قرآن سے چند مثالیں

قرآن میں تدبر

لائقِ تدبر قصے  مثالیں وغیرہ

تاریخ عالم اور ماضی کے تجربات میں انسان کی آئندہ زندگی کے لئے بڑے سبق ہوتے ہیں جن کی قدرتی تاثیر کا رنگ انسان کے قلب و دماغ پر عام تعلیمات سے بہت زیادہ گہرا اور بےمحنت ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم جو تمام اقوام عالم کے لئے آخری ہدایت نامہ کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے اس میں پوری اقوام عالم کی تاریخ کا وہ منتخب حصہ لے لیا گیا ہے جو انسان کے حال اور مال کی اصلاح کے لئے نسخہ کیمیا ہے مگر قرآن کریم نے تاریخ عالم کے اس حصہ کو بھی اپنے مخصوص وبے مثال انداز میں اس طرح لیا ہے کہ اس کا پڑھنے والا یہ محسوس نہیں کر سکتاکہ کہ کوئی تاریخ کی کتاب ہے بلکہ ہر مقام پر جس قصہ کا کوئی ٹکڑا عبرت وموعظت کیلئے ضروری سمجھا گیا صرف اتنا ہی حصہ وہاں بیان کیا گیا اور پھر کسی دوسرے موقع پر اس حصہ کی ضرورت سمجھی گئی تو پھر اس کا اعادہ کردیا گیا اسی لئے ان قصوں کے بیان میں واقعاتی ترتیب کی رعایت نہیں کی گئی بعض جگہ قصہ کا ابتدائی حصہ بعد میں اور آخری حصہ پہلے ذکر کردیا گیا ہے اس خاص اسلوب قرآنی میں یہ مستقل ہدایت ہے کہ دنیا کی تاریخ اور اس کے گذشتہ واقعات کا پڑھنا یادرکھنا خود کوئی مقصد نہیں بلکہ انسان کا مقصد ہرقصہ وخبر سے کوئی عبرت ونصیحت حاصل کرنا ہونا چاہئے۔اس ہی لئے بعض اہل تحقیق نے فرمایا کہ انسان کے کلام کی جو دو قسمیں خبر اور انشاء مشہور ہیں ان دونوں قسموں میں سے مقصود اصلی انشاء ہی ہے خبر بحیثیت خبر کبھی مقصود نہیں ہوتی بلکہ دانشمند انسان کا مقصد ہر خبر اور واقعہ کو سننے اور دیکھنے سے صرف اپنے حال اور عمل کی اصلاح ہونی چاہئے(تفسیر معارف القرآن یوسف-1)۔

فرمایا:

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَی[1]

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں۔ اور تم اس سے پہلے بے خبر تھے۔

ہم نے قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امینؑ رسول اکرم ﷺ پر عربی میں نازل کیا ہے تاکہ جن چیزوں کا بذریعہ قرآن کریم ہم نے تمہیں حکم دیا ہے اور جن چیزوں سے تمہیں کو روکا ہے تم انکو سمجھو ۔ہم آپ ﷺسے یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں سے اس قرآن کریم کے ذریعے جو بذریعہ جبریل امین ؑہم نے آپﷺ کے پاس بھیجا ہے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں(تفسیر ابنِ عباس یوسف-3)۔ یعنی ہم گزشتہ امم اور پارینہ اقوام کے قصے بہترین اسلوب کے ساتھ بیان کرتے ہیں(تفسیر مظہری یوسف-3)۔

فرمایا:

ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ [2]

اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

فرمایا:

لَقَدْ كَانَ فِيْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ  ۭ مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ[3]

ان کے قصے میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے۔ جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور ہر چیز کی تفصیل (کرنے والا) اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

نبیوں کے واقعات، مسلمانوں کی نجات، کافروں کی ہلاکت کے قصے، عقلمندوں کے لئے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی جو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے۔ اور جو احکام منسوخ ہوگئے انہیں بیان کرتا ہے۔ ہر ایک حلال و حرام، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ طاعات واجبات، مستحبات، محرمات، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے جو غلطیاں اپنے خالق کے بارے میں کی ہیں ان کی اصلاح کرتا ہے۔ مخلوق کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اللہ کی کوئی صفت اس کی مخلوق میں ثابت کریں۔ پس یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے، ان کے دل ضلالت سے ہدایت اور جھوٹ سے سچ اور برائی سے بھلائی کی راہ پاتے ہیں اور رب العباد سے دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کرلیتے ہیں(تفسیر ابنِ کثیر یوسف-111)۔

فرمایا:

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْـتَوْدَعٌ ۭ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّفْقَهُوْنَ[4]

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی۔ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

انسان کے پیدا کرنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جو غافل لوگ اپنی ضرورت کی چیزوں کی حالت پر غور کر کے ان چیزوں کے پیدا کرنے والے کو نہ پہچان سکے وہ خود اپنی پیدائش کی حالت پر غور کر کے اپنے خالق کو پہچانیں اور شرک سے باز آویں نفس واحد سے مقصود حضرت آدم ؑہیں کیونکہ بنی آدم کی پیدائش کا سلسلہ انہی سے شروع ہوا ہے حضرت حوا ؑحضرت آدمؑ کی پسلی سے پیدا ہوئیں حضرت عیسیٰ ؑحضرت مریمؑ کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور حضرت مریمؑ حضرت آدمؑ کی اولاد میں ہیں غرض بنی آدم میں سے کوئی شخص حضرت آدم ؑکے سلسلہ سے باہر نہیں ہے۔ ترمذی ابوداؤد اور صحیح ا حبان میں ابوموسیٰ  اشعری سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کے پتلے کی مٹی تمام روئے زمین کی مٹی کو ملاکر لی ہے اس واسطے ان کی اولاد کے رنگ اور مزاج مختلف ہیں ابن حبان نے اس حدیث آیت کے ٹکڑے وھوالذی انشأ کم من نفس واحدۃ کی گویا تفسیر کی ہے جس سے بنی آدم کے رنگ و روپ اور مزاجوں کے مختلف ہونے کا سبب سمجھ میں آتا ہے ۔۔ صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں چند صحابہ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ماں کے رحم میں بچہ کا پتلا چار مہینے کے عرصہ میں بن کر تیار ہوجاتا ہے تو پھر اس پتلے میں اللہ کے حکم سے روح پھونکی جاتی ہے(تفسیر احسن التفاسیرالانعام-98) ۔

فرمایا:

قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ  ۚ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا  ۭوَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ   ؁وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهٗ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ[5]

(اے پیغمبر ! ان لوگوں سے کہو کہ) تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرت کے سامان پہنچ چکے ہیں۔ اب جو شخص آنکھیں کھول کر دیکھے گا، وہ اپنا ہی بھلا کرے گا، اور جو شخص اندھا بن جائے گا، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور مجھے تمہاری حفاظت کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے۔ اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کیلئے تشریح کردیں۔

بصائر سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے(تفسیر  ابن ِکثیر الانعام-105)۔

فرمایا:

وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۚ وَالَّذِيْ خَبُثَ لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا   ۭ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ[6]

جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے۔ اور جو خراب ہے اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے۔ اس طرح ہم آیتوں کو شکر گزاروں کیلئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

والبلد الطیب یعنی یہ مثال اس مومن کی ہے جس نے کتاب اللہ کو سنا، اس کو یاد کیا اور اس کو مضبوطی سے پکڑا اور اس پر عمل کیا۔ اور اس سے نفع اٹھایا جیسے اس زمین کی مثال جس کو بارش پہنچی پھر اس نے پیدوار اگائی وہ سرسبز ہوگئی۔ والذی خبث  یعنی یہ مثال کافر کی ہے جس نے قرآن کو نہیں سمجھا اس پر عمل نہیں کیا نہ اس کو پکڑا نہ اس سے نفع اٹھایا۔ جیسے مثال اس خراب زمین کی جس کو بارش پہنچی نہ اس نے کچھ اگایا نہ سبزہ زار ہوئی(تفسیر درمنثور الاعراف-58)۔

فرمایا:

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ  ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ[7]

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی۔ کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کر دو تاکہ وہ فکر کریں۔

اور ہم اسے اسم اعظم کی وجہ سے آسمان تک بلندی عطا کرتے اور دنیا والوں پر اسے بادشاہت عطا کرتے مگر یہ دنیا کی دولت اور بادشاہت کی خواہش اور دیگر نفسانیت کی طرف مائل ہوگیا تو بلعم باعوراء یا امیہ بن ابی الصلت کی مثال کتے کی طرح ہوگئی تو اس پر حملہ کرے پھر بھی ہانپتا ہے اور حملہ نہ کرے پھر بھی زبان نکال کرہانپتا رہتا ہے۔ یہ مثال بلعم باعوراء ( حضرت موسیٰ      ؑ کو بدعا کرنے والا)اور امیہ ابن ابی الصلت (مشہور شاعر)کی ہے کہ انکو نصیحت کی جائے تو نصیحت حاصل نہیں کرتے اور خاموشی اختیار کی جائے تو خود سے عقل نہیں آتی، یہی یہود کی حالت ہے ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنائیے تاکہ امثال قرآنی سے عبرت حاصل کریں(تفسیر ابنِ عباس الاعراف-176)۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اپنی خست اور کمینگی میں کتے کی طرح ہے جو اپنی انتہائی قبیح حالت و صورت میں ہو۔ اور وہ حالت اس کا ہمیشہ ہانپنا ہے اس پر حملہ آور ہوں اور بھڑکا کر اس کو دھتکاریں یا بلا تعرض اس کو چھوڑ دیں اور یہ اس طرح ہے تمام حیوانات اس وقت ہانپتے ہیں جب وہ حرکت کریں مگر کتا سب سے مختلف ہے کہ دونوں حالتوں میں ہانپتا ہے (تفسیر مداراک التنزیل الاعراف-158)۔ کتا منقطع الفواہد ہے اس کا دل نہیں ہوتا، اگر تو اس پر حملہ کرے تو وہ ہانپتا ہے اور اگر تو اسے چھوڑ دے تب بھی ہانپتا ہے۔ اسی طرح وہ ہے جو ہدایت کو ترک کردیتا ہے اس کا دل نہیں ہوتا، بلاشبہ اس کا دل کٹ جاتا ہے۔ قتیبی نے کہا ہے : ہر شے ہانپتی ہے چاہے تھکاوٹ کی حالت ہو یا آرام و راحت کی حالت، بیماری کی حالت ہو یا صحت کی حالت، سیرابی کی حالت ہو یا پیاس کی حالت۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی مثل قرار دیا ہے جس نے اس کی آیات کو جھٹلایا اور فرمایا : اگر تو اسے وعظ ونصیحت کرے تب بھی وہ گمراہ ہے اور اگر تو اسے چھوڑ دے تب بھی وہ گمراہ ہے تو پس وہ اس کتے کی مثل ہے کہ اگر تو اسے چھوڑے تب بھی وہ ہانپے اور اگر توا سے دھتکارے اور بھگائے تب بھی وہ ہانپے(تفسیر قرطبی الاعراف-158)۔

فرمایا:

ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ  ۭ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ[8]

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

اس کی کمال قدرت، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے، ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آجاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑلے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ دن رات پر سبقت کرے نہ رات دن سے آگے بڑھے۔ ہر ایک اپنی اپنی جگہ پابندی سے چل پھر رہا رہے۔ دور ختم کر رہا ہے۔ دونوں کی گنتی سورج کی چال پر اور مہینوں کی گنتی چاند پر ہے(تفسیر ابنِ کثیر یونس-5)۔

فرمایا:

اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ[9]

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں۔

ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپﷺ کی جانب اترا سراسر حق مانتا ہو، سب پر ایمان رکھتا ہو، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانتا ہو، سب خبروں کو سچ جانتا ہو، سب حکموں کو مانتا ہو، سب برائیوں کو جانتا ہو، آپ ﷺکی سچائی کا قائل ہو۔ اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو، نہ سچا جانتا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ جیسے فرمان ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی خوش نصیب ہیں، یہی فرمان یہاں ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں(تفسیر ابنِ کثیر الرعد-19)۔

وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى  ۭ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا  ۭاَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا  ۭ وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ[10]

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو  ہدایت کے راستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بیشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔

اللہ کی کتاب ہدایت خلق کے لیے نازل ہوتی ہے۔ عجائب آفرینیوں کے لیے نازل نہیں ہوئی۔ اگر کوئی کتاب اس لیے نازل ہوئی ہوتی کہ پہاڑوں کو چلا دے اور مردوں سے صدائیں نکال دے تو تم پر بھی ایسی ہی چیز اترتی، لیکن نہ ایسا ہوا ہے نہ اب ہوگا۔ اس طرح کی عجائب آفرینیوں کی فرمائش اس بات کی دلیل ہے کہ دلوں میں سچائی کی طلب نہیں، اگر طلب ہوتی تو پہاڑوں کے چلنے کا انتظار نہ کرتے۔ یہ دیکھتے کہ انسانوں کے دلوں کو کس راہ چلاتی ہے اور مردہ جسموں کی جگہ مردہ روحوں کو کس طرح زندہ کردیتی ہے (تفسیر ترجمان القرآن الرعد-31)؟

فرمایا:

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ  ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ[11]

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا۔ پھر اس سے تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں ( اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اسکے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیرفرمان کیا۔

اللہ کی طرح طرح کی بیشمار نعمتوں کو دیکھو۔ آسمان کو اس نے ایک محفوظ چھت بنا رکھا ہے زمین کو بہترین فرش بنا رکھا ہے آسمان سے بارش برسا کر زمین سے مزے مزے کے پھل کھیتیاں باغات تیار کردیتا ہے۔ اس ہی کے حکم سے کشتیاں پانی کے اوپر تیرتی پھرتی ہیں کہ تمہیں ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائیں تم وہاں کا مال یہاں، یہاں کا وہاں لے جاؤ  لے آؤ، نفع حاصل کرو، تجربہ بڑھاؤ۔ نہریں بھی اسی نے تمہارے کام میں لگا رکھی ہیں، تم ان کا پانی پیو، پلاؤ، اس سے کھیتیاں کرو، نہاؤ دھوؤ اور طرح طرح کے فائدے حاصل کرو۔ ہمیشہ چلتے پھرتے اور کبھی نہ تھکتے سورج چاند بھی تمہارے فائدے کے کاموں میں مشغول ہیں مقرر چال پر مقرر جگہ پر گردش میں لگے ہوئے ہیں۔ نہ ان میں تکرار ہو نہ آگے پیچھے، دن رات انہی کے آنے جانے سے پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں ستارے اسی کے حکم کے ماتحت ہیں اور رب العالمین بابرکت ہے۔ کبھی دنوں کو بڑے کردیتا ہے کبھی راتوں کو بڑھا دیتا ہے، ہر چیز اپنے کام میں سر جھکائے مشغول ہے، وہ اللہ عزیز و غفار ہے۔ تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں اس نے تمہارے لئے مہیا کردی ہیں تم اپنے حال و قال سے جن جن چیزوں کے محتاج تھے، اس نے سب کچھ تمہیں دے دی ہیں، مانگنے پر بھی وہ دیتا ہے اور بےمانگے بھی اس کا ہاتھ نہیں رکھتا۔ تم بھلا رب کی تمام نعمتوں کا شکریہ تو ادا کرو گے ؟ تم سے تو ان کی پوری گنتی بھی محال ہے۔۔ قیامت کے دن انسان کے تین دیوان نکلیں گے ایک میں نیکیاں لکھی ہوئی ہوں گی اور دوسرے میں گناہ ہوں گے، تیسرے میں اللہ کی نعمتیں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں میں سے سب سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا کہ اٹھ اور اپنا معاوضہ اس کے نیک اعمال سے لے لے، اس سے اس کے سارے ہی عمل ختم ہوجائیں گے پھر بھی وہ یکسو ہو کر کہے گی کہ باری تعالیٰ میری پوری قیمت وصول نہیں ہوئی خیال کیجئے ابھی گناہوں کا دیوان یونہی الگ تھلگ رکھا ہوا ہے(تفسیر ابنِ کثیر  ابراھیم-32)۔

فرمایا:

وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا  ۭ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا[12]

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔

یعنی ہم نے قرآن کریم میں دلائل توحید کو مختلف اسلوبوں اور متعدد پیرانوں میں بیان کیا ہے تاکہ ہر طبعیت اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق اس سے استفادہ کرسکے۔ کہیں رحمت کا وعدہ اور کہیں قہر و عذاب کی وعید۔ کہیں بشارتیں اور کہیں دھمکیاں، کہیں نیک لوگوں کی کامیاب زندگیوں کا تذکرہ اور کہیں نافرمان افراد اور سرکش اقوام کے ہولناک انجام کا بیان۔ لیکن اس کے باوجود جنہوں نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ رکھی ہے وہ قریب آنے کی بجائے اور زیادہ دور بھاگے چلے جا رہے ہیں(تفسیر ضیاء القرآن بنی اسرائیل -41)۔

فرمایا:

وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا[13]

جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لیے آزمائش کیا اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی سخت سرکشی پیدا ہوتی ہے

یعنی ہم نے اس ملعون درخت کو لوگوں کیلئے آزمائش بنا دیا ۔جونہی انہوں (کفار)نے اللہ کے اس ارشاد کو سنا اِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْاَثِیْمِ (الدخان : ٤٤، ٤٣) تو وہ اس کا مذاق اڑانے لگے اور کہنے لگے محمدﷺ کا خیال یہ ہے کہ جہنم پتھروں کو تو جلا ڈالتی ہے اور پھر وہ یہ کہتا ہے کہ اس میں درخت بھی اگتے ہیں حالانکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسے عظمت کا حق تھا وہ عظمت نہیں سمجھی ورنہ وہ یہ بات نہ کہتے اس لئے کہ اس کیلئے کوئی چیز رکاوٹ نہیں کہ وہ ایسا درخت بنا دے جن کو آگ نہ جلا سکے(تفسیر مدارک التنزیل بنی اسرائیل -60)۔

فرمایا:

وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ  ۡ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا[14]

اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔

فرمایا:

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ  ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ  ۙ اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا  ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا  ۭ وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا يُغَاثُوْا بِمَاۗءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوْهَ  ۭ بِئْسَ الشَّرَابُ  ۭ وَسَاۗءَتْ مُرْتَفَقًا[15]

ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انکو گھیر رہی ہوں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے انکی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) من ہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ

حضرت ابن مسعود نے ایک مرتبہ سونا پگھلایا جب وہ پانی جیسا ہوگیا اور جوش مارنے لگا فرمایا مھل کی مشابہت اس میں ہے جہنم کا پانی بھی سیاہ ہے، وہ خود بھی سیاہ ہے، جہنمی بھی سیاہ ہیں۔ مھل سیاہ رنگ، بدبودار، غلیظ گندی، سخت گرم چیز ہے، چہرے کے پاس جاتے ہی کھال جھلس کر اس میں آ پڑے گی۔ قرآن میں ہے وہ پیپ پلائے جائیں گے بمشکل ان کے حلق سے اترے گی۔ چہرے کے پاس آتے ہی کھال جل کر گر پڑے گی پیتے ہی آنتیں کٹ جائیں گی انکی ہائے وائے شور و غل پر یہ پانی انکو پینے کو دیا جائے گا۔ بھوک کی شکایت پر زقوم کا درخت دیا جائے گا جس سے ان کی کھالیں اس طرح جسم چھوڑ کر اتر جائیں گی کہ ان کے پہچاننے والا ان کھالوں کو دیکھ کر بھی پہچان لے، پھر پیاس کی شکایت پر سخت گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا جو منہ کے پس پہنچتے ہی تمام گوشت کو بھون ڈالے گا(تفسیر ابنِ کثیر الکھف-29)۔

فرمایا:

وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ  ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا[16]

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے کے) لئے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

فرمایا:

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ [17]

ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟

یعنی قرآن کے ذریعہ سے تم کو ہر قسم کی نصیحت و فہمائش کردی گئی اور سب برا بھلا انجام سمجھا دیا گیا۔ اگر کچھ بھی عقل ہوگی تو عذاب الٰہی سے اپنے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرو گے اور قرآن کی قدر پہچانو گے جو فی الحقیقت تمہارے مجدو شرف کی ایک بڑی دستاویز ہے۔ کیونکہ تمہاری زبان میں اور تمہاری قوم کے ایک فرد کامل پر اترا اور دنیا میں تم کو شہرت دائمی عطا کی۔ اگر اپنے ایسے محسن کو نہ مانو گے تو دنیا میں ذلیل ہو گے اور آخرت کا عذاب الگ رہا۔ (تفسیر عثمانی الانبیاء-10)۔

فرمایا:

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۙ[18]

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی ہیں

فرمایا:

وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ  ۭ بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَ  [19]

اور اگر (خدائے) برحق ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں

یعنی سچی بات بری لگتی ہے تو لگنے دو۔ سچائی ان کی خوشی اور خواہش کے تابع نہیں ہو سکتی۔ اگر سچا خدا ان کی خوشی اور خواہش ہی پر چلا کرے تو وہ خدا ہی کہاں رہے۔ معاذ اللہ بندوں کے ہاتھ میں ایک کٹ پتلی بن جائے۔ ایسی صورت میں زمین و آسمان کے یہ محکم انتظامات کیونکر قائم رہ سکتے ہیں۔ اگر ایک چھوٹے سے گاؤں کا انتظام محض لوگوں کی خواہشات کے تابع کردیا جائے، وہ بھی چار دن قائم نہیں رہ سکتا چہ جائیکہ زمین و آسمان کی حکومت۔ کیونکہ عام خواہشات نظام عقلی کے مزاحم اور باہمدگر بھی متناقض واقع ہوئی ہیں۔ عقل وہوٰی کی کشمکش اور اہوائے مختلفہ کی لڑائی میں سارے انتظامات درہم برہم ہوجائیں گے(تفسیر عثمانی المومنون-71)۔

فرمایا:

وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ [20]

اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

فرمایا:

وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ [21]

اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت

یعنی قرآن میں سب کچھ نصیحتیں، احکام اور گذشتہ اقوام کے عبرتناک واقعات بیان کردیے گئے ہیں تاکہ خدا کا ڈر رکھنے والے سن کر نصیحت و عبرت حاصل کریں اور اپنے انجام کو سوچیں(تفسیر عثمانی النور-34)۔

فرمایا:

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا ڮ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا   [22]

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح کے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا

فرمایا:

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ۭ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَاۗءَ فِيْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِيْهِ سَوَاۗءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِيْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۭ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ [23]

وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں؟ اور کیا تم اس میں (ان کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو؟ (اور کیا) تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو؟ اسی طرح ہم عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ وہ حج وعمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ دعا (لبیک لاشریک لک الا شریکا ھولک تملکہ وماملک) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔ یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جارہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کرسکیں۔ فرماتا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضامند ہوگا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں۔ پس جس طرح تم یہ بات اپنے لئے پسند نہیں کرتے اللہ کے لئے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کرسکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لئے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لئے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے اتناسنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک وسہیم سمجھیں لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خونی ہے (تفسیر ابنِ کثیر الروم-28)؟

فرمایا:

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۭ وَلَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ [24]

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر تم ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

یہ قرآن عجیب و غریب کتاب حکمت اور دستور ہدایت ہے اس کی خوبی پر نظر کرو تم پر واضح ہوجائے گا کہ یہ آسمانی کتاب ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے جو قیامت تک باقی رہے گی انبیا سابقین کے معجزات ختم ہوگئے مگر قرآن ایسا معجزہ ہے کہ قیامت تک باقی رہے گا(تفسیر معارف القرآن کاندہلوی صاحب الروم-58)۔

فرمایا:

وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِيْنٍ  [25]

اور تم کو اس کا حال (قرآن کے حوالات کا) ایک وقت کے بعد معلوم ہوجائے گا

یعنی نصیحت سے غرض یہ ہے کہ اپنے دشمن اور دوست میں تمیز کرو۔ شیطان لعین جو ازلی دشمن ہے اس کی راہ مت چلو۔ نبیوں کا کہنا مانو تو جو تمہاری بہی خواہی کے لیے آئے ہیں۔ میں تم سے اس نصیحت کا کوئی صلہ یا معاوضہ نہیں مانگتا، نہ خواہ مخواہ اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات کہتا ہوں۔ اللہ نے ایک فہمائش کی وہ تمہارے تک پہنچا دی۔ تھوڑی مدت کے بعد تم خود معلوم کرلو گے کہ جو خبریں دی گئیں کہاں تک درست ہیں اور جو نصیحت کی گئی کیسی سچی اور مفید تھی(تفسیر عثمانی ص-88)۔

فرمایا:

وَلَــقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ [26]

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے لئے) اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کیں ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

فرمایا:

سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۭ اَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ    [27]

ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے؟

 یعنی قرآن کی حقانیت کے دوسرے دلائل وبراہین تو بجائے خود رہے۔ اب ہم ان منکروں کو خود ان کی جانوں میں اور ان کے چاروں طرف سارے عرب بلکہ ساری دنیا میں اپنی قدرت کے وہ نمونے دکھلائیں گے جن سے قرآن اور حال قرآن کی صداقت بالکل روز روشن کی طرح آنکھوں سے نظر آنے لگے۔ وہ نمونے کیا ہیں ؟ وہ ہی اسلام کی عظیم الشان اور محیر العقول فتوحات جو سلسلہ اسباب ظاہری کے بالکل برخلاف قرآنی پیشین گوئیوں کے عین مطابق وقوع پذیر ہوئیں۔ چنانچہ معرکہ ” بدر ” میں کفار مکہ نے خود اپنی جانوں کے اندر اور ” فتح مکہ ” میں مرکز عرب کے اندر اور خلفائے راشدین کے عہد میں تمام جہان کے اندر یہ نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ” آیات ” سے عام نشانہائے قدرت مراد ہوں جو غور کرنے والوں کو اپنے وجود میں اور اپنے وجود سے باہر تمام دنیا کی چیزوں میں نظر آتے ہیں جن سے حق تعالیٰ کی وحدانیت وعظمت کا ثبوت ملتا ہے اور قرآن کے بیانات کی تصدیق ہوتی ہے۔ جبکہ وہ ان سنن الٰہیہ اور نوامیس فطریہ کے موافق ثابت ہوتے ہیں جو اس عالم تکوین میں کارفرما ہیں۔ اس قسم کے تمام حقائق کونیہ اور آیات آفاقیہ و انفسیہ کا انکشاف چونکہ لوگوں کو دفعتاً نہیں ہوتا، بلکہ وقتاً فوقتاً بتدریج ان کے چہرہ سے پردہ اٹھتا رہتا ہے(تفسیر عثمانی فصلت-53)۔

فرمایا:

وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً     ڮ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ ۙبِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ      [28]

اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دئیے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دئیے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دئیے تھے تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو انکے کان ہی انکے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل اور جس چیز سے استہزا کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا

ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں انکی طرح نہ ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ انکے سے عذاب تم پر بھی آجائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ(تفسیر ابنِ کثیر الاحقاف-26)۔

فرمایا:

وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [29]

اور تمہارے اردگرد کی بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور بار بار (اپنی) نشانیاں ظاہر کردیں تاکہ وہ رجوع کریں

فرمایا:

اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ   [30]

جان رکھو کہ خدا ہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ہم نے اپنی نشانیاں تم سے کھول کھول کر بیان کردی ہیں تاکہ تم سمجھو

یعنی ذکر اور تلاوت سے اللہ سخت (مردہ) دلوں کو اسی طرح زندہ کردیتا ہے جس طرح مردہ (خشک) زمین کو زندہ کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ مردہ زمین کو زندہ کرنے کی طرح مردہ انسانوں کو زندہ کرے گا۔ اس جملہ میں دل کی قساوت سے بازداشت کی گئی ہے اور خشوع کی ترغیب دی گئی ہے(تفسیر مظہری الحدید-17)۔

فرمایا:

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ  ۭ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ     [31]

اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں

قرآن کریم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فی الواقع یہ پاک کتاب اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ دل اس کے سامنے جھک جائیں، رونگٹے کھڑے ہوجائیں، کلیجے کپکپائیں، اس کے سچے وعدے اور اس کی حقانی ڈانٹ ڈپٹ ہر سننے والے کو بید کی طرح تھرادے، اور دربار اللہ میں سریہ سجود کرا دے، اگر یہ قرآن جناب باری کسی سخت بلند اور اونچے پہاڑ پر بھی نازل فرماتا اور اسے غور و فکر اور فہم و فراست کی حس بھی دیتا تو وہ بھی اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا، پھر انسانوں کے دلوں پر جو نسبتاً بہت نرم اور چھوٹے ہیں۔ جنہیں پوری سمجھ بوجھ ہے، اس کا بہت بڑا اثر پڑنا چاہئے، ان مثالوں کو لوگوں کے سامنے ان کے غور و فکر کے لئے اللہ تالیٰ نے بیان فرما دیا(تفسیر ابنِ کثیر الحشر-21)۔

فرمایا:

مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا   ۭ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ   ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ[32]

جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا انکی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

یعنی یہود پر ” تورات ” کا بوجھ رکھا گیا تھا اور وہ اس کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ لیکن انہوں نے اس کی تعلیمات و ہدایات کی کچھ پروانہ کی، نہ اس کو محفوظ رکھا، نہ دل میں جگہ دی، نہ اس پر عمل کر کے اللہ کے فضل و انعام سے بہرہ ور ہوئے۔ بلاشبہ تورات جس کے لوگ حامل بنائے گئے تھے حکمت و ہدایت کا ایک ربانی خزینہ تھا مگر جب اس سے منتفع نہ ہوئے تو وہ یہ مثال ہوگئی۔  نہ محقق شدی نہ دانشمند چار پائے بروکتابے چند  ایک گدھے پر علم و حکمت کی پچاسوں کتابیں لاد دو،  اس کو بوجھ میں دبنے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ تو صرف ہری گھاس کی تلاش میں ہے۔ اس بات سے کچھ سروکار نہیں رکھتا کہ پیٹھ پر لعل و جواہر لدھے ہوئے ہیں یا خزف وسنگریزے۔ اگر محض اسی پر فخر کرنے لگے کہ دیکھو ! میری پیٹھ پر کیسی کیسی عمدہ اور قیمتی کتابیں لدی ہوئیں ہیں لہذا میں بڑا عالم اور معزز ہوں تو یہ اور زیادہ گدھا پن ہوگا(تفسیر عثمانی الجمعہ-5)۔

[1] یوسف-3

[2] النور-61

[3] یوسف-111

[4] الانعام-98

[5] الانعام-105

[6] الاعراف-58

[7] الاعراف-176

[8] یونس-5

[9] الرعد-19

[10] الرعد-31

[11] ابراھیم-32

[12] بنی اسرائیل-41

[13] بنی اسرائیل-60

[14] بنی اسرائیل-89

[15] الکھف-29

[16] الکھف-54

[17] الانبیاء-10

[18] الحج-16

[19] المومنون-71

[20] النور-18

[21] النور-34

[22] الفرقان-50

[23] الروم-28

[24] الروم-58

[25] ص-88

[26] الزمر-27

[27] فصلت-53

[28] الاحقاف-26

[29] الاحقاف-27

[30] الحدید-17

[31] الحشر-21

[32] الجمعہ-5