قرآن سے کفر

قرآن سے کفر کا کیا معنی ہیں

کتاب سے کفر

حدیث شریف میں آتا ہے کہ: نبی ﷺ کی شفاعت کی باعث  اللہ تعالی بہت سوں کو دوزخ سے نجات فرما دیں گے اور پھرنبی ﷺ فرمائیں گے کہ “دوزخ میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جن کے حق میں قرآن نے ہمیشہ کا عذاب لازم کردیا ہے”( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 475)۔

فرمایا:

وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا    [1]

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

قیامت والے دن اللہ کے سچے رسول آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اپنی امت کی شکایت جناب باری تعالیٰ میں کریں گے کہ نہ یہ لوگ قرآن کی طرف مائل تھے نہ رغبت سے قبولیت کے ساتھ سنتے تھے بلکہ اوروں کو بھی اس کے سننے سے روکتے تھے(تفسیر ابنِ عباس الفرقان-30)۔

 اہل کتاب سے فرمایا:

وَاٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُوْنُوْٓا اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ    ۠   وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰيٰتِىْ ثَـمَنًا قَلِيْلًا  وَاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ[2]

اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمد ﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب (تورات) کو سچا کہتی ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکر اول نہ بنو اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) نہ حاصل کرو اور مجھ ہی سے خوف رکھو

 یعنی قرآن کی دیدہ و دانستہ تکذیب کرنے والوں میں اول مت ہو کہ قیامت تک کے منکرین کا وبال تمہاری گردن پر ہو، اور مشرکین مکہ نے جو انکار کیا ہے وہ جہل اور بیخبر ی کے سبب کیا ہے دیدہ و دانستہ ہرگز نہ تھا اس میں تو اول تم ہی ہو گے اور یہ کفر پہلے کفر سے سخت تر ہے۔(تفسیر عثمانی البقرۃ-41)۔ یہ آیت اگرچہ نبی اسرائیل کے ساتھ خاص ہے لیکن یہ اس کو بھی شامل ہے جو ان جیسا فعل کرے گا۔ پس جو حق میں تبدیلی یا اس کو باطل کرنے پر رشوت لے گا یا واجبی تعلیم کے دینے سے انکار کرے گا یا جو اس نے سیکھا اس کی ادائیگی سے رکے گا حالانکہ اس کا سکھانا اس پر متعین ہے حتیٰ کہ وہ اس پر اجرت لے تو وہ اس آیت کے مقتضیٰ میں داخل ہے(تفسیر قرطبی البقرۃ-41)۔

فرمایا:

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ[3]

(مومنو ! ) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہوجائیں گے (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلام خدا (یعنی تورات) کو سنتے پھر اس کے بعد سمجھ لینے کے اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں

اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لئے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحریف اور تبدیلی کر ڈالی تو ان سے تم کیا امید رکھتے ہو (تفسیر ابنِ کثیر البقرۃ-75)؟

فرمایا:

 اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ  ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ[4]

جو لوگ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا، اور خدا زبردست (اور بدلہ) لینے والا ہے

فرمایا:

وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ۙ وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ښ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ۡ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ[5]

اور جب خدا کے ہاں سے انکے پاس کتاب آئی جو ان کی آسمانی کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہوگئے پس کافروں پر خدا کی لعنت

جب ان لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب آئی ہے جو اس کتاب کے جو کہ ان کے پاس ہے توحید اور رسول اکرمﷺکے اوصاف اور آپﷺ کی صفت اور بعض شرعی امور میں موافقت کرتی ہے تو اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ رسول اکرم ﷺ کی بعثت اور قرآن حکیم کے نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کے ذریعے اپنے دشمن قبیلوں اسد، غطفان ومزنیہ وجہینہ کے خلاف مدد طلب کیا کرتے تھے اور جس وقت رسول اکرم ﷺآئے اور یہ لوگ آپ کے صفت واصاف سے سے بخوبی واقف تھے تو انہوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا ان یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور ناراضگی ہے(تفسیر ابنِ عباس البقرۃ-89)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ[6]

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

فرمایا:

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَهٗ ۤ وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ[7]

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے اس کو مانو تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہوچکی ہے ہم تو اسی کو مانتے ہیں (یعنی) یہ اس کے سوا اور (کتاب) کو نہیں مانتے حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے اس کی بھی تصدیق کرتی ہے

جب یہودیوں کو قرآن حکیم کی دعوت دی گئی تو انہوں نے توریت کے سوا اور سب چیزوں کے ماننے سے انکار کردیا ، انہوں نے کہا ، ہم تو وہی ماننے کے مکلف ہیں جو ہمارے نبی پر نازل ہوا ہے ، اس پر قرآن حکیم نے دو اعتراض کئے ہیں ایک یہ کہ اگر یہ واقعہ ہے تو تمہاری پہلے انبیاء سے کیوں جنگ رہی ؟ گزشتہ انبیاء کیوں تمہارے ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے ؟ وہ تو سب اسرائیلی تھے ۔ دوسرا یہ کہ توریت وقرآن کے پیغام میں کیا اختلاف ہے قرآن حکیم تو وہی پیغام پیش کرتا ہے جو توراۃ کا موضوع اشاعت تھا پھر انکار کیوں ؟ بات اصل میں یہ ہے کہ تم نے نہ کبھی توراۃ کو مانا ہے اور نہ اب قرآن کو ماننے کے لئے تیار ہو ، ورنہ ان دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ، پیغام ایک ہے مقصد ایک ہے تعلیم ایک ہے ، فرق صرف اجمال و تفصیل کا ہے یا نقص و کمال کا قرآن حکیم مصدق ہے مہیمن ہے اور ساری کائنات کے لئے اتحاد عمل ہے ، اس میں کوئی تعصب نہیں کوئی جانب داری نہیں(تفسیر سراج البیان  البقرۃ-91)۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کتاب پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے تمام احکام اور تمام تقاضوں پر عمل کیا جائے اور ان آیات میں بار بار یہی فرمایا گیا ہے کہ اگر تمہارا تورات پر ایمان تھا تو تم اس کے احکام کی خلاف ورزی کیوں کرتے تھے ؟ آج ہم بھی قرآن مجید پر ایمان لانے کے دعوی دار ہیں لیکن قرآن مجید پر عمل نہیں کرتے تو جو بات یہود سے کہی گئی ہے وہی ہم پر صادق آرہی ہے۔ قرآن نے ہمیں نماز پڑھنے، روزے رکھنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا ہے اور ہماری بھاری اکثریت اس پر عمل نہیں کرتی ۔ قرآن مجید نے ہمیں ناجائز طریقہ سے مسلمانوں کا مال کھانے سے منع کیا اور ہم رشوت اسمگلنگ ، ملاوٹ ، مصنوعی اشیاء بلیک مارکیٹنگ ، چور بازاری، لوٹ مار اور ڈاکوں سے دوسرے مسلمانوں کا مال کھا رہے ہیں۔ قرآن نے ہمیں قتل ناحق سے منع کیا اور ہم مسلمانوں کا خون بہانے سے باز نہیں آتے ۔ قرآن نے ہماری عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا اور بوقت ضرورت پردے کے ساتھ نکلنے کا حکم دیا لیکن ہمارا معاشرہ کے ہر طبقہ میں عورت بےپردہ بناؤ سنگھار کرکے اجنبی مردوں کے سامنے رہتی ہے اور بےحیائی کی راہیں کھولتی ہیں۔ یہود کے متعلق بار بار فرمایا کہ ان پر اللہ کا غضب بالائے غضب ہے اور وہ جہاں بھی ہوں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور آج ان یہودیوں کو اللہ نے مسلمانوں پر مسلط کردیا اور یہودیوں نے مسلمانوں کے علاقے چھین لیے اور بار بار مسلمان یہودیوں سے شکست کھا رہے ہیں تو سوچنا چاہیے کہ جو قوم اس لعنتی اور مغضوب قوم سے پہیم شکست کھا رہی ہے وہ خود کس قدر اللہ کے غضب میں ڈوبی ہوئی اور رحمت سے دور ہوگی(تفسیر تبیان البیان البقرۃ-91)۔

فرمایا:

يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ[8]

اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ اور تم (تورات) کو مانتے تو ہو

فرمایا:

قُلْ يٰٓاَھْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ڰ وَاللّٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰي مَا تَعْمَلُوْنَ[9]

کہو کہ اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو ؟ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــحِيْمِ[10]

اور جن لوگوں کے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

فرمایا:

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَـقِّ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ لَفِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍ[11]

یہ اس لیے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آ کر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس عتاب کے مستحق اس وجہ سے ٹھہریں گے کہ خدا نے ان کو راہ رست پر لانے کے لیے ایک ایسی کتاب اتاری جو تمام جھگڑوں اور سارے اختلافات کو چکا دینے والی ہے لیکن انہوں نے اس کے بعد بھی ہدایت کی جگہ ضلالت ہی کو اختیار کیا تو یہ اسی بات کے مستحق ہیں کہ یہ ہمیشہ کے لیے خدا کی نظر التفات سے محروم ہو کر اس عذاب میں پڑیں جس سے ان کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو(تفسیر تدبر قرآن البقرۃ-176)۔

فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا  ۭ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاۗءُ مِنْ اَفْوَاهِھِمْ ښ وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ  ۭ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ[12]

مومنو ! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی (اور فتنہ انگیزی کرنے میں) کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنادی ہیں

اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اس آیت کے ساتھ منع فرمایا ہے : کہ وہ کفار، یہود اور اہل ھوا کو اپنے معاملات میں دخیل اور راز دار بنائیں کہ وہ آراء اور مشاورت میں ان کے ساتھ تبادلہ خیالات کرکے اور اپنے معاملات ان کے سپرد کردیں، اور کہا جاتا ہے : کل من کان علی خلاف مذھبک ودینک فلا ینبغی لک ان تحادثہ۔ یعنی ہر وہ جو تیرے مذہب اور تیرے دین کے خلاف ہے اس کے ساتھ تیرا مشاورت اور گفتگو کرنا مناسب نہیں(تفسیر قرطبی آل عمران-118)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ[13]

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انھیں عذاب ہوگا۔

فرمایا:

ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا يُحِبُّوْنَكُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّھٖ ۚوَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ[14]

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو ! ) غصے میں مرجاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

فرمایا:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ كَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ  ۭوَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا[15]

اے کتاب والو ! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کی شکلوں کو بگاڑ کر ان کو پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہیں کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لاؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہو چکا

اس آیت میں ان یہودیوں کے لئے طمس (شکل مسخ)کردینے کی وعید ہے جو ایمان نہ لائیں۔ مندرجۂ ذیل روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام  نے جب یہ آیت سنی تو گھر جانے سے پہلے ہی خدمت گرامی میں حاضر ہوگئے اور اس اندیشہ سے کہ کہیں چہرہ بگڑ نہ گیا ہو۔ چہرہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔ حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمجھے امید نہ تھی کہ (صحیح سالم) گدی کی طرف منہ پلٹ جانے سے پہلے میں یہاں تک پہنچ سکوں گا یہ کہہ کر مسلمان ہوگئے(تفسیر مظہری النساء-47)۔

فرمایا:

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۭ سَنَجْزِي الَّذِيْنَ يَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰيٰتِنَا سُوْۗءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يَصْدِفُوْنَ[16]

اور اس سے بڑھ کر ظالم ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان کے (لوگوں کو) پھیرے ؟ جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزادیں گے۔

ایسے آدمیوں کو جو قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ سے اعراض کرتے ہیں ان کے اس اعراض کی وجہ سے سخت ترین سزادیں گے(تفسیر ابنِ عباس الانعام-157)۔

فرمایا:

وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا[17]

 اور جو شخص خدا اور اسکے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روز قیامت سے انکار کرے وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑا

اس آیت کا نزول عبداللہ  بن سلام ،اسد بن کعب ، اسید  بن کعب ، ثعلبہ بن قیس، عبداللہ بن سلام کے بھانجے سلام اور بھتیجے سلمہ  اور یامین بن یامین کے متعلق ہوا تھا۔ ان لوگوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا کہ ہمارا ایمان آپﷺ پر اور آپ ﷺکی کتاب پر بھی ہے اور موسیٰؑ اور تورات اور غریر پر بھی ان کے علاوہ ہم کسی کتاب اور پیغمبر کو نہیں مانتے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہ تمام حضرات مسلمان ہوگئے(تفسیر مظہری النساء-136)۔ پہلی کتابوں پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ بھی قرآن کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں باقی رہا عمل تو وہ ان پر نہیں بلکہ قرآن اورنبی ﷺ کی سنت پر کیا جائے گا۔ ان کتابوں میں جو چیز کتاب وسنت کے مطابق ہوگی اس کی تصدیق کی جائیگی۔ اور جو ان کے خلاف ہوگی اسے رد کردیا جائے گا(تفسیر اشرف الحواشی النساء-136)۔

فرمایا:

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ[18]

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزّماں) آگئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے۔

آنحضرت ﷺ کو نور اور قرآن کو کتاب مبین بیان فرما کر یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ قرآن نے جو کچھ مذہب انبیاء میں تحریفات واقع ہوگئی تھیں سب کی اصلاح کردی ہر بات کو جس کی ضرورت تھی بیان کردیا اور آنحضرت ﷺ یا مذہب اسلام آسمانی نور ہے مگر یہ بات ہے کہ اس آفتاب کی روشنی سے وہی مستفید ہوسکتا ہے کہ جس کو خدا نے توفیق ازلی کی آنکھیں عطا کی ہیں(تفسیر حقانی المائدہ-15)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ[19]

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں جلتے رہیں گے۔

فرمایا:

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَاۗءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ[20]

اے اہل کتاب (پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو ایک عرصہ تک منقطع رہاتو) اب تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آگئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا

گویا حضور ﷺکی تشریف آوری اور حضرت عیسیٰ ؑ کا درمیانی عرصہ چھ سو سال کے قریب ہوا۔ اہل کتاب کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ نبی تشریف فرما ہوگیا جس کا تمہیں انتظار تھا۔ اب اگر اس کی اطاعت نہ کرو اور اس پر ایمان لا کر اپنی نجات کا سامان نہ کرو تو تمہاری مرضی۔ کل تمہارا یہ عذر نہ سنا جائے گا کہ اے رب ! ہم کیا کرتے ہمیں تو راہ دکھانے والا کوئی آیا ہی نہیں(تفسیر ضیاءالقرآن المائدہ-19)۔

فرمایا:

سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ[21]

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔

فرمایا:

قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ۙ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ[22]

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ تم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔

 یہود سے دریافت کرو کہ تم ہم سے ناراض اور کھچے کھچے کیوں رہتے ہو۔ چور ہم نہیں۔ جھوٹ ہم نہیں بولتے۔ کسی پر ظلم وتعدی ہم نہیں کرتے۔ کسی کے دین کی توہین کرنا ہمارا شیوہ نہیں۔ پھر اس غصہ وغضب کی آخر کیا وجہ ہے ؟ ہاں ہم میں ایک چیز ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو واحد ویکتا سمجھتے ہیں، اس کی جو کتاب ہم پر نازل ہوئی یا جو کتابیں ہم سے پہلے انبیاء سابقین پر نازل ہوئیں۔ ان سب پر ایمان لائے ہوئے ہیں شاید اس وجہ سے تم ہمیں برا سمجھتے ہو۔ اگر یہی وجہ ہے اس بغض و عناد کی تو پھر خود ہی انصاف کرو خطا کس کی ہے ہماری یا تمہاری(تفسیر ضیاء القرآن المائدہ-59) ؟

فرمایا:

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ ۭ وَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا[23]

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب ہر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لیجا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر راستے سے دور ڈال دے

منافقین میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کو بشر کہا جاتا تھا ایک یہودی سے اس کا جھگڑا تھا یہودی نے اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا اور منافق نے اس کو کعب بن اشرف کی طرف بلایا۔ پھر وہ دونوں نبی ﷺ کے پاس اپنا فیصلہ لے گئے آپﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ فرما دیا منافق راضی نہیں ہوا۔ پھر اس نے کہا آجاؤ ہم عمر بن خطاب کے پاس اپنا فیصلہ لے جاتے ہیں یہودی نے عمر سے کہا ہمارا فیصلہ رسول اللہﷺنے کردیا ہے۔ تو یہ آدمی آپﷺ کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوا۔ حضرت عمر نے منافق سے پوچھا کیا ایسے ہی ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! عمر نے فرمایا اپنی جگہ ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آتا ہوں۔ عمر  گھر میں گئے اور اپنی تلوار اٹھا کرلے آئے اور باہر آکر اس منافق کی گردن اڑا دی یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر انہوں نے فرمایا میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں اس آدمی کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ پر راضی نہ ہو(تفسیر درمنثور النساء-60)۔

فرمایا:

وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ وَمَا يَكْفُرُ بِهَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ[24]

اور تحقیق البتہ ہم نے نازل کیں آپ کی طرف کھلی (اور صاف) آیات اور نہیں انکار کرتے انکا مگر نافرمان۔

(اس آیت میں ایک خاص عہد شکنی کا ذکر فرماتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے میں کلام تھا ارشاد ہوتا ہے) اور جب ان کے پاس ایک (عظیم الشان) پیغمبر آئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو (رسول ہونے کے ساتھ) تصدیق بھی کر رہے ہیں اس کتاب کی جو ان لوگوں کے پاس ہے (یعنی توراۃ کی کیونکہ اس میں آپ کی نبوت کی خبر ہے تو اس حالت میں آپ پر ایمان لانا عین توراۃ پر عمل تھا جس کو وہ بھی کتاب اللہ جانتی ہیں مگر باوجود اس کے بھی) ان اہل کتاب میں کے ایک فریق نے خود اس کتاب اللہ ہی کو اس طرح پس پشت ڈال دیا جیسے ان کو (اس کے مضمون کا یا کتاب اللہ ہونے کا) گویا اصلاً علم ہی نہیں (تفسیر معارف القرآن البقرۃ-99)۔

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ ۙاُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ[25]

جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لیے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں

یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بارے میں  نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لئے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں(تفسیر السعدی البقرۃ-159)۔

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ۙ اُولٰۗىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ ښ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ[26]

جو لوگ (خدا کی) کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی فائدہ) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن کلام نہ کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا اور ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

آیات مذکورہ سے معلوم ہوا کہ جو شخص مال کے لالچ سے حکم شرعی کو بدل دے وہ جو یہ مال حرام کھاتا ہے گویا اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہا ہے کیونکہ اس عمل کا انجام یہی ہے اور بعض محقق علماء نے فرمایا کہ مال حرام درحقیقت جہنم کی آگ ہی ہے اگرچہ اس کا آگ ہونا دنیا میں محسوس نہیں ہوتا مگر مرنے کے بعد اس کا یہ عمل آگ کی شکل میں سامنے آجائے گا(تفسیر معارف القرآن البقرۃ-174)۔

فرمایا:

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا  ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ[27]

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے ؟

یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت و جہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔ پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے اور کلام کی بھلائی برائی سے بے خبر رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں(تفسیر ابنِ کثیر البقرۃ-170)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ[28]

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

فرمایا:

وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِالَّذِيْٓ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَاُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَاِلٰـهُنَا وَاِلٰــهُكُمْ وَاحِدٌ وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ  [29]

اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریقے سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو ان میں سے بے انصافی کریں (ان کے ساتھ اسی طرح کا مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھے ہوئے پیرائے سے سمجھا دینا چاہئے(تفسیر ابنِ کثیر العنکبوت-46)۔

فرمایا:

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَهُمْ ۘ اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ[30]

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے اس کوس طرح پہنچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہنچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے۔ وہ ایمان نہیں لاتے۔

قرآن کریم میں اس بات کا ذکر بار بار آتا ہے کہ اہل کتاب یہود ونصاری  قرآن کریم کو بعینہ اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ رسول برحق ہیں اور یہ قرآن کریم ان پر اللہ کی جانب سے نازل ہو رہا ہے ۔ یہ حقیقت اہل کتاب کے ساتھ کلام کرتے ہوئے بھی بیان کی گئی ہے اور مشرکین عرب کے مقابلے میں بھی یہ دلیل دی گئی (تفسیر فی ظلال القرآن الانعام-20)۔

فرمایا:

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ  ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ[31]

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے۔

فرمایا:

ءُ ۭ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا[32]

اے محمدﷺ یہ کتاب جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا

حضور ﷺنے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺیہ کیسے ہوسکتا ہے کہ علم اٹھ جائے؟ ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ ﷺنے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی ؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی(تفسیرمظہری المائدہ-64)۔

فرمایا:

ۭوَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا  ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ[33]

 اور (یہ قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا۔ تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ آپ ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتے ہیں(تفسیر ابن کثیر المائدہ-68)۔ اس ” جہالت “ کا ستیانا س۔ یہ چیز ہی ایسی ہے کہ اس کو ” علم “ کے ساتھ شروع سے ” حسد “ ہے اور حسد ہی وہ آگ ہے جو ساری نیکیوں کو بھسم کر کے رکھ دیتی ہے۔ ” جاہل “ پہلے تو نیکی کرتا ہی نہیں لیکن اگر اس سے کوئی نیکی ہو بھی جائے تو اس کو برباد کرتے کوئی دیر نہیں لگتی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا عقل و فکر ، سمجھ و سوچ اور علم و دانش سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اہل کتاب چونکہ صرف نام ہی کے اہل کتاب تھے عمل و فعل کے لحاظ سے بالکل ” جاہل “ تھے۔ اگر وہ ” جاہل “ نہ ہوتے تو قرآن کریم کو قبول کرتے اس کے قیام کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے اور اس طرح وہ کسی دوسرے کا کام نہ کرتے بلکہ خود اپنی ہی ذمہ داری کو پورا کرتے کیونکہ قرآن کریم کا قائم کرنا صرف قرآن کریم ہی کا قائم کرنا نہ تھا بلکہ تورات و انجیل کو ہی قائم کرنا تھا اس لئے کہ یہ انہی کی پیش گوئیوں کی تعمیل ہو رہی تھی لیکن اس کا تعلق ” علم “ سے تھا اور ” علم “ ان کے پاس موجود ہوتا تو وہ ” جاہل “ کیوں ہوتے پھر ” حسد “ نے ان کی ایسی مت ماری کہ ان کی سمجھ میں سوائے اس کے کچھ نہ آیا کہ وہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں(تفسیر عروۃ الوثقی المائدہ-68)۔

فرمایا:

وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ[34]

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے۔

فرمایا:

 فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِهٖ څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ  ڤ[35]

 تو جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا

یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے۔ اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی۔اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں۔وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں۔ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گر پڑیں۔ ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو۔بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں۔ گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو(تفسیر ابنِ کثیر آل عمران-7)۔

فرمایا:

وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ اٰيٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ  ۭ [36]

اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں

یعنی تعجب ہے کہ تم کفر کی طرف جائو حالانکہ اللہ کی آیات تم کو پڑھ کر سنائى جارہی ہیں اور کسی چیز کا سننا اس وقت مفید ہوسکتا ہے جب اس کو سن کر اس کو سمجھ کر اس کے مطابق علم کرنے کی کوشش کی جائے ورنہ بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے۔ تم انسان ہو پھر اس سے آگے بڑھ کر تم مسلمان بھی ہو اس پر طرہ یہ کہ تم کو اللہ کی آیات سنائى جارہی ہیں کیوں ؟ اس لیے کہ تم ان کو سمجھو اور اس کے مطابق عمل کرو۔ مقام غور ہے کہ آج ہم میں کتنے ہیں جو قرآن کریم کو پڑھتے یا سنتے ہیں ؟ پھر پڑھنے اور سننے والوں میں کتنے ہیں جو سمجھتے یا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ؟ اور پھر کتنے ہیں جو سمجھ جانے کے بعد اس پر عمل کرتے ہیں ؟ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم مسلمانوں کی اکثریت کو یہ باور کرایا دیا گیا ہے کہ قرآن کریم صرف پڑھنے کے لیے ہے بس پڑھا اور مروں کو بخش دیا۔ گویا قرآن کریم زندوں کے لیے نہ ہوا بلکہ مرنے والوں والوں کو بخشوانے کے لیے ہوا(تفسیر عروۃ الوثقی آل عمران-101)۔

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا[37]

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل اور جل جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمشہ) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

آگ پکڑے گی اور ان کی کھالوں کو کھاجائے گی یہاں تک کہ ان کو گوشت سے جدا کر دے گی اور آگ ہڈیوں کی طرف پہنچے گی تو ان کی کھالیں بدل جائیں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو سخت عذاب چکھائیں گے یہ ان کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب ہوگا ان کے رسول اللہ ﷺکو جھٹلانے اور اللہ کی آیات کا انکار کرنے کی وجہ سے(تفسیر درمنثور النساء-56)۔

فرمایا:

وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ[38]

اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے۔

کفار کی ضد اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ بالفرض یہ کتاب اللہ کو آسمان سے اترتی ہوئی اپنی آنکھوں دیکھ لیتے اور اپنے ہاتھ لگا کر اسے اچھی طرح معلوم کرلیتے پھر بھی ان کا کفر نہ ٹوٹتا اور یہ کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے، محسوسات کا انکار بھی ان سے بعید نہیں(تفسیر ابنِ کثیر الانعام-7)۔

فرمایا:

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ  ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ[39]

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھُٹلایا۔ کچھ شک نہیں ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے۔

اللہ پر افتراء بندی اور اس امر کا دعویٰ کرنا کہ اللہ نے فلاں کام کو حلال اور فلاں کام کو حرام بنایا ہے اور اس کی بیوی بھی ہے اور اولاد بھی اور وہ بتوں کی شفاعت قبول کرے گا۔ اس قسم کی خرافات کا تقاضا ہے کہ وہ رسالت کے قائل ہیں اور ان باتوں کو رسالت کے ذریعہ سے آیا ہوا مانتے ہیں لیکن اسی کے ساتھ وہ آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آدمی کو کس طرح پیغمبر بنایا جاسکتا ہے پیغمبر تو فرشتہ ہونا چاہئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ کسی انسان کی رسالت کے قائل نہیں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں مگر احمق کافر دونوں کے قائل ہیں(تفسیر مظہری الانعام-21)۔

فرمایا:

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ[40]

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ بھلا ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی ؟ )

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ  ۙ لَا يَهْدِيْهِمُ اللّٰهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ[41]

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

فرمایا:

حَتّٰٓي  اِذَا جَاۗءُوْكَ يُجَادِلُوْنَكَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ[42]

یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

بعض ان میں سے بہ نیت بد  قرآن سننے کو تیری طرف کان جھکاتے ہیں کہ کہیں کوئی موقع گرفت ملے تو اڑائیں یہی وجہ ہے کہ ان کو سمجھ نہیں آتی اور ہم نے بھی ان کے دلوں پر سمجھنے سے غفلت ڈال رکھی ہے اور ان کے کانوں میں بوجھ کہ نہ سنیں اور نہ سمجھیں یہ ان کی بدنیتی کی سزا ہے۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اب اگر یہ ساری نشانیاں اور ہر قسم کے معجزات بھی دیکھ لیں تو نہ مانیں گے ایسے ضدی ہیں کہ جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے جھگڑتے ہوئے اور کچھ جواب نہیں آتا تو یہ کافر لوگ جھٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اس قرآن میں رکھا کیا ہے یہ تو محض پہلوں کی کہانیاں ہیں اور لوگوں کو اس قرآن سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے رکتے ہیں اور دور ہٹتے ہیں اور اگر سمجھیں تو ان باتوں سے اپنی ہی تباہی کرتے ہیں اور کسی کا کیا نقصان ہے مگر سمجھتے نہیں۔ ان کی اس دنیا میں بھی بری گت ہوگی اور اگر تو ان کو اس وقت دیکھے جب قیامت میں آگ کے سامنے کئے جائیں گے اور کہیں گے کاش ہم دنیا میں ایک دفعہ پھیرے جائیں اور اپنے پروردگار کے حکموں کی تکذیب نہ کریں اور ایماندار بنیں۔ یہ کہتے ہوئے تو ان کو دیکھے تو تو یہی سمجھے کہ دل سے کہتے ہیں واقعی اگر ان کو مہلت ملے تو صالح بن جائیں۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ جو کچھ کفر و شرک دنیا میں چھپاتے تھے وہ یعنی اس کا بدلہ ان کو سامنے دکھائی دے گا۔ یہ نہیں کہ واقعی نیک بختی کا قصد کرچکیں گے نہیں بلکہ جھوٹ بولیں گے اور اگر دنیا میں واپس بھیج دئیے جائیں تو پھر بھی وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے یعنی کفر و شرک سے ہرگز باز نہ آئیں گے۔ اور یہ جو اس وقت اظہار اطاعت کرتے ہوں گے محض دروغ گوئی سے جھوٹ بولتے ہوں گے اور سنو ! کھلم کھلا کہتے ہیں حیاتی بس یہی دنیا کی زندگی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ مرے سو گئے۔ نہ ہم کو کچھ بدلہ ملنا ہے اور نہ ہی ہم نے دوسری زندگی کے لئے اٹھنا ہے اگر تو اے رسول ان کو اس وقت دیکھے جب یہ اپنے رب کے دربار میں کھڑے کئے جائیں گے وہ ان سے بطور سوال کہے گا کیا یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو واقعی نہیں ؟ بولیں گے اللہ تعالیٰ کی قسم ہاں واقعی ہے(تفسیر ثنائی الانعام-25)۔

فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ  ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ[43]

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں۔ اور یہ ہے ہی کیا ؟ صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ تجارت کی غرض سے حیرہ کی طرف نکلا اور اس نے کلیلہ ودمنہ، کسری اور قیصر کی کہانیاں خرید لیں۔ جب رسول اللہ ﷺ ماضی کی اخبار بیان فرماتے تو نضر کہتا : اگر آپ چاہیں تو میں بھی اس کی مثل بیان کروں۔ اور یہ انتہائی بےشرم اور جھوٹا تھا۔ اور بعض نے یہ کہا ہے : بیشک وہ اس وہم میں پڑگئے کہ وہ اس کی مثل لا سکتے ہیں، جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ کے جادوگروں کو وہم ہوا تھا، پھر انہوں نے اس کا قصد کیا تو اس سے عاجز آگئے اور ازروئے عناد کہنے لگے : یہ تو فقط اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں(تفسیر قرطبی الاعراف-31)۔

فرمایا:

اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ   [44]

جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

فرمایا:

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ[45]

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔

حضرت علی سے روایت کیا ہے کہ ابوجہل نے رسول اکرم ﷺسے کہا کہ ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ اس چیز کی تکذیب کرتے ہیں جو آپ لے کر آئے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یہ ظالم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں(تفسیر ابنِ عباس الانعام-33)۔

فرمایا:

ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ وَرُسُلِيْ هُزُوًا[46]

یہ انکی سزا ہے (یعنی) جہنم اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اڑائی

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّبُكْمٌ فِي الظُّلُمٰتِ  [47]

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اسکے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے)

آیات الٰہی کو جھٹلانے والے چونکہ اپنے کانوں سے حق بات سنتے نہیں اور اپنی زبانوں سے حق بات بولتے نہیں، اس لئے وہ ایسے ہی ہیں جیسے گونگے اور بہرے ہوتے ہیں، علاوہ ازیں یہ کفر اور ضلالت کی تاریکیوں میں بھی گھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے انھیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے ان کی اصلاح ہو سکے۔ پس ان کے حواس گویا مسلوب ہوگئے جن سے کسی حال میں وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے پھر فرمایا تمام اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ جسے چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر لگا دے لیکن اس کا یہ فیصلہ یوں ہی الل ٹپ نہیں ہوجاتا بلکہ عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے گمراہ اسی کو کرتا ہے جو خود گمراہی میں پھنسا ہوتا ہے اس سے نکلنے کی وہ سعی کرتا ہے نہ نکلنے کو وہ پسند ہی کرتا ہے(تفسیر مکہ الانعام-39)۔

فرمایا:

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَاَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِهٖ ۭاُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُوْنَ[48]

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھوں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو خدا کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے ؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ روگردنی کرتے ہیں۔

 (اے مشرکو) بتاؤ تو اگر اللہ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (تم کو اندھا بہرا کر دے) اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے (ایسی غفلت مسلط کر دے کہ تمہاری عقلیں ناکارہ ہوجائیں) تو اللہ کے سوا کون ایسا معبود ہے جو یہ چیزیں تم کو پھر دے دے(تفسیر مظہری الانعام-46)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا فَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ [49]

اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا

فرمایا:

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ۭ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُوْنَ[50]

کہہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزا چکھا دے دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

اے محمدﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ تم پر عذاب نازل کردینے پر جیسا کہ حضرت نوح ؑکی قوم اور حضرت لوط ؑکی قوم پر نازل کیا ہے اور تمہیں زمین میں دھنسا دینے پر جیسا کہ قارون کو دھنسایا یا تمہیں اغراض کے اختلاف سے مختلف کرکے جیسا کہ انبیاء کے بعد بنی اسرائیل کو کیا ہے، آپس میں بھڑا دینے پر قادر ہے۔ محمد ﷺہم قرآن کریم میں گزشتہ قوموں کے واقعات اور ان کی کارگزاریاں کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ احکام خداوندی اور توحید خداوندی کو سمجھیں(تفسیر ابنِ عباس الانعام-65)۔

فرمایا:

وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ۭ قُلْ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ[51]

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ تعالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں(تفسیر ابنِ کثیر الانعام-66)۔

فرمایا:

ۚ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ[52]

اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھیراتے ہیں۔

اے مسلمانو ! تم ان کو تصدیق نہ کرنا اور جو لوگ فوائد اور منافع کے حصول اور مصائب اور نقصانات سے بچنے کے معاملہ میں اپنے بتوں اور جھوٹے معبودوں کو اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں ‘ ان کی موافقت نہ کرنا(تفسیر تبیان القرآن الانعام-150)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَلِقَاۗىِٕهٖٓ اُولٰۗىِٕكَ يَىِٕسُوْا مِنْ رَّحْمَتِيْ وَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ    [53]

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اسکے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے ناامید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

فرمایا:

وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ[54]

اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب بھی ہم ہی نے اتاری ہے برکت والی۔ تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

فرمایا:

اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ  ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ[55]

(لوگو ! ) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی کی پیروی نہ کرو۔ (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔

اس سے واضح ہوا کہ قرآن وسنت کی نصوص صریحہ کو چھوڑ کر منکرین حق اور مد عیان باطل کی آراء وافکا رکی پیروی مسلمان کے لئے کسی طرح روا نہیں۔ آج ہماری بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ جہاں کہیں ہم احکام الٰہی اور ارشادات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے مفاد اور آسائش سے مزاحم پاتے ہیں اس وقت مصلحت وقت کا بہانہ کرکے قرآن وسنت پر اپنی اھواء اور آراء کو تر جیح دے دیتے ہیں(تفسیر ضیاءالقرآن الاعراف-3)۔

فرمایا:

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ[56]

اور جن لوگوں کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لئے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے۔

فرمایا:

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ ۭ فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۚ وَمِنْ هٰٓؤُلَاۗءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ ۭ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ  [57]

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں

فرمایا:

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّٰهِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ  ۭقُلْ هِىَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ[58]

پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا اس کو حرام کس نے کیا ہے کہہ دو یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کیلئے ہیں اور قیامت کے دن خاص انہیں کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھتے والوں کیلئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

اس آیت سے یہ قاعدہ بھی معلوم ہوا کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی تمام کاموں کا کرنا اصل میں جائز اور مباح تھا پھر جن کاموں کی قرآن اور حدیث میں ممانعت آگئی، وہ ممنوع ہوگئے اور باقی تمام کام اپنی اصل پر جائز رہے(تفسیر تبیان القرآن الاعراف-32)۔

فرمایا:

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ۭاُولٰۗىِٕكَ يَنَالُهُمْ نَصِيْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ ۭ[59]

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا رہے گا۔

واقعہ یہ ہے کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے اور وہ بھی جو اللہ کے کلام کی آیتوں کو جھوٹا سمجھے۔ انہیں ان کا مقدر ملے گا اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ انہیں سزا ہوگی، ان کے منہ کالے ہوں گے، ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔ اللہ کے وعدے وعید پورے ہو کر رہیں گے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان کی عمر، عمل، رزق جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے وہ دنیا میں تو ملے گا(تفسیر ابنِ کثیر الاعراف-37)

فرمایا:

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ ۭ[60]

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو اس سے پہلے کی

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاۗءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ۭوَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِيْنَ[61]

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کیلئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہونگے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے۔ اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزادیا کرتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوئی کے روزن میں اونٹ کا داخل ہونا عادةً محال ہے اسی طرح ان کا جنت میں جانا محال ہے، اس سے ان لوگوں کا دائمی عذاب جہنم بیان کرنا مقصود ہے(تفسیر معارف القرآن-الاعراف-40)۔

فرمایا:

الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا  ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا  ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ[62]

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا، تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے اسی طرح آج بھی انہیں بھلا دیں گے۔

یہ اور ایسے ہی بیانات جو ہمیں قرآن میں ملتے ہیں اس بات کا تصور دلانے کیلئے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبعی سے بالکل مختلف ہوں گے۔ جن لوگوں کے دماغ اس عالم طبعی کی حدود میں موجودہ زندگی اور اس کے مختصر پیمانوں سے وسیع تر کسی چیز کا تصور ان میں نہیں سما سکتا وہ قرآن و حدیث کے ان بیانات کو بڑی حیرت و استعجاب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور بسا اوقات ان کا مذاق اڑا کر اپنی خفیف العقلی کا مزید ثبوت بھی دینے لگتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان بیچاروں کا دماغ جتنا تنگ ہے زندگی کے امکانات اتنے تنگ نہیں ہیں(تفسیر جلالین الاعراف-51)۔

فرمایا:

ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ [63]

اور جنہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

فرمایا:

اَوَلَمْ يَنْظُرُوْا فِيْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ  ۙ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ[64]

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس (قرآن)کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

ہے تعجب ہے یہ لوگ قرآن اور پیغمبر ﷺ پر ایمان نہیں لائے اور پیغمبر ﷺ : کو دیوانہ بتانے لگے اور اس بات پر غور نہیں کیا کہ شاید ان کی اجل قریب آگئی ہو اگر اس پر غور کرتے تو طلب حق کی طرف تیزی سے بڑھتے اور ایسی چیز کی طرف توجہ کرتے جو مرنے سے پہلے ان کی نجات کا باعث ہوجاتی(تفسیر مظہری الاعراف-185)۔

فرمایا:

وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا  ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ  [65]

اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی ؟ کہہ دو کہ میں تو اسی حکم کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ رسالت کی ماہیت اور رسول کے فرائض منصبی سے واقف ہی نہ تھے۔ اسی طرح وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ رب العالمین کے دربار میں حضور ﷺ کس قدر با ادب تھے اور آپ کا طریقہ یہ تھا کہ اللہ کی جانب سے جو کچھ ملتا آپ اسے لے لیتے اور اگر کچھ نہ ملتا تو آپ از ٰخود مطالبہ نہ کرتے نہ کوئی تجویز دیتے۔ نہ آپ میں اس قدر طاقت تھی کہ کسی معجزے کا صدور وہ اپنی طرف ہی سے کرلیتے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے سامنے یہ اعلان کردیا جائے(تفسیر فی ظلال القرآن الاعراف-203)۔

فرمایا:

وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ[66]

اور جن انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج۔

یہ بات کہنے سے ان کا مقصد محض استہزاء کرنا اور یہ بتانا تھا کہ ہم یقین رکھتے ہیں اور بصیرت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نہیں ہے(تفسیر مظہری الانفال-32)۔

فرمایا:

وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ  ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ[67]

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچا دو۔ اس لئے کہ یہ بے خبر لوگ ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ جن کافروں سے آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے اگر کوئی آپ سے امن طلب کرے تو آپ اس کی خواہش پوری کردیں اسے امن دیں یہاں تک کہ وہ قرآن کریم سن لے آپ کی باتیں سن لے دین کی تعلیم معلوم کرلے حجت ربانی پوری ہوجائے۔ پھر اپنے امن میں ہی اسے اس کے وطن پہنچا دو بےخوفی کے ساتھ یہ اپنے امن کی جگہ پہنچ جائے ممکن ہے کہ سوچ سمجھ کر حق کو قبول کرلے(تفسیر ابنِ کثیر التوبۃ-6)۔ یعنی اگر وہ اسلام نہ لائے تو اس کی قوم کی بستی تک بحفاظت اس کو پہنچا دو۔ اس کے بعد اگر وہ تم سے لڑے تو تم بھی لڑو اور قابو مل جائے تو قتل کر دو(تفسیر مظہری التوبۃ-6)۔

فرمایا:

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ  ۭ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ[68]

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اسکی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے تھے ؟

حضرت ابن عمر بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی اونٹنی کے پیچھے لٹکا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا یارسول اللہ ﷺ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کررہے تھے اور رسول اکرم ﷺفرما رہے تھے کہ کیا تم لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی کرتے تھے(تفسیر ابنِ عباس التوبۃ-65)۔

فرمایا:

ذٰلِكَ جَزَاۗءُ اَعْدَاۗءِ اللّٰهِ النَّارُ ۚ لَهُمْ فِيْهَا دَارُ الْخُلْدِ ۭ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ   [69]

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ  ۙ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْهُ  ۭ قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَاۗئِ نَفْسِيْ  [70]

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اسکو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔

اور جب ان ٹھٹھہ کرنے والوں یعنی ولید بن مغیرہ اور اس کی جماعت کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو بالکل واضح طور پر اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہیں۔ تو یہ لوگ جن کو مرنے کے بعد کا خوف ہی نہیں اور وہ اسکا مذاق اڑاتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ یا تو اس کے سوا کوئی پورا دوسرا قرآن ہی لے آؤ یا کم سے کم اسی میں کچھ ترمیم کردو۔یعنی آیت رحمت کو آیت عذاب اور آیت عذاب کو آیت رحمت سے بدل دیں۔ اے محمد ﷺآپﷺ ان سے یوں فرما دیجیے کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے پاس سے اس میں کچھ ترمیم کروں۔ میں تو وہی کہوں گا اور اسی پر عمل کروں گا جو قرآن حکیم بذریعہ وحی میرے پاس پہنچتا ہے اگر میں اس میں تبدیلی کردوں تو میں ایک بڑے بھاری دن کے عذاب کا خود رکھتا ہوں(تفسیر ابنِ عباس یونس-15)۔

فرمایا:

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً  ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ  ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ  ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ[71]

بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے ؟ ) یہی لوگ تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لانے۔

کیا منکر قرآن ایسے شخص کی برابری کرسکتا ہے جو قرآن کریم پر قائم ہو جو کہ اسکے رب کی طرف سے آیا ہے، اور اس کے ساتھ ایک گواہ اللہ کی طرف سے یعنی جبریل امین ؑتو اسی میں موجود ہے اور ایک قرآن حکیم سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب توریت ہے جو ان پر جبرئیل امین ؑ کے ذریعے نازل ہوئی ہے جو پیروی کرنے والوں کے لیے امام اور جو اس پر ایمان لائے اس کے لیے رحمت ہے ۔جو حضرات یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھ جو کتاب موسیٰ پر ایمان رکھتے ہیں، وہ رسول اکرم ﷺاور اس قرآن کریم پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو کفار میں سے ہے اور وہ اس قرآن حکیم اور رسول اکرم ﷺ کا انکار کرے گا تو جہنم اس کا ٹھکانا ہے۔ اے محمد ﷺ جو شخص قرآن کریم کا انکار کر رہا ہے اس کی وجہ سے قرآن کی طرف سے شک میں مت پڑنا کیوں کہ قرآن حکیم کے منکر کا ٹھکانا دوزخ ہے یا یہ مطلب ہے کہ تم قرآن کریم کی طرف سے شک میں مت پڑنا، بیشک وہ سچی کتاب ہے تمہارے رب کی طرف سے بذریعہ جبریل امین نازل ہوئی ہے مگر اہل مکہ ایمان نہیں لائے(تفسیر ابنِ عباس ھود-17)۔

فرمایا:

ھٰذَا هُدًى ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِيْمٌ       [72]

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

فرمایا:

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ[73]

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے ؟ تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

فرمایا:

اِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ[74]

جھوٹ افترا تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں

فرمایا:

وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا  ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا[75]

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور انکے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے واحد پروردگارکا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

یعنی جب انہوں نے آخرت سے انکار کیا اور پھر ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے کہ ہزار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہی چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اور آنحضرت ﷺکے مابین ایک دبیز پردہ حائل ہوگیا۔ ان کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے اور انکے کان ہر نصیحت کرنے والے کی بات سننے سے بہرے ہوگئے مگر وہ بدبخت اس پردے اور بوجھ کا مذاق ہی اڑاتے رہے(تفسیر اشرف الحواشی بنی اسرائیل-46)۔

فرمایا:

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا[76]

یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔

اور جس وقت ابوجہل وغیرہ آپ کے قرآن کریم پڑھنے کی طرف کان لگاتے ہیں تو ہم خوب جانتے ہیں کہ جس غرض سے یہ قرأت کو سنتے ہیں اور نیز جس وقت یہ لوگ آپ کے بارے میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ بعض ان میں سے آپ کو ساحر اور بعض شاعر اور بعض کاہن اور بعض دیوانہ کہتے ہیں اور بعض دوسروں سے کہتے ہیں کہ تم محمد ﷺ کا ساتھ دے رہے ہو جو کہ مغلوب العقل ہیں(تفسیر ابنِ عباس بنی اسرائیل -47)۔

فرمایا:

ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا[77]

یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سرِ نو پیدا کیے جائیں

فرمان ہے کہ اوپر جن منکروں کو جس سزا کا ذکر ہوا ہم وہ اسی کے قابل تھے، وہ ہماری دلیلوں کو جھوٹ سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل ہی نہ تھے اور صاف کہتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوجانے کے بعد مٹی کے ریزوں سے مل جانے کے بعد ہلاک اور برباد ہو چکنے کے بعد کا دوبارہ جی اٹھنا تو عقل کے باہر ہے۔ پس ان کے جواب میں قرآن نے اس کی ایک دلیل پیش کی کہ اس زبردست قدرت کے مالک نے آسمان و زمین کو بغیر کسی چیز کے اول بار بلا نمونہ پیدا کیا جس کی قدرت ان بلند وبالا، وسیع اور سخت مخلوق کی ابتدائی پیدائش سے عاجز نہیں۔ کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہوجائے گا (تفسیر ابنِ کثیر  بنی اسرائیل -98)۔

فرمایا:

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ  ۭ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا  ۭ وَاِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ يَّهْتَدُوْٓا اِذًا اَبَدًا[78]

اور اس سے ظالم کون جس کو اسکے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے اس سے منہ پھیرلیا اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اسکو بھول گیا ہم نے انکے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو راستے کی طرف بلاؤ تو کبھی راستے پر نہ آئیں گے

فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے(تفسیر ابنِ کثیر الکھف-58)۔

فرمایا:

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا[79]

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے

ایسے لوگوں کے اعمال تولنے کے لئے میزان قائم ہی نہیں کی جائے گی ۔ ان کے اعمال کی وزن کشی ہی نہیں ہوگی بلکہ بغیر وزن کئے ان کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جن اعمال کو وہ نیکیاں خیال کرتے ہیں میزان عدل میں ان اعمال کا کوئی وزن نہ ہوگا(تفسیر مظہری الکھف-105)۔

فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا  ۙ اَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِيًّا[80]

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں ؟

یعنی کفار قرآن کی آیتیں سن کر جن میں ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے ہنستے ہیں اور بطور استہزاء و تفاخر غریب مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تمہارے زعم کے موافق آخرت میں جو کچھ پیش آئے گا دونوں فریق کی موجود حالت اور دنیاوی پوزیشن پر منطبق نہیں ہوتا۔ کیا آج ہمارے مکانات، فرنیچر، اور بودوباش کے سامان تم سے بہتر نہیں اور ہماری مجلس (یا سوسائٹی) تمہاری سوسائٹی سے معزز نہیں یقینا ہم جو تمہارے نزدیک باطل پر ہیں، تم اہل حق سے زیادہ خوشحال اور جتھے والے ہیں۔ جو لوگ آج ہم سے خوف کھا کر کوہ صفا کی گھاٹی میں نظر بند ہوں، کیا گمان کیا جاسکتا ہے کہ کل وہ چھلانگ مار کر جنت میں جا پہنچیں گے ؟ اور ہم دوزخ میں پڑے جلتے رہیں گے (تفسیر عثمانی المریم-73)۔

فرمایا:

وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۣ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ       [81]

اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

فرمایا:

اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا[82]

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا ؟

حضرت خباب بن ارت سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس اپنے قرض کی واپسی کے لیے آیا تو عاص کہنے لگا کہ جب تک تو محمد ﷺکے ساتھ کفر نہ کرے گا تیرے قرض نہ ادا کروں گا، حضرت خباب نے فرمایا کہ اگر تو مر کر پھر زندہ ہوجائے گا تب بھی کفر نہ کروں گا ۔اس پر عاص نے کہا کہ میں مروں گا پھر زندہ ہوں گا، حضرت خباب نے فرمایا ہاں عاص کہنے لگا تو میرے پاس جب ہی آنا میرے پاس اس وقت بھی مال واولاد سب کچھ ہوگا، تیرا قرض ادا کروں گا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی کیا بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری آیات کے ساتھ کفر کرتا ہے(تفسیر ابنِ عباس المریم-77)۔

فرمایا:

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا  ۚ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى[83]

(خدا) فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہئے تھا) تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلادیں گے

تمہیں یاد ہے میری آیتیں تجھے پڑھ کر سنائی گئیں، ہدایت کی دعوت دی گئی، میرے بندوں نے تجھے سمجھانے کی بڑی کوشش کی۔ لیکن تو نے میری آیات کو فراموش کردیا اور انہیں پس پشت ڈال دیا۔ سو یہ اسی کی سزا ہے۔ یہاں آج تمہیں فراموش کردیا گیا ہے(تفسیر ضیاء القرآن طہ-126)۔ تیرے پاس ہماری کتاب اور ہمارا رسول آیا تھا اور تو نے نہ ان کا اقرار کیا اور نہ اس پر عمل کیا اسی طرح آج تیرے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور تجھے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا(تفسیر ابنِ عباس طہ-126)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ    [84]

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں

فرمایا:

وَھٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ  ۭ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ [85]

اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو ؟

گویا یہ قرآن فرقان بھی ہے، صفیاء اور نور بھی ہے، ذکر اور تذکرہ بھی ہے اور قیامت تک کے لوگوں کے لئے رحمت اور باعث رحمت بھی ہے۔ پھر بھی اگر تم ایسی بابرکت کتاب کا انکار کرتے ہو تو تمہاری بدبختی میں کیا شبہ ہوسکتا ہے(تفسیر تیسیر القرآن الانبیاء-50)۔

فرمایا:

ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ   [86]

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ [87]

اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کی ہے، تو وہ دوزخی ہیں۔

یعنی نبی کو اور اہل ایمان کو ہرانے کے لیے۔ اہل باطل کی کوششیں حق واہل حق کی مخالفت میں خواہ وہ فلسفہ یا سائنس کے نام سے ہوں یا ادب و شاعری کے یا حکومت وسیاست کے پردہ میں۔ غرض جس نام سے بھی ہوں سب اسی آیت کے تحت میں آجاتی ہیں(تفسیر ماجدی الحج-51)۔

فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ  ۭ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا  ۭ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ اَلنَّارُ  ۭ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا  ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ [88]

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے

) قرآن مجید کے واضح احکام وہدایات سے تسلی حاصل کرنے کے بجائے شدت عناد سے الٹے غصہ سے بھر بھر جاتے تھے۔ اور ان کے دلی بغض کے آثار ان کے چہرے بشرے سے ظاہر ہوہوکر رہتے تھے۔ آج بھی بہت سے دشمنان دین اور بعض ” روشن خیالوں ” کے چہروں کا انقباض سے کیا حال ہوجاتا ہے جب ان پر احکام الہی کی تبلیغ کی جاتی ہے۔۔ یعنی تم پر اس قرآن سے بڑھ کر گراں گزرنے والی، قرآن سے جو ناخوشی پیدا ہوتی ہے، اس کا تو خیر کچھ تدارک کرہی لیتے ہو، دوزخ کے بےپناہ عذاب کے مقابلہ میں کیا کروگے(تفسیر ماجدی الحج-72)۔

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا    ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ    [89]

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے

فرمایا:

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ ھٰذَا وَلَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ [90]

مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور اسکے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں

بلکہ ان مکہ والوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے دل اس قرآن کریم کی طرف سے جہالت اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جن نیکیوں کا آپ ان کو حکم دیتے ہیں ان کے علاوہ برائیاں ان کے مقدر میں لکھی ہوئی ہیں جن کو یہ دنیا میں اپنے وقت آنے تک کر رہے ہیں(تفسیر ابنِ عباس المومنون-63)۔

فرمایا:

قَدْ كَانَتْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰٓي اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَ [91]

میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھرجاتے تھے

یعنی اب(قیامت کے دن) کیوں شور مچاتے ہو، وہ وقت یاد کرو جب خدا کے پیغمبر آیات پڑھ کر سناتے تھے تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے، سننا بھی گوارا نہ تھا۔ تمہاری شیخی اور تکبر اجازت نہ دیتا تھا کہ حق کو قبول کرو اور پیغمبروں کی بات پر کان دھرو(تفسیر عثمانی المومنون-66)۔

فرمایا:

مُسْتَكْبِرِيْنَ ڰ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ [92]

ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بے ہودہ بکواس کرتے تھے

تکبر کرتے ہوئے قرآن کا مشغلہ بناتے ہوئے (اس قرآن کی شان میں) بےہودہ بکتے ہوئے۔ نکوص الٹے پاؤں پلٹنا ‘ یعنی تم پشت پھیر کر منہ موڑ کر چل دیتے تھے۔ عمل تو کیا اس کو مانتے بھی نہ تھے سنتے بھی نہ تھے۔ رسول اللہﷺ کی پیروی کرنے سے اور ان پر ایمان لانے سے تمہارا غرور روکتا تھا تم دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے(تفسیر  مظہری المومنون-67)۔

فرمایا:

اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَاۗءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَاۗءَهُمُ الْاَوَّلِيْنَ  [93]

کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس فعل پر اظہار کر رہا ہے جو وہ قرآن کے نہ سمجھنے اور اس میں غور وفکر نہ کرنے میں کررہے تھے اور اس سے منہ پھیر لیتے تھے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے ان پر اپنی وہ پاک اور برتر کتاب نازل فرمائی تھی جو کسی نبی پر نہیں اتاری گئی، یہ سب سے اکمل اشرف اور افضل کتاب ہے ان کے باپ دادے جاہلیت میں مرے تھے جن کے ہاتھوں میں کوئی الہامی کتاب نہ تھی ان میں کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں چاہے تھا کہ اللہ کے رسول ﷺکی مانتے کتاب اللہ کی قدر کرتے اور دن رات اس پر عمل کرتے جیسے کہ ان میں کے سمجھ داروں نے کیا کہ وہ مسلمان متبع رسول ہوگئے۔ اور اپنے اعمال سے اللہ کو راضی رضامند کردیا۔ افسوس کفار نے عقلمندی سے کام نہ لیا۔ قرآن کی متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ کر ہلاک ہوگئے(تفسیرابنِ کثیر المومنون-68)۔

فرمایا:

اَلَمْ تَكُنْ اٰيٰـتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ [94]

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

کافروں کو ان کے کفر اور گناہوں پر ایمان نہ لانے پر قیامت کے دن جو ڈانٹ ڈپٹ ہوگی، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تمہاری طرف رسول بھیجے تھے، تم پر کتابیں نازل فرمائی تھیں، تمہارے شک زائل کردئیے تھے تمہاری کوئی حجت باقی نہیں رکھی تھی(تفسیر ابنِ کثیر المومنون-105)۔

فرمایا:

لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَاۗءَنِيْ  ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا    [95]

اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

ان آیات کا مورد اگرچہ خاص ہے لیکن عموم عبارت کے زیر اثر حکم عام ہے جو دو دوست گناہ پر دوستی کو قائم رکھے ہوں ان کو آیت کا حکم شامل ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا نیک اور بد ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کے پاس تو مشک ہے اور دوسرا لوہار کی بھٹی دھونک رہا ہے۔ مشک اپنے پاس رکھنے والا یا تو تم کو (کچھ مشک مفت) دے دے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا (کم از کم) عمدہ خوشبو ہی تم کو (اس کی طرف سے) مل جائے گی اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا (کم از کم) بدبو تم کو اس کی طرف سے پہنچے گی(تفسیر مظہری الفرقان-29)۔

فرمایا:

وَّكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا  [96]

اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے

فرمایا:

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا    [97]

تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس (قرآن) کے حکم کے مطابق بڑے شدو مد سے لڑو

سو آپ کافروں کے احمقانہ طعن وتشنیع اور سفیہانہ نکتہ چینیوں کی طرف التفات نہ فرمائیں۔ اپنا کام پوری قوت اور جوش سے انجام دیتے رہیں اور قرآن ہاتھ میں لے کر ان منکرین کا مقابلہ زور و شور کے ساتھ کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرنے والا ہے(تفسیر عثمانی الفرقان-52)۔

فرمایا:

وَمَآ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْىِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ  ۭ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ   [98]

اور نہ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) راستہ دکھا سکتے ہو تم تو ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہوجاتے ہیں

یعنی اللہ نے جس کے دل کو اندھا کردیا ہے ایمان کی راہ اس کو سوجھائی نہیں دیتی آپ اس کو ایمان کا راستہ نہیں دکھا سکتے۔ آپ کا قرآن سنانا سوائے ان لوگوں کے کسی کو فائدہ نہیں دے سکتا جو ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے ہیں یعنی ایمان لانا ہم نے ان کے لئے مقدر کردیا ہے پس وہ ہی مسلم ہوتے ہیں یعنی اپنا رخ خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف کردیتے ہیں(تفسیر مظہری النمل-81)۔

فرمایا:

وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَاۗبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ   [99]

اور جب ان کے بارے میں (عذاب کا) وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کردے گا اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں کی پر ایمان نہیں لاتے تھے

حضرت حذیفہ سے ذکر کیا ہے کہا رسول اللہ ﷺنے دابہ کا ذکر کیا فرمایا “وہ تین دفعہ زمانے سے نکلے گا وہ دور دراز کے دیہاتی علاقے سے نکلے گا اس کا ذکر قریہ یعنی مکہ مکرمہ تک نہیں پہنچے گا پھر وہ طویل زمانہ تک چھپ جائے گا ۔پھر دوسری دفعہ مکہ مکرمہ سے پہلے سے قریب سے نکلے گا اس کا ذکر دیہاتی علاقوں میں عام ہوجائے گا اور اس کا ذکر مکہ مکرمہ میں داخل ہوجائے گا۔  رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا “پھر اسی اثنا میں کہ لوگ سب سے بڑی مسجد میں ہوں گے اس کے خیر کی حرمت اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے معزز مسجد مسجد حرام ہے لوگوں کو کسی چیز نے نہ ڈرایا مگر اس چیز نے کہ وہ دابہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بلبلا رہا ہوگا وہ اپنے سر سے مٹی جھاڑ رہا ہوگا۔ لوگ ایک ایک اور جمعتیوں کی صورت میں اس سے بھاگ جائیں گے ۔مومنوں کی ایک جماعت اپنی جگہ میں ٹھہری رہے گی۔ وہ پہچان لیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکیں گے وہ ان سے شروع کرے گا وہ ان کے چہروں کو روشن کر دے گا یہاں تک کہ انہیں بنا دے گا گویا وہ روشن ستارہ ہو۔ وہ زمین میں گھومے پھرے گا کوئی طالب اسے نہیں پکڑ سکے گا اور کوئی بھاگنے والا اس سے نجات نہیں پائے گا یہاں تک کہ آدمی نماز پڑھ کر اس سے پناہ چاہے گا۔ وہ دابہ اس کے پاس اس کے پیچھے سے آئے گا وہ دابہ کہے گا : اب تو نماز پڑھتا ہے ؟ وہ دابہ اس کے سامنے آئے گا اور اس کے چہرے پر نشان لگائے گا پھر چلا جائے گا۔ لوگ اموال میں شرکی ہوجائیں گے اور شہروں میں صلح کریں گے۔مومن کافر سے پہچان لیا جائے گا (تفسیر قرطبی النمل-82)۔

فرمایا:

وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ    [100]

اور جس روز ہم ہر امت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو ان کی جماعت بندی کی جائے گی

اس روز دنیا میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہوگا اور جس روز ہم ہر ایک قوم میں سے ایک جماعت ان لوگوں کی جمع کریں گے جو ہمارے حکموں کو جھٹلاتے تھے پھر وہ ایک وسیع میدان میں جمع کئے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ آئیں گے تو اللہ فرشتوں کی معرفت انکو کہے گا کیا تم نے میرے حکموں کی تکذیب کی تھی اور ان کا علم حاصل نہ کیا تھا نہ پڑھے تھے نہ بغور سنے تھے پھر کیا بلا سوچے سمجھے انکاری ہو بیٹھے تھے یا کیا کرتے تھے ان باتوں کا وہ کیا جواب دے سکیں گے بجز خاموشی اور سکوت کے کیونکہ یہ واقعات ہی ایسے ہوں گے کہ بجز تسلیم چون و چرا نہ کرسکیں اس لئے فیصلہ کیا جائے گا اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کا حکم لگ جائے گا (تفسیر ثنائی النمل-83)۔

فرمایا:

حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰيٰتِيْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ    [101]

یہاں تک کہ جب (سب) آجائیں گے تو (خدا) فرمائے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور تم نے (اپنے) علم سے ان پر احاطہ تو کیا ہی نہ تھا بھلا تم کیا کرتے تھے؟

مطلب یہ کہ سنتے ہی بلا تدبر و تفکر ان کی تکذیب کردی، اور تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ یاد کرو کہ اس کے علاوہ اور بھی کیا کیا کرتے رہے مثلا انبیاء کو اور اہل ایمان کو آزار دیا، اسی طرح اور عقائد و اعمال کفریہ و فسقیہ میں مبتلا رہے(تفسیر بیان القرآن النمل-84)۔

فرمایا:

َ ۭ وَمَا يَجْـحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ  [102]

ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بے انصاف ہیں

یعنی ناانصافی کا کیا علاج۔ ایک شخص یہ ہی ٹھان لے کہ میں کبھی سچی بات نہ مانوں گا۔ وہ روشن سے روشن چیز کا بھی انکار کردے گا(تفسیر عثمانی العنکبوت-49)۔

فرمایا:

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوا السُّوْۗآٰى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ  [103]

پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا اس لئے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھ

سو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تھا آخرت میں بدلے میں دوزخ ہی ملے گی محض اس وجہ سے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کی تکذیب کر رہے ہیں اور آیات خداوندی کا مذاق اڑا رہے ہیں(تفسیر ابنِ عباس الروم-10)۔

فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِيْٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ[104]

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اور جب اس کے سامنےہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو غرور سے پشت پھیر لیتا ہے (ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا) گویا اس نے آیات کو سنا ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے۔ ڈاٹ سے مراد ہے ثقل سماعت گراں گوشی جو سننے سے روکتی ہے(تفسیر مظہری لقمان-7)۔

فرمایا:

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا ۭ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ  [105]

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں

فرمایا:

وَالَّذِيْنَ يَسْعَوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ [106]

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے ایسے لوگوں کو جہنم میں عذاب ہوگا(تفسیر ابنِ عباس سبا-38)۔

فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيْدُ اَنْ يَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُكُمْ ۚ وَقَالُوْا مَا ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكٌ مُّفْتَرًى ۭ وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۙ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ  [107]

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے جو اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسولﷺ کی زبان سے سنتے ہیں، قبول کرنا، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں، بالکل ظاہر ہے(تفسیر ابنِ کثیرسبا-43)۔

فرمایا:

ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا   ۭ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ[108]

کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اتری ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا

کیا ہم سب میں سے اسی میں کوئی خصوصیت تھی کہ اسی کو نبوت ملی اور اسی پر کتاب نازل ہوئی ؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کفار مکہ خود ہی میری کتاب اور میرے نبی کی نبوت کے بارے میں شک میں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا اسی بنا پر جھٹلاتے ہیں(تفسیر ابنِ عباس ص-8)۔

فرمایا:

بَلٰى قَدْ جَاۗءَتْكَ اٰيٰتِيْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ   [109]

(خدا فرمائے گا)ہاں بات یہ ہے کہ تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو نے انہیں جھٹلا دیا اور تو نے تکبر اختیار کیا اور تو کافروں میں سے تھا

یعنی غلط کہتا ہے کہ کیا اللہ نے راہ نہیں دکھلائی تھی اور اپنے پیغمبروں کو نشانات اور احکام دے کر نہیں بھیجا تھا مگر تو نے تو ان کی کوئی بات ہی نہیں سنی۔ جو کچھ کہا گیا غرور اور تکبر سے اسے جھٹلاتا رہا تیری شیخی قبول حق سے مانع رہی۔ اور بات یہ ہے کہ اللہ کو ازل سے معلوم تھا کہ تو اس کی آیات کا انکار کرے گا۔ اور تکبر و سرکشی سے پیش آئے گا، تیرے مزاج و طبیعت کی افتاد ہی ایسے ہے۔ اگر ہزار مرتبہ دنیا کی طرف لوٹایا جائے تب بھی اپنی حرکات سے باز نہیں آسکتا(تفسیر عثمانی الزمر-59)۔

فرمایا:

وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا ۭ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ   [110]

اور کافروں کو گروہ گروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے؟ کہیں گے کیوں نہیں لیکن کافروں کے حق میں عذاب کا حکم متحقق ہوچکا تھا

یعنی تمام کافروں کو دھکے دے کر نہایت ذلت و خواری کے ساتھ دوزخ کی طرف ہانکا جائے گا اور چونکہ کفر کی اقسام و مراتب بہت ہیں ہر قسم اور ہر درجہ کا گروہ الگ الگ کردیا جائے گا(تفسیر عثمانی-الزمر-71)۔

فرمایا:

مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ[111]

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

 یعنی اللہ کی باتیں اور اس کی عظمت وقدرت کے نشان ایسے نہیں جن میں کوئی جھگڑا کیا جائے۔ مگر جن لوگوں نے یہ ہی ٹھان لی ہے کہ روشن سے روشن دلائل وبراہین اور کھلی کھلی باتوں کا بھی انکار کیا جائے وہ ہی سچی باتوں میں ناحق جھگڑے ڈالتے ہیں۔ یعنی ایسے منکر کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ گو فی الحال وہ شہروں میں چلتے پھرتے اور کھاتے پیتے نظر آتے ہیں اس سے دھوکا نہ کھانا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امہال اور استدراج ہے کہ چند روز چل پھر کر دنیا کے مزے اڑالیں، یا تجارتیں اور سازشیں کرلیں۔ پھر ایک روز غفلت کے نشہ میں پوری طرح مخمور ہو کر پکڑے جائیں گے۔ اگلی قوموں کا حال بھی یہ ہی ہوا(تفسیر عثمانی المومن-4)۔

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ ۙ اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ   [112]

جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

یعنی جو لوگ اللہ کی دلائل توحید اور کتب سماویہ اور اس کے پیغمبروں کے معجزات و ہدایات میں خواہ مخواہ جھگڑتے اور بےسند باتیں نکال کر حق کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں ان کے ہاتھ میں کچھ حجت و دلیل نہیں۔ نہ فی الواقع ان کھلی ہوئی چیزوں میں شک و شبہ کا موقع ہے۔ صرف شیخی اور غرور مانع ہے کہ حق کے سامنے گردن جھکائیں اور پیغمبر کا اتباع کریں۔ وہ اپنے کو بہت اونچا کھینچتے ہیں۔ چاہتے یہ ہیں کہ پیغمبر سے اوپر ہو کر رہیں۔ یا کم ازکم اس کے سامنے جھکنا نہ پڑے لیکن یاد رکھیں کہ وہ اس مقصد کو کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ پیغمبر کے سامنے سر اطاعت جھکانا پڑے گا۔ ورنہ سخت ذلیل و رسوا ہوں گے(تفسیر عثمانی المومن-56)۔

فرمایا:

كَذٰلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِيْنَ كَانُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ   [113]

اسی طرح وہ لوگ بھٹک رہے تھے جو خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے

یعنی ہر زمانے میں عوام الناس صرف اس وجہ سے ان بہکانے والوں کے فریب میں آتے رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے حقیقت سمجھانے کے لیے جو آیات نازل کیں، لوگوں نے ان کو نہ مانا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان خود غرض فریبیوں کے جال میں پھنس گئے جو اپنی دکان چمکانے کے لیے جعلی خداؤں کے آستانے بنائے بیٹھے تھے(تفسیر تفہیم القرآن-المومن-63)۔

فرمایا:

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ ۭاَنّٰى يُصْرَفُوْنَ[114]

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں یہ کہاں بھٹک رہے ہیں؟

(اے رسولﷺ) کیا آپﷺ نے انہیں دیکھا جو کہ خدا کی آیتوں میں ناحق حجتیں نکالتے ہیں (جیسے یہ مدعی شرک اور منکرین توحید جو خود بھی شرک کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی شر کی دعوت دیتے ہیں ذرا دیکھئے تو سہی) کہ یہ لوگ (راہ حق سے) کہاں (اور کیسے برے راستہ کی طرف) پھیرے جارہے ہیں (اور انہیں اس کا ذرا خیال نہیں ہوتا) یعنی وہ لوگ جنہوں نے تمام کتب الٰہیہ کی اور ان باتوں کی تکذیب کی جن کو دیکھ کر ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا تھا۔ واقعی یہ عجیب لوگ ہیں اور دیکھنے کے قابل ہیں۔ کیونکہ ایسی باتوں کا انکار جن پر تمام کتب الٰہیہ اور تمام رسول متفق ہیں بلکہ خود کتب الٰہیہ اور رسولوں ہی کا انکار ہی عجیب بات ہے) خیر ان کو اس کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا جب کہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں بھی نیزان کو کھولتے پانی میں گھسیٹ کر ڈالا جائے گا(تفسیر حل قرآن المومن-69)۔

فرمایا:

الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا ڕ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ   [115]

جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کرلیں گے

جن لوگوں نے قرآن حکیم کو اور سابقہ انبیاء کرام ؑ کی کتابوں کو جھٹلایا سو ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا(تفسیر ابنِ عباس المومن-70)۔

فرمایا:

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۭ اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۭ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْــحَدُوْنَ    [116]

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

سو قوم عاد نے ملک میں اپنی سرکشی اور ناحق تکبر کی وجہ سے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم سے زیادہ طاقتور ہے کون کہ جسکی ہمیں دھمکی دیتے ہو حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے کہیں بڑھ کر طاقتور ہے اور جب چاہے اور انہیں سزا دے سکتا ہے لیکن وہ لوگ ہماری آیتوں سے جان بوجھ کر انکار کرتے تھے(تفسیر تسہیل القرآن فصلت-15)۔

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ۭ اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْٓ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ    [117]

جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی (ٹیڑھ پیدا)کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے (تو خیر) جو چاہو سو کرلو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے

 بیشک جو لوگ ہماری نشانیوں یعنی رسول اکرم ﷺاور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں یا یہ کہ تکذیب کرتے ہیں، ان کی باتوں میں سے کوئی چیز بھی ہم سے پوشیدہ نہیں(تفسیر ابنِ عباس فصلت-40)۔

فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ    [118]

جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ انکے پاس آئی اور یہ تو ایک عالی مرتبہ کتاب ہے

ابو جہل اور اس کے ساتھی جو قرآن حکیم کا جبکہ رسول اکرم اسے ان کے پاس لے کر آئے انکار کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے اور یہ قرآن حکیم تو بڑی باوقعت کتاب ہے(تفسیر ابنِ عباس فصلت-41)۔

فرمایا:

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ    [119]

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں

مشرکین مکہ دنیا میں تو مسخراپن سے قیامت کے آنے کی جلدی کرتے ہیں دنیا کی تھوڑی سی زندگی کے بعد مرنے کے ساتھ ہی قیامت کا نتیجہ ان کی آنکھوں کے سامنے آگیا اور اس نتیجہ سے ایسے ڈر گئے کہ اب قیامت کے نہ آنے کی دعا مانگ رہے ہوں گے اور قیامت تک مانگتے رہیں گے(تفسیر احسن التفاسیر فصلت-45)۔

فرمایا:

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍ    [120]

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو تو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق) کی پرلے درجے کی مخالفت میں ہو

اے نبی ﷺ! تو ان مخالفوں کو کہہ آو اصل بات پر غور کر وبتلائو تو سہی اگر یہ قرآن جو مجھے الہام ہوتا ہے اللہ کے پاس سے ہو پھر بھی تم اس سے منکر ہی رہو۔ تو تمہاری گمراہی میں کیا شک ہے پس بتلاؤ کون بڑھ کر گمراہ ہے اس شخص سے جو ہدایت سے بہت دور گمراہی میں پھنسا ہوا ہے الٰہی ہدایت کو چھوڑ کر ادھر ادھر جاتا ہے(تفسیر ثنائی فصلت-52)۔

فرمایا:

وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ[121]

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکے اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

اور سنو ! جب ان لوگوں کی کوئی بات نہیں چلتی تو کہتے ہیں کہ ان دو شہروں (مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر یہ قرآن کیوں نہیں اترا۔ اترا تو ایک غریب آدمی پر۔ کیونکہ ان کے نزدیک بڑائی چھٹائی کثرت دولت مال پر ہے۔ حالانکہ مال ایک بےاعتماد چیز ہے(تفسیر ثنائی الزخرف-31)۔

فرمایا:

يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ[122]

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

فرمایا:

وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْئَۨا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ[123]

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

فرمایا:

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّـــتَهُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَاۗىِٕنَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ         [124]

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

فرمایا:

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّغَرَّتْكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ        [125]

یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

اور یہ عذاب اس وجہ سے ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی ہنسی اڑائی تھی اور تمہیں اطاعت خداوندی سے دنیوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا سو آج نہ تو یہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ دنیا میں ہی واپس کیے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا(تفسیر ابنِ عباس الجاثیۃ-31)۔

فرمایا:

قلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَكَفَرْتُمْ بِهٖ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ عَلٰي مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَاسْـتَكْبَرْتُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْــقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ      [126]

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے؟) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

اور آپﷺ ان یہودیوں سے فرما دیجیے اے گروہ یہود مجھے بتاؤ اگر یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے ہوا اور تم اس قرآن کریم کا انکار کرو اور جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اس قرآن کی گواہی دے کر اس پر اور رسول اللہ پر ایمان لے آئے بنیامین بنی اسرائیل میں سے گواہی دے کر ایمان لے آئیں اور تم رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر ہی میں رہو تو جان لو کہ حق تعالیٰ ایسے شخص کو جو کہ اہل نہیں ہوتا ہدایت نہیں کرتا(تفسیر ابنِ عباس الاحقاف-10)۔

فرمایا:

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا      [127]

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں غور و فکر کرنے سوچنے سمجھنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اس سے بےپرواہی کرنے اور منہ پھیر لینے سے روکتا ہے۔ پس فرماتا ہے کہ غور و تامل تو کجا، ان کے تو دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں کوئی کلام اس میں اثر ہی نہیں کرتا۔ جائے تو اثر کرے اور جائے کہاں سے جبکہ جانے کی راہ نہ پائے(تفسیر ابنِ کثیر محمد-24)۔

فرمایا:

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ښ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ       [128]

یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے

یہ اس لئے کہ منافقین نے یہود سے جو اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب قرآن سے نفرت کرتے ہیں یہ کہا کہ ہم تمہاری بعض باتیں مان لیں گے کہ مسلمانوں کے ساتھ ہو کر تم سے نہ لڑیں گے بلکہ اگر موقع ہوگا تو تمہاری امداد کریں گے اور اللہ ان کے دلی بھیدوں کو خوب جانتا ہے(تفسیر بیان القرآن  محمد-26)۔

فرمایا:

اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ  [129]

کیا تم اس کلام سے انکار کرتے ہو؟

فرمایا:

وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ   [130]

اور اپنا وظیفہ یہ بناتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو؟

یعنی کیا یہ ایسی دولت ہے جس سے منتفع ہونے میں تم سستی اور کاہلی کرو۔ اور اپنا حصہ اتنا ہی سمجھو کہ ان کو اور اس کے بتلائے ہوئے حقائق کو جھٹلاتے رہو، جیسے بارش کو دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہو کہ فلاں ستارہ فلاں برج میں آگیا تھا اس سے بارش ہوگئی۔ گویا خدا سے کوئی مطلب ہی نہیں۔ اسی طرح اس باران رحمت کی قدر نہ کرنا جو قرآن کی صورت میں نازل ہوئی ہے اور یہ کہہ دینا کہ وہ اللہ کی اتاری ہوئی نہیں، سخت بدبختی اور حرماں نصیبی ہے۔ کیا ایک نعمت کی شکر گزاری یہ ہی ہے کہ اس کو جھٹلایا جائے(تفسیر عثمانی الواقعۃ-82)۔

فرمایا:

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا   ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ڂ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا       ٽ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا   [131]

خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ تو اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو۔ خدا نے تمہارے پاس نصیحت (کی کتاب) بھیجی ہے۔

فرمایا:

قَالُوْا بَلٰي قَدْ جَاۗءَنَا نَذِيْرٌ ڏ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ ښ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ[132]

وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو۔

فرمایا:

اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ    [133]

جب اس کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں

فرمایا:

فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ   [134]

تو مجھ کو اس کلام کے جھٹلانے والوں کو سمجھ لینے دو ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسے طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی

فرمایا:

وَاِنْ يَّكَادُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ  [135]

اور کافر جب (یہ) نصیحت (کی کتاب) سنتے ہیں تو یوں لگتے ہیں کہ تم کو اپنی نگاہوں سے پھسلا دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے

یعنی قرآن سن کر غیظ و غضب میں بھر جاتے ہیں اور اس قدر تیز نظروں سے تیری طرف گھورتے ہیں جانے تجھ کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں گے۔ زبان سے بھی آوازے کستے ہیں کہ یہ شخص تو مجنون ہوگیا ہے۔ اس کی کوئی بات قابل التفات نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس طرح آپ کو گھبرا کر مقام صبرو استقلال سے ڈگمگا دیں(تفسیر عثمانی ن-51)۔

فرمایا:

وَاِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِيْنَ   [136]

ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں۔

 جو لوگ قرآن کریم کی نصیحت اور ہدایت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ ہم سے کچھ پوشیدہ نہیں ہیں۔ ہمارے علم میں ہیں لیکن وہی بات جو اس سے پہلے کہی گئی کہ جب ہم نے اپنے قانون امہال کے تحت ان کو ڈھیل دینے کا اعلان کردیا ہے تو اب جو مہلت ان کو دی گئی ہے اس کو انہوں نے بہرحال پورا کرنا ہے۔ پھر اس کے بعد ان سے نبٹ لیا جائے گا کیونکہ ہم جھٹلانے والوں سے نبٹنا بھی خوب جانتے ہیں(تفسیر عروۃ الوثقی الحاقۃ-49)۔

فرمایا:

كَلَّا ۭ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا   [137]

ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ہماری آیتوں کا دشمن کا رہا ہے۔

یعنی یہ اس کی خوش فہمی ہے۔ جب وہ ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کررہا ہے کہ نہ ہمارے رسول پر ایمان لانے کے لیے تیار ہے اور نہ ہمارے کلام پر تو آخرت میں وہ نعمتوں کا مستحق کس طرح ہو سکتا ہے۔ اوپر کی آیتوں میں ان لیڈروں کی تصویر کھینچی گئی ہے جو دنیوی اعتبار سے خوشحال تھے لیکن نبی ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور ولید بن مغیرہ تو پوری طرح اس کا مصداق تھا(تفسیر دعوت قرآن المدثر-16)۔

فرمایا:

فَقَالَ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ  [138]

پھر کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) متصل ہوتا آیا ہے

فرمایا:

اِنْ هٰذَآ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [139]

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

ولید آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہو آپ نے اسے قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر سنایاتو اس کا دل قدرے نرم پڑگیا۔ ابوجہل کو پتہ چلاتو وہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا چچا ! قریش کے لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کے لئے مال جمع کریں۔ پوچھا ” کیوں ؟” جواب دیا  اسلئے کہ آپ محمد ﷺکے پاس جا کر اس کا کلام سن کر آئے ہیں۔  ولید بولا قریش کے لوگوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مجھے مال کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ میں ان سب سے زیادہ مالدار ہوں۔  تو ابوجہل نے کہا کہ کوئی ایسی بات کہو جس سے لوگوں کو پتا چل جائے کہ تو محمد (ﷺ) کے کلام کو ناپسند کرتا ہے۔ لوگوں نے ولید کو مختلف مشورے دیئے مگر بالاخر اس نے سوچ کر جو بات کہی تو یہ کہ ’ یہ قرآن جادو ہے جو چلا آتا ہے اور یہ آدمی کا کلام ہے(تفسیراشرف الحواشی المدثر-25)۔

فرمایا:

فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ  [140]

اب اسکے بعد یہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟

یعنی جب یہ لوگ قرآن جیسی عجیب و غریب حکمتوں سے پر، واضح دلائل اور سابقہ تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی کتاب پر ایمان نہیں لاتے تو پھر کونسی کتاب پر ایمان لائیں گے (تفسیر جلالین المرسلات-50)۔

[1] الفرقان-30

[2] البقرہ-41

[3] البقرہ-75

[4] آل عمران-4

[5] البقرہ-89

[6] المائدہ-10

[7] البقرہ-91

[8] آل عمران-70

[9] آل عمران-98

[10] المائدہ-86

[11] البقرہ-176

[12] آل عمران-118

[13] الانعام-49

[14] آل عمران-119

[15] النساء-47

[16] الانعام-157

[17] النساء-136

[18] المائدہ-15

[19] الاعراف-36

[20] المائدہ-19

[21] الاعراف-177

[22] المائدہ-59

[23] النساء-60

[24] البقرہ-99

[25] البقرہ-159

[26] البقرہ-174

[27] البقرہ-170

[28] الاعراف-182

[29] العنکبوت-46

[30] الانعام-20

[31] یونس-17

[32] المائدہ-64

[33] المائدہ-68

[34] یونس-95

[35] آل عمران-7

[36] آل عمران-101

[37] النساء-56

[38] الانعام-7

[39] الانعام-21

[40] المائدہ-104

[41] النحل-104

[42] الانعام-25

[43] الانفال-31

[44] المطففین-13

[45] الانعام-33

[46] الکھف-106

[47] الانعام-39

[48] الانعام-46

[49] الحج-57

[50] الانعام-65

[51] الانعام-66

[52] الانعام-150

[53] العنکبوت-23

[54] الانعام-155

[55] الاعراف-3

[56] الاعراف-9

[57] العنکبوت-47

[58] الاعراف-32

[59] الاعراف-37

[60] سبا-31

[61] الاعراف-40

[62] الاعراف-51

[63] الزمر-63

[64] الاعراف-185

[65] الاعراف-203

[66] الانفال-32

[67] التوبۃ-6

[68] التوبۃ-65

[69] فصلت-28

[70] یونس-15

[71] ھود-17

[72] الجاثیہ-11

[73] النحل-24

[74] النحل-105

[75] بنی اسرائیل-46

[76] بنی اسرائیل-47

[77] بنی اسرائیل-98

[78] الکھف-57

[79] الکھف-105

[80] المریم-73

[81] الجاثیہ-31

[82] المریم-77

[83] طہ-126

[84] البلد-19

[85] الانبیاء-50

[86] الحدید-19

[87] الحج-51

[88] الحج-72

[89] التغابن-10

[90] المومنون-63

[91] المومنون-66

[92] المومنون-67

[93] المومنون-68

[94] المومنون-105

[95] الفرقان-29

[96] النبا-28

[97] الفرقان-52

[98] النمل-81

[99] النمل-82

[100] النمل-83

[101] النمل-84

[102] العنکبوت-49

[103] الروم-10

[104] لقمان-7

[105] السجدہ-22

[106] سبا-38

[107] سبا-43

[108] ص-8

[109] الزمر-59

[110] الزمر-71

[111] المومن-4

[112] المومن-56

[113] المومن-63

[114] المومن-69

[115] المومن-70

[116] فصلت-15

[117] فصلت-40

[118] فصلت-41

[119] فصلت-45

[120] فصلت-52

[121] الزخرف-31

[122] الجاثیہ-8

[123] الجاثیہ-9

[124] الجاثیہ-25

[125] الجاثیہ-35

[126] الاحقاف-10

[127] محمد-24

[128] محمد-26

[129] الواقعہ-81

[130] الواقعہ-82

[131] الطلاق-10

[132] المڪ-9

[133] ن-15

[134] ن-44

[135] ن-51

[136] الحاقۃ-49

[137] المدثر-16

[138] المدثر-24

[139] المدثر-25

[140] المرسلات-50