قرآن کا مقصد

قرآن کیوں بھیجا گیا

مقصد نزول

اللہ جل شانہ نے ابتداء آفرانیش سے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے ہمیشہ ہر زمانے میں خاتم الانبیاء ﷺ تک دو سلسلے جاری رکھے ہیں ایک آسمانی کتابوں کا دوسرے اس کی تعلیم دینے والے رسولوں کا جس طرح محض کتاب نازل فرما دینے کو کافی نہیں سمجھا اسی طرح محض رسولوں کے بھیجنے پر بھی اکتفاء نہیں فرمایا بلکہ دونوں سلسلے برابر جاری رکھے اللہ جل شانہ کی اس عادت اور قرآن کریم کی شہادت نے قوموں کی اصلاح و فلاح کے لئے ان دونوں سلسلوں کو یکساں طور پر جاری فرما کر ایک بڑے علم کا دروازہ کھول دیا کہ انسان کی صحیح تعلیم وتریبت کے لئے نہ صرف کتاب کافی ہے نہ کوئی مربی انسان بلکہ ایک طرف آسمانی ہدایات اور الہٰی قانون کی ضرورت ہے جس کا نام کتاب یا قرآن ہے دوسری طرف ایک معلمّ اور مربی انسان کی ضرورت ہے جو اپنی تعلیم و تربیت سے عام انسان کو آسمانی ہدایات سے روشناس کرکے ان کا خوگر بنائے کیونکہ انسان کا اصلی معلم انسان ہی ہوسکتا ہے کتاب معلم یا مربی نہیں ہوسکتی ہاں تعلیم و تربیت میں معین و مددگار ضرور ہے(معارف القرآن البقرۃ-129)۔عبد اللہ بن سلام  نے سلمہ اور مہاجر اپنے بھتیجوں سے کہا تم مسلمان ہوجاؤ۔ تم خوب جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں فرمایا ہے کہ میں اسماعیلؑ کی اولاد سے ایک نبی پیدا کروں گا اور نام پاک ان کا احمدﷺہوگا جو ان پر ایمان لائے گا وہ ہدایت پائے گا اور جو ایمان نہ لاوے گا وہ ملعون ہوگا سلمہ تو چچا کی یہ نصیحت سن کر مسلمان ہوگیا اور مہاجر نے صاف انکار کردیا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیت نازل فرمائی(تفسیر مظہری البقرۃ-129)۔

فرمایا:

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ[1]

اے پروردگار ان (لوگوں) میں ان ہی سے ایک پیغمبر مبعوث کر  جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے بیشک تو غالب اور صاحب حکمت ہے

یہ حضرت ابرا ہیم ؑ اور اسمعیل ؑکی دعا کی کا خاتمہ ہے رسولا سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں کیونکہ حضرت اسمعیل ؑکی ذریت میں آنحضرت ﷺکے سوا کوئی دوسرا نبی نہیں ہو(تفسیر اشرف الحواشی البقرۃ-129)۔ غرض یہ ہے کہ قرآن کریم نے ایک طرف تو رسول کے فرائض میں تلاوت آیات کو ایک مستقل فرض قرار دیا دوسری طرف تعلیم کتاب کو جداگانہ فرض قرار دے کر بتلا دیا کہ محض تلاوت آیات کا سن لینا فہم قرآن کے لئے عربی زبان جاننے والوں کے واسطے بھی کافی نہیں بلکہ تعلیم رسول اللہ ﷺ ہی کے ذریعہ قرآنی تعلیم کا صحیح علم حاصل ہوسکتا ہے قرآن کو تعلیمات رسول اللہ ﷺسے جدا کرکے خود سمجھنے کی فکر خود فریبی کے سوا کچھ نہیں اگر مضامین قرآنی کو بتلانے سکھانے کی ضرورت نہ ہوتی تو رسول کو بھیجنے ہی کی کوئی حاجت نہ تھی اللہ کی کتاب کسی دوسری طرح بھی انسانوں تک پہونچائی جاسکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہیں وہ جانتے ہیں کہ مضامین قرآنی کی تعلیم و تفہیم کے لئے دنیا کے دوسرے علوم وفنون سے زیادہ تعلیم استاد کی ضرورت ہے اور یہاں پر عام استاد بھی کافی نہیں بلکہ ان مضامین کا استاد صرف وہ شخص ہوسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ سے بذریعہ وحی شرف ہم کلامی حاصل ہو جس کو اسلام کی اصطلاح میں نبی و رسول کہا جاتا ہے اس لئے قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کو دنیا میں بھیجنے کا مقصد یہ قرار دیا کہ وہ قرآن کریم کے معانی و احکام کی شرح کرکے بیان فرمائیں (تفسیر معارف القرآن البقرۃ-129)۔

فرمایا:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ  ۚ[2]

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔

فرمایا:

كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ[3]

( یہ انعام ایسا ہی ہے) جیسے ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاکیزہ بناتا ہے، اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری جنس کا ایک نبی مبعوث فرمایا، جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفس کی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن و حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے پس آپ کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا جنہیں صدیوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا جن پر مدتوں سے بھلائی کا پر تو بھی نہیں پڑا تھا دنیا کی زبردست علامہ ہستیوں کے استاد بن گئے، وہ علم میں گہرے تکلف میں تھوڑے دلوں کے پاک اور زبان کے سچے بن گئے(تفسیر ابن ِ کثیر  البقرۃ-151)۔

فرمایا:

هُوَ الَّذِيْ بَعَثَ فِي الْاُمِّيّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۤ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ[4]

وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے (محمد کو) پیغمبر بنا کر بھیجا جو ان کے سامنے اسکی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور انہیں (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔

فرمایا:

رَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ وَمَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا   ۭ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا      [5]

(اور اپنے) پیغمبر (بھی بھیجے) ہیں) جو تمہارے سامنے خدا کی واضح المطالب آیتیں پڑھتے ہیں تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ہیں انکو اندھیرے سے روشنی میں لے آئے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا انکو بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابداً  آ باد اس میں رہیں گے۔ خدا نے ان کو خوب رزق دیا ہے۔

آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی ہوتی ہے اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے کہ جب وہ کتاب اس قوم کی زبان میں ہو جو اس کے اولین مخاطب ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر آسمانی کتاب اسی قوم کی زبان میں نازل ہوئی جس قوم کی ہدایت کیلئے وہ نازل کی گئی، قرآن کریم کے اولین مخاطب چونکہ عرب تھے اس لئے قرآن عربی زبان میں نازل ہوا، علاوہ ازیں اپنی فصاحت و بلاغت اور اعجاز اور ادائے مافی الضمیر کے اعتبار سے دنیا کی بہترین زبان ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس اشرف کتب کو اشرف اللغات (عربی) اشرف الرسل (محمد ﷺ) پر اشرف الملائکہ (جبرائیلؑ) کے ذریعہ نازل فرمایا(تفسیر قرطبی یوسف-1)۔

فرمایا:

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا[6]

(اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچادو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو

فرمایا:

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ     [7]

ہم نے اس (قرآن) کو تمہاری زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں

فرمایا:

بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ    [8]

(اور القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)

فرمایا:

قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّـقُوْنَ [9]

(یہ) قرآن عربی (ہے) جس میں کوئی عیب (اور اختلاف) نہیں تاکہ وہ ڈر مانیں

فرمایا:

وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيْهِ ۭ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ[10]

اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں۔

فرمایا:

وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ وَھٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا     ڰ وَبُشْرٰى لِلْمُحْسِـنِيْنَ      [11]

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکو کاروں کو خوش خبری سنائے

فرمایا:

وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا  [12]

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اسلئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکّے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کر دو۔

یعنی جس طرح تورات کا خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونا انھیں بھی تسلیم ہے اسی طرح یہ قرآن بھی ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے حق و صدق ہونے کے واسطے ان کے لئے یہ شہادت کافی ہے کہ قرآن ان سب چیزوں کی تصدیق کرتا ہے جو تورات و انجیل میں نازل ہوئی ہیں، اور تورات و انجیل کے بعد اس کے نازل کرنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ یہ دونوں کتابیں تو بنی اسرائیل کے لئے بھیجی گئی تھیں، ان کے دوسری شاخ بنی اسماعیل جو عرب کہلاتے ہیں اور ام القریٰ یعنی مکہ اور اس کے اردگرد بستے ہیں، ان کی ہدایت کے لئے کوئی خاص پیغمبر اور کتاب اب تک نہ آئی تھی، اب یہ قرآن ان کے لئے خصوصاً اور پورے عالم کے لئے عموماً نازل کیا گیا ہے، مکہ معظمہ کو قرآن کریم نے ام القریٰ فرمایا، یعنی تمام شہروں اور بستیوں کی جڑ اور بنیاد، اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی روایات کے مطابق ابتداء آفرینش میں پیدائش زمین کی ابتداء یہیں سے ہوئی ہے، نیز یہ کہ سارے عالم کا قبلہ اور عبادت میں مرکز توجہ یہی ہے(تفسیر معارف القرآن الانعام-92)۔

فرمایا:

وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۭ[13]

اور (اے پیغمبر ! ) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔

فرمایا:

وَالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَــقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ   [14]

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں بیشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

فرمایا:

مِنْ قَبْلُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ڛ[15]

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لئے (تورات اور انجیل اتاری) اور پھر (قرآن جو حق اور باطل کو (الگ الگ کردینے والا (ہے) نازل کیا

فرمایا:

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَكْثَرَ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ[16]

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں بیان کردیتا ہے

یہود اور نصاریٰ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ اس بنا پر ان کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودی جھوٹا اور ولدالزنا کہتے تھے اور نصاریٰ نے یہاں تک غلو کیا کہ وہ انہیں خدا کا بیٹا سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے امور تھے جن میں ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے ان میں حق اور اعتدال کی راہ قرآن نے واضح کی۔ جو قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے۔ اگر وہ اس راہ کو اختیار کرتے تو ان میں ہرگز کوئی اختلاف نہ رہتا اور ان کی سب فرقہ بندی ختم ہوجاتی(تفسیر اشرف الحواشی النمل-76)۔

فرمایا:

ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ[17]

 (قرآن)جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور جو (حق وباطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے

یعنی قرآن اپنے اعجاز سے گمراہی سے نکالتا ہے اور قرآن میں ایسی آیات واضح ہیں کہ وہ حلال حرام اور حدود اور احکام کی طرف راہ دکھاتی ہیں اور حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور باطل جو شیاطین انس و جن کی جانب سے ہے دونوں میں فصل اور فرق کرتی ہیں اور ھدٰی اور الفرقان دونوں القراٰن سے حال ہیں(تفسیر مظہری البقرۃ-185)۔

فرمایا:

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ[18]

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گناہ گاروں کا راستہ ظاہر ہوجائے

یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے(تفسیر ابنِ کثیر المائدہ-49)۔

فرمایا:

الۗرٰ  ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ  ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ[19]

ا ل ر- (یہ) ایک (پرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لئے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لیجاؤ۔ (یعنی) انکے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے راستے کی طرف۔

فرمایا:

وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ[20]

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔

یہ مزید انتباہ ہے کہ مخالف قوتیں تمہیں کتاب الٰہی سے منحرف کرنے کے لئے جو زور لگا رہی ہیں اور تمہارے خلاف جو سازشیں کر رہی ہیں ان سے چوکنا رہو(تفسیر دعوت شمس المائدہ-49)۔ ۔ یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان(پچھلی) کتابوں میں آچکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہی اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت، دانائی اور احکام ہیں، جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردد ہے، کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہوچکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی(تفسیر السعدی المائدہ-49)۔

فرمایا:

 وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا  ۠وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِھٖٓ اِخْوَانًا  ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْھَا  ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِھٖ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُوْنَ [21]

اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگے کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔

مسلمان جب اللہ کی کتاب سے اعتصام کر رہے ہوں تو اس کی مثال اس حالت جیسی ہے جو کسی بلندی پر چڑھتے وقت ایک مضبوط رسی کو پکڑ لیں اور ہلاکت سے محفوظ رہیں، لہذا اشارہ فرمایا کہ اگر سب ملکر اس کو پوری قوت سے پکڑے رہو گے، کوئی شیطان شرانگیزی میں کامیاب نہ ہوسکے گا اور انفرادی زندگی کی طرح مسلم قوم کی اجتماعی قوت بھی غیر متزلزل اور ناقابل تسخیر ہوجائے گی، قرآن کریم سے جڑ جانا ہی وہ چیز ہے جس سے بکھری ہوئی قوتیں جمع ہوتی ہیں اور ایک مردہ قوم حیات تازہ حاصل کرلیتی ہے۔اور اس سے ہٹ کر ان کی قومی و اجتماعی زندگی تو تباہ ہو ہی جائے گی اور اس کے بعد انفرادی زندگی کی بھی کوئی خیر نہیں(تفسیر معارف القرآن-آل عمران-103)۔

فرمایا:

كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ[22]

 اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

لیکن اللہ تعالیٰ دشمن کے دور کرنے میں بڑا فضل کرنے والا ہے یہ قرآن کریم جو گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے ہم جبریل امین ؑ کے ذریعے آپﷺ پر نازل کرتے ہیں، تاکہ حق و باطل نکھر جائے، اور بلا شبہ آپﷺ تمام جنات اور انسانوں کی طرف رسول بنا کربھیجے گئے ہیں(تفسیر ابنِ عباس البقرۃ-252)۔

فرمایا:

وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ  ۭ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ھُدِيَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ     [23]

اور تم کفر کیسے کرسکتے ہو حالانکہ تم کو الله تعالیٰ کے احکام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اور تم میں اس (الله) کے رسول موجود ہیں۔ اور جو شخص الله تعالیٰ کو مضبوط پکڑتا ہے تو ضرور راہ راست کی ہدایت کیا جاتا ہے۔

آیت میں دو واضح علم ہیں، ایک کتاب اللہ کا اور ایک نبی اللہ ﷺ، پس نبی اللہ ﷺ تو گزر گئے اور رہی کتاب اللہ تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت اور نعمت کے طور پر ان کے درمیان باقی رکھا اور اس میں اس کے حلال و حرام سے متعلقہ احکام اور طاعت ومعصیت سب ہی کا ذکر ہے(تفسیر قرطبی آل عمران-101)۔ یعنی جس شخص کا اللہ تعالیٰ پر ایمان مظبوط ہوگا وہی سیدھی راہ کی طرف ہدایت پاسکتا ہے اس کے مخاطب ہرچند صحابہ کرام ہیں لیکن نصیحت کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے آج گو ہمارے درمیان آنحضرت ﷺ بنفس نفیس موجود نہیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن اور آنحضرت ﷺ کی سنت موجودہ جن پر عمل پیراہو کر موجود ہ دور کے فتنوںمیں ہر قسم کی بد عت وضلالت سے مسلمان محفوظ رہ سکتے ہیں(تفسیر  اشرف الحواشی آل عمران-101)۔ جو کوئی اللہ کی پناہ میں آجائے  اللہ کا دامن(قرآن) مضبوطی سے تھام لے اسے تو ضرور صراط مستقیم کی ہدایت ملے گی اور وہ ضلالت و گمراہی کے خطرات سے محفوظ ہوجائے گا۔ جیسے شیر خوار بچے کو کوئی خطرہ محسوس ہو تو وہ دوڑ کر آئے گا اور اپنی ماں کے ساتھ چمٹ جائے گا۔ اب وہ یہ سمجھے گا کہ میں مضبوط قلعہ میں آگیا ہوں  اب مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ نہیں جانتا کہ ماں بےچاری تمام خطرات سے اس کی حفاظت نہیں کرسکتی۔ اسے کیا پتا کہ کب کوئی درندہ صفت انسان اسے ماں کی گود سے کھینچ کر اچھالے اور کسی بلم یا نیزے کی انی میں پرو دے۔ بہرحال بچہ تو یہی سمجھتا ہے کہ اب میں ماں کی گود میں آگیا ہوں تو محفوظ پناہ میں آگیا ہوں۔ اللہ کا دامن واقعتا محفوظ پناہ گاہ ہے  اور جو کوئی اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے وہ گمراہی کی ٹھوکروں سے محفوظ ہوجاتا ہے اور جادۂ مستقیم پر گامزن ہوجاتا ہے(تفسیر بیان القرآن آل عمران-101)۔

فرمایا:

تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْھَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ  ۭوَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ[24]

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہل عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا

یہ اللہ تعالیٰ کی قرآنی آیات ہیں جن کو جبریل امین ؑکے ذریعے حق اور باطل کے واضح کردینے کے لیے ہم آپ ﷺ پر نازل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی جانب سے جن وانس میں سے کسی سے بھی زیادتی نہیں ہوگی تمام مخلوقات اور یہ عجائبات اسی کی ملک ہیں اور آخرت میں تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے(تفسیر ابنِ عباس آل عمران-108)۔

فرمایا:

تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْھَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۭ[25]

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں

فرمایا:

   ۭ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ[26]

 جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

گمراہوں کا طریقہ بیان فرما کر اپنے اس دین حق کی نسبت فرماتا ہے کہ سیدھی اور صاف راہ جو بےروک اللہ کی طرف پہنچا دے یہی ہے (مستقیما) کا نصب حالیت کی وجہ سے ہے۔ پس شرع محمدی کلام باری تعالیٰ ہی راہ راست ہے چنانچہ حدیث میں بھی قرآن کی صفت میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اللہ کی مضبوط رسی اور حکمت والا ذکر یہی ہے (ملاحظہ ہو ترمذی مسند وغیرہ) جنہیں اللہ کی جانب سے عقل و فہم و عمل دیا گیا ہے ان کے سامنے تو وضاحت کے ساتھ اللہ کی آیتیں آچکیں۔ ان ایمانداروں کیلئے اللہ کے ہاں جنت ہے، جیسے کہ یہ سلامتی کی راہ یہاں چلے ویسے ہی قیامت کے دن سلامتی کا گھر انہیں ملے گا۔ وہی سلامتیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ان کا کار ساز اور دلی دوست ہے۔ حافظ و ناصر مویدو مولی ان کا وہی ہے ان کے نیک اعمال کا بدلہ یہ پاک گھر ہوگا جہاں ہمیشگی ہے اور یکسر راحت و اطمینان، سرور اور خوشی ہی خوشی ہے(تفسیر ابنِ کثیر الانعام-126)۔

فرمایا:

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ[27]

(اے محمد ﷺیہ) کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے اس سے تم کو تنگدل نہیں ہونا چاہئے (یہ نازل) اس لئے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کیلئے نصیحت ہے۔

یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو آپ ﷺکی طرف نازل کی گئی ہے، لہٰذا آپ کو دل کی تنگی نہ ہونی چاہئے، دل  کی تنگی سے مراد یہ ہے کہ قرآن کریم اور اس کے احکام کی تبلیغ میں آپ کو کسی قسم کا خوف اور جھجک نہیں ہونی چاہئے اور اس سے انکار و تکذیب کی صورت میں آپ کو کوفت اور کڑھن نہ ہونی چاہئے  (تفسیر جلالین الاعراف-2)۔ تبلیغ قرآن کی راہ میں لوگوں کے خوف کا حائل ہونا حرج ہے یعنی اس بات سے ڈر کر تبلیغ میں کمی نہ کرو کہ لوگ مخالفت کریں گے اور ایذا پہنچائیں گے کیونکہ اگر کوئی کام کرنے میں ڈر لگا ہو تو آدمی بشاشت خاطر اور چستی سے اس کام کو نہیں کرتا اور اس کام کے لئے سینہ میں کشائش نہیں پیدا ہوتی بعض نے کہا کہ قرآن کا پورا پورا حق ادا کرنے سے ڈرنا مراد ہے(تفسیر مظہری الاعراف-2)۔

فرمایا:

 وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَــتَذَكَّرُوْنَ[28]

(اور خدا) اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں

اس ہی طرح کا مضمون پورے قرآن میں جگہ جگہ  آیا ہے۔

فرمایا:

وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰي عِلْمٍ هُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ[29]

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو علم دانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا ہے اور وہ مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت ہے۔

فرمایا:

  ۚ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ[30]

یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۗءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ڏ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [31]

لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

فرمایا:

 ۭ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ[32]

یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ‘ تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

فرمایا:

وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُـبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۙ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ[33]

اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لئے کہ جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ کر دو اور (یہ) مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

فرمایا:

ۭوَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ[34]

اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔

فرمایا:

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ[35]

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لیکر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے۔

فرمایا:

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرً[36]

یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے

فرمایا:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا[37]

اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔

فرمایا:

تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨ[38]

وہ (خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے

فرمایا:

عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ    [39]

(یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو

فرمایا:

هُدًى وَّبُشْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ[40]

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

فرمایا:

وَاِنَّهٗ لَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [41]

اور بیشک یہ مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے

فرمایا:

اَوَلَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّذِكْرٰي لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ  [42]

کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے

فرمایا:

هُدًى وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ[43]

نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت

فرمایا:

صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ[44]

ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)

فرمایا:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ[45]

(یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں

فرمایا:

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ  [46]

یہ قرآن تو اہل عالم کے لئے نصیحت ہے

فرمایا:

اِنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَـقِّ ۚ[47]

ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے

فرمایا:

وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ       [48]

اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو!) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

یعنی یہ کتاب قرآن کریم ایک بہت بڑی نعمت ہے جو آپ کو اور آپ کی قوم کو دی جارہی ہے۔ تمہاری اور تمہاری قوم کی اس سے زیادہ خوش نصیبی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم آپﷺ کی طرف وہ کتاب نازل کر رہے ہیں جو تاقیام قیامت ساری دنیا کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنے گی اور دوسری قوموں کو چھوڑ کر آپﷺ کی قوم اس پیغام الٰہی کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کا ذریعہ بنے گی۔ لہذا اس وقت جو لوگ اس عظیم نعمت کا مذاق اڑاتے ہیں یا اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے ان سے یقیناً باز پرس ہونے والی ہے۔ اور اے مسلمانو ! تم سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے اللہ کا یہ پیغام دنیا والوں کو پہنچا دیا تھا (تفسیر تیسیر القرآن الزخرف-44)؟

فرمایا:

وَمَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ [49]

اور (لوگو) یہ (قرآن) اہل عالم کے لئے نصیحت ہے

فرمایا:

وَاِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِيْنَ[50]

اور یہ (کتا ب) تو پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے

فرمایا:

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ ۚ فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا    [51]

یہ (قرآن) تو نصحت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کر لے

فرمایا:

كَلَّآ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ   [52]

کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے

فرمایا:

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ    ۚ فَمَنْ شَاۗءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيْلًا  [53]

یہ تو نصیحت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا راستہ اختیار کرے

فرمایا:

كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ    [54]

دیکھو یہ (قرآن)نصیحت ہے

فرمایا:

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ   [55]

یہ تو جہان کے لوگوں کے لئے نصیحت ہے

فرمایا:

ۭ وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اٰيٰتِ اللّٰهِ ھُزُوًا ۡ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ[56]

اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

جو بھی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تمسخر کرے اسےیہ ہی کہا جائے گا : اتخذھا ھزوا ۔ اس نے اسے مذاق کے ساتھ لیا ہے اور اسے بھی کہا جائے گا جس نے اس (آیت) کے ساتھ کفر کیا اور اسے بھی کہا جائے گا جس نے اسے پرے پھینک دیا اور اسے نہ لیا اور عمل اس کے خلاف کیا۔ سو اس بنا پر یہ تمام اقوال آیت میں داخل ہیں اور آیات اللہ سے مراد اس کے دلائل، اس کا امر اور اس کی نہی ہے(تفسیر قرطبی البقرۃ-231)۔

کفار کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ یہود و نصارٰی پر کتابیں نازل ہوئیں مگر وہ بدعقلی میں گرفتار رہے، ان کتابوں سے منتفِع نہ ہوئے، ہم ان کی طرح خفیف العقل اور نادان نہیں ہیں، ہماری عقلیں صحیح ہیں، ہماری عقل و ذہانت اور فہم و فراست ایسی ہے کہ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ٹھیک راہ پر ہوتے، قرآن نازل فرما کر ان کا یہ عذر بھی قطع فرما دیا (تفسیر خزائن العرفان الانعام-157)

فرمایا:

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاۗءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ ۚ[57]

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے راستے پر ہوتے۔ سو تمہارے پس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے۔

فرمایا:

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ[58]

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو ازخود بنا لیا ہے؟ (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ راستے پر چلیں

کفار کو خود اپنی ایک بات پر قرار نہ تھا چنانچہ وہ قرآن مجید کو کبھی جادو، کبھی شعر، کبھی کہانت، کبھی حضور ﷺکا گھڑا ہوا کلام کہتے تھے ۔ یہ ہی ان کے بطلان کی کھلی ہوئی دلیل تھی(تفسیر نور العرفان السجدہ-3)۔  یعنی جس کی کتاب کا معجزہ اور من اللہ ہونا اس قدر واضح ہے کہ شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں، کیا اس کی نسبت کفار کہتے ہیں کہ اپنی طرف سے گھڑ لایا ہے(تفسیر عثمانی السجدہ-3)۔ یہاں قرآن کریم کے نازل کرنے کی غرض وغایت بیان کردی کہ وہ لوگ جو عرصہ دراز سے دشت ضلالت میں بھٹک رہے تھے، اپنے نفس کی رذیل خواہشات کی تکمیل کے بغیر ان کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد نہیں تھا، جو اپنے انجام سے بیخبر فسق و فجور کا ارتکاب کر رہے تھے، جنہیں عرصہ دراز سے کسی نے آکر ٹوکا نہیں تھا۔ اے محبوبﷺ ! ہم نے یہ کتاب منیر اس لیے نازل فرمائی ہے کہ آپ انہیں خواب غفلت سے بیدار کردیں اور کفر و شرک کے بھیانک انجام سے بروقت متنبہ کردیں تاکہ وہ راہ ہدایت اختیار کرلیں(تفسیر ضیاءالقرآن السجدہ-3)۔

علامہ ابن منطور لسان العرب میں لکھتے ہیں الانذار الابلاغ ولا یکون الا فی التخویف۔ (لسان العرب) یعنی ایسی بات پہنچانا جس میں خوف دلانا مقصود ہو۔ علامہ زرکشی نے اپنی مشہور کتاب ” البرہان فی علوم القرآن “ میں لکھا ہے۔ حکی البغوی فی تفسیرہ عن الواقدی ان جمیع ما فی القران من لعل فانھا للتعلیل۔ کہ بغوی نے اپنی تفسیر میں واقدی سے نقل کیا ہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی لعل استعمال ہوا ہے۔ اس کا مقصد علت بیان کرنا ہے۔ یعنی آپ کے ڈرانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ہدایت پا جائیں اور جن لوگوں نے بعض مقامات پر لعل کو ترجی یعنی آرزو اور امید کے معنی میں استعمال کیا ہے تو وہ آرزو متکلم یا مخاطب کی طرف سے ہوگی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوگی کیونکہ یہ جہالت کا مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ اس غیب سے پاک ہے(تفسیر ضیاء القرآن السجدہ-3)۔

فرمایا:

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ[59]

تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا متنبہ کر دو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

فرمایا:

لِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَّيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ [60]

تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا راستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہو جائے

یعنی جو شخص دل زندہ رکھتا ہے وہی اس قرآن کے لائق ہے، اسی شخص کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن اس کے دل کے لئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت عمدہ اور زرخیز زمین کے لئے بارش کی حیثیت ہوتی ہے ۔ اور کافروں پر بات پوری ہوجائے  کیونکہ ان پر حجت الٰہی قائم ہوگئی اور ان کی حجت منقطع ہوگئی اور ان کے پاس ایک ادنیٰ سا عذر اور شبہ بھی نہیں رہا جس کا وہ سہارا لے سکیں(تفسیر السعدی یس-70)۔

فرمایا:

بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ[61]

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں

یہ(قرآن) بشیر و نذیر بن کر نازل ہوا ہے۔ جو لوگ اس کو قبول کریں گے ان کے لئے یہ دنیا اور آخرت دونوں میں فوزو فلاح کی بشارت ہے اور جو تکذیب کریں گے ان کے لئے یہ عذاب الٰہی کا پیش خیمہ ہے۔ یعنی کوئی اس کو سہل چیز نہ سمجھے۔ اب یہ سب سے بڑی رحمت بھی ہے اور سب سے بڑی نقمت بھی اس وجہ سے جو لوگ اس کی مخالفت کے در پے ہیں وہ اس مخالفت کے انجام کو دور تک سوچ لیں۔۔ یعنی اکثر لوگوں نے اس کی اس اہمیت کو محلوظ نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اس کو ایک معمولی چیز سمجھ کر اس سے اعراض اختیار کررکھا ہے اور اس کو سننے سمجھنے کے لئے کسی طرح تیار نہیں ہو رہے ہیں۔ انہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ یہ محض کسی واعظ کا وعظ نہیں ہے بلکہ یہ خدائی انذار ہے اور یہ جن باتوں سے آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ہر بات لازماً سامنے آ کے رہے گی(تفسیرتدبر قرآن فصلت-4)۔

فرمایا:

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَلِيَعْلَمُوْٓا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ[62]

یہ قرآن لوگوں تک پہنچانے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعہ انھیں ڈرایا جائے اور اس لئے بھی کہ وہ جان لیں کہ اللہ صرف وہ ایک ہی ہے اور اس لئے بھی کہ دانشمند لوگ اس سے سبق  حاصل کریں

فرمایا:

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّصَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا[63]

اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کر دئیے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کر دے

[1] البقرہ-129

[2] آل عمران-164

[3] البقرہ-151

[4] الجمعہ-2

[5] الطلاق-11

[6] المریم-97

[7] الدخان-58

[8] الشعراء-195

[9] الزمر-28

[10] الشوریٰ-7

[11] الاحقاف-12

[12] الانعام-92

[13] المائدہ-48

[14] فاطر-31

[15] آل عمران-4

[16] النمل-76

[17] البقرہ-185

[18] الانعام-55

[19] ابراھیم-1

[20] المائدہ-49

[21] آل عمران-103

[22] البقرہ-187

[23] آل عمران-101

[24] آل عمران-108

[25] البقرہ-252

[26] النعام-126

[27] الاعراف-2

[28] البقرہ-221

[29] الاعراف-52

[30] الاعراف-203

[31] یونس-57

[32] یوسف-104

[33] النحل-64

[34] النحل-89

[35] النحل-102

[36] بنی اسرائیل-9

[37] بنی اسرائیل-82

[38] الفرقان-1

[39] الشعراء-194

[40] النمل-2

[41] النمل-77

[42] العنکبوت-51

[43] لقمان-3

[44] ص-1

[45] ص-29

[46] ص-87

[47] الزمرأ41

[48] الزخرف-44

[49] ن-52

[50] الحاقۃ-48

[51] المزمل-19

[52] المدثر-54

[53] الدھر-29

[54] عبس-11

[55] التکویر-27

[56] البقرہ-231

[57] الانعام-157

[58] السجدہ-3

[59] یٰس-6

[60] یٰس-70

[61] فصلت-4

[62] ابراھیم-52

[63] طہ-113