التوابین اور المتطھرین

اللہ تعالیٰ کا توبہ کرنے والوں کا اور طھرت کرنے والوں کا پسند کرنا

التوابین  و المتطھرین

طہارت جسمانی اور طہارت قلبی اور قرآن پاک میں جہاں کہیں طہارت کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم دونوں قسم کی طہارت مراد ہے(تفسیر مفردات القرآن)۔

التواب یہ بھی اللہ تعالیٰ اور بندے دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ جب بندے کی صعنت ہو تو اس کے معنی کثرت سے توبہ کرنے والا کے ہوتے ہیں ۔ یعنی وہ شخص جو یکے بعد دیگرے گناہ چھوڑتے چھوڑتے بالکل گناہ کو ترک کردے اور جب تواب کا لفظ اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو ا س کے معنی ہوں گے وہ ذات جو کثرت سے بار بار بندوں کی تو بہ قبول فرماتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ [ البقرة/ 54] بیشک وہ بار بار توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَمَنْ تابَ وَعَمِلَ صالِحاً فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتاباً [ الفرقان/ 71] کے معنی یہ ہیں کہ گناہ ترک کرکے عمل صالح کا نام ہی مکمل توبہ ہے ۔ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتابِ [ الرعد/ 30] میں اس پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں (تفسیر مفردات القرآن)۔

چناچہ فرمایا:

ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ   222 البقرہ

، بیشک اللہ پسند فرماتا ہے خوب توبہ کرنے والوں کو، اور پسند فرماتا ہے خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو۔

پس اس آیت سے طہارت کی مطلق مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو طہارت کی صفت سے متصف ہو۔ اس لئے طملق طہارت صحت نماز، صحت طواف اور مصحف شریف کو چھونے کے لئے شرط ہے۔ یہ آیت کریمہ معنوی طہارت یعنی اخلاق رذیلہ، صفات قبیحہ اور افعال خسیسہ جیسی معنوی نجاستوں سے طہارت کو بھی شامل ہے(تفسیر السعدی)ـ

اس میں باطنی پاکیزگی اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے، یعنی گناہوں سے پاک ہونے کا طریقہ بتایا ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے حضور میں توبہ کرے، اور گناہوں کے سوا دوسری تمام گندی چیزوں سے بچنے کی تعلیم اور ترغیب کے لیے۔ (وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ ) (اور پسند فرماتا ہے خوب زیادہ پاکی اختیار کرنے والوں کو) فرمایا، اس میں ہر قسم کی ظاہری گندگیوں سے بچنے والوں کی مدح فرمائی ہے۔ جسم یا کپڑوں میں ناپاکی کا لگا رہنا حالت حیض میں جماع کرنا گندی جگہ پر شہوت پوری کرنا، ان سب چیزوں کی برائی اور ممانعت اس میں آگئی(تفسیر انوارالبیان)۔

معلوم ہوا کہ بدیہیات فطرت اللہ تعالیٰ کے اوامر میں شامل ہیں۔ عورتوں کے ساتھ مجامعت کا طریقہ انسان کو فطری طور پر معلوم ہے ،یہ ایک امر طبعی ہے۔ ہر حیوان کو بھی جبلی طور پر معلوم ہے کہ اسے اپنی مادّہ کے ساتھ کیسا تعلق قائم کرنا ہے۔ لیکن اگر انسان فطری طریقہ چھوڑ کر غیر فطری طریقہ اختیار کرے اور عورتوں کے ساتھ بھی قوم لوط والا عمل کرنے لگے تو یہ حرام ہے۔ صحیح راستہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فطرت میں ڈالا ہے(تفسیر بیان القرآن)۔

توابین اس سیاق میں وہ لوگ ہیں جن سے قوانین بالا کے باب میں کوئی اتفاقی خلاف ورزی ہوجائے، اور وہ بعد کو توبہ کریں، اور اپنی غلطی پر نادم ہوں۔ متطھرین اس سیاق میں وہ لوگ ہیں جو عورت کی مواصلت سے اس کی طبعی ناپاکی کے زمانہ میں محترز رہتے ہیں۔ اسی لفظ سے فقہا نے اشارۃ النص سے یہ استنباط کیا ہے کہ جو اعمال صریحا نجس ہیں (مثلا اغلام) وہ سب حرام ہیں، صفائی و طہارت کی یہ روح قرآنی عام ہے۔ اور اس کے تحت میں جسمانی اور ظاہری صفائی پوری طرح آجاتی ہے۔ اسلام کی اس لطافت پسندی، نظافت پسندی، طہارت پسندی کے مقابلہ میں، دوسرے سرے پر وہ مذاہب ہیں، جن میں قرب حق کا ذریعہ صفائی کو نہیں، عین جسمانی گندگی، کثافت وغلاظت کو قرار دیا گیا ہے۔ مشرک قوموں میں جو فرقے اگھورنیتی کے نام سے ہیں، ان کے تفصیلی ذکر سے تو ان صفحات کو نجس کرنے کی جرأت نہیں، خود مسیحیت کی تاریخ میں صدیوں تک راہبوں کے لیے غسل یا جسم کی شست وشو ایک مستقل معصیت رہی ہے(تفسیر ماجدی)۔

ایک اور جگہ فرمایا:

لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا  ۭ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا  ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ   108 التوبہ

آپ اس مسجد میں کبھی بھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہو وہ اس لائق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

اسی آیت میں آپ کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ آپ کا نماز پڑھنا اسی مسجد میں درست ہے جس کی بنیاد اول سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے، اور اس میں ایسے لوگ نماز پڑھتے ہیں جن کو پاکی اور طہارت میں پوری احتیاط محبوب ہے، اور اللہ بھی ایسے مطہرین کو پسند کرتا ہے(تفسیر معارف القرآن)۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی مسجد کی فضیلت کا اصل مدار تو اس پر ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے بنائی گئی ہو، اس میں کسی ریاء اور نام و نمود کا یا کسی اور غرض فاسد کا کوئی دخل نہ ہو، یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازیوں کے نیک صالح، عالم، عابد ہونے سے بھی مسجد کی فضیلت بڑھ جاتی ہے، جس مسجد کے نمازی عام طور پر علماء، تقوٰی شعار ہوں اس میں نماز ادا کرنے کی فضیلت زیادہ ہے(تفسیر معارف القرآن)۔

بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْااہل قبا کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے تو ان کی بابت یہ آیت نازل ہوئی۔ ترمذی کی بھی یہی روایت ہے(تفسیر مظہری)۔

اللہ خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اس میں یہ بتادیا کہ جو شخص بھی نا پاکیوں سے بچنے اور ان سے دور رہے اور نا پاکی کی لگ جائے تو اس کے دھونے کا اہتمام کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا جب ظاہری نا پاکی سے بچنے پر اللہ تعالیٰ کی محبوبیت حاصل ہوتی ہے تو گناہوں سے بچنا تو اور زیادہ محبوبیت کا ذریعہ بنے گا کیونکہ باطنی نا پاکی زیادہ گندی ہے اس پر غور کرلیا جائے۔ اس بات کے پیش نظر حضرت ابو العالیہ نے فرمایا کہ پانی سے طہارت حاصل کرنا تو بلاشبہ اچھی بات ہے لیکن آیت میں گناہوں سے پاک ہونے والوں کو اللہ کا محبوب بتایا ہے۔ درحقیقت الفاظ کا عموم ہر طرح کی تطہیر کو شامل ہے، اور گناہوں سے پاک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہے اور ظاہری نا پاکیوں سے پاک ہونا بھی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے(تفسیر انوار البیان)۔

حضور سرور عالم ﷺنے اہلِ قبا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نظافت اور پاکیزگی کی تعریف کی ہے، تم میں کونسی خصوصیت ہے ؟ انہوں نے عرض کی کہ ہم قضاء حاحت کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ یہ ان کی نظافت طبعی کی دلیل ہے۔ جب وہ اس معاملہ میں اتنے محتاط ہیں تو ان کے بدن اور لباس کی صفائی کے بارے میں آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جسمانی صفائی اور نظافت کا خیال رکھتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل تعریف ہے۔ اثنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ فی ھذہ الایۃ علی من احب الطہارۃ وآثر النظافۃ وہی مرو وۃ آدمیۃ ووظیفۃ شرعیۃ (قرطبی) یعنی ظاہری نظافت انسانی مروت کا تقاضا بھی ہے اور شریعت کا حکم بھی۔ اور جو شخص صاف ستھرا رہتا ہے وہ اللہ کے نزدیک قابل تعریف ہے۔ معلوم نہیں ہم مسلمانوں نے گندا رہنے کو کیوں اختیار کر رکھا ہے۔ ہمارے منہ سے بدبو، ہمارا جسم میلا کچیلا، ہمارا لباس غلیظ، ہماری بستیاں، محلے، گلی کوچے بلکہ گھر کے صحن اور سونے کے کمرے بھی بدبودار اور عفونت کا گڑھ ! کیا ہم وہ لوگ ہیں جن کے آباو اجداد کی یحبون ان یتطھروا کے شاندار الفاظ سے تحسین و آفرین کی گئی ہے (تفسیر ضیاءالقرآن)۔