قرآن پر ایمان

قرآن پر ایمان لانا کیا ہے؟

قرآن پر ایمان لازم

وہ لوگ جو انسانی رشد وہدایت کے لئے آسمانی وحی کے قائل ہی نہیں بلکہ اپنی عقل کو ہی اپنی رہنمائی کے لئے کافی سمجھتے ہیں یا وحی کے قائل تو ہیں لیکن بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ وہ قرآنی ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے(تفسیر ضیاء القرآن البقرۃ-4)۔

فرمایا:

وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ    ۚ  [1]

اور جو کتاب (اے محمد ﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے ہیں

حضرت ابن عباس  فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کی طرف سے تم پر نازل ہوا اور تجھ سے پہلے کے انبیاء پر نازل ہوا وہ ان سب کی تصدیق کرتے ہیں ایسا نہیں کہ وہ کسی کو مانیں اور کسی سے انکار کریں بلکہ اپنے رب کی سب باتوں کو مانتے ہیں اور آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں یعنی بعث و قیامت، جنت و دوزخ، حساب و میزان سب کو مانتے ہیں۔ قیامت چونکہ دنیا کے فنا ہونے کے بعد آئے گی اس لئے اسے آخرت کہتے ہیں(تفسیر ابنِ کثیر البقرۃ-4)۔

فرمایا:

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ[2]

جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اسکے پڑھنے کا حق ہے، یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں اور جو لوگ اس کو نہیں مانتے وہ خسارہ پانے والے ہیں

ابن مسعود   نےفرمایا کرتے تھے اللہ کی قسم کہ اس کی تلاوت کا حق یہ ہے کہ اس کے حلال کو حلال کرتے ہیں اور اس کے حرام کو حرام کرتے ہیں اور اس کو اس طرح پڑھتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کو اتارا(تفسیر در منثور  البقرۃ-121)۔

فرمایا:

وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا  ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ[3]

اور جو لوگ علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان(متشابہ آیات) پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے پروردگا کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں

جو لوگ قرآن کی تعلیمات کا مرکز اور محور آیات محکمات کو مانتے ہیں اور متشابہات کے بارے میں اپنے علم کے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کے حقیقی معانی کو خدا کے سپرد کرتے ہوئے یوں کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کا جو مفہوم اللہ کے نزدیک ہے ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اس پر ہمارا ایمان ہے(تفسیر انوار البیان آل عمران-7)۔

فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْ نَزَّلَ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۭ[4]

مومنو ! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنے پیغمبر (آخر الزماں ﷺ) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ

فرمایا:

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِھَا وَيُسْتَهْزَاُ بِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖٓ  ڮ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْكٰفِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعَۨا[5]

اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں ان کے پاس مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں (سب کو) دوزخ میں اکٹھا کرنے والا ہے

برائی کا ارتکاب کرنے والوں سے اجتناب کرنے کی یہ دلیل ہے، جب ان سے کسی برائی کا ظہور ہو، کیونکہ جس نے ان سے اجتناب نہیں کیا وہ ان کے فعل سے راضی ہے اور کفر پر رضا بھی کفر ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” انکم اذا مثلھم “۔ جو کسی بری مجلس میں بیٹھا اور ان پر انکار نہ کیا تو گناہ میں ان سے برابر کا شریک ہوگا، اور جب وہ برائی کلام کریں اور برائی کا عمل کریں تو ان پر انکار کرنا چاہیے اگر انکار کی طاقت نہیں ہے تو ان سے اٹھ جانا چاہیے تاکہ اس آیت کے مصداق سے نہ ہو، حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک قوم کو شراب پیتے ہوئے پکڑا تو انہیں ایک شخص کے بارے بتایا گیا کہ وہ روزہ دار ہے آپ نے اسے بھی تادیب کا حکم دیا اور پھر یہ آیت پڑھی (المحرر الوجیز، جلد ٢، صفحہ ١٢٤ دارالکتب العلمیہ) (آیت) ” انکم اذا مثلھم “۔ یعنی معصیت (برائی) پر رضا بھی معصیت ہے اسی وجہ سے برائی کرنے والے اور اس پر راضی سب سے مواخذہ کیا گیا ہے کہ تمام ہلاک ہوگئے یہ مماثلث تمام صفات میں نہیں ہے بلکہ اتصاف کی وجہ ظاہر حکم کے ساتھ مشابہت کا الزام ہے(تفسیر قرطبی النساء-140)۔

فرمایا:

وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰٓي اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَـقِّ ۚ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ[6]

اور جب یہ لوگ وہ کلام سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو چونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہوتا ہے، اس لیے تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ وہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں۔ (اور) وہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں، لہذا گواہی دینے والوں کے ساتھ ہمارا نام بھی لکھ لیجیے۔

عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر  فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی  اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔

فرمایا:

وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ  ۭ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ[7]

اور جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

جو کوئی اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں بیہودہ بحث کرے اس کی جالست چھوڑ دی جائے اور اسے بھی چھوڑ دیا جائے، چاہے وہ مومن ہو یا کافر۔ فرمایا : اور اسی طرح ہمارے اصحاب نے دشمن کی سر زمین میں داخل ہونے اور ان کے چرچ اور عبادت گاہوں میں داخل ہونے سے منع کیا ہے اور کفار اور اہل بدعت کے ساتھ بیٹھنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ ان کی محبت و مودت کا اعتقاد نہ رکھا جائے اور نہ ان کا کلام سنا جائے اور نہ ان کے ساتھ مناظرہ کیا جائے(تفسیر قرطبی  الانعام-68)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَهُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ[8]

 اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی (پوری) خبر رکھتے ہیں۔

فرمایا:

ۭ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ[9]

میں اس(رحمت) کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

یعنی میرے اختیارات تو غیر محدود ہیں۔ جو چاہوں جیسے چاہوں کروں کسی کو اعتراض نہیں۔ میری رحمت کے خزانے خرچ کرنے سے ختم نہیں ہوتے۔ میری رحمت کا دامن بہت وسیع ہے۔ لیکن اس کے حقدار صرف وہی لوگ ہیں جن میں یہ صفات پائی جاتی ہیں۔(تفسیر ضیاء القرآن الاعراف-156)۔عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ میں نے کتاب میں پایا کہ یہ امت اللہ کے ذکر سے محبت کرتی ہے جیسے کبوتری اپنے گھونسلے سے محبت کرتی ہے۔ اور وہ اللہ کے ذکر کی طرف اس اونٹ سے بھی زیادہ تیزی سے آتے ہیں جو اپنے گھاٹ کی طرف پیاس کے دن تیزی سے آتا ہے(تفسیر درمنثور الاعراف-156)۔

فرمایا:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ[10]

درحقیقت مومن (وہ ہوتے ہیں) جو کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں ان  کے دل اور جب تلاوت کی جائے ان  پر ان  کی آیات تو بڑھا دیتی ہیں ان  کو ایمان  میں اور اپنے رب پر وہ بھروسا رکھتے ہیں

 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت ان کے دلوں میں رچی اور بھری ہوئی ہے جس کا ایک تقاضا ہیبت و خوف ہے۔۔مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس جگہ اللہ کے ذکر اور یاد سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب کا ارادہ کر رہا تھا اسی حال میں اس کو اللہ تعالیٰ کی یاد آگئی تو وہ اللہ کے عذاب سے ڈر گیا۔ اور گناہ سے باز آگیا۔ اس صررت میں خوف سے مراد خوف عذاب ہی ہوگا۔ (تفسیر معارف القرآن الانفال-2)۔

فرمایا:

  ۭهُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا[11]

اسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی

(یعنی)اللہ نے قرآن کریم کے نزول سے پہلے کتب انبیاء کرام ؑ میں تمہارا لقب مسلمان رکھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول اکرم ﷺ تمہاری گواہی دینے اور تصدیق کرنے والے ہوں اور تم انبیاء کرام ؑ کے لیے ان کی قوموں کے مقابلہ میں گواہ ہو(تفسیر ابنِ عباس الحج-78)۔نبی اکرم ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ کے دو نام رکھے گئے ہیں میری امت کا نام ان ناموں کے ساتھ رکھا گیا ایک نام سلام ہے اور میری امت کا نام مسلمین رکھا اور دوسرا نام مومن ہے اور میری امت کا نام مومنین رکھا(تفسیر درمنثورالحج-78)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ[12]

اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِـرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا    [13]

اور وہ لوگ کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرپڑتے

اور رحمان کے نیک بندے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو پروردگار کے احکام سے ہدایت کی جائے تو بہرے اور اندھے ہو کر ان پر نہیں گرتے یعنی ایسی طرح سے نہیں سنتے کہ گویا سنا ہی نہیں بلکہ ایسی طرح سے سنتے ہیں کہ ان پر عمل بھی کریں(تفسیر ثنائی الفرقان-73)۔

فرمایا:

اُتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ[14]

(اے محمد!ﷺ یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اور ایمان داروں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے اوروں کو بھی سنائیں(تفسیر ابنِ کثیر العنکبوت-45)۔ پس اے نبی ﷺ! جو کتاب تیری طرف الہام کی گئی ہے تو لوگوں کو پڑھ کر سنا اور خود بھی اس پر عمل کر اس کی تعیم میں عملی طور پر سب سے مقدم نماز ہے(تفسیر ثنائی العنکبوت-45)۔

فرمایا:

ۭ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ [15]

جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں

فرمایا:

اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ(آیت سجدہ)  [16]

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے

یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے یعنی وہ کفر سے محبت کی بنا پر تم پر ایمان نہیں رکھتے۔ تجھ پر اور قرآن پر وہ لوگ ایمان لائیں گے جو تدبر کرنے والے ہوں گے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے والے ہوں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جب ان پر قرآن پڑھا جائے گا تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں(تفسیر قرطبی السجدہ-15)۔

فرمایا:

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا    ڜ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يُوْقِنُوْنَ  [17]

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

اور بنی اسرائیل جب ایمان و اطاعت پر ثابت قدم رہے تو ہم نے ان میں بہت سے پیشوا بنا دیے تھے جو مخلوق کو ہمارے حکم کی طرف بلاتے تھے اور وہ لوگ اپنی کتاب کی پیش گوئی کی وجہ سے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا یقین رکھتے تھے(تفسیر ابنِ عباس السجدہ-24)۔

فرمایا:

وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلٰى فِيْ بُيُوْتِكُنَّ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيْفًا خَبِيْرًا[18]

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو بیشک خدا باریک بین اور باخبر ہے

 آیت واذکرن کا معنی ہے تم یاد کرو، انہیں پڑ ھو اور زبانوں پر اسے لازم کرو۔ گویا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی کو یاد رکھو۔ یہی وہ چیز ہے جن کی تمہارے(ازواج نبیﷺ) گھروں میں اللہ تعالیٰ کی آیات کی صورت میں تلاوت کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ جو قرآن حکیم ان کے گھروں میں نازل ہوتا ہے اس کی خبر دیں اور جو نبی کریم ﷺکے افعال دیکھتی ہیں اور آپ ﷺکے جو اقوال سنتی ہیں اس کی خبر دیں تاکہ یہ لوگوں تک پہنچیں تو لوگ ان پر عمل کریں اور اس کی اقتدا کریں۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ دین کے معاملہ میں مردوں اور عورتوں کی جانب سے خبر واحد قبول کی جائے گی۔ ابن عربی نے کہا : اس آیت میں عمدہ مسئلہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺپر جو قرآن نازل کیا جائے اس کی تبلیغ کریں اور دین میں سے جن امور سے آگاہ ہوں اس کی تعلیم دیں ۔ جب آپ ﷺکسی ایک پر آیت پڑھ دیتے یا کوئی اتفاقا اس کو سن لیتا تو آپ ﷺسے فرض ساقط ہوجاتا تو اسے جو سنتا اس پر لازم تھا کہ اسے دوسروں تک پہنچائے(تفسیر قرطبی الاحزاب-34)۔

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً يَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَـبُوْرَ  [19]

جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیداوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی

ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں اور نماز ہمیشہ پڑھتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کودے رکھا ہے ان میں سے پوشیدہ اور علانیہ ہماری راہ میں یعنی زکوۃ یاصدقہ کے طور پر خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ان کو گھاٹا ہی نہیں کیونکہ اللہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے اور ان کے گناہ اور قدردانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا اے محبوب ﷺ کتاب یعنی قرآن جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے وہی حق ہے اسی واسطے یہ تصدیق کرتا ہے ان کتابوں کی جو اس سے آگے ہیں جیسے توریت اور انجیل وغیرہ۔ اور یہ پہلی کتابوں کی صداقت دیتی ہے بلاشک اللہ اپنے بندوں کے حال کو خوب خبررکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کون مستحق فضیلت ہے تمام رسولوں کو اس نے سارے آدمیوں پرفضیلت دی ہے اور بعض نبیوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور نبی آخرالزمانﷺ کا مرتبہ سب نبیوں سے زیادہ کیا ہے پھر فرمایا پہلی کتابوں کی صداقت جبکہ اس قرآن میں ہے تو اس قرآن کے ذریعہ سے ان پہلی کتابوں کا ہم نے ان لوگوں کو وارث بنایا جن کو پسند فرمایا ہم نے اپنے بندوں میں سے کہ وہ قائم رکھنے والے ہیں اس کے حکموں کو مراد ان سے یہ امت محمدی ہے۔

فرمایا:

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ڰ تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهْدِيْ بِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ[20]

خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

یعنی کتاب اللہ سن کر اللہ کے خوف اور اس کے کلام کی عظمت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کھالیں نرم پڑجاتی ہیں۔ مطلب یہ کہ خوف و رعیت کی کیفیت طاری ہو کر ان کا قلب و قالب اور ظاہر و باطن اللہ کی یاد کے سامنے جھک جاتا ہے اور اللہ کی یاد ان کے بدن اور روح دونوں پر ایک خاص اثر پیدا کرتی ہے یہ حال اقویائے کاملین کا ہوا۔ اگر کبھی ضعفاء و ناقصین پر دوسری قسم کی کیفیات و احوال طاری ہوجائیں مثلاً غشی یا صعقہ وغیرہ تو اس کی نفی آیت سے نہیں ہوتی۔ اور نہ ان کی تفصیل ان پر لازم آتی ہے۔ بلکہ اس طرح از خود رفتہ اور بےقابو ہوجانا عموماً وارد کی قوت اور مورد کے ضعف کی دلیل ہے۔ جامع ترمذی میں ایک حدیث بیان کرتے وقت ابوہریرہ پر اس قسم کے بعض احوال کا طاری ہونا مصرح ہے(تفسیر عثمانی الزمر-23)۔

فرمایا:

ھٰذَا بَصَاۗىِٕرُ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ       [21]

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

 یعنی قرآن بڑی بڑی بصیرت افروز حقائق پر مشتمل ہے۔ لوگوں کو کام کی باتیں اور کامیابی کی راہ سجھاتا ہے۔ اور جو خوش قسمت اس کی ہدایات و نصائح پر یقین کر کے عمل پیرا ہوتے ہیں ان حق میں میں خصوصی طور پر قرآن و رحمت و برکت ہے(تفسیر عثمانی الجاثیہ-20)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ وَّهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۙكَفَّرَ عَنْهُمْ سَـيِّاٰتِهِمْ وَاَصْلَحَ بَالَهُمْ[22]

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) ﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے انکے گناہ دور کر دئیے اور انکی حالت سنوار دی

ان کے برعکس جو خوش نصیب دولت ایمان سے مالا مال ہوئے، کجروی کو چھوڑ کر انہوں نے راست روی اختیار کی، اپنے اعمال کو رضائے الٰہی اور اطاعت مصطفویٰ ﷺکے سانچے میں ڈھال لیا، قرآن کریم جو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا اس کو تسلیم کرلیا، ان کے ساتھ ہمارا رویہ یہ ہوگا کہ جو گناہ آج تک وہ کرتے چلے آئے ہیں وہ سب معاف کردیے جائیں گے، حاوات و شمائل کی طرح طرح کی جو خرابیاں ان میں پیدا ہوگئی ہیں وہ دور کردی جائیں گی۔ اب وہ سوچیں گے، تو صحیح نہج پر، قدم اٹھائیں گے، تو سیدھی راہ پر(تفسیر ضیاء القرآن-محمد-2)۔

فرمایا:

اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِيْلًا[23]

یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

علقمہ ؒ نے عبداللہ کے پاس پڑھا تو انہوں نے فرمایا اس کو آہستہ آہستہ پڑھو کیونکہ وہ قرآن کو زینت دینے والا ہے(تفسیر درمنثور المزمل-4)۔ قرآن کی قرات میں جلدی نہ کرو بلکہ ٹھہر ٹھہر کر اور معانی میں تدبر کرتے ہوئے پڑھو۔ ضحاک نے کہا کہ اسے حرف حرف کرکے پڑھو۔ مجاہد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرات قرآن میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے جو اسے سب سے زیادہ سمجھ کرپڑھتا ہے ترتیل سے مراد بڑی خوبصورتی سے منظم ومرتب کرنا(تفسیر قرطبی المزمل-4)۔

فرمایا:

اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُـثَيِ الَّيْلِ وَنِصْفَهٗ وَثُلُثَهٗ وَطَاۗىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ ۭ وَاللّٰهُ يُقَدِّرُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ  ۭعَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۭ عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى ۙ وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ ۙوَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ  ڮ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۙ [24]

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ  دو تہائی رات کے قریب اور  آدھی رات اور  تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہو سکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں۔ اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا پڑھ لیا کرو

مراد اس قرآن پڑھنے سے تہجد پڑھنا ہے کہ اس میں قرآن پڑھا جاتا ہے اور یہ امر ندب کے لئے ہے، مطلب یہ کہ تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی، اب جس قدر وقت تک آسان ہو بطور ندب کے اگر چاہو پڑھ لیا کرو(تفسیر بیان القرآن المزمل-20)۔ یعنی اللہ کو معلوم ہے کہ تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے اس کے حکم کی پوری تعمیل کی کبھی آدھی کبھی تہائی اور کبھی دو تہائی رات کے قریب اللہ کی عبادت میں گزاری۔ چنانچہ روایات میں ہے کہ صحابہ کے پاؤں راتوں کو کھڑے کھڑے سوج جاتے اور پھٹنے لگتے تھے۔ بلکہ بعض تو اپنے بال رسی سے باندھ لیتے تھے کہ نیند آئے تو جھٹکا لگ کر تکلیف سے آنکھ کھل جائے۔بندوں کو اس نیند اور غفلت کے وقت روزانہ آدھی، تہائی، اور دو تہائی رات کی پوری طرح حفاظت کرنا خصوصاً جبکہ گھڑی گھنٹوں کا سامان نہ ہو، سہل کام نہیں تھا، اسی لیے بعض صحابہ رات بھر نہ سوتے تھے کہ کہیں نیند میں ایک تہائی رات بھی جاگنا نصیب نہ ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے معافی بھیج دی اور فرما دیا کہ تم اس کو ہمیشہ پوری طرح نباہ نہ سکو گے۔ اس لیے اب جس کو اٹھنے کی توفیق ہو، وہ جتنی نماز اور اس میں جتنا قرآن چاہے پڑھ لے۔ اب امت کے حق میں نہ نماز تہجد فرض ہے نہ وقت کی یا مقدار تلاوت کی کوئی قید ہے(تفسیر عثمانی المزمل-20)۔

[1] البقرہ-4

[2] البقرہ-121

[3] آل عمران-7

[4] النساء-136

[5] النساء-140

[6] المائدہ-83

[7] الانعام-68

[8] الانعام-92

[9] الاعراف-156

[10] الانفال-2

[11] الحج-78

[12] المومنون-58

[13] الفرقان-73

[14] العنکبوت-45

[15] الروم-53

[16] السجدہ-15

[17] السجدہ-24

[18] الاحزاب-34

[19] فاطر-29

[20] الزمر-23

[21] الجاچیہ-20

[22] محمد-2

[23] المزمل-4

[24] المزمل-20