قرآن کی عظمت، فضائل اور آداب وغیرہ

قرآن کے فضائل، عظمت اور آدابِ تلاوت وغیرہ

قرآن کی عظمت  اور فضائلِ قرآن

 قرآن مجید میں اس کا بعض (حصہ) بعض کو نہیں جھٹلاتا اور نہ اس کا بعض (حصہ) بعض کی تکذیب کرتا ہے جو لوگ اس کے حکم سے ناواقف ہوتے ہیں تو یہ ان کے عقلوں کی کوتاہی اور ان کی جہالت ۔۔ مومن پر یہ حق ہے کہ وہ یوں کہے ہر ایک (حکم) اللہ کی طرف سے ہے اور وہ ایمان لائے متشابہ آیات پر اور بعض آیات کو بعض کے ساتھ نہ ٹکرائے جب وہ کسی حکم سے جاہل ہو اور اس کو نہ جانتا ہو تو یوں کہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا حق ہے اور یہ پہچان لے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بات نہیں فرمائی کہ جس میں کوئی نقص ہو اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کی حقیقت پر ایمان لائے جو اللہ کی طرف سے آئی(تفسیر درمنثور النساء-82)۔

فرمایا:

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ  ۭوَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا[1]

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح وبلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے پاک ہے اس لئے کہ حکم وحمید اللہ کا کلام ہے وہ خود حق ہے اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے۔۔ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہ ہوتا جیسے کہ مشرکین اور منافقین کا زعم ہے یہ اگر یہ فی الحقیقت کسی کا اپنی طرف سے وضع کیا ہوا ہوتا یا کوئی اور اس کا کہنے والا ہوتا تو ضروری بات تھی کہ اس میں انسانی طبائع کے مطابق اختلاف ملتا، یعنی ناممکن ہے کہ انسانی اضطراب و تضاد سے مبرا ہو لازماً یہ ہوتا کہ کہیں کچھ کہا جاتا اور کہیں کچھ اور یہاں ایک بات کہی تو آگے جا کر اس کے خلاف بھی کہہ گئے۔حضرت عبداللہ بن عمرو(رض

  فرماتے ہیں کہ میں دوپہر کے وقت حاضر حضورﷺ ہوا تو بیٹھا ہی تھا کہ ایک آیت کے بارے میں دو شخصوں کے درمیان اختلاف ہوا ان کی آوازیں اونچی ہوئیں تو آپﷺ نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا باعث صرف ان کا کتاب اللہ کا اختلاف کرنا ہی تھا ۔ (تفسیر ابنِ کثیر النساء-82)۔ مخلوق ہر حال میں اس حال کے موافق بولتی ہے غصے میں مہربانی والوں کی طرف دھیان نہیں رہتا اور مہربانی میں غصے والوں کی طرف، دنیا کے بیان میں آخرت یاد نہ آوے اور آخرت کے بیان میں دنیا، بےپروائی میں عنایت کا ذکر نہیں اور عنایت میں بےپروائی کا تو۔ اس حال کا کلام سنے دوسرے حال سے مخالف نظر آوے اور قرآن شریف جو خالق کا کلام ہے یہاں ہر چیز کے بیان میں دوسری جانب بھی نظر ہوتی ہے غور کرنے سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کا بیان ہر مقام میں ایک راہ پر ہے (تفسیر موضح القرآن النساء-82)۔

۔

فرمایا:

فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ[2]

جن میں مستحکم (آیتیں) لکھی ہوئی ہیں

فرمایا:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا[3]

سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی ٹیڑھ اور پیچیدگی نہ رکھی۔

یہ کتاب سیدھی اور حکمت کو بیان کرنے والی ہے اس میں کوئی خطا نہیں، نہ اس میں فساد اور نہ کوئی تناقض ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : قیما یعنی یہ ہمیشہ دلائل کے ساتھ درست قرار دینے والی ہے۔ عوجا ۔یعنی دین، رائے، حکم، اور طریق (انداز) میں پائی جانے والی کجی(ٹیڑھ) کو کہا جاتا ہے۔ اور قرآن کریم میں کوئی عوج یعنی عیب نہیں ہے، یعنی اس میں کوئی تناقض اور اختلاف نہیں ہے۔لینذر باسا شدیدًا یعنی تاکہ محمد (ﷺ) یا قرآن کریم ڈرائے سخت گرفت سے(تفسیر قرطبی

 الکھف-1 )صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ(رض) سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺنے سب انبیاء کی نبوت کی مثال ایک عالیشان خوبصورت مکان کی بیان کر کے یہ فرمایا ہے کہ اس مکان میں ایک آخری اینٹ کی کسر تھی جو کسر میرے نبی ہونے کے بعد پوری ہوگئی ۔ قرآن کو قیما جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف ایسا ٹھیک اتارا جس سے نبوت کا عالیشان محل ٹھیک ہوگیا(تفسیر احسن التفسیر الکھف-1)۔

 چنانچہ فرماتے ہیں سب حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے جس نے اپنے خاص بندے محمد ﷺ پر یہ کتاب قرآن کریم اتاری اور ذرہ برابر اس میں کسی قسم کی کجی(ٹیڑھ) نہ رکھی۔ نہ لفظوں کے اعتبار سے اس میں کوئی خلل ہے۔ اور نہ معانی کے اعتبار سے اس میں کوئی کمی ہے یہ کتاب تو اللہ تعالیٰ نے ظاہر و باطن کی کجی(ٹیڑھ) دور کرنے کے لئے نازل کی اس کتاب میں کوئی بھی عیب اور کجی(ٹیڑھ) نہیں اور جو اس میں عیب نکالے سو وہ اس کی عقل کا فتور اور قصور ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو ٹھیک اتاراراستی اور استقامت کے ساتھ موصوف ہے۔ خود راست اور درست ہے اور دوسروں کو راہ راست پر لے جانے والی ہے ایسی کتاب میں تو کجی(ٹیڑھ) کا امکان ہی نہیں (تفسیر معارف القرآن کاندہلوی صاحب الکھف-1)

فرمایا:

وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ   [4]

اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایان ہے یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پراز حکمت) ہے

وہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ہے جس سے جن و انس کو وعظ کیا جاتا ہے۔ وہ قرآن ایک آسمانی کتاب ہے جو محرابوں میں پڑھی جاتی ہے اور عبادت خانوں میں تلاوت کی جاتی ہے اور اس کی تلاوت پر عمل سے دونوں جہان کی کامیابی میسر آتی ہے۔ اس کے اور شعر کے درمیان کتنا بڑا فاصلہ ہے۔ شعر تو شیاطین کے وساوس کا ملغوبہ ہے(تفسیر مدارک التنزیل  یس -69)۔ کفار قریش کو آپ ﷺ کی دعوت رد کرنے کے لئے کوئی اور بہانہ نہ ملتا تو آپ ﷺ کی باتوں کو شاعرانہ تخیلات قرار دے کر بےوقعت ٹھہرانے کی کوشش کرتے۔ ان کے جواب میں فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نبوت و رسالت کے جس منصب پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیال بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے اور نبی ﷺ کی شان ان چیزوں سے بلند و بالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبد المطلب سے ہونے کے جس کا ہر فرد فطرۃً شاعر ہوتا، پوری عمر میں کوئی شعر نہیں کہا۔ یوں رجز وغیرہ کے موقع پر زبان مبارک سے کبھی کوئی مقضیٰ عبارت ایسی نکل گئی جو شعر کا ساوزن رکھتی تھی تو وہ الگ بات ہے اسے شعر یا شاعری نہیں کہا جاسکتا۔ آپ ﷺ خود تو کیا شعر کہتے کوئی دوسرے شاعر کا کوئی شعر یا مصرع تک اس کے ٹھیک وزن پر ادا نہ کر پاتے تھے۔ کئی  موقعوں پر ایسا ہوا کہ آپ ﷺ نے کسی شاعر کا شعر یا مصرع اس کا وزن توڑ کر پڑھا اورحضرت
ابوبکر اور حضرت عمر (رض) نےتوجہ دلانے کے لئے اس کا وزن درست کرتے ہوئے پڑھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ( انی واللہ ما انا یشاعر وما ینبغی لی) اللہ کی قسم میں شاعر نہیں ہوں اور نہ شاعری میرے شایان شان ہے(تفسیر الحواشی یس -69)۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا   (و الشعراء يتبعهم الغاون۔ الم تر انهم في کل واد يهيمون۔ و انهم يقولون ما لا يفعلون۔ الشعراء-224-226) یعنی” اور شاعروں کے پیچھے گمراہ لوگ چلا کرتے ہیں۔ کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارتے پھرتے ہیں۔ اور زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں” ۔

حضرت علی (رض)سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبریل ؑتشریف لائے اور فرمایا اے محمد ﷺبیشک آپ کے بعد آپﷺ کی امت میں اختلاف پڑجائے گا۔ پھر میں نے کہا اے جبریل ؑاس کے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی کتاب ! اسی کے ذریعہ ہر جابر کو توڑا جاسکتا ہے اور جس نے اس کو مضبوطی سے پکڑا وہ نجات پا گیا اور جس نے اس کو چھوڑدیا وہ ہلاک ہوا یہ قرآن فیصلہ کرنے والی بات ہے حق اور باطل کے درمیان یہ کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے(تفسیر در منثور-الطارق-14)۔

 

فرمایا:

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ   [5]

کہ یہ کلام (حق کو باطل سے) جدا کرنے والا ہے۔

فرمایا:

وَّمَا هُوَ بِالْهَزْلِ  [6]

اور یہ ہنسی مذاق نہیں ہے

یعنی قرآن اور جو کچھ وہ معاد کے متعلق بیان کرتا ہے، کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں۔ بلکہ حق و باطل اور صدق و کذب کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ اور لاریب وہ سچا کلام اور ایک طے شدہ معاملہ کی خبر دینے والا ہے جو یقینا پیش آکر رہے گا (تفسیر عثمانی الطارق-14)۔ جس طرح قرآن اپنی دلالت سے واقعات وغیرہ  میں فیصلہ کردینے والا ہے اسی طرح اپنی صفت اعجاز سے ان دو احتمالوں کا بھی کہ یہ منجانب اللہ ہے یا  فیصلہ کردینے والا ہے اور منجانب اللہ ہونے کی شق کو متعین کردینے والا ہے(تفسیر بیان القرآن الطارق-14)۔

فرمایا:

لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ۭتَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ    [7]

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اتاری ہوئی ہے

باطل سے مراد شیطان ہے ‘ شیطان قرآن میں کوئی کمی بیشی یا تبدیل تغییر نہیں کرسکتا۔ شیطان انس ہو یا جن ‘ سب ہی کو لفظ باطل حاوی ہے ۔ آگے سے باطل نہ آ سکنے کا معنی ہے کمی نہ ہونا اور پیچھے سے باطل نہ آنے کا معنی ہے زیادتی نہ ہونا ‘ اس تفسیر پر باطل سے مراد ہوگی کمی بیشی۔ مقاتل نے یہ مطلب بیان کیا کہ کتب سابقہ سے اس قرآن کی تکذیب نہیں ہوتی ‘ نہ اس کے بعد کوئی ایسی کتاب آئے گی جو قرآن کو باطل اور منسوخ کر دے(تفسیر مظہری فصلت-42)۔

حضرت ابن عباس(رض)  فرماتے ہیں کہ نبی ﷺبھول جانے کے اندیشے سے قرآن یاد کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ فکر مند نہ ہوں۔ آپ کو قرآن یاد رکھوانا ہمارا ذمہ ہے۔

فرمایا:

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى[8]

ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہیں بھولیں گے

اے محمد ﷺ ہم نے بذریعہ جبریل امینؑ قرآن کریم کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں کہ شیاطین میں سے کوئی بھی اس قرآن کریم میں کمی زیادتی نہیں کرسکتا اور نہ اس کے حکم میں کوئی تبدیلی کرسکتا ہے یا یہ کہ ہم کفار اور شیاطین سے رسول اکرم ﷺ کے محافظ ہیں (تفسیر ابنِ عباس الحجر-9)۔

فرمایا:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ[9]

بیشک یہ (کتاب) نصیحت ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

فرمایا:

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ   [10]

اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟

اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ و قرات اور کتابت کے لیے یا یہ کہ قرات کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی علم قرآنی کا طالب ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے(تفسیر ابن ِعباس القمر-17)۔ قرآن نصیحت اندوزی کے لئے آسان ہے لہٰذا اس سے اجتہاد واستنباط کا آسان ہونا لازم نہیں آتا بلکہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ اس کام کے لئے متعلقہ علوم میں پوری مہارت شرط ہے (تفسیر معارف القرآن الزخرف-2)۔

فرمایا:

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ  [11]

کہ بیشک یہ (قرآن) فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

فرمایا:

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ    [12]

اس کو امانتدار فرشتہ لیکر اترا ہے

فرمایا:

وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ  [13]

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

فرمایا:

وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ    [14]

اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے

فرمایا:

اَوَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰۗؤُا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ   [15]

کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں؟

فرمایا:

وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَرٰي مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ[16]

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

یہ بےمثل قرآن بےمثل اللہ کی طرف سے ہے۔ اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی وجاہت و حلاوت، اس کے معنوں کی بلندی، اس کے مضامین کی عمدگی بالکل بےنظیر چیز ہے۔ اور یہی دلیل ہے اس کی کہ یہ قرآن اس اللہ کی طرف سے ہے جس کی ذات بےمثل صفتیں بےمثل، جس کے اقوال بےمثل، جس کے افعال بےمثل، جس کا کلام اس چیز سے عالی اور بلند کہ مخلوق کا کلام اس کے مشابہ ہو سکے۔ یہ کلام تو رب العالمین کا ہی کلام ہے، نہ کوئی اور اسے بنا سکے، نہ یہ کسی اور کا بنایا ہوا۔ یہ تو سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، ان پر نگہبانی کرتا ہے، ان کا اظہار کرتا ہے، ان میں جو تحریف تبدیل تاویل ہوئی ہے اسے بےحجاب کرتا ہے، حلال و حرام جائز و ناجائز غرض کل امور شرع کا شافی اور پورا بیان فرماتا ہے۔ پس اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ حضرت علی (رض)سے مروی ہے کہ اس میں اگلی خبریں ہیں اس میں آنے والی پیش گوئیاں ہیں اور آنے والی خبریں ہیں۔ سب جھگڑوں کے فیصلے ہیں سب احکام کے حکم ہیں۔ اگر تمہیں اس کے کلام اللہ ہونے میں شک ہے تو اسے گھڑا ہوا سمجھتے ہو اور کہتے ہو کہ محمد ﷺ نے اپنی طرف سے کہہ لیا ہے تو جاؤ تم سب مل کر ایک ہی سورة اس جیسی بنا لاؤ اور کل انسان اور جنوں سے مدد بھی لے لو (تفسیر ابنِ کثیر یونس-37)۔

فرمایا:

قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا[17]

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لا سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔

فرمایا:

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ  ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ        [18]

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کو ازخود بنا لیا۔ کہہ دو تم ایسی دس سورتیں تو بنا کرلے آؤ اور اللہ کے سوا جس سے چاہو مدد بھی لے لو۔ اگر تم سچے ہو۔

فرمایا:

فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ[19]

اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ (قرآن)خدا کے علم سے اترا ہے

فرمایا:

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ  لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ  ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ   [20]

اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لائے ۔تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ تے۔ پھر ان کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

اس آیت میں مقام نبوت کی نازک اور گراں ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ یعنی جس کی نبوت کو ہم معجزات اور دلائل سے ثابت کردیں، وہ ہرگز ہرگز اپنے رب کے کلام میں اپنی طرف سے کوئی ملاوٹ نہیں کرتا۔ بفرض محال اگر وہ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردے تو یہ کوئی معمولی سا جرم نہیں جس کا نوٹس نہ لیا جائے یا جس سے اغماض برتا جائے، بلکہ یہ تو اتنا بڑا گناہ اور سنگین جرم ہے کہ اگر اسے گوارا کرلیا جائے تو سلسلۂ نبوت کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔ کسی کو نبی کی بات پر وثواق اور اعتماد ہی نہیں رہے گا۔ اس لیے بفرض محال اگر ہمارا کوئی فرستادہ ایسی حرکت کرے، تو ادنی توقف کے بغیر ہمارے انتقام کی تلوار بےنیام ہوجائے گی اور آن واحد میں اس کی رگ دل کاٹ کر رکھ دی جائے گی تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی خدا کا بھیجا ہوا نبی بھی ایسی قبیح حرکت کرے تو عذاب الٰہی ایک لمحہ بھی اسے مہلت نہیں دیتا، فوراً اسے فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے(تفسیر دعوت القرآن الحاقۃ-46)۔ اس اسلوب اور لہجے میں جو سختی ہے یہ دراصل ان لوگوں کے لیے ہے جو قرآن کو کلام اللہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے اور کہتے تھے کہ محمد ﷺ خود اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ بدبختو ! تم ہمارے رسول کریم ﷺ کے مرتبے کو کیا سمجھو ! کسی رسول کا یہ مقام نہیں ہے کہ وہ اپنے رب کے کلام میں اپنی طرف سے کوئی ملاوٹ کرے۔ وہ تم لوگوں تک ٹھیک ٹھیک وہی کچھ پہنچا رہے ہیں جو ہمارا کلام ہے۔ بفرضِ محال اگر وہ اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیں تو یہ کوئی معمولی سا جرم نہیں ہے جس کا نوٹس نہ لیا جائے (تفسیر بیان القرآن الحاقۃ-46)۔

فرمایا:

وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ    ۠   وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ[21]

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد عربی ﷺ) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اس طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

جب تو اس (قرآن)کی قرأت میں شروع ہو تو اللہ تعالیٰ سے اس بارے پناہ طلب کر کہ شیطان تیرے لئے ظاہر ہو اور وہ تجھے اس میں غوروفکر کرنے سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے مطابق عمل کرنے سے روکے(تفسیر قرطبی النحل-98)۔

فرمایا:

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ[22]

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

 صحیح مسلم میں عثمان بن ابی العاص(رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی کہ نماز اور تلاوت قرآن کے وقت شیطان ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈال کر پریشان کرتا ہے نہ دل لگا کر نماز پڑھنے دیتا ہے نہ قرآن کی تلاوت کرنے دیتا ہے آپ ﷺنے فرمایا نماز اور تلاوت قرآن سے پہلے آعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ لیا کرو۔ عثمان بن ابی العاص(رض) فرماتے ہیں اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کے کہہ لینے سے پھر نماز اور تلاوت قرآن کے وقت میری وہ شکایت جاتی رہی(تفسیر احسن التفاسیر النحل-98)۔

فرمایا:

وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ[23]

اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

ان آیات میں قرآن مجید سننے کا حکم فرمایا ہے اور بعض احکام و آداب ارشاد فرمائے ہیں۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے دھیان سے سنو اور خاموش رہو، اول تو قرآن پڑھنے والے کو چاہئے کہ قرآن پڑھنے میں اس کا خیال رکھے کہ جن کانوں میں آواز پہنچ رہی ہے وہ لوگ کام کاج اور نیند میں تو مشغول نہیں ہیں۔ اگر لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہوں یا سو رہے ہوں تو اونچی آواز سے تلاوت نہ کرے کیونکہ کام میں لگے ہوئے لوگ قرآن مجید کی طرف توجہ نہیں کرسکتے۔ پڑھنے والے پر لازم ہے کہ ایسی صورت حال پیدا نہ کرے کہ حاضرین کے کانوں میں قرآن مجید کی آواز آرہی ہو اور کام کاج میں مشغولیت کی وجہ سے قرآن مجید سننے کی طرف توجہ نہ کرسکیں۔ قاری جب یہ دیکھے کہ توجہ سے سننے والے موجود ہیں تو زور کی آواز سے تلاوت کرے، جو لوگ مشغول نہیں ہیں ان پر لازم ہے کہ خاموش رہیں اور دھیان لگا کرسنیں اگرچہ سمجھتے بھی نہ ہوں۔ قرآن پڑھا جا رہا ہو اور باتیں کر رہے ہیں یہ قرآن مجید کی بےادبی ہے ۔یہ حکم کہ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو خاموش رہو اور دھیان سے سنو نماز اور خارج نماز دونوں کو شامل ہے جو لوگ امام کے پیچھے نماز میں کھڑے ہوں ان کے لیے تو غافل ہونے کا موقع ہی نہیں ہے۔ کارو بار اور دکان چھوڑ کر آتے ہیں مسجد میں موجود ہیں اور جب تک نماز میں ہیں دنیا کا کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ پھر بھی امام کی قرأت کی طرف متوجہ نہ ہوں تو یہ سخت محرومی کی بات ہے۔آیت کے ختم پر جو (لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ قرآن کے آداب بجا لائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوں گے اس سے بات کا دوسرا رخ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کی بےحرمتی اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب اور اس کی گرفت کا سبب ہے(تفسیر انوارالبیان الاعراف-204)۔ یہ حکم تو مسلمانوں کے لئے ہےاور کفار کا رویہ  بلکل الٹا تھا۔

فرمایا:

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ    [24]

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

کفار مکہ جب قرآن کے مقابلہ سے عاجز ہوگئے، اور اس کے خلاف ان کی ساری تدبیریں ناکام ہوگئیں تو انہوں نے یہ حرکت شروع کی، حضرت ابن عباس  (رض)نے فرمایا کہ ابو جہل نے لوگوں کو اس پر آمادہ کیا کہ جب محمد (ﷺ) قرآن پڑھا کریں تو تم ان کے سامنے خوب چیخ پکار اور شور وغل کیا کرو تاکہ لوگوں کو پتہ ہی نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بعض نے کہا سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرو اور بیچ بیچ میں طرح طرح کی آوازیں نکالا کرو۔ قرآن کی تلاوت کے وقت خاموش رہ کر سننا واجب، ایمان کی علامت اور عبادت ہے، اور خاموش نہ رہنا کفار کی عادت ہے(تفسیر جلالین  فصلت-26)۔

رسول اللہ ﷺ جب مشرکین قریش کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور ان کو کتاب اللہ کی طرف بلاتے تو وہ کہتے کہ یہ ہمیں مائل کرنا چاہتے ہیں جس کی طرف یہ ہمیں بلا رہے ہیں اس سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ حائل ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں ان ہی کے اقوال روایت کردیے ہیں (تفسیر ابنِ عباس بنی اسرائیل-45)۔

فرمایا:

وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔ وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا  ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا [25]

اور جب تم قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کردیتے ہیں۔ اور ہم ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ اسے سمجھتے نہیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر کرتے ہو تو یہ لوگ نفرت کے عالم میں پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

سورةلھب کے اترنے پر عورت ام جمیل شور مچاتی دھاری دار پتھر ہاتھ میں لئے یہ کہتی ہوئی آئی کہ اس کو ہم ماننے والے نہیں ہمیں اس کا دین ناپسند ہے، ہم اس کے فرمان کے مخالف ہیں۔ اس وقت رسول الکریمﷺ بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوبکر (رض) آپ ﷺ کے پاس تھے، کہنے لگے، حضور ﷺ یہ آ رہی ہے اور آپ ﷺکو دیکھ لے گی۔ آپ ﷺنے فرمایا بےفکر رہو یہ مجھے نہیں دیکھ سکتی اور آپﷺ نے اس سے بچنے کے لئے تلاوت قرآن شروع کردی۔ یہی آیت تلاوت فرمائی وہ آئی اور حضرت صدیق اکبر  (رض)سے پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہےکہ تمہارے نبیﷺ نے میری ہجو کی ہے، آپ (رض) نے فرمایا، نہیں، رب کعبہ کی قسم تیری ہجو حضورﷺنے نہیں کی، وہ یہ کہتی ہوئی لوٹی کہ تمام قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی لڑکی ہوں۔ اکنہ کنان کی جمع ہے اس پردے نے ان کے دلوں کو ڈھک رکھا ہے جس سے یہ قرآن سمجھ نہیں سکتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے، جس سے وہ قرآن اس طرح سن نہیں سکتے کہ انہیں فائدہ پہنچے اور جب تو قرآن میں اللہ کی وحدانیت کا ذکر پڑھتا ہے تو یہ بےطرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں(تفسیر ابن کثیر بنی اسرائیل-45)۔

قرآن کی تلاوت کا خصوصی اہتمام ہونا چاہئے چانچہ

فرمایا:

وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ ڝ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ڟ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا[26]

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو اسکی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

فرمایا:

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ۭ[27]

(اے محمدﷺ سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشاء کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔

فرمایا:

وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا[28]

اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو یہ شب خیزی) تمہارے لئے (سبب) زیادت (ثواب) ہے اور قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے۔

ہر وہ آدمی جس کی پہچان علم کے ساتھ ہے اور اس نے اس سے کچھ حاصل کیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس مرتبہ پر فائز ہو، اور وہ قرآن کریم کے سماع کے وقت خشوع، تواضع اور عاجزی کا اظہار کرے(تفسیر قرطبی بنی اسرائیل-109)۔

فرمایا:

وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا (آیتِ سجدہ)[29]

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس(قرآن) سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

دو (قسم کی) آنکھوں کو دوزخ کی آگ کا پا لینا حرام کردیا گیا ہے (ایک) وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی ،(دوسری) وہ آنکھ جو رات بھر (بیدار رہ کر) اسلام اور اہل اسلام کی کافروں سے حفاظت کرتی رہی(تفسیر مظہری بنی اسرائیل-109)۔ جو لوگ فیوض قرآن سے مستفید ہونے کے لئے اپنے دلوں کو کھول دیتے ہیں ، جو قرآن مجید کی حقیقت ، اس کی قدر و قیمت اور اس کی تعلیمات کو جانتے ہیں اور جو لوگ قرآن سے قبل کتب الہیہ کے علوم سے واقف ہوتے ہیں ایسے لوگ قرآن کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، اس لئے کہ حقیقی علم وہی ہے جو کتب سماوی نے دیا ہے اور جو اللہ کی طرف سے آیا ہے(تفسیر فی ظلال القرآن بنی اسرائیل-109)۔ یہ سجدہ میں گرنا یا بطور شکر کے ہے کہ وعدہ مندرجہ کتب سابقہ پورار ہوا، یا تعظیم و اجلال کے لئے کہ قرآن سن کر ہیبت طاری ہوتی ہے یا مجازا کنایہ ہی کمال انقیاد و خشوع سے۔ اور سجدہ چہرے کے بل ہوتا ہے مگر ٹھوڑی کے بل کہنا مبالغہ کے لئے ہے کہ اپنے چہرے کو زمین اور خاک سے اس قدر لگائے دیتے ہیں کہ ٹھوڑی لگنے کے قریب ہوجاتی ہے(تفسیر بیان القرآن بنی اسرائیل -109)۔

فرمایا:

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا [30]

ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمینوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اٹھا لیا بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا

حضرت ابن عباس (رض) کا بیان ہے کہ امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔ اسے حضرت آدم ؑ پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری تعالی نے اسے اب حضرت آدمؑ پر پیش کیا کہ یہ سب تو انکار کر رہے ہیں۔ تم کہو آپؑ نے پوچھا اللہ اس میں بات کیا ہے ؟ فرمایا اگر بجا لاؤ گے ثواب پاؤ گے اور برائی کی سزا پاؤ گے۔ آپؑ نے فرمایا میں تیار ہوں۔ آپ (ابن عباس ِِِِِِِِِِِِِ)سے یہ بھی مروی ہے کہ امانت سے مراد فرائض ہیں دوسروں پر جو پیش کیا تھا یہ بطور حکم کے نہ تھا بلکہ جواب طلب کیا تھا تو ان کا انکار اور اظہار مجبوری گناہ نہ تھا بلکہ اس میں ایک قسم کی تعظیم تھی کہ باوجود پوری طاقت کے اللہ کے خوف سے تھرا اٹھے کہ کہیں پوری ادائیگی نہ ہوسکے اور مارے نہ جائیں۔ لیکن انسان جو کہ بھولا تھا اس نے اس بار امانت کو خوشی خوشی اٹھالیا۔ (تفسیر ابن ِ کثیر الاحزاب-72)۔

قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول آنحضرت محمد مصطفیٰﷺاپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے۔۔  نہ اس پر ایمان لاتے تھے، نہ اسے سچا جانتے تھے نہ اس پر غورو فکر کرتے تھے، نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے نہ اس پر عمل تھا، نہ اس کے احکام کو بجا لاتے تھے، نہ اس کے منع کردہ کاموں سے رکتے تھے بلکہ اسکے سوا اور کلاموں سے دلچسپی لیتے تھے اور ان پر عامل تھے، یہی اسے چھوڑ دینا تھا(تفسیر ابنِ کثیر الفرقان-30)۔

فرمایا:

وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا    [31]

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

فرمایا:

بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ    [32]

(یہ کتاب جھٹلانے کی چیز نہیں) بلکہ یہ قرآن عظیم الشان ہے

یہاں کلام الہی کے تین صفات کا ذکر ہے قرآن مجید ہونا، لوح محفوظ میں ہونا۔ قرآن کے معنی ہیں ملانے والا۔ یعنی بندوں کو رب سے، امتی کو نبی سے، بندوں کو بندوں سے، زندوں کو مردوں سے ملانے والا ہے، کہ قرآن کریم نے عالمگیر برادری پیدا فرما دی۔ یا قرآن کے معنی ہیں ملنے والا، یہ پیارا، زندگی، موت قبر، حشر میں مسلمان کے ساتھ رہتا ہے سب چھوٹ جائیں مگر یہ نہ چھوٹے، مجید کے معنی ہیں عزت والا کہ خود ایسا عظمت والا کہ بغیر غسل اس کا پڑھنا حرام، بغیر وضو اس کا چھونا منع اس کی طرف پیٹھ، جوتے کرنا منع ہے اور دوسروں کو ایسی عزت دیتا ہے کہ کہ لانے والا فرشتہ سب فرشتوں سے افضل، جس مہینے میں آیا، جس رات میں نازل ہوا۔ جس جگہ آیا وہ ماہ یعنی رمضان، شب قدر ، عرب شریف سب سے افضل ہیں، جس عربی زبان میں آیا وہ تمام زبانوں سے افضل، جس نبی پر آیا وہ تمام رسولوں کا سردار، جس دماغ اور سینے میں رہے، وہ تمام سینوں اور زبانوں سے افضل(تفسیر نور العرفان البروج-21)۔

یہ قطعی بات ہے کہ قرآن (اور اسلام) سے جڑنے والے عظمت پر ہیں

فرمایا:

وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ[33]

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ( ان سے) سلام علیکم کہا کرو

پیغمبرﷺ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہمارے آیتوں پر تو آپ(  دلجوئی اور طیب خاطر کے لیے ) ان سے یوں کہیں کہ سلام ہو تم پر۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان نعمت ہے یہ ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی نعمت، جس کی بنا پر اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ  اپنے پیغمبرﷺ کو ان بندگان صدق و صفا کے ساتھ ملاطفت کی اس طرح تعلیم فرما رہا ہیں ۔سو ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت دنیا جہاں کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دنیا کی دوسری تمام دولتیں اور نعمتیں ہیچ ہیں۔ ۔ کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کے ساتھ لطف و کرم اور اکرام و عنایت کا برتاؤ کریں۔ اور سلامتی و رحمت کی دعا کے ساتھ ان کا خیر مقدم کریں۔ اور ان کو یہ خوشخبری سنائیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے ضرور نوازیگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ(تفسیر مدنی کبیر  الانعام-54)۔

فرمایا:

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِيْٓ اُوْحِيَ اِلَيْكَ ۚ اِنَّكَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ     [34]

پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

اور بلاشبہ یہ قرآن آپ ﷺکیلئے اور آپﷺ کی قوم یعنی قریش کے لئے عظیم الشان شرف ہے یعنی یہ قرآن عزت (کا باعث) ہے آپﷺ کے لئے اور آپﷺ کی قوم کے لئے(درمنثور الزخرف-44)۔ آپﷺ قرآن حکیم کے ہر حکم کی تعمیل کیجیے بیشک آپ ﷺپسندیدہ طریقہ پر ہیں اور یہ قران حکیم آپ ﷺکے لیے اور آپ ﷺکی قوم کے لیے بڑی عزت کی بات ہے کیونکہ ان کی زبان میں نازل ہوا ہے(تفسیر ابنِ عباس الزخرف-43)۔

فرمایا:

لَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ [35]

اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں

فرمایا:

فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ  [36]

قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)

فرمایا:

مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۢ   [37]

جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں

فرمایا:

بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ   [38]

(ایسے) لکھنے والے کے ہاتھوں میں

فرمایا:

كِرَامٍۢ بَرَرَةٍ     [39]

جو سردار اور نیکوکار ہیں

فرمایا:

رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً[40]

یعنی اللہ کی طرف سے ایک ایسا عظیم الشان رسول جو کہ پڑھ کر سنائے (ان کو) ایسے عظیم الشان صحیفے جن کو پاک (و صاف) کردیا گیا ہو (ہر طرح کے غل و غش سے)

 مجید کے معنی ہیں بلند قابل قدر اور گہری اصلیت والا ، اللہ کے کلام کے علاوہ یہ صفات کس پر صادق آسکتی ہیں؟یہ کلام لوح محفوظ میں ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ لوح محفوظ کی نوعیت کیسی ہوگی کیونکہ یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے۔ ہم تو وہ پر توجان سکتے ہیں جو اس تعبیر سے ذہن پر پڑتا ہے یا دل جو اشارہ قبول کرتے ہیں اور وہ اشارات یہ ہیں کہ قرآن ایک محفوظ کتاب ہے۔ اور ہر معاملے میں اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔ تمام باتیں ختم ہوسکتی ہیں لیکن یہ محفوظ ہے۔ یہ بات تو واقعہ اخدود میں کہی گئی ہے لیکن تمام معاملات میں قرآن کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے(تفسیر فی ظلال القرآن البروج-21)۔ جو دلائل تم کو دیئے گئے ہیں تم ایک ایک کو نگاہ میں رکھ کر ان پر غور و فکر کرو اس لیے یہ حقائق قرآن کریم کے بیان کردہ ہیں اور یاد رکھو کہ قرآن کریم نے جو باتیں اور جو قصے بھی بیان کیے ہیں محض لوگوں کی دل لگی کے لیے نہیں بیان کیے بلکہ ان کے اندر نصیحت و مؤعظت کے سبق موجود ہیں ۔ اگر تم ان کو حرز جان بنائو اور قرآن کریم کی مثالی راہ حیات پر چلنے لگو تو تم بہت جلد منزل تک پہنچ جائو اور تم کو راستہ میں پھسلنے اور بھٹک جانے کا کسی بھی خطرہ لاحق نہ ہو ۔ تم اس کو کیا سمجھو یہ نہایت عظمت والی اور اونچی شان والی کتاب ہے۔ اس کے اندر جو کچھ بیان ہوا ہے سب کا سب حق ہے ، پھر حق ہے تو سچ ہے اور سچ ہمیشہ شک و شبہ سے پاک ہوتا ہے کیونکہ سچ اور شک کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے بلکہ حق اور سچ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ ( مجید) صفت مشبہ نکرہ ، بزرگ ، اصل لغت میں مجد کا معنی وسعت کثرت ہے مجدت الا بل وسیع اور بڑے سبزہ زار میں اونٹ پہنچ گئے ، چنانچہ عرب کہتے ہیں کہ فی کل شجر نار واستمجد المرح والعقار یعنی ہر درخت میں آگ ہے لیکن مرخ اور عقارسب سے بڑھ چڑھ کر ہیں ۔ عرف عام میں وسعت کرم اور رفعت عزت کا معنی ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ وسیع الفضل ہے ، کیثر الخیر ہے ، سب سے بڑھ کر بزرگ ہے ، رقیع الشان ہے اسی لیے ( مجید) ہے ۔ قرآن کریم تمام مکارم دنیویہ و اخرویہ کو حاوی ہے ، تعبیر اور بیان میں یگانہ ہے ، اچھوتے اسلوب کا حامل ہے اسی لیے ( مجید ) ہے(تفسیر عروۃ الوثقی  البروج-21)۔

فرمایا:

بَلْ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِيْ صُدُوْرِ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ۭ[41]

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں

حضرت حسن بصری ؒنے کہا : اس امت کی حفظ کی صلاحیت سے نوازا گیا اس امت سے پہلے کے لوگ اپنی کتابوں کو دیکھ کر ہی پڑھا کرتے تھے جب وہ اسے بند کرتے تو سوائے انبیاء کے کوئی انہیں یاد رکھنے والا نہ ہوتا۔ حضرت کعب  (رض)نے اس امت کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا : یہ علماء و حکماء ہیں اور فقہ میں انبیاء ہیں : یعنی یہ قرآن اس طرح نہیں جس طرح باطل پرست کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے یا شعر ہے بلکہ یہ ایسی علامات اور دلائل ہیں جن کی مدد سے اللہ کا دین، اس کے احکام کی پہچان ہے۔ یہ ان لوگوں کے سینوں میں اس طرح ہے جن کو علم عطا کیا گیا وہ حضور ﷺکے صحابہ اور مومنین ہیں وہ اسے یاد کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے علم سے صفت بیان کی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ذہنوں سے اللہ تعالیٰ کے کلام انسانوں اور شیاطین کے کلام میں امتیاز کیا ہے (تفسیر قرطبی العنکبوت-49)۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں یہ وحی جو اس پر آئی ہمیشہ کو بن دیکھے جاری رہے گی سینہ بہ سینہ۔ اور کتابیں حفظ نہ ہوتی تھیں۔ یہ کتاب حفظ ہی سے باقی ہے لکھنا افزود (زیادہ) ہے(تفسیر اشرف الحواشی العنکبوت-49)۔ یہ قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔ قرآن کی دعوت فطرت کی پکار ہے اور ایک سلیم الفطرت شخص اس کی آیتوں کو سن کر محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک ممتاز کلام ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو بول رہا ہے(تفسیر دعوت قرآن العنکبوت-49)۔

فرمایا:

وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ[42]

قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے

کفار مکہ حضور سرور عالم ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے الزامات اور استحالے پیش کرتے تھے۔ یہاں خداوند عالم قسم اٹھا کر اپنے رسول کی رسالت کی شہادت دے رہے ہیں۔ فرمایا اے انسان کامل ! یا اے عرب وعجم کے سردار ! مجھے اس قرآن حکیم کی قسم ہے کہ آپ ان برگزیدہ انسانوں میں سے ہیں، جن کو میں نے رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور مجھے قرآن حکیم کی قسم ہے کہ آپ سیدھے راستے پر گامزن ہیں۔اے حبیب ﷺ! جب تیرا پروردگار تیری رسالت کی شہادت دے رہا ہے اور وہ بھی قرآن حکیم کی قسم اٹھا کر۔ اس کے بعد اگر کوئی بدبخت تیری رسالت کو ماننے سے انکار کرے تو آپ کو رنجیدہ خاطر نہیں ہونا چاہئے۔ قسم اٹھاتے ہوئے صرف والقرآن نہیں فرمایا بلکہ والقرآن الحکیم فرمایا۔ یعنی قرآن جس کی قسم اٹھائی جا رہی ہے یہ کوئی عام قسم کی کتاب نہیں، بلکہ یہ کتاب حکیم ہے یعنی یہ پر از حکمت ہے۔ یا یہ ایسی محکم کتاب ہے کہ باطل کسی گوشہ سے اس پر حملہ نہیں کرسکتا(تفسیر ضیاء القرآن یس-2)۔

فرمایا:

وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ[43]

قسم ہے اس واضح کتاب کی۔

اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کی قسم کھاتے ہیں تو عموماً وہ چیز بعد کے دعوے کی دلیل ہوا کرتی ہے۔ یہاں قرآن کریم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ قرآن بذات خود اپنے اعجاز کی وجہ سے اپنی حقانیت کی دلیل ہے اور قرآن کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے وعظ و نصیحت پر مشتمل مضامین با آسانی سمجھ میں آجاتے ہیں لیکن جہاں تک اس سے احکام شرعیہ کے استنباط کا تعلق ہے وہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے، اجتہاد کی پوری صلاحیت کے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ (تفسیر معارف القرآن الزخرف-2)۔ ) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہﷺ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیونکہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی (تفسیر مظہر القرآن الزخرف-2)۔

فرمایا:

وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ[44]

اس کتاب روشن کی قسم

یہاں روشن کتاب کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب جن غیبی حقیقتوں پر سے پردہ اٹھا رہی ہے اور عقل و دل کو اپیل کرنے والی جو تعلیم پیش کر رہی ہے اور جس وضاحت کے ساتھ پیش کر رہی ہے وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس نے ہدایت کی راہ کھول دی ہے(تفسیر دعوت قرآن الزخرف-2)۔

اے محمد ﷺ یہ کتاب ِمبین گواہ ہے کہ آپ ﷺاللہ کے رسول ہیں۔ گویا یہ روشن اور واضح کتاب  یہ قرآن آپ ﷺکی رسالت کا قطعی ثبوت ہے (تفسیر بیان القرآن دخان-2)۔

فرمایا:

قۗ    وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ[45]

ق قرآن مجید کی قسم کہ محمد پیغمبر خدا ہے

یہودیوں کی ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں گئی، آپﷺ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم تم یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں وہ بولے ہم نہیں جانتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (تفسیر ابنِ عباس النساء-166)۔

فرمایا:

لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ شَهِيْدًا[46]

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اسکی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے

فرمایا اے رسول اللہﷺ کے اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو۔ اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا ہے۔ اس لئے اہل مکہ نہ اس جیسا کلام بنا سکتے ہیں نہ اس میں پہلی کتابوں کی باتوں کو یہ اہل کتاب جھٹلا سکتے ہیں۔ لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اور وہاں سے زمین پر سب ملائکہ کے سامنے اس قرآن کا نزول ہوا ہے۔ اس واسطے سب فرشتے گواہی دیں گے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ پھر فرمایا ایک سچی گواہی سے یہ جھوٹے لوگ اگر مکر گئے تو اس سے کیا ہوتا ہے اللہ کی گواہی تمہارے رسول اور قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کے لئے کافی ہے(تفسیر احسن التفاسیر النساء-166)۔

فرمایا:

اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ[47]

(کہہ دیں)اور میرا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (بر حق) نازل کی

معنی آیت کے یہ ہیں کہ مجھے تمہاری مخالفت کی اس لئے پرواہ نہیں کہ میرا محافظ و مددگار اللہ تعالیٰ ہے جس نے مجھ پر قرآن نازل کیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی سب صفات میں سے قرآن نازل کرنے کو خصوصیت سے اس لئے ذکر کیا کہ تم جو میری عداوت و مخالفت پر جمے ہو، اس کی وجہ قرآن کی تعلیم و دعوت ہے جو میں تمہیں دیتا ہوں تو جس نے مجھ پر یہ قرآن نازل کیا ہے وہ ہی میرا مددگار و محافظ ہے اس لئے مجھے کیوں فکر ہو(تفسیر معارف القرآن-الاعراف-196)۔

فرمایا:

تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ   [48]

پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے

 یعنی یہ کوئی جادو ٹوٹکا نہیں نہ کاہنوں کی زٹیل اور بےسروپا باتیں ہیں نہ شاعرانہ تک بندیاں بلکہ بڑی مقدس و معزز کتاب ہے جو رب العالمین نے عالم کی ہدایت و تربیت کے لیے اتاری، جس خدا نے چاند سورج اور تمام ستاروں کا نہایت محکم اور عجیب و غریب نظام قائم کیا، یہ ستارے ایک اٹل قانون کے ماتحت اپنے روزانہ غروب سے اسی کی عظمت و وحدانیت اور قاہرانہ تصرف و اقتدار کا عظیم الشان مظاہرہ کرتے ہیں (تفسیر عثمانی الواقعۃ-80)۔

کفار کہتے تھے کہ کوئی شخص محمد ﷺ کو قرآن سکھا دیتا ہے۔ یہ خدا کا کلام نہیں ہے ‘ اس کی تردید میں اللہ نے فرمایا : یہ انسان کا کلام نہیں ہے ‘ کوئی انسان ایسا اعجاز کلام نہیں بنا سکتا بلکہ یہ کلام اسی رحمن کا ہے۔ اسی کی رحمت کا تقاضا ہے کہ اس نے تمام نعمتیں انسان کو عطا کی ہیں اور ان نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت قرآن ہے(تفسیر مظہری الرحمن-2)۔

فرمایا:

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ[49]

اسی نے قرآن کی تعلیم فرمائی

 سامان عیش کے ساتھ ہی اس کی رحمت نے تقاضا کیا کہ ان کی ہدایت کے لئے بھی اسباب مہیا کئے جائیں چنانچہ اسی رحمن نے ان بے خبروں کو اپنی طرف سے نازل کیا ہوا قرآن پڑھایا ہے۔ قرآن کا نازل کرنا اور پڑھانا یہ سب اس کی رحمت کا تقاضا ہے(تفسیر ثنائی الرحمن-2)۔

فرمایا:

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ   [50]

کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے

یعنی جس کلام کی محمد ﷺ تلاوت کر رہے ہیں وہ قرآن معزز ہے جو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے چونکہ یہ اللہ کا کلام ہے اس لیے ہر کلام پر اس کی فوقیت اور عزت حاصل ہے جیسے اللہ کو مخلوق پر برتری حاصل ہے ۔ اسی طرح اس کے کلام کو مخلوق کے کلام پر برتری حاصل ہے(تفسیر مظہری الواقعۃ-77)۔

فرمایا:

فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ   [51]

(جو) کتاب محفوظ میں (لکھا) ہوا ہے

کہ بلاشبہ یہ قرآن بڑی شان والا ہے کہ جس طرح ستارے اپنے محل وقوع یا اپنی منزل میں وقت مقررہ پر اپنے نور سے فضا کو منور کردیتے ہیں اسی طرح قرآن کی آیات جو وقتاً فوقتاً تھوڑی تھوڑی رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتی ہیں وہ بھی اپنے موقع و محل پر تلاوت کرنے والوں کے قلوب کو نورِ ایمان سے منور کرتی ہیں(تفسیر تسہیل القرآن الواقعۃ-77)۔ اور اسی وجہ سے یہ قسم کھائی گئی ہے اور وہ لوح محفوظ ایسی چیز ہے کہ اسے سوائے پاک فرشتوں کے جو کہ گناہوں اور ناپاکیوں سے پورے طور پر پاک ہیں اور کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا یا یہ کہ جن لوگوں کو توفیق خدوندی ہو ان کے علاوہ اور کوئی قرآن کریم پر عمل نہیں کرسکتا یہ رسول اکرمﷺ پر رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا ہے(تفسیر ابنِ عباس الواقعۃ-78)۔

قرآن خود اپنے نزول کی تصدیق کرتا ہے چنانچہ

فرمایا:

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ[52]

اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ  ۭ[53]

(اے پیغمبرﷺ) جس (خدا) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے وہ تمہیں باز گشت کی جگہ لوٹا دے گا

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺسے وعدہ فرمایا کہ جس ذات پاک نے آپ ﷺپر قرآن نازل کیا اور اس کی تلاوت اور اشاعت کو آپﷺ پر فرض کیا وہ آپﷺ کی پشت پناہی فرما رہی ہے۔ ایک دفعہ آپ ﷺکو مکہ سے ہجرت کرنی پڑےگی لیکن پھر یہاں آپ ﷺکی واپسی اس شان و شوکت سے ہوگی کہ سارے دشمن سرجھکائے ہوئے آپﷺ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ان کی قسمت کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ چنانچہ فتح مکہ کے دن یہ وعدہ پورا ہوا اور صرف مکہ ہی اسلامی قلمرو میں داخل نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد قلیل عرصہ میں سارے جزیرہ عرب پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ معاد کا معنی جنت بھی کیا گیا ہے(تفسیر ضیاء القرآن القصص-85)۔

فرمایا:

اَللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ ۭ   [54]

خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو

فرمایا:

وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ[55]

اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے

فرمایا:

تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم[56]

(یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے

فرمایا:

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ[57]

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے

فرمایا:

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَ[58]

(اے پیغمبر ﷺہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو خدا کی عبادت کرو (یعنی) اسکی عبادت کو (شرک سے) خالص کر کے

فرمایا:

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ[59]

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب و دانا کی طرف سے ہے

فرمایا:

وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ[60]

اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دوہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورة الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے۔

یعنی قرآن کریم کی سورة فاتحہ کی سات آیتیں جو ہر ایک رکعت میں پڑھی جاتی ہیں یا یہ کہ ہم نے ایسا قرآن کریم آپﷺ کو عطا فرمایا کہ وہ پورے کا پورا شافی ہے، چنانچہ اس میں امر، نہی، وعدہ، وعید، حلال، حرام، ناسخ، منسوخ، حقیقت، مجاز محکم، متشابہ، جو ہوچکا اور جو ہوگا اس کی اطلاع ایک قوم کی تعریف اور دوسری قوم کی مذمت تو سارے قرآن کریم میں مضامین بھی مرر اور ہفت ہیں اور قرآن عزیز وعظیم کے ساتھ ہم نے آپ ﷺکو اعزاز عطا فرمایا اورجیسا کہ یہود ونصاری پر توریت وانجیل نازل کی کہ جنہوں نے آسمانی کتابوں کے حصے کر رکھے تھے(تفسیر ابن عباس الحجر-87)۔

فرمایا:

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا  ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ[61]

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

ایک شخص نے حضرت ﷺ سے شکایت کی کہ میرے دل میں طرح طرح کے وہم خیال آتے رہتے ہیں آپ نے فرمایا قرآن پڑھا کرو دل کی بیماریوں کے لئے قرآن شفا ہے(تفسیر احسن التفاسیر یونس-58)۔

فرمایا:

وَلَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا لَّـقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ ڼءَاَعْجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ ۭ قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ ۭ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ   [62]

اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اسکی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں کیا (خوب کہ قرآن تو عجمی) اور (مخاطب) عربی کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے

قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اس کے حکم احکام اس کے لفظی و معنوی فوائد کا بیان کر کے اس پر ایمان نہ لانے والوں کی سرکشی ضد اور عداوت کا بیان فرما رہا ہے(تفسیر ابنِ کثیر فصلت-44)۔ قرآن عربی ہے اور یہ لغت عرب میں نازل ہوا ہے یہ عجمی زبان میں نازل نہیں ہوا اور جب اسے کسی اور زبان میں نقل کیا جائے گا وہ قرآن نہ ہوگا(تفسیر قرطبی فصلت-44)۔

فرمایا:

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ[63]

کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

اس کو ہم نے عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اس کو اچھی طرح سمجھ سکو کیونکہ دنیا میں جتنی زبانیں بولی گئی ہیں اور بولی جا رہی ہیں اور بولی جائیں گی ان سب میں سے واضح اور کھل کر بیان اس زبان میں دیا جاسکتا ہے اور یہی زبان محمد رسول اللہ ﷺ اور آپﷺ کے مخاطبین اول جو آپ ﷺ ہی کی قوم کے لوگ تھے ان سب کی زبان بھی عربی ہی (تفسیر عروۃ الوثقی الزخرف-3)۔ خیال رہے کہ قرآن کے سوا کوئی آسمانی کتاب عربی میں نہ آئی کیونکہ حضورﷺ کے سوا عرب میں اسماعیلؑ  کے بعد کوئی نبی نہ آیا ساری کتب عبرانی زبان میں بھیجیں، اب وہ زبان بھی مٹ گئی مگر قرآن کی وجہ سے عربی عام ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ عربی زبان تمام زبانوں سے اشرف ہے، کہ اس زبان میں قرآن آیا، بعد مرنے کے سب کی زبان عربی ہوجاتی ہے، عربی میں ہی حساب قبر و حساب قیامت ہوگا، اہل جنت کی زبان عربی ہوگی، ہمارے حضور کی زبان عربی تھی، غرضیکہ عربی زبان روحانی ہے باقی زبانیں جسمانی۔(تفسیر نور العرفان الزخرف-3)۔

 صحیح بخاری (صحیح مسلم باب فضیلۃ حافظ القران ص ٢٦٩ ج ١)و مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت عائشہ ابو سعید خدری اور عبد اللہ مسعود (رض) کی حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے ہر حرف پر دس نیکیوں کا ثواب ہے لیکن جس شخص کی زبان پر قرآن شریف کے لفظ نہ چڑھیں اور وہ شخص محنت سے ان لفظوں کو زبان پر چڑھائے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف کے لفظوں پر جس ثواب کا وعدہ ان حدیثوں میں ہے وہ ثواب قرآن شریف کے ترجمہ کے لفظوں پر نہیں مل سکتا اسی واسطے محنت سے قرآن شریف کے لفظوں کو زبان پر چڑھانے کا دوہرا ثواب ہے ۔۔ا ہل مکہ کی زبان عربی تھی اس لئے قرآن بھی اس زبان میں اتارا گیا تاکہ ان لوگوں کو قرآن کے سمجھنے میں کچھ دشواری نہ ہو اس آیت میں اس دشواری کی تفسیر فرمائی کہ اگر سوا عربی کے کسی اور زبان میں قرآن اتارا جاتا تو یہ لوگ عذر کرتے کہ غیر زبان کی باتوں کی تفصیل جب تک ہماری زبان میں نہ کی جائے تو ہم ان باتوں کو کیونکر سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن کے ان کی زبان میں نازل ہونے کے سبب سے ان لوگوں کو اس کے سمجھنے میں کچھ دشواری تو نہیں ہے اس پر بھی یہ لوگ اس کے سمجھنے میں ٹیڑھی باتیں جو کرتے ہیں یہ ان کی سرکشی ہے جس کی سزا وقت مقررہ پر یہ بھگتیں گے اس وعدہ کا ظہوربدر کی لڑائی کے وقت جو ہوا۔ صحیح بخاری(صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدرا مقدورا ص ٩٧٧ ج ٢) و مسلم کی انس بن مالک (رض) کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر کئی جگہ اوپر گزر چکا ہے اب آگے فرمایا اے رسول اللہ ﷺکے تم ان ٹیڑھی باتیں کرنے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں فرمانبردار ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں یہ قرآن راہ راست کا رہنما اور نادانی کے فرض سے شفا بخشنے والا ہے ہاں جو لوگ اللہ کے علم غیب میں نافرمان قرار پا چکے ہیں ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں اس واسطے نہ وہ اس قرآن کی نصیحت کو سن سکتے ہیں نہ اس کی خوبیوں کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ ان کو قریب سے بھی قرآن کی نصیحت کا سنانا ان کے حق میں ایسی دور کی ایک آواز ہے جو نہ ان کو سنائی دیتی ہے نہ یہ اس کا کچھ مطلب سمجھ سکتے ہیں۔ ۔ صحیح بخاری (صحیح بخاری باب فضل من علم وعلم ص ١٨ ج ١) و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ  اشعری (رض) کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ان کو قرآن کی نصیحت سے ایسا ہی فائدہ پہنچتا ہے جس طرح اچھی زمین کو مینہ کے پانی سے فائدہ ہوتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم غیب میں بدقرار پا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائیگان ہے جس طرح بری زمین پر مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے(تفسیر احسن التفاسیرفصلت-44)۔

صحیح مسلم میں ابی امامہ (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن قرآن ان گنہگار لوگوں کی شفاعت کریگا جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔

رسولﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جسے قرآن نے میری یاد اور مجھ سے سوال کرنے میں مشغول کردیا۔ میں اسے ان لوگوں سے بہتر چیز عطا کروں گا جو میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں اور اللہ کے کلام کی دوسرے تمام کلاموں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح خود اللہ تعالیٰ کی اس کی تمام مخلوقات پر(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 853 )۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں وہ شخص سب سے بہتر ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے(صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 20 حدیث )۔

حضرت عکرمہ (رض)بن ابوجہل قرآن کو اپنے چہرے پر رکھ کریہ کہا کرتے تھے یہ میرے پروردگار کی کتاب ہے یہ میرے رب کی کتاب ہے(سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 1174 )۔

قیامت کے دن حامل قرآن سے ” جب وہ جنت میں داخل ہوجائے گا ” کہا جائے گا کہ پڑھتاجا اور درجاتِ جنت چڑھتا جا، چنانچہ وہ ہر آیت پر ایک ایک درجہ چڑھتا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اپنے حافظے میں موجود آخری آیت پڑھ لے(مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 373 )۔

جس شخص نے قرآن پڑھا اور وہ اس پر غالب آگیا تو قیامت کے دن اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جائے گی جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہوگی(مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 1203 )۔ ادھر “غالب” سے مراد اس نے قرآن کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانا مراد ہے۔

[1] النساء-82

[2] البینۃ-3

[3] الکھف-1

[4] یٰس-69

[5] الطارق-13

[6] الطارق-14

[7] فصلت-42

[8] الاعلی-6

[9] الحجر-9

[10] القمر-17-22-32-40

[11] التکویر-19، الحاقۃ-40

[12] الشعراء-193

[13] الشمس-25

[14] الشعراء-196

[15] الشعراء-197

[16] یونس-37

[17] بنی اسرائیل-88

[18] ھود-13

[19] ھود-14

[20] الحاقۃ-44-46

[21] البقرہ-23

[22] النحل-98

[23] الاعراف-204

[24] فصلت-26

[25] بنی اسرائیل-45-46

[26] الکھف-27

[27] بنی اسرائیل-78

[28] بنی اسرائیل-79

[29]بنی اسرائیل-109

[30] الاحزاب-72

[31] الفرقان-30

[32] البروج-21

[33] الانعام-54

[34] الزخرف-43

[35] الواقعہ-79

[36] عبس-13

[37] عبس-14

[38]عبس-15

[39] عبس-16

[40] البینۃ-2

[41] العنکبوت-49

[42] یٰس-2

[43] الزخرف-2

[44] الدخان-2

[45] ق-1

[46] النساء-166

[47] الاعراف-196

[48] الواقعہ-80

[49] الرحمٰن-2

[50] الواقعہ-77

[51] الواقعہ-78

[52] السجدہ-2

[53] القصص-85

[54] الشوریٰ-17

[55] النمل-6

[56] یٰس-5

[57] الزمر-1

[58] الزمر-2

[59] المومن-2

[60] الحجر-87

[61] یونس-58

[62] فصلت-44

[63] الزخرف-3