قرآن کا نزول

قرآن کس طرح نازل ہوا

نزول (قرآن کا اس دنیامیں آنا)

قرآن کریم بیت العزت سے آسمانی دنیا تک تو ایک ہی مرتبہ نازل ہوا اور پھر وقتًا فوقتًا حسب ضرورت زمین پر نازل ہوتا رہا ۔(تفسیر ابنِ کثیر البقرۃ-185)۔بیہقی اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ قرآن اکٹھا اتارا گیا اور (دوسرے) لفظ میں قرآن لوح محفوظ سے چوبیس رمضان کو اتارا گیا پھر آسمان دنیا کے بیت العزۃ میں رکھا گیا (اس کے بعد) جبرئیل ؑ رسول اللہ ﷺ پر تھوڑا تھوڑا کرکے اتارتے رہے اور ترتیل سے پڑھتے رہے(تفسیر درمنثور البقرۃ-185)۔ رمضان کی شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، اور وہاں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا۔ وہاں سے حسب ضرورت ٢٣ سالوں میں اترتا رہا(تفسیر جلالین البقرۃ-185)۔

فرمایا:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ[1]

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن نازل ہوا

حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا کہ قرآن مجید ایک دفعہ اکٹھا لیلۃ القدر میں جبرئیل ؑ پر نازل ہوا پھر وہ اس کو لے کر اترتے تھے جس کے لانے کا ان کو حکم دیا جاتا تھا۔ داؤد بن ابی ہند ؒ نے عامر بن شعبیؒ سے پوچھا کیا آپﷺ پر سارے سال میں قرآن نازل ہوتا تھا یا صرف رمضان میں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں (سارے سال میں نازل ہوتا تھا) لیکن جبرائیلؑ محمدﷺ پر رمضان میں پیش کرتے تھے جو پورے سال میں نازل ہوتا تھا پھر اللہ تعالیٰ جو چاہتے تھے اس کا حکم فرما دیتے تھے اور جس کو چاہتے تھے اس کو ثابت رکھتے۔ جس کو چاہتے تھے اس کو منسوخ کردیتے تھے اور جس کو چاہتے تھے اس کو بھلا دیتے تھے(تفسیر درمنثور البقرۃ-185)۔ رسول اکرم ﷺ پر دن بدن ایک یا دو اور تین آیات اور کبھی پوری سورت نازل ہوتی رہی(تفسیر ابنِ عباسؓ البقرۃ-185)۔ قرآن کے نزول کی ابتداء ماہ رمضان میں ہوئی اور سب سے پہلی قرآنی وحی سورة علق کی ابتدائی آیتیں غار حراء میں اسی ماہ رمضان میں یکم سن نبوی ٦٠٩ عیسوی میں نازل ہوئی(تفسیر جلالین البقرۃ-185)۔ یہ ہی مطلب باقی مندرجہ ذیل دو آیتوں کا بھی ہے۔

فرمایا:

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ[2]

کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو سیدھا راستہ دکھانے والے ہیں

فرمایا:

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ[3]

ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا

مشرکین نے کہا ان پر قرآن ایک مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوا(تفسیر درمنثور بنی اسرائیل-106)۔ اس کا حوالہ قرآن دیتا ہے

فرمایا:

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً  ڔ كَذٰلِكَ  ڔ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا    [4]

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اس طرح آہستہ آہستہ اس لئے اتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں اور اسی واسطے ہم اسکو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں

اور ابوجہل اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جیسا کہ توریت موسیٰ   ؑ اور زبور داؤدؑپر اور انجیل عیسیٰ ؑ پر ایک ہی دفعہ نازل کی گئی ہے اسی طرح یہ قرآن کریم ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا اسی طرح بذریعہ جبریل امین ؑ تدریجا ًاس لیے نازل کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے ہم آپ کے دل کو  قوی رکھیں اور آپ کے دل میں اس کو محفوظ کردیں۔ حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ مشرکین کہنے لگے اگر محمدﷺاپنے دعوے کے مطابق نبی ہیں تو ان کا پروردگار ان کو عذاب نہیں دے گا باقی قرآن کریم ان پر ایک ہی بار کیوں نازل نہیں ہوتا، ایک ایک اور دو دو آیتیں کر کے کیوں نازل ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر یہ قرآن دفعتاً کیوں نازل نہیں کیا گیا(تفسیر ابنِ عباس فرقان-32)۔

جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی جو جو واقعات ہوتے رہے احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہوپڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہوجائے۔ سمجھ میں آجائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔ ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی زیادہ واضح ہوگا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے ہم ان کی تسلی کردیں گے۔ صبح شام، رات دن۔ سفر حضر میں بار بار اس نبی ﷺ کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لئے ہمارا کلام ہمارے نبی کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے حضور ﷺ کی بزرگی اور فضلیت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء ؑپر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین آپ ﷺ سے اللہ تبارک وتعالیٰ باربار خطاب کرتا کہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہوجائے اس لیے یہ اتنی لمبی مدت میں نازل ہوا(تفسیر ابنِ کثیر فرقان-32)۔

فرمایا:

وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا[5]

اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے۔

ایک اور جگہ فرمایا:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِيْلًا  [6]

اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے

(یعنی ہم نے قرآن کو اس طرح نازل کیا کہ اس میں جابجا فصل ہے) ایک آیت ختم ہونے کے بعد دوسری آیت شروع ہوتی ہے اور ایک سورت کے بعد دوسری سورت شروع ہوجاتی ہے اس میں آیات، اوقاف، فواصل اور سورتوں اور مضامین کا تنوع رکھا گیا ہے تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں تاکہ سننے والے سمجھ سکیں اور حفظ کرنے والے یاد کرسکیں، مسلسل بیان کرنے میں جو بعض مرتبہ سننے والوں سے بعض باتیں رہ جاتی ہیں ان کے سمجھنے اور یاد کرنے میں جو دقت ہوتی ہے اس کا سامنا نہ ہو۔ (عَلٰی مُکْثٍ ) کا یہ معنی لیا جائے تو اس میں ترتیل اور تجوید کے ساتھ اس طرح پڑھنا بھی آجاتا ہے کہ تلاوت میں قرآن مجید کے حروف نہ کٹیں اور کسی طرح کی کمی بیشی نہ ہو(تفسیر انوارالبیان بنی اسرائیل-106)۔

فرمایا:

فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ   [7]

جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم اسکو سنا کرو اور پھر اس طرح پڑھا کرو

اور فرمایا:

 ۚ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ۡ[8]

 اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو

اور فرمایا:

لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ    [9]

اور اے محمدﷺوحی کے پڑھنے کیلئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اسکو جلد یاد کرلو

اے محمدﷺ آپ قرآن حکیم پڑھنے میں اس سے پہلے کہ آپ اس کی وحی پوری نازل ہوچکے جلدی نہ کیا کیجیے کیوں کہ جبریل امینؑ جس وقت آپ کے پاس کوئی آیت قرآنیہ لے کر آتے، تو جبریل امینؑ اس آیت کی قرأت سے فارغ نہیں ہوپاتے تھے، یہاں تک کہ رسوک اکرم ﷺ اسی آیت کو شروع سے پڑھنا شروع کردیتے اس خیال سے کہ کہیں اس آیت کو میں بھول نہ جاؤں تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو اس سے روک دیا اور فرمایا کہ آپ تو یہ دعا کیا کیجیے اے میرے رب قرآن کریم کے بارے میں میرے حافظہ فہم اور حکمت اور بڑھا دے(تفسیر ابنِ عباس طہ-114)۔ مجاہد اور قتادہ نے آیت کا تفسیری مطلب یہ بیان کیا ہے کہ صحابہ کو قرآن پڑھانا اور لکھوانا اس وقت تک شروع نہ کیجئے جب تک آپ کے لئے اس کا مطلب اور معنی واضح نہ ہوجائے۔ گویا مکمل بیان آنے سے پہلے مجمل آیات کی تبلیغ (اور توضیح) کی ممانعت کی گئی ہے(تفسیر مظہری طہ-114)۔

فرمایا:

اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَه ٗ   [10]

اسکا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے

جمع کردینے سے مراد قرآن کی آیتوں اور سورتوں کی تالیف ہے حسنِ ترتیب کے ساتھ۔ اور پڑھا دینے سے مراد نبی ﷺ کی زبان سے اس کو صحت کے ساتھ ادا کرا دینا ہے۔  ان دونوں باتوں کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا تھا چنانچہ قرآن جس کتابی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے وہ اللہ ہی کا ترتیب دیا ہوا ہے اور کلام کی اندرونی شہادت بھی یہی ہے کہ یہ اللہ ہی کی تالیف و ترتیب ہے کیونکہ نظمِ کلام پر غور کرنے سے کتنے ہی اسرار منکشف ہوتے ہیں۔یہاں اس غلط فہمی کا بھی ازالہ ہوجانا چاہیے کہ قرآن کو خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق    نے یا خلیفۂ ثالث حضرت عثمان غنی  نے جمع کیا تھا ورنہ اس سے پہلے وہ ایک مرتب کتاب کی شکل میں موجود نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن نبی ﷺ کے زمانہ ہی میں اللہ کی ہدایت کے مطابق مرتب ہوگیا تھا چنانچہ نماز میں اسی ترتیب کے ساتھ آیتیں اور سورتیں پڑھی جاتی تھیں اور حدیث میں آتا ہے کہ رمضان میں حضرت جبرائیلؑ نبی ﷺ سے ملاقات فرماتے اور آپ ﷺکے ساتھ قرآن کا دور کرتے ( بخاری کتاب الوحی) یہ دور ظاہر ہے کہ ایک مرتب کتاب ہی کا ہو سکتا ہے۔ نبی ﷺقرآن کے جو اجزاء لکھواتے رہے وہ متعدد صحابہ کے پاس موجود تھے ۔حضرت ابوبکر نے جو خدمت انجام دی وہ یہ تھی کہ قرآن کے جو اجزاء مختلف کاتبانِ وحی کے پاس موجود تھے ان کو انہوں نے جمع کرا دیا ۔ ان کتاب شدہ اجزاء کو جمع کرنے کا کام حضرت ابوبکر نے چند صحابہ کے سپرد کیا اور انہوں نے ان کو جمع کیا اور آیات اور سورتوں کی ترتیب وہی رکھی جو نبی  ﷺکے زمانہ سے چلی آرہی تھی۔ بالفاظ دیگر قرآن اسی ترتیب کے ساتھ جو متداول ہے حفاظ کے سینوں میں محفوظ تھا اور نماز میں اسی طرح پڑھا جاتا تھا البتہ اس کے کتابت شدہ اجزاء کو مصحف کی شکل میں جمع کرنے کا کام حضرت ابوبکر نے انجام دیا۔ رہا حضرت عثمان کا قرآن کو جمع کرنا تو وہ اس اعتبار سے تھا کہ انہوں نے قریش کے عربی تلفظات کی رعایت کرتے ہوئے مصحف کی کتابت کروائی اور اسے رائج کردیا۔ قرآن کے بعض الفاظ کا تلفظ مختلف قبائل میں مختلف تھا جس سے معنی کا کوئی فرق واقع نہ ہوتا تھا لیکن ان کے دور میں جب عجمیوں کی کثرت ہوگئی تلفظ کا یہ اختلاف مسئلہ بن گیا اس لیے حضرت عثمان نے ان کے فرق کو مٹایا اور ایک ہی قرات پر سب کو جمع کردیا اور اس کے مطابق قرآن کے نسخے تیار کر کے ان کی اشاعت عمل میں لائی گئی۔ تلفظ کے فرق کی مثال لفظ ’ مصطر ‘ ہے جو سورة غاشیہ آیت ٢٢ میں آیا ہے۔ اس کا تلفظ ’ ص ‘ سے بھی کیا جاسکتا ہے اور ’ س ‘ سے بھی۔ اسی لیے اس لفظ کے اوپر چھوٹا ’ س ‘ لکھ دیا جاتا ہے مگر اس سے معنی کا کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی جبر کرنے والا(تفسیر دعوت قرآن القیامۃ-17)۔ سیدنا ابن عباس  فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جبرئیل آپ ﷺ پر وحی لے کر آتے تو آپ زبان اور لب ہلاتے رہتے(کہ کہیں بھول نہ جائے) اس سے آپ ﷺ پر بہت سختی ہوجاتی جو دوسروں کو بھی معلوم ہوجاتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں یعنی وحی کا آپ ﷺ کے دل میں جما دینا (یاد کرا دینا) ہمارے ذمہ ہے اور اس کا پڑھا دینا بھی۔ تو جب ہم پڑھ چکیں تو آپ ﷺ بھی اسی طرح پڑھیں جیسے ہم نے پڑھا تھا اور جب تک وحی اترتی رہے۔ خاموش سنتے رہیں۔ پھر وحی کے الفاظ کو آپ ﷺ) کی زبان پر رواں کردینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ چنانچہ ان آیات کے نزول کے بعد جب جبریل آتے آپ ﷺ خاموش رہتے اور جب چلے جاتے تو آپ ﷺ اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جس طرح اللہ نے آپ ﷺکو سنایا ہوتا(بخاری)۔ ان آیات سے کئی اہم امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے صرف قرآن ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ قرآن کا بیان بھی نازل فرمایا ہے۔ دوسرے یہ کہ جس طرح اللہ نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ اس کے بیان کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کا بیان ہے کیا چیز ؟ تو واضح رہے کہ محض قرآن کے الفاظ کو دہرا دینے کا نام بیان نہیں بلکہ بیان میں ان قرآنی الفاظ کا مفہوم بتانا، اس کی شرح و تفسیر، اس کی حکمت عملی اور طریق بتانا سب کچھ شامل ہے۔ قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نازل کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ اور جس پر نازل ہوا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ دونوں کے نزدیک قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین ہو اور وہ ایک ہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کے الفاظ ہی نازل نہیں فرمائے بلکہ ان الفاظ کا مفہوم (بیان) بھی مخاطب (یعنی رسول اللہ ﷺکے ذہن میں القاء کردیا۔ یہ بیان بھی امت کو بتلانا رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری تھی۔  اب اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺکے فرمودہ بیان یعنی سنت ﷺسے آزاد ہو کر محض لغت کی رو سے قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کو مندرجہ ذیل چار وجوہ کی بنا پر ناکامی ہوگی ۔

اولاً : بعض الفاظ کا مفہوم متعین کرنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ لغت میں ایک لفظ کے بہت سے معنی درج ہوتے ہیں۔ مثلاً لفظ صلٰوۃ کے معنی نماز، برکت، رحمت اور نماز، نماز جنازہ تو ایسے ہیں جن کی آیات سے بھی تائید ہوتی ہے۔ مگر نماز کی ادائیگی کرنے کے لیے، وضو، تیمم، مساجد، قبلہ رخ ہونا، رکوع، سجود وغیرہ کا ذکر بھی آیا۔ لہذا مندرجہ بالا معنی میں سے کوئی بھی اس کا صحیح مفہوم ادا نہیں کرتا۔ پھر لغت میں مصلی کے معنی وہ گھوڑا بھی ہے جو گھڑ دوڑ میں اول نمبر آنے والے گھوڑے کے پیچھے پیچھے دوسرے نمبر پر آیا ہو۔ علاوہ ازیں صلٰوۃ کے معنی ” کو لھے ہلانا ” بھی ہے۔ چنانچہ بعض منچلوں نے صلٰوۃ کی ادائیگی سے ” پریڈ ” کرنا مفہوم لیا اور بعض دوسروں نے رقص و سرود کی مجالس منعقد کرنا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ سب مفہوم شریعت کی رو سے غلط ہیں۔ اور اس کی وجوہ وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئیں۔

 ثانیاً : ہر زبان میں بعض الفاظ بطور اصطلاح مروج ہوتے ہیں جنہیں اہل زبان خوب جانتے ہیں۔ مثلاً لفظ ” اخبار ” کا لغوی معنی محض ” خبریں ” ہے مگر اس کا اصطلاحی مفہوم وہ پرچہ (Newspaper) جس میں خبروں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ درج ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ اصطلاحیں فنی اور تکنیکی ہوتی ہیں۔ جنہیں صرف اہل علم و فن ہی جانتے ہیں۔ لغت چونکہ ” زبان ” کے الفاظ کے معنی بیان کرتی ہے لہذا ایسی اصطلاحات کا مفہوم بیان کرنا اس کے دائرہ سے خارج ہوتا ہے اور ایسی اصطلاحات کے لئے الگ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ مثلاً خبر واحد، طول بلد، سرایت حرارت، کشش ثقل وغیرہ وغیرہ ایسی اصطلاحات ہیں جن کے مفہوم کو عام اہل زبان نہیں جانتے۔ قرآن چونکہ علوم شرعیہ کا منبع ہے لہذا اس میں بیشمار ایسی اصطلاحات مثلاً دین، الٰہ، عبادت، صلٰوۃ، زکوٰۃ، معروف، منکر، حج، عمرہ، آخرت وغیرہ استعمال ہوئی ہیں۔ ایسی اصطلاحات کا مفہوم متعین کرنا بھی اللہ اور اس کے رسولﷺ کا کام ہے۔ شرعی اصطلاحات کا جو مفہوم اللہ اور اس کے رسول ﷺنے بیان کیا ہو وہی قرآن کا بیان کہلاتا ہے اور یہی بیان امت کے لیے قابل قبول ہوسکتا ہے۔

تیسرا:  قرآن کے بیان کی حفاظت کے بغیر صرف قرآن کے الفاظ کی حفاظت بےمعنی ہے ۔محاورات مقامی طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ جو یا تو اہل زبان سے سیکھنا پڑتے ہیں یا کسی محاورات کی کتاب سے دیکھنا ہوں گے۔ لکھنؤ میں ایک ڈاکٹر صاحب کو اس کا دوست ملنے گیا جو اس علاقہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ ڈاکٹر کے کلینک میں ایک مریض آیا اور کہنے لگا : میں نے آج رات تین بار زمین دیکھی ہے۔ ڈاکٹر نے مریض کی شکایت سن کر دوا دے دی اور وہ چلا گیا بعد میں وہ دوست ڈاکٹر سے کہنے لگا، میں نہیں سمجھ سکا کہ مریض نے کیا تکلیف بیان کی تھی جس کی آپ نے دوا دی۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ زمین دیکھنا سے یہاں ” قے کرنا ” مراد لیا جاتا ہے اور میں نے اس مرض کی دوا دی تھی۔

چوتھا: سنت کا منکر قرآن کا بھی منکر ہے : بعض دفعہ ایک لفظ کسی خاص معنی میں مشہور ہوجاتا ہے جبکہ لغوی لحاظ سے اس میں اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اندریں صورت صرف عرف کا لحاظ رکھا جائے گا۔ مثلاً ابن عباس سے مراد عبداللہ بن عباس ہی ہوں گے حالانکہ لغوی لحاظ سے ان کے دوسرے بیٹے فضیل کو بھی ابن عباس  کہنا درست ہے۔ اسی طرح مسجد اقصیٰ سے مراد صرف بیت المقدس ہی لیا جائے گا نہ کہ دور کی کوئی مسجد جیسا کہ منکرین معجزات واقعہ اسراء کی تاویل میں مسجد اقصیٰ سے مراد بیت المقدس نہیں لیتے بلکہ کوئی بھی دور کی مسجد مراد لے لینا ان کے نزدیک درست ہے۔

مندرجہ بالا تصریحات سے تین نتائج سامنے آتے ہیں :

 ١۔ اللہ نے صرف قرآن کے الفاظ کی ہی حفاظت کا ذمہ نہیں لے رکھا بلکہ قرآن کے بیان کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ کیونکہ اگر قرآن کے بیان کی حفاظت نہ کی جائے تو الفاظ کی حفاظت کوئی معنی نہیں رکھتی اور قرآن بچوں کا کھیل بن جاتا ہے۔

 ٢۔ واجب الاتباع ہونے کے لحاظ سے قرآن اور قرآن کے بیان یعنی سنت رسول ﷺ میں کوئی فرق نہیں اور

 ٣۔ قرآن کا بیان یا تشریح و تفسیر وہی قابل اعتماد ہوسکتی ہے جو خود رسول اللہ ﷺنے بیان فرمائی ہو(تفسیر تیسیر القرآن القیامۃ-17)۔

فرمایا:

ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ     [11]

پھر اس (کے) معانی کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے

 یہ ایک بڑی اہم آیت ہے جس سے چند ایسی اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں جنہیں اگر آدمی اچھی طرح سمجھ لے تو ان گمراہیوں سے بچ سکتا ہے جن میں پہلے بھی بعض لوگ مبتلا ہوتے رہے ہیں اور آج بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ اول اس سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپﷺ کو ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے جس کو اصطلاح میں ” وحی غیر متلو “ کہا جاتا ہے اس لئے کہ قرآن کے احکام و فرامین اس کے اشارات اور اس کی مخصوص اصطلاحات کا جو مفہوم و مدعا حضورﷺ کو سمجھایا جاتا تھا وہ اگر قرآن ہی میں درج ہوتا تو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس کا مطلب سمجھا دینا یا اس کی تشریح کردینا بھی ہمارے ذمہ ہے، کیونکہ وہ تو پھر قرآن ہی میں مل جاتا لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مطالب قرآن کی تفہیم و تشریح جو اللہ کی طرف سے کی جاتی تھی وہ بہرحال الفاظ قرآن کے ماسوا تھی یہ ” وحی خفی “ کا ایک اور ثبوت ہے جو ہمیں قرآن سے ملتا ہے(تفسیر جلالین القیامۃ-19)۔یہاں سے یہ بات بھی نکل آئی کہ قرآن کے احکام کی جو تشریح اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو بتائی گئی تھی وہ اس لئے نہ تھی کہ آپ صرف اپنی ذات تک اسے محدود رکھیں بلکہ اس لئے بتائی گئی تھی کہ آپ ﷺ اپنے قول و عمل سے لوگوں کو قرآن سمجھائیں اور اس کے احکام پر عمل کرنا سکھائیں۔ لہذا قرآن کی صحیح و مستند تشریح صرف وہ ہے جو آپﷺ نے اپنے قول وفعل سے فرما دی ہے کیونکہ وہ آپ ﷺکی ذاتی تشریح نہیں ہے بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تشریح ہے اور اس لئے اس کی حیثیت تشریعی ہے۔(تفسیر الکتاب-القیامۃ-19)

ابن صوریا نے نبی ﷺ سے یا حضرت عمر سے سوال کیا کہ کونسا فرشتہ وحی لے کر آتا ہے ؟ جواب دیا جبرائیلؑ ، تو اس نے کہا وہ تو ہمارا دشمن ہے، اس لئے کہ وہ عذاب لے کر آتا ہے اگر (وحی لانے والا) فرشتہ میکائیلؑ ہوتا تو ہم ایمان لے آتے، اس لئے کہ وہ خوشحالی اور سلامتی لے کر آتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی(تفسیر جلالین البقرۃ-97)

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ[12]

کہہ دو کہ جو شخص جبرائیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مرجانا چاہئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے

یہ کتابِ عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حکیم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامینؑ جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے(تفسیر ابن کثیر الشعراء-210)

فرمایا:

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ   [13]

اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے

پھر ان (شیاطین)کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ (جبرائیلؑ)کہاں یہ (شیاطین)؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کردے۔ پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لئے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی ﷺ کو پہنچے اور آپ سے مخلوق الٰہی کو پہنچے۔ جیسے سورة جن میں خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھر پور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کر اکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلاکر بھسم کردیتا ہے(تفسیر ابنِ کثیر الشعراء-210)۔

فرمایا:

وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ    [14]

اور تمہیں امید نہ تھی کہ تم پر یہ کتاب نازل کی جائے گی مگر تمہارے پروردگار کی مہربانی سے (نازل ہوئی)

  اس میں آپ ﷺ کے دعوائے نبوت میں سچا ہونے کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو نزول وحی سے قبل یہ خیال تک بھی نہ تھا کہ مجھے منصب نبوت سے سرفراز کیا جائے گا اور نہ اس سے قبل آپ ﷺ کی زبان سے اس قسم کی باتیں سنی گئیں جن کو دعوائے نبوت کے لئے تمہید قرار دیا ۔ اسی طرح دوسرے انبیا ؑ کو بھی منصب نبوت سے یکایک سرفراز کیا گیا۔ حضرت موسیٰ ؑمدین سے مصر واپس جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور پر بلا کر نبوت سے مشرف کردیئے گئے۔ نیز نبوت وہی چیز ہے جس میں انسان کے کسب کو دخل نہیں ہے : ” الا رحمۃ من ربک “ سے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔  کیونکہ یہ آپ ﷺ پر اس نعمت کا حق ہے جو آپ ﷺ کو بےمانگے عطا فرمائی گئی(تفسیر اشرف الحواشی القصص-86)۔

قرآن مجید کے بعض احکام اللہ تعالیٰ منسوخ فرما دیتے تھے۔ کبھی ایک حکم دیا پھر اس سے منع فرما دیا اور اس کے خلاف حکم دے دیا کبھی ایک حکم کے بجائے دوسرا حکم نازل فرما دیا اس کو دیکھ کر مشرکین نے کہا کہ آپ ﷺ آج ایک بات کہتے ہیں اور کل کو اس سے رجوع کرلیتے ہیں، اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہوتا تو اس میں منسوخیت والی بات کیوں ہوتی معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ محمد ﷺاپنے پاس سے کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ سورة نحل میں ان دشمنوں کی بات کو اس طرح بیان فرمایا (وَ اِذَا بَدَّلْنَآ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ وَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مُفْتَرٍ) اور جب ہم کسی آیت کو ایک آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ نازل فرماتا ہے تو وہ لوگ کہتے کہ بس تو افتراء ہی کرنے والا ہے(تفسیر انوار البیان البقرۃ-106)۔

فرمایا:

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۭ [15]

جو کوئی آیت ہم منسوخ کردیتے ہیں یا ہم اسے بھلادیتے ہیں ہم لے آتے ہیں (اس کی جگہ) اس سے بہتر یا اس جیسی

اللہ جل شانہ نے اس آیت شریفہ میں ان کی جہالت والی بات کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ ہم جس کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آتے ہیں۔ منسوخ کرنے میں حکمت ہوتی ہے اور بندوں کا اس میں فائدہ ہوتا ہے یا تو ان کے لیے دوسرا حکم انفع اور اسہل ہوتا ہے یا اس میں منفعت اور ثواب پہلی جیسی آیت کی طرح ہوتا ہے۔ سخت حکم کو آسان کردیا گیا تو بندوں کے لیے یہ بھی بہتر ہے کہ اس میں عمل کے لیے آسانی ہوگئی اور اگر آسانی کی بجائے کوئی سخت حکم آگیا تو یہ بھی بہتر ہے کیونکہ عمل جس قدر مشکل ہوگا اسی قدر ثواب زیادہ ہوگا۔منسوخ ہونے کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ عبارت قرآنیہ باقی رہے اور اس کا حکم منسوخ ہوجائے اس کو منسوخ الحکم کہتے ہیں۔ اور نسخ کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کی تلاوت منسوخ ہوجائے اور حکم باقی رہے۔ اس کو منسوخ التلاوۃ کہتے ہیں اور بعض سورتیں ایسی ہیں جن میں امر اوّل منسوخ ہوگیا اور اس کی جگہ دوسرا حکم نافذ نہیں کیا گیا ۔بعض آیات ایسی تھیں جن کو بالکل ہی مصاحف سے اور ذہنوں سے بھلا دیا گیا تھا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ سورة احزاب سورة بقرہ جتنی تھی۔ اس کا اکثر حصہ اٹھا لیا گیا نہ تلاوت باقی رہی نہ حکم باقی رہا۔ (درمنثور ص ١٠٥ ج ١) میں ہے کہ ایک رات ایک صحابی تہجد پڑھنے کھڑے ہوئے انہیں ایک سورت یاد تھی۔ انہوں نے اسے نماز میں پڑھنا چاہا تو (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) کے علاوہ کچھ نہ پڑھ سکے اور اس رات میں چند صحابہ کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا صبح کو جب بارگاہ رسالت ﷺمیں حاضر ہو کر عرض کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ یہ سورت گزشتہ رات منسوخ ہوگئی جو لوگوں کے سینوں سے اور ہر اس جگہ سے محو کردی گئی جہاں جہاں لکھی ہوئی تھی۔ پھر آگے اللہ تعالی نے  فرمایا کہ اے مخاطب کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اسے حکم باقی رکھنے پر بھی قدرت ہے منسوخ کرنے پر بھی قدرت ہے ذہنوں سے بھلاد ینے پر بھی قدرت ہے۔ وہ حکمت کے مطابق جو چاہے کرے جس حکم کو چاہے باقی رکھے جس کو چاہے منسوخ فرمائے۔ کسی کو کیا اعتراض ہے اگر کوئی اللہ پر اعتراض کرے گا تو اس کی سزا بھگت لے گا آسمان و زمین میں اسی کی بادشاہت ہے جب وہ کافروں پر عذاب بھیجے گا تو ان کو کوئی یار اور مددگار اور دوست اور رشتہ دار اور کار ساز نہیں ملے گا(تفسیر انوار البیان البقرۃ-106)۔

ابن عباس سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عرب کے لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ تین چیزوں کی وجہ سے

 میں عربی ہوں

قرآن عربی ہے

 اور وہ جنت والوں کی زبان ہوگی(تفسیر در منثور یوسف-2)۔

فرمایا:

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ[16]

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سجمھ سکو

اور فرمایا:

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا[17]

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔

محمد عربی ﷺکو عربی قرآن دیا گیا۔ بلاشبہ قرآن جیسی معجز و جامع کتاب ایسی ہی زبان میں نازل ہونی چاہیے تھی، جو نہایت بلیغ، وسیع، جامع، منضبط، واضح، پر مغز اور پرشوکت ہونے کی وجہ سے ” ام الالسنہ ” اور ” ملکۃ اللغات ” کہلانے کی مستحق ہے(تفسیر عثمانی الرعد-37)۔ اس سے یہ سمجھنا کہ حضرتﷺ خاص عرب کے لیے نبی تھے محض غلط فہمی ہے کس لیے کہ قوم ِرسول وہ ہیں جو آپ کے ہم نسب اور ہم وطن ہیں اور امت یا قوم بمعنی عام سب لوگ ہیں سو قوم کی زبان میں کتاب اور رسول کا بھیجنا ان کی رعایت خاص کے لیے رسالت عامہ کو مانع نہیں(تفسیر حقانی الرعد-37)

جب کوئی اہل عرب سے ان کی زبان کے علاوہ دیگر زبان میں بات کرتا تو وہ اس کی بات نہ سمجھتے اور اس کو کہتے اعجم و اعجمی اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دیتے جو نہ فصیح ہو اور نہ کھول کروضاحت کرسکتا ہو(تفسیر مدارک التنزیل الشعراء-198)

وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰي بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَ    [18]

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے

یہ مشرکین کے فرط عناد کا بیان ہے جو دلائل عقلیہ و نقلیہ کے باوجود نہیں مانتے۔ ان کی ضد و عناد کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم یہ فصیح و بلیغ عربی قرآن کسی عجمی پر نازل کردیتے جو عربی زبان سے بالکل نابلد ہوتا اور اس کے باوجود معجزانہ طور پر صحیح صحیح پڑھ کر ان کو سنا دیتا تو وہ پھر بھی نہ مانتے اور نہ ماننے کے لیے کئی بہانے تراش لیتے(تفسیر جواہر القرآن الشعراء-198)

[1] البقرہ-185

[2] الدخان-3

[3] القدر-1

[4] الفرقان-32

[5] بنی اسرائیل-106

[6] الدھر-23

[7] القیامۃ-18

[8] طہ-114

[9] القیامۃ-16

[10] القیامۃ-17

[11] القیامۃ-19

[12] البقرہ-97

[13] الشعراء-210

[14] القصص-86

[15] البقرہ-106

[16] یوسف-2

[17] الرعد-37

[18] الشعراء-198