الخائنین

اللہ تعالٰی کا خیانت کرنے والوں کو ناپسند کرنا

خائنین

الخیانۃ: خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل ہوجاتا ہے پس خیانت کے معنی خفیہ طور پر عہد شکنی کرکے حق کی مخالفت کے آتے ہیں اس کا ضد امانت ہے ۔ اور محاورہ میں دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو(تفسیر مفردات القرآن) ۔

فرمایا:

وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِيْنَ يَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَھُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِــيْمًا     107 النساء

اور آپ ان لوگوں کی طرف سے جواب دہی نہ کیجیے جو اپنی جانوں کی خیانت کر رہے ہیں بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا اس شخص کو جو خیانت کرنے والا گنہگار ہو۔

(آیت) ” من کان خوانا “۔ خود خیانت کرنے والا ہے، خوانا مبالغہ کا وزن ذکر فرمایا ہے یہ صیغہ اس لیے ذکر فرمایا تاکہ اس خیانت کی بڑائی کا ذکر ہو(تفسیر قرطبی)۔

من کان خوانا اس کو جو بڑا خائن ہو یعنی خیانت پر جم جانے والا ہو۔اثیما گناہگار ہو یعنی جھوٹ بول کر حق کا انکار کر کے اور بےقصور پر تہمت لگا کر جو گناہگار ہوتا ہے اللہ اس سے نفرت کرتا ہے(تفسیر مظہری)۔

 ایک اور جگہ فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 27 الانفال

اے ایمان والو ! خیانت نہ کرو اللہ کی اور رسول کی، اور نہ خیانت کرو اپنی آپس کی امانتوں میں حالانکہ تم جانتے ہو۔

ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ (آیت) لا تخونوا اللہ سے مراد ہے کہ تم اس کے فرائض کو نہ چھوڑا اور والرسول یعنی آپ کے طریقہ کو چھوڑ کر گناہ کا ارتکاب کرکے (خیانت نہ کرو) اور فرمایا (آیت) وتخونوا امنتکم یعنی نہ توڑو تم ( یعنی کمی نہ کرو) اس امانت میں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر امانت رکھی ہے(تفسیر درمنثور)۔

اللہ کی امانت میں خیانت یقیناً بہت بڑی خیانت ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی سب سے بڑی امانت اس کی وہ روح ہے جو اس نے ہمارے جسموں میں پھونک رکھی ہے۔ اسی کے بارے میں سورة الاحزاب میں فرمایا گیا : (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلً ۔ ) ہم نے (اپنی) امانت کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اس سے ڈر گئے ‘ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ‘ یقیناً وہ ظالم اور جاہل تھا۔ پھر اس کے بعد دین ‘ قرآن اور شریعت اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بڑی بڑی امانتیں ہیں جو ہمیں سو نپی گئی ہیں۔ چناچہ ایمان کا دم بھرنا ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کا دعویٰ کرنا ‘ لیکن پھر اللہ کے دین کو مغلوب دیکھ کر بھی اپنے کاروبار ‘ اپنی جائیداد ‘ اپنی ملازمت اور اپنے کیرئیر کی فکر میں لگے رہنا ‘ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس سے بڑی بےوفائی ‘ غداری اور خیانت اور کیا ہوگی !(تفسیر بیان القرآن)

۔۔۔اور قتادہ فرماتے ہیں اعلموا ان دین اللہ امانۃ فادوا الی اللہ ما ائتمنکم علیہ من فرایضہ وحدودہ : خوب سمجھ لو ! اللہ کا دین امانت ہے۔ اس کے فرائض کی ادائیگی اور حدود کی پابندی کا تمہیں امین بنایا گیا ہے۔ ؛ پس امانت میں خیانت نہ کرو۔ (مظہری) اسی طرح مسلمانوں کے راز دشمن تک پہنچانا۔ حکومت کے سربراہوں، اعلیٰ افسروں اور ملازموں کا اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرنا۔ ملک کے صنعت کاروں اور تجار کا ملکی صنعت اور کاروبار میں دیانتداری کو نظر انداز کردینا حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کرنے میں داخل ہے(تفسیر ضیاء القرآن)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰي سَوَاۗءٍ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ   58الانفال

اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو ان سے جو عہد آپ نے کیا ہے وہ ان کی طرف پھینک دیجیے تاکہ وہ اور آپ برابر ہوجائیں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

۔۔۔مطلب یہ ہے کہ جس قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ صلح ہوچکا ہے اس کے مقابلہ میں کوئی جنگی اقدام کرنا خیانت میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے اگرچہ یہ خیانت دشمن کافروں ہی کے حق میں کی جائے۔ وہ بھی جائز نہیں البتہ اگر دوسری طرف سے عہد شکنی کا خطرہ پیدا ہوجائے تو ایسا کیا جاسکتا ہے کہ کھلے طور پر ان کو اعلان کے ساتھ آگاہ کردیں کہ ہم آئندہ معاہدہ کے پابند نہیں رہیں گے۔ مگر یہ اعلان ایسی طرح ہو کہ مسلمان اور دوسرا فریق اس میں برابر ہوں۔ یعنی ایسی صورت نہ کی جائے کہ اس اعلان و تنبیہ سے پہلے ان کے مقابلہ کی تیاری کرلی جائے اور وہ خالی الذہن ہونے کی بنا پر تیاری نہ کرسکیں بلکہ جو کچھ تیاری کرنا ہے وہ اس اعلان و تنبیہ کے بعد کریں(تفسیر معارف القرآن)۔

مسند احمد میں ہے کہ امیر معاویہ ؓکے لشکریوں نے روم کی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی کہ مدت صلح ختم ہوتے ہی ان پر اچانک حملہ کردیں تو ایک شیخ اپنی سواری پر سوار، یہ کہتے ہوئے آئے کہ وعدہ وفائی کرو، عذر درست نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ جب کسی قوم سے عہد و پیمان ہوجائیں تو نہ کوئی گرہ کھولو نہ باندھو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ جوئے یا انہیں اطلاع دے کر عہد نامہ چاک نہ ہوجائے۔ جب یہ بات حضرت معاویہ ؓکو پہنچی تو آپ نے اسی وقت فوج کو واپسی کا حکم دے دیا۔ یہ شیخ حضرت عمرو بن عنبسہ ؓتھے۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے ایک شہر کے قلعے کے پاس پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم مجھے بلاؤ میں تمہیں بلاؤں گا جیسے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انہیں بلاتے دیکھا ہے۔ پھر فرمایا میں بھی انہیں میں سے ایک شخص تھا پس مجھے اللہ عزوجل نے اسلام کی ہدایت کی اگر تم بھی مسلمان ہوجاؤ تو جو ہمارا حق ہے وہی تمہارا حق ہوگا اور جو ہم پر ہے تم پر بھی وہی ہوگا اور اگر تم اس نہیں مانتے تو ذلت کے ساتھ تمہیں جزیہ دینا ہوگا اسے بھی قبول نہ کرو تو ہم تمہیں ابھی سے مطلع کرتے ہیں جب کہ ہم تم برابری کی حالت میں ہیں اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں رکھتا۔ تین دن تک انہیں اسی طرح دعوت دی آخر چوتھے روز صبح ہی حملہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فتح دی اور مدد فرمائی(تفسیر ابنِ کثیر)۔

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں 1)جب بات کرے تو جھوٹی کرے 2)وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ مسلم کی روایت میں حدیث کے اتنے الفاظ زائد ہیں کہ خواہ وہ روزے رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویدار ہو(تفسیر مظہری بحوالہ آل عمران 76)۔

فرمایا:

يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ19 غافر

وہ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور ان چیزوں کو جنہیں سینے پوشیدہ رکھتے ہیں

وہ آنکھوں کی چوری یعنی خیانت و مکاری کے ساتھ دیکھنے کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو دلوں میں پوشیدہ ہیں(تفسیر ابن عباس)۔

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دو گناہوں کا ذکر فرمایا ہے آنکھوں کے گناہ کو اور دل کے گناہ کو اور یوں آنکھوں کے گناہ بہت سے گناہ ہیں لیکن یہاں ایک خاص گناہ کا ذکر ہے وہ کیا ہے بدنگاہی(تفسیر اشرف التفاسیر)۔

قیامت کے دن محاسبہ ہوگا نیکیوں کی جزا ملے گی اور برائیوں پر سزا یاب ہوں گے اعضائے ظاہرہ کے اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور سینوں میں جو چیزیں پوشیدہ ہیں برے عقیدے، بری نیتیں، برے جذبات، اللہ تعالیٰ ان سب سے بھی باخبر ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میرے باطن کا حال پوشیدہ ہے اس پر مواخذہ نہ ہوگا اعضاء ظاہرہ میں آنکھیں بھی ہیں بری جگہ نظر ڈالنا جہاں دیکھنے کی اجازت نہیں اور بد اعمالیوں میں آنکھوں کا استعمال کرنا یہ سب گناہ ہے آنکھوں کے اعمال میں سے ایک عمل خیانت بھی ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ آنکھوں کی خیانت کو اور دلوں میں پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے آنکھ کے گوشے سے نا محرم کو دیکھ لیا چپکے سے گناہ کی نظر کہیں ڈال لی آنکھ کے اشارہ سے کسی کی غیبت کردی یہ سب گناہ میں شمار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کو سب کا علم ہے(تفسیر انوار البیان)۔

(آیت)سے مراد ہے کہ ایک آدمی لوگوں میں موجود ہوتا ہے ان کے پاس سے ایک عورت گزرتی ہے وہ آدمی دوسرے لوگوں کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنی نظر کو اس عورت سے بندکررہا ہے۔ اور جب ان کو غافل پاتا ہے تو آنکھ کے گوشے سے اس کی طرف دیکھ لیتا ہے اور جب وہ لوگ اسے دیکھتے ہیں تو یہ اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کو جان چکے ہیں کہ وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی شرم گاہ کو دیکھے۔۔۔ ابوداؤد والنسائی وابن مردویہ (رح) نے سعد (رض) سے روایت کیا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب لوگوں کو امن دیا سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے اور فرمایا ان کو قتل کرو اگرچہ تم ان کو اس حال میں پاؤ کہ وہ کعبہ کے پروں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہوں ان میں سے عبد اللہ بن سعد بن ابی سرج تھے انہوں نے عثمان بن عفان (رض) کے پاس اپنے آپ کو چھپالیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی بیعت کے لئے بلایا تو وہ ان کو لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عبداللہ کو بیعت کرلیجئے آپ نے اپنا سرمبارک اٹھایا اس کی طرف تین مرتبہ دیکھا اور ہر مرتبہ اس کی بیعت سے انکار فرمایا پھر اپنے اصحاب (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم میں کوئی بھی ہدایت یافتہ نہیں تھا جو اس کی طرف کھڑا ہوجاتا جب وہ مجھ کو دیکھتا کہ میں نے اس کی بیعت لینے سے انکار کردیا ہے تو وہ اس کو قتل کردیتا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے نہیں جانا کہ آپ کے دل میں کیا ہے کیوں نہیں آپ ہماری طرف اپنی آنکھ سے اشارہ فرمادیتے آپ نے فرمایا کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو(تفسیر درمنثور)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ     10 التحریم

اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کا حال بیان فرمایا یہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں۔ سو ان دونوں نے خیانت کی پھر وہ اللہ کے مقابلہ میں ان عورتوں کے ذرا بھی کام نہ آسکے، اور حکم دیا گیا کہ تم دونوں دوسرے داخل ہونے والوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجاؤ۔

قول باری ہے (فخانتا ھما مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ یہ دونوں عورتیں منافق تھیں، خیانت کا یہ مفہوم نہیں کہ انہوں نے بدکاری کی تھی کیونکہ کسی نبی کی بیوی نے بدکاری نہیں کی۔حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ نوح دیوانے ہیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت تھی کہ وہ لوگوں کو گھر آنے والے مہمان کی اطلاع دے دیتی تھی(تفسیر احکام القرآن للجصاص)۔