنے رب کے دیے پر شاکر و صابر رہ اور جو شدائد دعوت و تبلیغ کے راستہ میں پیش آئیں ان کو اللہ کے واسطے صبر و تحمل سے برداشت کر اور اسی کے حکم کی راہ دیکھ کر یہ عظیم الشان کام بدون اعلیٰ درجہ کی حوصلہ مندی اور صبر و استقلال کے انجام نہیں پائے گا(تفسیر عثمانی)۔

صبر کے لفظی معنی اپنے نفس کو روکنے اور قابو میں رکھنے کے ہیں اسلئے صبر کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر اپنے نفس کو قائم رکھے اور یہ بھی داخل ہے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نفس کو روکے اور یہ بھی داخل ہے کہ مصائب اور تکلیف میں اپنے اختیار کی حد تک جزع فزع اور شکایت سے بچے اسلئے یہ حکم ایک جامع حکم ہے جو تقریباً پورے دین کو شامل ہے اس موقع پر اس حکم کی خصوصیت ممکن ہے اسلئے بھی ہو کہ اوپر کی آیات میں آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ عام خلق خدا تعالیٰ کو دین حق کی طرف دعوت دیں کفر و شرک اور معاصی سے روکیں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ مخالفت و عداوت اور ایذاء رسانی پر آمادہ ہوجائیں گے اس لئے داعی حق کو صبر وضبط کا خوگر ہونا چاہئے(تفسیر معارف القرآن)۔

احادیث سے صبر کی اقسام

وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی طرف سے آنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے اجروثواب میں کہیں زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا کہ ان کی تکالیف پر صبر کرنے کی نوبت آئے مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 3093

نامکمل حمل بھی اپنی ماں کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ اس نے اس پر صبر کیا ہو مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2150

تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں ۔  ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں ، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کردے مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1624

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی شخص کی بینائی واپس لے لوں اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرے تو اس کا عوض جنت ہوگی مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 2951

 

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ابوسعید! صبر کرو، کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر وفاقہ اس سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے جو اوپر کی جانب سے نیچے آئے مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 392

جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اس پر صبر کرے کیونکہ جو بھی شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے بالشت بھر الگ ہوگا اور مرتے وقت زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 365

 

آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلا شبہ جب بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی درجہ مقرر کر دیا گیا جس درجہ میں وہ اپنے عمل کی وجہ سے نہ پہنچ سکتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو جسم یا مال میں یا اولاد میں (تکلیفوں کے ساتھ) مبتلا فرما دیتے ہیں پھر اس پراس کو صبر دے دیتے ہیں یہاں تک کہ اسے اسی درجہ میں پہنچا دیتے ہیں جو پہلے سے اس کے لیے طے فرما دیا تھا رواہ احمد و ابوداؤد کمافی المشکوٰۃ ص ۱۳۷

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔ ” دو خصلتیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں پائی جاتی ہیں اس کو اللہ تعالیٰ شاکر و صابر قرار دیتا ہے ایک یہ جب وہ شخص دینی معاملہ یعنی اچھے اعمال وغیرہ میں ایسے آدمی کو دیکھے جو (علم و عمل، طاعات و عبادات، قناعت واستقامت اور ریاضت ومجاہدہ کے اعتبار سے) اس سے برتر ہو تو اس کی اقتدا کرے ( یعنی اس میں دینی برتری وفضیلت سے اس طرح فیضان حاصل کرے کہ خود بھی علم وعمل کی راہ پر چلے، طاعات وعبادات کی محنت ومشقت اور برائیوں سے اجتناب پر صبر و استقامت اختیار کرے اور جو دینی و باطنی کمالات پہلے فوت ہو چکے ہیں ان پر تأسف کرے) اور دوسرے یہ کہ جب اپنی دنیا کے معاملہ میں اس آدمی کو دیکھے جو (مال و دولت اور جاہ ومنصب کے اعتبار سے) اس سے کمتر ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور اس کا شکر ادا کرے کہ اس نے اس آدمی پر اس کو فضیلت وبرتری بخشی ہے پس اللہ تعالیٰ اس شخص کو صابر و شاکر قرار دیتا ہے مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1180

کسی مسلمان کو جو کانٹا بھی چبھتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 2030