قرآن کا تعارف

قرآن سے قرآن کی تعریف

قرآن کا تعارف

قرآن کے مخاطب اول عرب تھے اس لیے قرآن عربی زبان میں نازل کیا گیا۔ دوسری قوموں کے لیے قرآن بالواسطہ حجت ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ عربی میں ہونے کی وجہ سے صرف عربوں پر حجت قائم ہوتی ہے اور دوسروں پر نہیں (تفسیر دعوت قرآن فصلت 3-)

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّــقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ[1]

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

 قرآن کریم اعلیٰ درجہ کی صاف و شستہ عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو اس کے مخاطیبین اولین کی مادری زبان تھی۔ تاکہ ان لوگوں کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ خود سمجھ کر دوسروں کو پوری طرح سمجھا سکیں۔ مگر اس کے باوجود بھی ظاہر ہے وہ ہی لوگ اس سے منتفع(فائدہ مند) ہو سکتے ہیں جو سمجھ رکھتے ہوں۔ ناسمجھ جاہل کو اس نعمت عظمیٰ کی کیا قدر ہوسکتی ہے(تفسیر عثمانی فصلت-3)۔ یہ ایک کتاب ہے جس میں اوامرو نواہی اور حلال و حرام صاف صاف بیان کیے گئے ہیں اور ایسا قرآن ہے جو عربی زبان میں جبریل امینؑ کے ذریعے رسول اکرم ﷺپر نازل کیا گیا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم ﷺاور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں(تفسیر ابن عباس فصلت-3)

قرآنی ہدایت عام طور پر ہر مسلمان اور کافر کو شامل ہے جیسا کہ قرآن کے دوسرے موقع پر ارشاد ہوا ہے۔ ھُدًی للنَّاس لیکن اس سے متمتع ہونا اور فائدہ حاصل کرنا صرف پرہیزگاروں کا حصہ ہے اور معنی ثانی کے اعتبار سے تخصیص کی وجہ ظاہر ہے کیونکہ مقصود کی طرف رہنمائی ان ہی لوگوں کو مفید پڑتی ہے جن کی عقل کا آئینہ صاف اور کدورت زنگ سے مجلّٰی اور روشنی ہوتا ہے اس کی مثال  ایسی ہے جیسے غذائے صالح کہ بدن صحیح کو مفید پڑتی ہے نہ مریض و فاسد کو(تفسیر مظہری البقرہ-2)۔

فرمایا:

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ     ٻ فِيْهِ   ڔ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ[2]

یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلام خدا ہے، خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے

 یہی کتاب حقیقت میں کتاب ہے کہ تمام کتب الٰہیہ اور صحف سماویہ کے متفرق علوم اور مضامین کی جامع ہے اور اسی وجہ سے اسکا اتباع تمام کتب سماویہ کا اتباع ہے اور اس کا انکار تمام کتب الٰہیہ کا انکار ہے کتاب کا اصل مادہ لغت میں جمع کرنے کے معنی میں آتا ہے اس لیے اس کے مناسب معنی بیان کیے گئے اور ذلک اسم اشارہ اس لیے لایا گیا کہ اس طرف اشارہ ہوجائے کہ اس کتاب کی جامعیت محسوس اور مشاہد ہے۔ یہ کتاب اپنی بےمثال جامعیت اور عجیب و غریب حقائق ومعارف اور اسرار وغوامض اور دقائق اور لطائف پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نظر وفکر کی جولانگاہ سے بہت ہی دور اور بلند اور برتر ہے۔ یعنی قرآن اگرچہ باعتبار صورت کے حاضر و قریب ہے مگر اسرار وحقائق کے اعتبار سے ہمارے فہم وادراک سے بہت بعد ہے۔  اور اس کتاب کے کامل اور بےمثال ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے تمام مطالب مدلل اور مبرہن ہیں اس میں کسی قسم کے شک اور تردد کی ذرہ برابر گنجائش نہیں ایسی جامع اور مکمل اور واضح اور مدلل کتاب میں بھی اگر کسی کو کوئی شک اور شبہ پیش آئے تو وہ اس کے فہم کا قصور ہے اس کتاب میں تو کوئی شبہ نہیں یہ نافہم اپنی نافہمی سے شبہ میں پڑگیا ہے۔ قرآن کریم کی کوئی بات بھی عقل سلیم کے خلاف نہیں۔علماء بنی اسرائیل میں سے جو حقیقت میں علماء تھے۔ وہ قرآن کو سنتے ہی ایمان لے آئے اور جن کے دل ثمن قلیل اور دراہم معدودہ کی محبت میں گرفتار تھے وہ اس سعادت سے محروم رہے (تفسیر معارف القرآن کاندہلوی صاحب البقرہ۔2)۔

مشرکین کہتے تھے کہ یہ قران اللہ کا کلام نہیں، محمد (ﷺ) نے خود بنالیا ہے اس واسطے اللہ تعالی نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین کو قائل کیا ہے (تفسیر مظہری فصلت-2)۔مثلاً فرمایا

:فرمایا:

تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ[3]

(یہ کتاب خدائے) رحمن و رحیم (کی طرف) سے اتری ہے

اس ہی طرح کا مضمون   طہ، الشعراء ،جاثیہ اور  الاحقاف میں بھی ملتا ہے۔

:فرمایا:

تَنْزِيْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰى[4]

یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے

:فرمایا:

وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ   [5]

اور یہ (قرآن خدائے) پروردگار عالم کا اتارا ہوا ہے

:فرمایا:

تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ[6]

یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری جارہی ہے جو بڑا صاحب ِطاقت، بڑا صاحبِ حکمت ہے۔

یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام، دنیا کی پیدائش کا، اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کایہ حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور اُمی رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھدرا شخص کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آسکتی ہے کہ ُامی تو درکنار کوئی پڑھالکھا آدمی بھی اس طرح کی غیب کی باتیں ہرگز نہیں بتلاسکتا(تفسیر مظہری فصلت-2)۔  فرمایا کہ مکہ کے کفار، کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قران کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہیں جن کو رات دن پڑھا کرتے ہیں  (تفسیر مظہری الشعراء-192)۔

:فرمایا:

نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَاَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ[7]

اس نے (اے محمد ﷺ ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی

:فرمایا:

الۗرٰ   ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ[8]

ا ل ر۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔

:ایک اور مقام پر فرمایا:

طٰسۗ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ[9]

طس، یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

یہ (آیتیں جو تمہارے سامنے پڑھی جا رہی ہیں خدا کی) روشن کتاب کی آیتیں ہیں (اور کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہیں) ہم نے اس کو ایسی حالت میں نازل کیا ہے کہ وہ قرآن عربی ہے (تا کہ تم اس کی عبارت اور اس کے معنی معلوم کرو کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا) امید ہے کہ تم سمجھو گے (اور اس کی تکذیب پر اصرار نہ کرو گے) (تفسیر حل القرآن یوسف-1)۔اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے ۔اور یہ بیان ہے کہ یہ قرآن اور سب کتابوں سے بےنیاز کردینے والا ہے۔  خلافت فاروقی کے زمانے میں آپ (عمر) نے محصن کے چند آدمی بلائے ان میں دو شخص وہ تھے جنہوں نے یہودیوں سے چند باتیں منتخب کر کے لکھ لی تھیں۔ وہ اس مجموعے کو بھی اپنے ساتھ لائے تاکہ حضرت سے دریافت کرلیں اگر آپ نے اجازت دی تو ہم اس میں اسی جیسی اور باتیں بھی بڑھا لیں گے ورنہ اسے بھی پھینک دیں گے۔ یہاں آکر انہوں نے کہا کہ امیرالمومنین یہودیوں سے ہم بعض ایسی باتیں سنتے ہیں کہ جن سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو کیا وہ باتیں ان سے لے لیں یا بالکل ہی نہ لیں ؟ آپ نے فرمایا شاید تم نے ان کی کچھ باتیں لکھ رکھیں ہیں ؟ سنو میں اس میں فیصلہ کن واقعہ سناؤ۔ میں حضور ﷺکے زمانے میں خیبر گیا۔ وہاں کے ایک یہودی کی باتیں مجھ بہت پسند آئیں۔ میں نے اس سے درخواست کی اور اس نے وہ باتیں مجھے لکھ دیں۔ میں نے واپس آکر حضور ﷺ سے ذکر کیا آپﷺ نے فرمایا جاؤ وہ لے کر آؤ میں خوشی خوشی چلا گیا شاید حضور ﷺ کو میرا یہ کام پسند آگیا۔ لاکر میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اب جو ذرا سی دیر کے بعد میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضور ﷺ تو سخت ناراض ہیں۔ میری زبان سے تو ایک حرف بھی نہ نکلا اور مارے خوف کے میرا رواں رواں کھڑا ہوگیا۔ میری یہ حالت دیکھ کر اب آپﷺ نے ان تحریروں کو اٹھا لیا اور ان کا ایک ایک حرف مٹانا شروع کیا اور زبان مبارک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے کہ دیکھو خبردار ان کی نہ ماننا۔ یہ تو گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے ہیں اور یہ تو دوسروں کو بھی بہکا رہے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺنے اس ساری تحریر کا ایک حرف بھی باقی نہ رکھا۔ یہ سنا کر حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر تم نے بھی ان کی باتیں لکھی ہوئی ہوتیں تو میں تمہیں ایسی سزا کرتا جو اوروں کے لیے عبرت ہوجائے۔ انہوں نے کہا واللہ ہم ہرگز ایک حرف بھی نہ لکھیں گے۔ باہر آتے ہی جنگل میں جاکر انہوں نے اپنی وہ تختیاں گڑھا کھود کر دفن کردیں (تفسیر ابنِ کثیر یوسف-1)۔

قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو سیدھی راہ پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گر پڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو (تفسیر ابن کثیر آل عمران-7)۔تمام قرآن کی آیات محکم نہیں لائی گئیں بلکہ متشابہ بھی لائی گئیں کیونکہ اس میں ان لوگوں کیلئے ابتلاء اور امتحان ہے جو حق پرست اور متزلزل ہیں(تفسیر مدارک التنزیل آل عمران-7)۔

:فرمایا:

ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ [10]

وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ

حضرت ابن عباس  رض

  نے یہ بھی بیان کیا : محکمات سے مراد قرآن کریم کی ناسخ آیات، احکام حرام کو بیان کرنے والی اور اس کے فرائض کو بیان کرنے والی وہ آیات ہیں جن کے ساتھ ایمان لایا جاتا ہے اور جن کے مطابق عمل کیا جاتا ہے اور متشابہات سے مراد اس کی منسوخ آیات، اس کی مقدم ومؤخر آیات، اس کی امثال، اس کی اقسام اور وہ جن کے ساتھ ایمان لایا جاتا ہے اور ان کے مطابق عمل نہیں کیا جاتا۔ محمد بن جعفر بن زبیر نے کہا ہے : محکمات وہ آیات ہیں جن میں رب کریم کی حجت، بندوں کی عصمت اور جھگڑوں اور باطل کو دور کرنے کا ذکر ہے جس معنی پر انہیں وضع کیا گیا ہے اس سے نہ انہیں پھیرا جاسکے اور نہ اس میں کوئی تحریف کی جاسکے، اور متشابہات وہ ہیں جن میں تصریف وتحریف اور تاویل ہو سکتی ہے، اللہ تعالیٰ نے انکے ساتھ بندوں کو آزمایا ہے (تفسیر درمنثور آل عمران-7)۔ جن لوگوں کے دلوں میں شک اور حق سے روگردانی ہے، جیسا کہ یہودیوں میں سے کعب بن اشرف، حی بن اخطب، جدی بن اخطب، وغیرہ ہیں تو یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کی آڑ میں اپنی بدنیتی کے سبب کفر وشرک اور گمراہی پر قائم رہنے کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس امت کا انجام دیکھنے کی غرض سے کہ مسلمان کس طرح ناکام ہوتے ہیں تاکہ مدینہ کی بادشاہت انہیں کے لیے رہے اور انجام کار اور صحیح مطلب سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے(تفسیر ابن عباس آل عمران-7)

 اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نےمجموعی حیثیت سے محکم غیر منسوخ بنایا ہے یعنی جس طرح سابقہ کتابیں تورات انجیل وغیرہ مجموعی اعتبار سے منسوخ ہوگئیں یہ کتاب تا قیامت منسوخ نہ ہوگی اسلئے کہ نبوت و رسالت کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے بعض قرآنی آیات کا بعض کے ذریعہ منسوخ ہونا اس کے منافی نہیں(تفسیر جلالین ھود-11)۔اللہ تعالیٰ نے اس (کی آیات) کو محفوظ کردیا باطل سے (یعنی باطل کے مقابلے میں) پھر اس کی تفصیل بیان کی اپنے علم کے ساتھ اور اس کے حلال اور اس کے حرام کو اور اس کی اطاعت کو اور اس کی معصیت کو تفصیلً بیان فرمایا (تفسیر در منثور ھود-11)۔

:فرمایا:

الۗرٰ   ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ[11]

الر۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہیں۔

اس کی آیات موتیوں کی طرح پروئی ہوئی ہیں ‘ ان کی ساخت پرداخت مضبوط ہے۔ نہ اس کے الفاظ میں کوئی نقص ہے نہ معنی میں کوئی عیب۔ ۔ فُصَلِتْ یعنی جس طرح ہار کے درمیان جگہ جگہ دریکدانہ پروئے جاتے ہیں  اسی طرح اس کی آیات الگ کردی گئی ہیں۔ کہیں اعتقادیات ، کہیں عملی احکام ، کہیں مواعظ ، کہیں واقعات کی اطلاع۔ یا فصل کردینے سے مراد ہے الگ الگ سورتیں مقرر کردینا ، یا تھوڑا تھوڑا (حسب ضرورت دنیا میں) بھیجنا مراد ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جن امور کی (اصلاح بشری کیلئے) ضرورت تھی ، ان کو بطور خلاصہ بیان کردیا گیا ہے(تفسیر مظہری ھود-11)۔ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی کل آیتیں شروع سے آخر تک بالکل مضبوط ہیں جیسے ایک دیوار کی بنیاد کہ کبھی اس میں ردو بدل ہونے والا نہیں ہے جیسے پہلی کتابیں توریت و انجیل وغیرہ کہ ایک کے بعد ایک منسوخ ہوتی گئیں پہلے یہ کتاب لوح محفوظ میں تھی پھر اللہ پاک نے اپنے سچے رسولﷺ پر تفصیل کے ساتھ اس کو نازل فرمایا اور حرام حلال کی تفصیل بتلادی جو قیامت تک قائم رہے گی(تفسیر احسن التفاسیر ھود-11)۔ یہ کتاب قرآن وہ ہے کہ جس کی آیات محکم ہیں جن میں عقل سلیم اور فہم مستقیم کو غور و فکر کرنے سے کوئی بھی خرابی اور نقص معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے اخبار ماضیہ سچے سچے واقعات عبرت خیز کا فوٹو ہیں، اس کے احکام تہذیب اخلاق سے لے کر سیاست ملک تک اور عالم آخرت میں سعادت عظمیٰ حاصل کرنے کے طریق حکماء کا دستور العمل ہیں۔ اس پر عبارت کی صفائی تہذیب اور سچائی کا زیور علاوہ ہے۔ ایسی کتاب اگر آسمانی کتاب نہیں تو کیا پھر محض تاریخی کتابیں کہ جن میں مبالغہ آمیز الفاظ اور توہمات ہوں یا وہ کہ جن میں عناصر اور مخلوقات کی پرستش ہو، عالم آخرت اور انسان کی سعادت کا طریقہ ندارد ہو، وہ آسمانی کتابیں ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں(تفسیر حقانی ھود-11)۔

:فرمایا:

تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ[12]

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں تو یہ خدا اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟

یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں یعنی ایسے دلائل اور براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کی واحدنیت اور اس کی قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ حق سے مراد صدق ہے۔ یعنی یہ ایسی آیات ہیں جو باطل نہیں اور جن میں جھوٹ نہیں( تفسیر قرطبی الجاثیہ-6)۔ جب اللہ کی ہستی اور اس کی وحدانیت پر خود اللہ ہی کے بیان کیے ہوئے یہ دلائل سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اب کیا چیز ایسی آسکتی ہے جس سے انہیں دولتِ ایمان نصیب ہوجائے۔ اللہ کا کلام تو وہ آخری چیز ہے جس کے ذریعہ سے کوئی شخص یہ نعمت پا سکتا ہے۔ اور ایک اَن دیکھی حقیقت کا یقین دلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ جو معقول دلائل ممکن ہیں وہ اس کلام پاک میں پیش کردیے گئے ہیں( تفہیم القرآن الجاثیہ-6)۔ معلوم ہوا کہ جسے قرآن اور حضور ﷺسے ہدایت نہ ملے اسے پھر کسی سے ہدایت نہیں مل سکتی کیونکہ نہ قرآن کے بعد کوئی آسمانی کتاب ہے نہ حضور ﷺکے بعد کوئی نبی، حضور ﷺہدایت کا آخری وسیلہ ہیں یہ استفہام انکاری ہے ، اس آیت میں حدیث سے مراد ان کفار کی اپنی باتیں ہیں نہ کہ حدیث رسول اللہ ﷺ اور آیتوں سے مراد رب تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جن میں حضور ﷺ ،قرآن شریف۔ حضورؤ کی احادیث کریمہ سب کچھ شامل ہے (تفسیر نور العرفان الجاثیہ-6)۔

:فرمایا:

تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ[13]

یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں

 (الحکیم) اس جگہ الکتاب کی صفت کے طور پر آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کا فیصلہ دو ٹوک اور بےلاگ ہوتا ہے اگر تم سچائی پر ہو تو بلاشبہ اس کا فیصلہ تمہارے حق میں ہے خواہ تم کون ہو اور کہاں اور اگر تم راہ حق سے روگرداں ہو تو وہ یقینا ًتمہاری غلطی سے تم کو آگاہ کرے گا خواہ تم کون ہو اور کہاں ہو کیونکہ وہ ہمیشہ سچائی کا ساتھی ہے اور ہر حال میں اس کی حیثیت یہی ہے ایسا ممکن نہیں کہ ایک آدمی کے پاس دس سچائیاں ہیں لیکن ایک بات ایسی ہے جو سچی نہیں اور دوسرے کے پاس ایک سچائی ہے اور دس باتیں اس کی سچی نہیں ہیں تو قرآن کریم یہ نہیں کرے گا کہ دس سچائیوں والے کی ایک بات جو سچی نہیں اس کو بھی سچائی قرار دے دے اور نہ ہی وہ ایسا کرے گا کہ جس شخص کی دس باتیں سچی نہیں اس کی ایک سچائی کو بھی جھٹلا دے ۔ یہ ممکن ہی نہیں اور یہ وہ خوبی ہے جو اس کلام معجزانہ میں بدرجہ اتم موجود ہے اور اس کے سوا شاید ہی کسی کلام میں یہ خوبی موجود ہو اور یہی وہ حکمت ہے جو اس کتاب کے لئے مخصوص صفت کے طور پر استعمال ہوئی ہے یہ اتنا بڑا کمال ہے کہ ایسا کمال کسی دوسری جگہ دیکھنے میں نہیں آتا اور بلاشبہ یہی صفت نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کے اندر کامل اور مکمل طور پر پائی جاتی ہے  (تفسیر عروۃ الوثقی لقمان-2)۔

:حدیث شریف میں آتا ہے:

اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے سے بہت سے لوگوں کو بلندی عطا فرماتا ہے اور کچھ دوسروں کو پستی میں دھکیل دیتا ہے(صحیح مسلم صلاۃ المسافرین حدیث 817)۔

جس کے اندر قرآن میں سے کچھ نہیں (یعنی اسے کچھ قرآن یاد نہیں) وہ ویران گھر کی مانند ہے(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 841)۔

چند  باتیں قرآن کے بارے میں:

اس کو “قرآن ” اور “کتاب” کا لقب دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اور نام

“العلم “ہے، جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت 120 میں ہے﴿جَاء کَ مِنَ الْعِلْمِ

” الفرقان “ہے، جیسا کہ سورة اٰ ل عمران کی آیت 4 میں ہے﴿ وَأَنزَلَ الْفُرْقَان

“قصص الحق” ہے، جیسا کہ سورة اٰل عمران کی آیت 62 میں ہے﴿إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَق

“حبل اللہ “ہے جیسا کہ سورة اٰل عمران کی آیت 103 میں ہے﴿إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَق

” بیان” ہے،

” ھدیً” ہے

“موعظة” ہے،جیسا کہ یہ تینوں نام اٰل عمران کی آیت 138 میں﴿ہَذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَہُدًی وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْن

” نور مبین “ہے،جیسا کہ سورة نساء کی آیت 174 میں ہیں﴿قَدْ جَاء کُم بُرْہَانٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکُمْ نُوراً مُّبِیْنا﴾۔

“صراط مستقیم” ہے،جیسا کہ سورة انعام کی آیت 126 میں ﴿وَہَذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیْماً

“بینة” ہے، جیسا کہ سورة انعام کی آیت 157 میں ہے﴿ فَقَدْ جَاء کُم بَیِّنَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ

“کلام اللہ”ہے،جیسا کہ سورة توبہ کی 6 آیت میں ہے﴿ حَتَّی یَسْمَعَ کَلاَمَ اللّہ

” شفاء” ہے

“رحمة” ہے،جیسا کہ یہ دونوں نام سورة یونس کی آیت 57 میں ہیں﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء تْکُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَشِفَاء لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ وَہُدًی وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ

“فضل اللہ” ہے، جیسا کہ سورة یونس کی آیت 58 میں ہے﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّہِ﴾

“بلاغ “ہے جیسا کہ سورة ابراہیم کی آیت 56 میں ہے﴿ہَذَا بَلاَغٌ لِّلنَّاس﴾

“ذکر مبارک” ہے، جیسا کہ سورة انبیاء کی آیت 50 میں ہے﴿وَہَذَا ذِکْرٌ مُّبَارَکٌ أَنزَلْنَاہ

“نبأعظیم” ہے جیسا کہ سورة ص کی آیت 67 میں ہے ﴿قُلْ ہُوَ نَبَأٌ عَظِیْمٌ ﴾

“احسن الحدیث” ہے ،جیسا کہ سورة الزمر کی آیت 23 میں ہے ﴿اللَّہُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیْثِ

“صدق “ہے، جیساکہ سورة الزمر کی آیت 33 میں ہے ﴿وَالَّذِیْ جَاء بِالصِّدْقِ﴾

” بصائر “ہے،جیسا کہ سورة الجاثیہ کی، آیت 20 میں ہے﴿ہَذَا بَصَائِرُ لِلنَّاس

“حکمة بالغة “ہے ،جیسا کہ سورة القمر کی آیت5 میں ہے ﴿حِکْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا  تُغْنِ النُّذُر

“تذکرہ ہے”، جیسا کہ سورة الحاقہ کی آیت 48 میں ہے﴿وَاِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِيْنَ

“قول فصل “ہے، جیساکہ سورة طارق کی آیت13 میں ہے﴿ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ﴾ ۔

تنبیہ1. قرآن کے ان اسماء میں سے اصل نام دو ہیں ایک ”قرآن“ یہ جمالی نام ہے، دوسرا” فرقان “یہ جلالی نام ہے۔ باقی سارے اسماء ان کی فرع ہیں

تنبیہ2.  یہ بھی ایک قاعدہ ہے کہ جس چیز کے بہت سے نام ہوں یہ اس کے عظیم الشان ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

(قرآن کا تعارف ، قرآن سے ، مولانا سخی داد، جامعہ فاروقیہ)

قرآن میں

 تیس(30) پارے،  ایک سو چودہ (114) سورتیں ، پانچ سو چالیس (540)رکوع، چھے ہزار دو سو چھتیس (6236) آیات اور  تین لاکھ چالیس ہزار سات سو چالیس (340740) حروف ہیں۔

 اس میں چھیاسی (86) سورتیں مکی ہیں جو حجرت سے پہلے نازل ہوئیں اور آٹھائیس(28) سورتیں مدنی یعنی حجرت کے بعد کی ہیں۔

[1] فصلت-3

[2] البقرہ-2

[3] فصلت-2

[4] طہ-4

[5] الشعراء-192

[6] الاحقاف-2 الجاثیہ-2،

[7] آل عمران-3

[8]یوسف-1

[9] النمل-1

[10] آل عمران-7

[11] ھود-1

[12] الجاثیہ-6

[13] لقمان-2