مدرسے کے پیسے آگر گم ہو جائیں یا چوری ہو جائیں

مدرسے کی رقم باوجود حفاظت کے آگر گم ہو جائے یا چوری ہو جائے

فرمایا مولوی محمد منیر صاحب  مدرسہ دیوبند کے مہتمم بھی رہے ہیں ایک مرتبی مدرسہ کی روئیداد چبانے کے لئے دہلی گئے راستہ مینڈیڑھ سو روپیہ کے نوٹ گم ہو گئے تو مدرسہ کے سب اراکین نے کہا کہ چونکہ امانت تھی اس لئے مدرسہ تاوان نہیں لے سکتا۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں دوں گا اس میں مولوی صاحب اور اراکین میہں اختلاف ہوا آخر فیصلہ یہ ہوا کہ حضرت مولانا گنگوہی کو لکھا جائے جو وہ فیصلہ کریں اس پر عمل کیا جائے۔ چنانچہ لکھا گیا مولانا نے جواب تحریر فرمایا کہ مولوی صاحب پر ضمان نہیں ہے، مولوی محمد منیر صاحب اس پر بہت متغیر ہوئے اور اکہا کہ مولانا رشید احمد صاحب نے یہ ساری فقہ میرے ہی واسطے پڑھی تھی میں تو تب جانوں کہ اگر یہ روپیہ ان سے ضائع ہو جاتا تو اپنی چھاتی پر ہاتھ رک کر دیکھ لیں کہ وہ کیا کرتے مدرسہ میں داخل کرتے یا نہ کرتے، یقینا کرتے پھر مجھ کو کیوں روکتے ہیں؟ تحفتہ العلماء ص 273