قرآن کی تبلیغ

قرآن کو پھیلانا

بلغ

شریعت میں جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان باتو ںکو معروف کہتے ہیں اور جن باتوں کی شریعت میں ممانعت ہے ان باتوں کو منکر کہتے ہیں صاحب شریعت انبیاءؑ کا یہی کام ہے کہ وہ شریعت کی معروف باتوں کے کرنے اور منکر باتوں سے بچنے کو امت کے لوگوں میں پھیلاتے ہیں اور شریعت میں اللہ کی مرضی اور نامرضی کی جو باتیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ظاہر فرما دی ہیں۔ اسی واسطے فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں حشر اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے اور عقبیٰ کی باتوں کا خوف ہے اے رسول اللہﷺ کے ایسے لوگوں کو قرآن کی آیتوں کے مضمون کے موافق نصیحت کر دینی چاہئے تاکہ تم کو نصیحت کرنے کا اور امت کے جو لوگ نصیحت مانیں ان کو نصیحت کے ماننے کا اجر عقبیٰ میں حاصل ہو۔ اب انبیاءؑ کے بعد امت میں جن علماء نے انبیاءؑ کے اس طریقہ کو اختیار کیا ہے کہ لوگوں کو وعظ نصیحت کرکے شریعت کی معروف باتوں کو لوگوں میں پھیلاتے اور منکر باتوں کو لوگوں سے چھڑواتے ہیں اور خود اپنی ذات سے شریعت کے پابند ہیں ایسے علماء کو صاحب شریعت ﷺنے انبیاء کا وارث فرمایا ہے(تفسیر احسن التفاسیر ق-45)۔

فرمایا:

وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ   [1]

اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے

فرمایا:

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ ۣ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ      [2]

یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو پس جو ہمارے (عذاب کی) وعید سے ڈرے اسکو قرآن سے نصیحت کرتے رہو

مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ لوگوں کو یاددہانی کرنی انہیں لوگوں کے لیے سود مند اور نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جو میری وعید عذاب سے ڈرتے ہیں یعنی مسلمانوں ہی کے لیے یہ تذکیر نفع بخش ہو سکتی ہے(تفسیر مظہری ق-45)۔

یعنی اللہ نے جس کے لیے ایمان مقدر کردیا ہے اس کو آپ کی نصیحت سے ضرور فائدہ پہنچے گا خواہ کافروں کے لیے مفید نہ ہو اس لیے آپ نصیحت ضرور کریں یا یہ مطلب ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں ‘ آپ کی نصیحت سے مؤمنوں کو ضرور فائدہ پہنچے گا۔ ان کی بصیرت میں اضافہ ہوگا (دِل کی روشنی بڑھے گی)(تفسیر مظہری الذاریات-55)۔

فرمایا:

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ  ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ[3]

اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے

فرمایا:

وَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ  ۭ[4]

اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈراؤں

رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس شخص کو قرآن پہنچ گیا گویا میں نے بالمشافہ اس کے پاس حق کا پیغام پہنچا دیا(تفسیر درمنثور الانعام-19)۔ نبی ﷺ نے فرمایا (اے لوگو) تبلیغ کرو اگرچہ اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت کیوں نہ ہو۔ جس شخص کے پاس اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت بھی پہنچ گئی تو اس کے پاس اللہ کے حکم پہنچ گیا چاہے وہ اس پر عمل کرے یا اس کو چھوڑ دے(تفسیر درمنثور الانعام-19)۔ یہ کلام اللہ نے اس واسطے اپنے نبی پر اتارا ہے کہ اس زمانہ کے حاضرین اور قیامت تک جو لوگ پیدا ہوں گے یہ کلام ان کو پہنچ جاوے اور وہ اس سے نصیحت پکڑیں(تفسیر احسن التفاسیر الانعام-19)۔ حضور ﷺکی نبوت و رسالت صرف اس زمانہ کے لوگوں تک محدود نہ تھی بلکہ جب تک اور جہاں تک قرآن کی آواز پہنچے گی حضور ﷺ سب کے نبی ہیں۔ سب پر فرض ہے کہ وہ حضور ﷺپر ایمان لائیں(تفسیر درمنثور الانعام-67)۔

وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْ يُّحْشَرُوْٓا اِلٰى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيْعٌ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ[5]

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

آنحضرت ﷺ کو اس جگہ ڈر سنانے کا حکم ہوتا ہے اور خوف کو اس لئے یہاں ترجیح دی کہ منافع حاصل کرنے سے جو خوشی کا محل ہے اپنے نفس سے مضرت کا دور کرنا جو محل خطر ہے مقدم اور ارجح ہے اور خوف سنانے میں ان لوگوں کو مخصوص کیا کہ جو خدا کے پاس حاضر ہونے کے دن سے ڈرتے ہیں کہ جہاں اس کے مقابلہ میں نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ سفارشی(تفسیر  حقانی الانعام-51)۔

فرمایا:

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى[6]

بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لیے (قرآن نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے

وہ شخص جس کے دل کے اندر خشیت اور رقت ہو کہ ڈرانے سے اس کو فائدہ پہنچ جائے یا ایسا شخص مراد ہے جس کے متعلق اللہ جانتا ہے کہ ڈرانے اور عذاب کا خوف دلانے سے وہ خوف زدہ ہوجائے گا (اگرچہ بالفعل وہ صاحب خشیہ نہ ہو اور عذاب کا خوف اس کو نہ ہو مگر عذاب کا ذکر سن کر آئندہ خوف زدہ ہوجانے والا ہو) ایسا ہی آدمی انذار و تخویف سے فائدہ اندوز ہوسکتا ہے(تفسیر مظہری طہ-3)۔ یعنی قرآن کریم اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن کے دل نرم ہوں اور خدا سے ڈرتے ہوں، وہ اس کے بیانات سے نصیحت حاصل کریں اور روحانی فیوض و برکات سے محروم نہ رہیں۔ یہ غرض نہیں کہ قرآن نازل کر کے خواہ مخواہ تم کو کسی محنت شاقہ اور تکلیف شدت میں مبتلا کیا جائے۔ نہ وہ ایسی چیز ہے جس کا حامل و عامل کبھی محروم و ناکام رہے۔ آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگدل نہ ہوں۔ نہ ان کے پیچھے پڑ کر زیادہ تکلیف اٹھائیں۔ حق کا علمبردار ہی آخر کامیاب ہو کر رہے گا۔ آپ توسط کے ساتھ عبادت کرت رہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ ابتداء نبی کریم ﷺشب کو نماز میں کھڑے ہو کر بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے۔ کفار آپ کی محنت و ریاضت دیکھ کر کہتے کہ قرآن کیا اترا بیچارے محمد ﷺ سخت تکلیف اور محنت میں پڑگئے، اس کا جواب ان آیات میں دیا گیا کہ فی الحقیقت قرآن محنت و شقاء نہیں، رحمت و نور ہے، جس کو جتنا آسان ہو اسی قدر نشاط کے ساتھ پڑھنا چاہیے(تفسیر عثمانی  طہ-3)۔

فرمایا:

وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ    [7]

اور (اے پیغمبر ہم نے تم کو اس لئے بھیجا ہے کہ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت واقع ہو تو یہ کہنے لگیں کہ اے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے؟

اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ بدکرداری کی وجہ سے نازل ہونے والی مصیبت کے وقت یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا گیا کہ ہم ایمان لاتے اور احکام اتباع کرتے تو ہم کوئی پیغمبر نہ بھیجتے اور بغیر تنبیہ و تخویف سابق کے ان کے کفر کی سزا ان کو دے دیتے لیکن ہم نے اتمام حجت اور آئندہ معذرت کا راستہ بند کرنے کے لئے آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا(تفسیر مظہری القصص-47)۔

فرمایا:

وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ   [8]

اور وہ تمہیں خدا کی آیتوں (کی تبلیغ) سے بعد اس کے کہ وہ تم پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں اور اپنے پروردگار کو پکارتے رہو اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہو جائیو

آپ ﷺکے مخالفین اے پیغمبر اسلام !ﷺخواہ کتنا ہی زور لگا دیکھیں لیکن یہ لوگ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے روکنے نہ پائیں جن باتوں سے یہ لوگ چڑتے ہیں وہ آپ ﷺ احسن طریقہ کے ساتھ ان کے کانوں تک پہنچاتے رہیں آپﷺ سے یہ خوش نہیں ہوں گے اور ظاہر ہے کہ وہ خوش نہیں ہوں گے تو آپ ﷺ سے دست تعاون نہیں بڑھائیں گے تو آپ ﷺ کو ان کے دست تعاون کی آخر ضرورت بھی کیا ہے کیونکہ آپ ﷺکا یہ نجی اور تجارتی کام تو ہے نہیں کہ آپﷺکا نقصان ہوگا ۔ آپ ﷺکی ذمہ داری فقط ابلاغ کی ہے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا ہے آپ ﷺکو اپنا کام کرتے جانا چاہئے بلاشبہ آپ ﷺکی ذمہ داری ان لوگوں کو راہ راست پر لگا دینا نہیں ہے کیونکہ لگا دینے کے معنی یہ ہوئے کہ کسی کو مجبور کر دیاجائے کہ وہ ضرور اور ضرور ایک کام کرے نہیں اور ہرگز نہیں آپ ﷺ کی ذمہ داری حق پہنچانے تک محدود ہے اور وہ ہر حال میں آپ ﷺ کو پہنچانا ہوگا ۔ جس طرح اوپر ذکر کیا گیا کہ یہ خطاب بلاریب نبی اعظم وآخر ﷺسے ہے لیکن دراصل یہ آپﷺکی امت کے لوگوں کو سنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ ذمہ داری جو آپ ﷺکو بتائی جا رہی ہے اور آپ ﷺکے ذمہ لگائی جا رہی ہے وہ ہر اس شخص کے ذمہ عائد ہوتی ہے جو قرآن کریم کی تعلیم دیتا ہے اور اس ذمہ داری کو اپنے سرلینے کے لئے قبول کرتا ہے اور یہ تاکید بار بار اس لئے کہ جا رہی ہے کہ قرآن کریم کو بیان کرنے کی ذمہ داری قبول کرنا بلاشبہ لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے ۔ آپ ذرا غور کریں تو بات ابھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺسے اس دنیا نے کوئی شخص اچھے اخلاق کا نہیں دیکھا ، آپ ﷺسے زیادہ سچا اس دنیا میں پیدا نہیں ہوا پھر جو حکمت وموعظت آپ ﷺکو سکھائی گئی وہ اس دھرتی کے منہ پر کسی اور کو نہیں ودیعت کی گئی پھر صرف یہ باتیں کہنے ہی تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺہی وہ انسان ہیں کہ اس دعوی سے قبل مکہ کے لوگ آپ ﷺکو ” الامین “ اور ” الصادق “ کے ناموں سے موسوم کیا کرتے تھے لیکن جب آپﷺپر یہ پیغام نازل ہوا اور آپ ﷺبطور نبوت و رسالت کھڑے ہوئے تو پھر کیا ہوا انہوں نے آپ ﷺ کو مجنون کہا ، ساحر کے لقب سے ملقب کیا ‘ سحر زدہ بیان کیا ‘ شاعر ہونے کا الزام دیا اور آپ ﷺکو جھوٹا اور مفتری بھی کہا گیا اور پھر صرف کہا ہی نہیں کیا بلکہ آپ ﷺکو مجبور کیا گیا کہ آپ ﷺاس کے بیان سے باز آجائیں ۔ اس کلام کو لوگوں کے سامنے مت پیش کریں ‘ ہمارے بزرگوں اور دوستوں کی توہین کے آپ ﷺمرتکب ہو رہے ہیں اس ارتکاب سے باز آجائیں پھر جب آپ ﷺان باتوں سے باز نہ آئے تو آپ ﷺسے مقابلہ کیا گیا ۔ مکہ سے نکال کر شعب ابی طالب میں بند کردیا گیا۔ آپ ﷺکے مقابلہ میں کھڑے ہو کر عام قریش کی مجلسوں میں ” رجل مجنون “ کے نعرے بلند کئے گئے ، طرح طرح سے آپ ﷺکو ستایا گیا ۔ آپ ﷺکے راستہ میں کانٹے بچھائے گئے ‘ آپ ﷺپر کوڑا کرکٹ پھینکا گیا ۔ آپ ﷺکے دروازہ پر پلیدی اور ناپاکی کے ڈھیر پھینکے گئے آپ ﷺکو بیت اللہ سے دھکے دے کر نکالا گیا لیکن آپ ﷺنے قرآن کریم کا درس دینے میں  اس پیغام کو ان تک پہنچانے میں ایک دن بھی سستی نہ دکھائی لیکن اس کے باوجود آپﷺ کو مخاطب کرکے پھر اس طرح ہدایت کی گئی جس کا ذکر آپ پڑھ چکے تو اس کا مطلب کیا نکلا ؟ یہی کہ دراصل یہ آپ ﷺکی امت کے سارے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ تم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور تم نے اس کو کس طرح پورا کرنا ہے ۔ ایمانداری سے کہئے کہ اس پیغام کو بغیر مداہنت کے آج کا ملا لوگوں تک پہنچا رہا ہے ؟ کیا قرآن کریم کے پیغام پہنچانے پر بھی بھلا تنخواہ مل سکتی ہے اور اس کو بھی کسی طرح کا کاروبار بنایا جاسکتا ہے ؟ جس چیز کو کوئی شخص مفت حاصل کرنے کے لئے تیار نہ ہو کیا اس کو کوئی پیسے دے کر خرید سکتا ہے ؟(تفسیر عروۃ الوثقی القصص-87)

قوم کی زیادہ مخالفتوں سے رسول اللہ ﷺ اکتا گئے تھے اور دل تنگ ہو کر آپ کی خواہش ہوگئی تھی کہ جو انکار کرنے والے ہیں  ان پر عذاب آ ہی جائے۔ اللہ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور نزول عذاب میں عجلت پسندی سے بازداشت فرما دی (تفسیر مظہری الاحقاف-35)۔

فرمایا:

وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَعِبًا وَّلَهْوًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَذَ كِّرْ بِهٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ ڰ[9]

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے

یعنی بےدینوں سے منہ پھیر لو ان کا انجام نہایت برا ہے اس قرآن کو پڑھ کر سنا کر لوگوں کو ہوشیار کر دو اللہ کی ناراضگی سے اور اس کے عذابوں سے انہیں ڈرا دو تاکہ کوئی شخص اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاک نہ ہو پکڑا نہ جائے رسوا نہ کیا جائے اپنے مطلوب سے محروم نہ رہ جائے(تفسیر ابنِ کثیر الانعام-70)۔ ذرہم کا معنی ان سے اعراض کریں اور ان کی تکذیب کی بالکل پرواہ نہ کریں اور استہزاء کو خاطر میں نہ لائیں۔ لہو وہ چیز جو انسان کو مشغول کر دے۔ خواہشات سے ہو یا خوش طبعی ۔قرآن کے ذریعہ نصیحت فرمائیں۔۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے ساتھ نصیحت فرماتے رہیں اس کراہت سے کوئی نفس ہلاک ہو کسی دوست اور شفیع کو نہ پاتے ہوئے(تفسیر مدارک التنزیل الانعام-70)۔ یعنی آپ ان کے ساتھ قلبی تعلق قائم نہ کیجئے، کیونکہ وہ خطا اور لغزش کو تلاش کرنے والے لوگ ہیں اگرچہ آپ ان کے ساتھ وعظ و نصیحت کرنے پر مامور ہیں(تفسیر قرطبی الانعام-70)۔ اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عام مسلمانوں کو دو حکم دیئے گئے ہیں، اول یہ کہ ایسے لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کریں جس کا بیان مذکورہ جملہ میں آچکا ہے، دوسرے یہ کہ صرف ان لوگوں سے کنارہ کشی اور اعراض بھی کافی نہیں، بلکہ ایجابی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کے ذریعہ ان کو نصیحت بھی کرتے رہیں اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے بھی رہیں(تفسیر معارف القرآن الانعام-70)۔

فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ  ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ[10]

اے پیغمبر ! جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچ دو۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے۔ (یعنی پیغمبری کا فرض ادانہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سی آیت آسمان سے آپ پر زیادہ سخت نازل ہوئی آپ نے فرمایا میں حج کے موقعہ پر منٰی میں تھا۔ اور عرب کے مشرک لوگ اور دوسرے لوگ حج میں جمع تھے۔ مجھ پر جبرئیلؑ نازل ہوئے اور یہ آیت لائے پھر آپﷺ فرمایا کہ میں گھاٹی کے پاس کھڑا ہوا اور آواز دی اے لوگو ! کون میری مدد کرے گا اس بات پر کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچاؤں جبکہ تمہارے لئے جنت ہوگی۔ اے لوگو کہو لا الہ الا اللہ اور میں تمہاری طرف رسول ہوں۔ اور تم نجات پا جاؤ گے اور تمہارے لئے جنت ہوگی (یہ کہنا تھا) کہ کوئی مرد یا کوئی عورت اور بچہ ایسا نہیں بچا جس نے مجھ پر مٹی اور پتھر نہ پھینکا ہو۔ اور میرے چہرے پر تھوکتے اور کہتے تھے جھوٹ بولنے والا ہے۔ بےدین ہے۔ (اس دوران) ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہا اے محمدﷺ ! اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اب تیرے لئے لازم ہے کہ تو ان کے لئے بددعا کر جیسے نوح ؑ نے اپنی قوم کے لئے بددعا کی تھی ہلاک ہونے کی۔ نبی ﷺنے فرمایا اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ ان کے خلاف میری مدد فرما۔ کہ یہ لوگ میری بات سنیں تیری اطاعت میں۔ آپ کے چچا عباس  آئے اور آپ ﷺکو ان سے بچایا اور لوگوں کو آپﷺ سے ہٹایا (تفسیر در منثور المائدہ-67)۔ صحیح بخاری میں ہے ” حضرت عائشہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپا لیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی ﷺکو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ نے کی “(تفسیر ابنِ کثیر المائدہ-67)۔

فرمایا:

فَذَكِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ   [11]

تو (اے پیغمبر!) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے

ان آیات میں آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ وعظ و تبلیغ نصیحت و تذکیر کا کام کئے جایئے اور یہ لوگ آپ کے متعلق جو بکواس اور یادہ گوئی کرتے ہیں آپ اس کی طرف کان نہ دھریں(تفسیر جلالین الطور-29)۔ سب سے اچھا اعتقاد اور اچھا کام یہ ہے کہ اللہ کی طرف بلایا جائے پس تو لوگوں کو ان باتوں کی نصیحت کیا کر تو اللہ کے فضل سے نہ تو کاہن ہے کہ لوگوں پر دم جھاڑا کرے نہ مجنون ہے۔ یہ تو سب کچھ ان لوگوں کے خیالات کا عکس ہے(تفسیر ثنائی الطور-29)۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام دے کر مجھے مبعوث فرمایا میں تنگ پڑگیا۔ میں نے جان لیا کہ لوگ میری تکذیب کریں گے پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں ضرور پیغام کو پہنچاؤں ورنہ وہ مجھ کو عذاب دے گا(تفسیر درمنثور المائدہ-67)۔

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا[12]

اے پیغمبر ﷺ اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم ان کے پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کر دو گے۔

مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر، یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے اس قدر غم و غصہ رنج و افسوس نہ کر نہ گھبرا نہ دل تنگ ہو اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے(تفسیر ابنِ کثیر الکھف-6)۔

فرمایا:

مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓي[13]

اے محمد ﷺہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ

یعنی آپ ﷺکے ذمہ صرف تبلیغ کرنا اور نصیحت کرنا ہے اور ان کا ایمان لانا آپﷺ پر فرض نہیں کیا گیا ۔۔دین اسلام اور یہ قرآن تو ہر کامیابی کا زینہ ہے اور ہر سعادت کے حصول کا سبب ہے اور جس نظریہ پر کفار ہیں وہ نری شقاوت ہے۔ ۔آپ ﷺ رات کو نوافل پڑھتے تھے حتیٰ کہ آپ ﷺکے پاؤں مبارک سوج جاتے تھے۔ جبریل ؑنے کہا : حضور ! اپنے نفس پر شفقت کریں بیشک اس کا بھی آپﷺ پر حق ہے یعنی ہم نے آپ ﷺپر قرآن نازل نہیں کیا تاکہ آپﷺ کا نفس عبادت میں تھک جائے اور تکلیف و مشقت میں آپﷺ اسے مبتلا کریں آپ ﷺکو تو آسان شریعت کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے(تفسیر قرطبی طہ-2)۔

تبلیغ کے لئے پچھلے واقعات کو یاد کرنا اور سنانا اور پیغمبروں کے واقعات سے بہتر دلیل کوئی نہیں ہو سکتی۔

فرمایا:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ ڛ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا[14]

اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے

فرمایا:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى ۡ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا[15]

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مرسل تھے

فرمایا:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ۡ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا[16]

اور کتاب میں اسمعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدہ کے سچے اور (ہمارے) بھیجے ہوئے نبی تھے

فرمایا:

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ ۡ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا[17]

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو وہ بھی نہایت سچے نبی تھے

فرمایا:

وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا  ۙ وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ    [18]

لیکن ہم نے (موسی کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی اور نہ تم مدین کے رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

لیکن بات یہ ہے کہ ہم نے ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا کی اور پہلوں کا واقعہ بعد والوں سے بیان کیا جیسا کہ اب آپ سے پہلے بیان کیا ہے پھر ان پر طویل زمانہ گزر گیا اور وہ ایمان نہیں لائے تو ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کردیا اور اے محمد ﷺ آپﷺ اہل مدین میں بھی قیام پذیر نہیں تھے کہ ان کے حالات کے بارے میں اپنی قوم کو ہماری قرآنی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہو لیکن جیسا کہ ہم نے آپﷺ کو رسول بنایا اور پہلوں کے واقعات آپ ﷺسے بیان کیے اسی طرح ہم نے پہلی قوموں کی طرف رسول بھیجے ہیں اور اگلوں کی باتیں پچھلوں سے بیان کی ہیں(تفسیر ابنِ عباس القصص-45)۔

فرمایا:

وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا وَلٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ     [19]

اور نہ تم اس وقت جبکہ ہم نے (موسی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

فرمایا:

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ ۭ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ ۙ لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ ۭ بَلٰــغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ       [20]

پس (اے محمد) جس طرح اور عالی ہمت پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں اسی طرح تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب) جلدی نہ مانگو جس دن یہ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (خیال کریں گے کہ) گویا (دنیا میں) رہے ہی نہ تھے مگر گھڑی بھر دن (یہ قرآن) پیغام ہے سو (اب) وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے

(بلغ)یعنی ہم نے نصیحت کی بات پہنچا دی اور سب نیک و بد سمجھا دیا۔ اب جو نہ مانیں گے وہ ہی تباہ و برباد ہوں گے۔ ہماری طرف سے حجت تمام ہوچکی اور کسی کو بےقصور ہم نہیں پکڑتے اسی کو غارت کرتے ہیں جو غارت ہونے ہی پر کمر باندھ لے(تفسیر عثمانی الاحقاف-35)۔

[1] الذاریات-55

[2] ق-45

[3] الکھف-29

[4] الانعام-19

[5] الانعام-51

[6] طہ-3

[7] القصص47

[8] القصص-87

[9] الانعام-70

[10] المائدہ-67

[11] الطور-29

[12] الکھف-6

[13] طہ-2

[14] المریم-41

[15] المریم-51

[16] المریم-54

[17] المریم-56

[18] القصص-45

[19] القصص-46

[20] الاحقاف-35