نفاق، فسق، کفر کی علامات

مختلف روحانی امراض کی نشاندہی قرآن سے


 

نفاق، فسق اور کفر کی علامات

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ[1]

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے


فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ   ۙ   فَزَادَھُمُ اللّٰهُ مَرَضًا    ۚ   وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ         بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ   [2]

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا خدا نے انکا مرض اور زیادہ کردیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا


الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِه   ٖ  ۠   وَ يَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ   ۭ   اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ[3]

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں


وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ   ۚ   ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ[4]

اور جو لوگ منکر ہوئے اور جھٹلایا ہماری نشانیوں کو وہ ہیں دوزخ میں جانے والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے


وَاِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ[5]

اور یقینایہ(نماز) بہت بھاری شے ہے مگر  عاجزوں پر (بھاری نہیں ہے) ۔


فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِىْ قِيْلَ لَھُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ[6]

تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے


وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ وَمَا يَكْفُرُ بِهَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ   [7]

اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بد کردار ہیں


وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ ۚ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ ۤوَمَآ اُنْزِلَ عَلَي الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ۭ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۭ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ۭ وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَيَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ ۭ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىھُ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ڜ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ ۭ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ[8]

اور ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے، اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہ) آزمائش ہیں تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے ایسا (جادو) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیج ڈالا وہ بری تھی، کاش وہ (اس بات کو) جانتے


وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ مَا كَانَ لَھُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَاۗىِٕفِيْنَ ڛ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ[9]

اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اس بات سے روکے کہ اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کی ویرانی کی کوشش کرے، ان لوگوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔


اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ ۙاُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ[10]

بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم انہیں کتاب میں کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں،


وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ[11]

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں


اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْۗءِ وَالْفَحْشَاۗءِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ[12]

وہ(شیطان) تم کو برائی اور بے حیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں


ۭ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ[13]

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دینا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر، ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں


وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِهٖ ۙ وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ[14]

اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے


وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ[15]

اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین پر دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی )نسل کو نابود کر دے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا


وَاِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ ۭ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ[16]

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے


اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَــمَنًا قَلِيْلًا اُولٰۗىِٕكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ ۠ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ[17]

جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا


وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ  ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ[18]

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں ہوگا


وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا[19]

اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آ موجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہکرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔


الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا     [20]

جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کر رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے


وَالَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ وَمَنْ يَّكُنِ الشَّيْطٰنُ لَهٗ قَرِيْنًا فَسَاۗءَ قَرِيْنًا[21]

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لیے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کا ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے


وَمَنْ يَّكْسِبْ خَطِيْۗئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهٖ بَرِيْۗـــــــًٔــا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا[22]

اور اگر کوئی شخص کسی غلطی یا گناہ کا مرتکب ہو، پھر اس کا الزام کسی بے گناہ کے ذمے لگا دے، تو وہ بڑا بھاری بہتان اور کھلا گناہ اپنے ا وپر لاد لیتا ہے۔


وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا[23]

اور جو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا اور راستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے


ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا[24]

اور جو شخص خدا اور اسکے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روز قیامت سے انکار کرے وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑا


اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا     [25]

منافق  خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم


مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ ڰ لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَاۗءِ ۭوَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا[26]

یہ(منافق) کفر و ایمان کے درمیان ڈانواڈول ہیں، نہ پورے طور پر ان (مسلمانوں) کی طرف ہیں، نہ ان (کافروں) کی طرف۔ اور جسے اللہ گمراہی میں ڈال دے، تمہیں اس کے لیے ہدایت پر آنے کا کوئی راستہ ہرگز نہیں مل سکتا۔


یٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ ڔ وَمِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا ڔ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ ۙ لَمْ يَاْتُوْكَ ۭيُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۚ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا  ۭ [27]

اے پیغمبر جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں۔ اور (کچھ) ان میں سے یہودی ہیں۔ ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا۔ یہ غلط باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کیلئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے کے بعد) بدل دیتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اگر نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اگر خدا کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لئے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی ذلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے


وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَآ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــحِيْمِ[28]

اور جن لوگوں کے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔


ۚ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّهٗ يَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَيِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاۗءِ  ۭ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ   [29]

اور جسے (اللہ)چاہتا ہے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کریتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔


   ڮ وَلَا تُسْرِفُوْا    ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ[30]

 اور بے جا نہ اڑانا۔ کہ خدا بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔


اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ  ۭ اِنَّمَآ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ[31]

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں۔ ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا۔


قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ[32]

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بے حیائی کی باتوں کو ظاہر یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جنکا تمہیں کچھ علم نہیں۔


وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا     ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ  ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ[33]

اور اسمائے حسنی (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہذا اس پر انہی ناموں سے پکارو۔  اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں۔  وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس کا بدلہ انہیں دیا جائے گا۔


وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ[34]

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (حکم خدا) سن لیا مگز (حقیقت میں) نہیں سنتے۔


وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ  ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ   [35]

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لئے) اور لوگوں کو دکھانے کے لئے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے


اَلَّذِيْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ  وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ  [36]

جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے


 

 

كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً  ۭ يُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰي قُلُوْبُهُمْ ۚ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ[37]

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب انکا حال یہ ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا ؟ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کردیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو قبول نہیں کرتے) اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔


لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً  ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ[38]

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔


وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ  ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ[39]

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو (ان) کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بے ایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔


اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّيُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِــــُٔــوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَيُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ  ۭ زُيِّنَ لَهُمْ سُوْۗءُ اَعْمَالِهِمْ  وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ[40]

امن کے کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کردینا کفر میں اضافہ (کرتا) ہے۔ اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اسکو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کی جو خدا نے مقرر کیئے ہیں گنتی پوری کرلیں اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کرلیں۔ انکے برے اعمال ان کو بھلے دکھائی دیتے ہیں اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔


لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ[41]

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا پرہیزگاروں سے واقف ہے۔


لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰي جَاۗءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَهُمْ كٰرِهُوْنَ[42]

یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لئے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے۔


وَمَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّآ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوْلِهٖ وَلَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمْ كُسَالٰى وَلَا يُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَهُمْ كٰرِهُوْنَ[43]

اور ان کے خرچ (اموال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے کہ انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست و کاہل ہو کر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔


وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ  ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ     [44]

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہیں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔


لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُوْنَ     [45]

(مسلمانوں سے خوف اور نفرت کی یہ حالت ہے کہ)اگر یہ پالیں کہیں کوئی پناہ گاہ یا کوئی غار یا کوئی سر چھپانے کی جگہ ‘ تو یہ اس کی طرف بھاگ جائیں اپنی رسیاں تڑاتے ہوئے


اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ لْمَعْرُوْفِ وَيَقْبِضُوْنَ اَيْدِيَهُمْ ۭنَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ  ۭاِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ     [46]

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک ہی طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بیشک منافق نافرمان ہیں


كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّاَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا   ۭ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِيْ خَاضُوْا   ۭ اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ   ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ  [47]

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت طاقتور اور مال و اولاد کہیں زیادہ تھے۔ تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضا ئع ہوگئے اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔


فَلَمَّآ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ[48]

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے۔ اور (اپنے عہد سےکہ مال ہونے پر صدقہ کریں گے اور نیک ہو جائیں گے) روگردانی کر کے پھر بیٹھے


فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ[49]

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لئے جس میں وہ خدا کے رو برو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لئے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔


وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ[50]

اور ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ انکو دنیا میں عذاب کرے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں۔


اَوَلَا يَرَوْنَ اَنَّھُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَلَا ھُمْ يَذَّكَّرُوْنَ[51]

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں؟


اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا وَرَضُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَاطْمَاَنُّوْا بِهَا وَالَّذِيْنَ ھُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ   [52]

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں


وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُھُمْ   ۭ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ[53]

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی۔ سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کو توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔


وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا  ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ  ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ[54]

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو (بے لحاظ ہوجاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے کہ گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔


وَمَا يَتَّبِعُ اَكْثَرُھُمْ اِلَّا ظَنًّا  ۭ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔـا  ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ[55]

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہو سکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔


مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ[56]

جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کے طا لب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انھیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں اور اس میں انکی حق تلفی نہیں کی جاتی۔


الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَهَا عِوَجًا  ۭ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ [57]

جو خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔


وَتِلْكَ عَادٌ    ڐ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ وَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ[58]

یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔


وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا  ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ  ۭ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ اِنِّىْٓ اَرٰىكُمْ بِخَيْرٍ وَّاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيْطٍ[59]

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا۔


وَيٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ[60]

اور اے قوم! ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو۔


وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ         [61]

اور جو لوگ ظالم ہیں انکی طرف مائل نہ ہونا نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آ لپٹے گی۔ اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں (اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے) تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔


فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِيَّةٍ يَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْاَرْضِ اِلَّا قَلِيْلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۚ وَاتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِيْهِ وَكَانُوْا مُجْرِمِيْنَ[62]

جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے؟ ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ انہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جن میں عیش و آرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے


الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا  ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ[63]

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں) خدا کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں۔


وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ

اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔


وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ  بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ  [64]

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اسکو توڑ ڈالتے اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کردیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے۔ اور انکے لئے گھر بھی برا ہے


الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَي الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَيَبْغُوْنَھَا عِوَجًا  ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ[65]

جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں) خدا کے راستے سے روکتے اور اس میں تیڑھ چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں۔


ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ     [66]

(مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے


ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَيَتَمَتَّعُوْا وَيُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ[67]

(اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ان کے حال پر رہنے دو کہ کھا ئیں اور فائدے اٹھا لیں اور (طول عمل) ان کو (دنیا میں) مشغول کئے رہے۔ عنقریب ان کو اسکا (انجام) معلوم ہوجائے گا۔


كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ[68]

اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیتے ہیں۔


قَالَ وَمَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖٓ اِلَّا الضَّاۗلُّوْنَ[69]

(ابر اہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے میں مایوس کیوں ہونے لگا ؟ اس سے مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے۔


لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُوْنَ[70]

(اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری جان کی قسم وہ اپنی مستی میں مدہوش (ہو رہے) تھے۔


خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ[71]

اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا۔


ۭ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ[72]

 وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔


لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ[73]

(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بے تحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی (اٹھائیں گے) سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔


يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا وَاَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ[74]

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر (واقف ہو کر) ان سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں۔


وَلَا تَتَّخِذُوْٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَتَذُوْقُوا السُّوْۗءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ[75]

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے راستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزا چکھنا پڑے اور بڑا سخت عذاب ملے۔


وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ  ۭ  اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ[76]

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آ جائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔


وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بِالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا   [77]

اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے


مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ   ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا[78]

جو شخص دنیا کے فوری فائدے ہی چاہتا ہے تو ہم جس کے لیے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں، اسے یہیں پر جلدی دے دیتے ہیں،  پھر اس کے لیے ہم نے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر داخل ہوگا۔


ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا[79]

 اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی سخت سرکشی پیدا ہوتی


وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ  ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ  ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا  [80]

اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا


وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَي الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ ۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَـــــُٔوْسًا[81]

اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہوجاتا اور پہلو بھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔


قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ  ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا[82]

کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے اور انسان دل کا بہت تنگ ہے۔


ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ وَمَآ اُنْذِرُوْا هُزُوًا  [83]

اور (عذاب سے) ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ باطل (کی سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز کو انکو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا ہے


 

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ  ۭ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا  ۭ وَاِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ يَّهْتَدُوْٓا اِذًا اَبَدًا[84]

اور اس سے ظالم کون جس کو اسکے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے اس سے منہ پھیر لیا اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اسکو بھول گیا ہم نے انکے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو راستے کی طرف بلاؤ تو کبھی راستے پر نہ آئیں گے


الَّذِيْنَ كَانَتْ اَعْيُنُهُمْ فِيْ غِطَاۗءٍ عَنْ ذِكْرِيْ وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَمْعًا[85]

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے


اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا[86]

وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں


فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّـبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا[87]

پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشنیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گو یا اسے) کھو دیا اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی


اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ[88]

لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں


مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَـمَعُوْهُ وَهُمْ يَلْعَبُوْنَ[89]

ان کے پاس کوئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں


اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً  ۭ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ ۚ ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ  ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ  ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ [90]

کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر معبود بنا لیے ہیں؟ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں انکی کتابیں بھی ہیں بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے منہ پھیر لیتے ہیں


قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ۭ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ[91]

کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں


وَاِنْ اَدْرِيْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ[92]

اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)


وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّيَتَّبِـعُ كُلَّ شَيْطٰنٍ مَّرِيْدٍ[93]

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (و دانش) کے بغیر جھگڑتے ہیں اور ہر شیطان سرکش پیروی کرتے ہیں


وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ[94]

اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو خدا (کی شان) میں بغیر علم (و دانش) کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے جھگڑتا ہے


ثَانِيَ عِطْفِهٖ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ  ۭ لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّنُذِيْقُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِيْقِ  [95]

(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے راستے سے گمراہ کر دے اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے


وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِهٖ ۚ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ  ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ[96]

اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے اگر اسکو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی یہی تو نقصان صریح ہے


يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنْفَعُهٗ  ۭ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ[97]

یہ خدا کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے


ذٰلِكَ  ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ  ۭ وَاُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ[98]

یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ پروردگار کے نزدیک اسکے حق میں بہتر ہے اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیے گئے ہیں سوا انکے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو


وَالَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ[99]

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں (اپنے زعم باطل میں) ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی وہ اہل دوزخ ہیں


وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ يَاْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ[100]

اور کافر لوگ ہمیشہ اس (کلام)سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر آواقع ہو


وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ  ۭ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا  ۭ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ اَلنَّارُ  ۭ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا  ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ[101]

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے


فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ[102]

اور جو ان(بیویوں اور لونڈیوں) کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں


اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ[103]

کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں کی مدد دیتے ہیں(اس لئے یہ بہتر ہیں)


بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ ھٰذَا وَلَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ[104]

مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور اسکے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں


قَدْ كَانَتْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰٓي اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَ[105]

میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھر جاتے تھے


مُسْتَكْبِرِيْنَ ڰ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ[106]

ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بے ہودہ بکواس کرتے تھے


اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ  ۭ بَلْ جَاۗءَهُمْ بِالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ[107]

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے(نبی ﷺ کو) جنون ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں


وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَـضَرَّعُوْنَ[108]

اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے نہیں ہیں


 

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ  ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ[109]

اور وہی ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزاری کرتے ہو


اَلَمْ تَكُنْ اٰيٰـتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ[110]

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے


فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِيًّا حَتّٰٓي اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِيْ وَكُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ[111]

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے


وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ [112]

اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بد کردار ہیں


اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ  ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ  ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ[113]

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی (یعنی تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے


وَيَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُوْلِ وَاَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ  ۭ وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ[114]

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں


وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ[115]

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں(معاملہ تہ کردیں) تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے


قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَنْۢبَغِيْ لَنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ وَلٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَاٰبَاۗءَهُمْ حَتّٰي نَسُوا الذِّكْرَ  ۚ وَكَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا[116]

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایاں نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کی نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے


اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٗ هَوٰىهُ  ۭ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلًا    [117]

کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے؟ تو کیا تم اس پر نگہبان ہو سکتے ہو؟


 

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا ڮ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا   [118]

اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح کے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا


وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ ۚ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ۤ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا   [119]

اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا ؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اسکے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں


اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ[120]

بھلا تم جو ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو


وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ   [121]

محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے


وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ[122]

اور جب تم (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو


وَتَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا فٰرِهِيْنَ[123]

اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو


اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِيْنَ   [124]

کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو؟


وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ  ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ[125]

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں انکو چھوڑ دیتے ہو؟


اَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ   [126]

(دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو


وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ[127]

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو


تَنَزَّلُ عَلٰي كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِـيْمٍ   [128](

شیاٰطین)ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں


يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ[129]

جو(شیطان) سنی ہوئی بات (اس جھوٹے کے کان میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں


وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ[130]

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں


اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ[131]

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ(شیطان کے پیروکار) ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں


وَاَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ[132]

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں


اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُوْنَ   [133]

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے انکے اعمال انکے لئے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں


فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا يَتَّبِعُوْنَ اَهْوَاۗءَهُمْ  ۭ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ   [134]

پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے؟ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا


وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۢ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا  ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا  ۭ وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ    [135]

اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشیت میں اترا رہے تھے سو یہ ان کے مکانات ہیں جو انکے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم اور ان کے پیچھے ہم ہی ان کے وارث ہوئے


 

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَآ اُوْذِيَ فِي اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ  ۭ وَلَىِٕنْ جَاۗءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ  ۭ اَوَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِيْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِيْنَ   [136]

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب ان کو خدا (کے راستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں؟


اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ ڏوَتَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ  ۭ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ[137]

کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے  کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ


وَعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَقَدْ تَّبَيَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ ۣ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ[138]

اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کردیا) چنانچہ ان کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کو آراستہ کر دکھائے اور انکو (سیدھے) راستے سے روک دیا حالا نکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے


ٖ ۭ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ[139]

اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر  ہیں


ۭ وَمَا يَجْـحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ  [140]

ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بے انصاف ہیں


وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاۗءَهٗ   ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ[141]

اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے؟


يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا   ښ وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ[142]

یہ تو دنیا کہ ظاہری زندگی ہی کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے غافل ہیں


ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوا السُّوْۗآٰى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ[143]

پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا اس لئے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھے


 

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ فَمَنْ يَّهْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ ۭ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ[144]

مگر جو ظالم ہیں بے سمجھے اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں


وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ ثُمَّ اِذَآ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُوْنَ[145]

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں پھر جب وہ انکو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ ان میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے


لِيَكْفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنٰهُمْ ۭ فَتَمَتَّعُوْا     ۪ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ[146]

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اٹھالو عنقریب تم کو (اسکا انجام) معلوم ہوجائے گا


وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا ۭ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ اِذَا هُمْ يَقْنَطُوْنَ  [147]

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو ناامید ہو کر رہ جاتے ہیں


وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ ڰ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُوًا  ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ[148]

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بے ہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بے سمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزا کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا


وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِيْٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ[149]

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل(بہرہ پن) ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو


وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا  ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ[150]

اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال(بے رخی) نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا


ۭ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ[151]

 اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن


وَاِذَا غَشِيَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ  ۭ وَمَا يَجْــحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ[152]

اور جب ان پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں


وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا ۭ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ  [153]

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں


يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۪ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ [154]

لوگو! خدا کا وعدہ سچا ہے تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ (شیطان) فریب دینے والا تمہیں فریب دے


مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا ۭاِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ ۭ وَالَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ السَّـيِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۭ وَمَكْرُ اُولٰۗىِٕكَ هُوَ يَبُوْرُ[155]

جو شخص عزت کا طلبگار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا


وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ[156]

اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نہیں آئی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں


وَاِذَا ذُكِّرُوْا لَا يَذْكُرُوْنَ  [157]

اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے


وَاِذَا رَاَوْا اٰيَةً يَّسْتَسْخِرُوْنَ[158]

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹھے کرتے ہیں


اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَاۗءَهُمْ ضَاۗلِّيْنَ[159]

انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ ہی پایا


فَهُمْ عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ يُهْرَعُوْنَ[160]

سو وہ ان(گمراہ باپ دادا) ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں


ۭ فَوَيْلٌ لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ[161]

پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں


وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ    [162]

اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں(دل کڑھنے لگتے ہیں) اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں


فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۡ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ ۭ بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ[163]

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے ہے یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے نہیں بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے


وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ تَرَى الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلَي اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ ۭ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِيْنَ[164]

اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے؟


مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَــقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ[165]

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے


الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ ۭ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ    [166]

جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے، اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے


اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ ۙ اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ[167]

جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے


اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ ۭاَنّٰى يُصْرَفُوْنَ[168]

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں یہ کہاں بھٹک رہے ہیں؟


الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا ڕ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ   [169]

جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کرلیں گے


فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ

اور جب انکے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے(عذاب) اس نے ان کو آ گھیرا


فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ[170]

 لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں


الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ[171]

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں


اِنَّ الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ۭ اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْٓ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ[172]

جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے (تو خیر) جو چاہو سو کرلو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے


اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيْزٌ[173]

جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ انکے پاس آئی اور یہ تو ایک عالی مرتبہ کتاب ہے


وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ[174]

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں


لَا يَسْـَٔمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَاۗءِ الْخَيْرِ ۡ وَاِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَــــُٔـــوْسٌ قَنُوْطٌ[175]

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے


وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۭ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ[176]

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آ چکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں


وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ فِي اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِيْبَ لَهٗ حُجَّــتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَّلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ[177]

اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (اللہ کومومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے


وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُـقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ[178]

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔


فَذَرْهُمْ يَخُوْضُوْا وَيَلْعَبُوْا حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَهُمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ[179]

تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں


بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ[180]

لیکن یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں


يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ     [181]

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو


وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْئَۨا اتَّخَذَهَا هُزُوًا ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ[182]

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے


اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ۭ فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ[183]

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب خدا کے سوا اس کو کون راہ راست پر لا سکتا ہے؟ بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے؟


 

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّغَرَّتْكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ[184]

یہ(عذاب) اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی


مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ اِلَّا بِالْحَـقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ[185]

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں


وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗٓ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَاۗىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ[186]

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور انکو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو؟


وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَي النَّارِ ۭ اَذْهَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا ۚ فَالْيَوْمَ تُجْـزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْـتَكْبِرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ[187]

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کہ تم اپنی دنیا کی زندگی میں لذتیں حاصل کرچکے اور ان سے متمتع ہوچکے تو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے (یہ) اس کی سزا (ہے) کہ تم زمین میں ناحق غرور کیا کرتے تھے اور اسکی کہ بدکرداری کرتے تھے


اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ[188]

جن لوگوں نے کفر کیا اور (اوروں کو) خدا کے راستے سے روکا خدا نے انکے اعمال برباد کر دئیے


ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ[189]

یہ اس لئے کہ خدا نے جو چیز نازل فرمائی انہوں نے اس کو ناپسند کیا تو خدا نے انکے اعمال اکارت کر دئیے


 ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَيَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ[190]

اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں اور انکا ٹھکانا دوزخ ہے


اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُيِّنَ لَهٗ سُوْۗءُ عَمَلِهٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَهْوَاۗءَهُمْ[191]

بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے راستے پر (چل رہا) ہو وہ انکی طرح (ہو سکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کر کے دکھائے جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں


وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ ۚ فَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ ۙ رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يَّنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۭ فَاَوْلٰى لَهُمْ       [192]

اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بیہوشی (طاری) ہو رہی ہو تو ان کے لئے خرابی ہے


فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُـقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ[193]

(اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو


اِنَّ الَّذِيْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى ۙ الشَّيْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ ۭ وَاَمْلٰى لَهُمْ[194]

جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھر گئے شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا


ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِيْعُكُمْ فِيْ بَعْضِ الْاَمْرِ ښ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ[195]

یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے


ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَآ اَسْخَـــطَ اللّٰهَ وَكَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَــطَ اَعْمَالَهُمْ[196]

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اس نے بھی انکے عملوں کو برباد کر دیا


اِنْ يَّسْـَٔــلْكُمُوْهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَيُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ[197]

اگر وہ تم سے ان (اموال) کے بارے میں مطالبہ کرے اور اس معاملے میں تم پر تنگی کرے تو تم بخل سے کام لو گے اور وہ ظاہر کر دے گا تمہارے (دلوں کے) کھوٹ کو۔


وَّيُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَالْمُنٰفِقٰتِ وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكٰتِ الظَّاۗنِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ ۭ عَلَيْهِمْ دَاۗىِٕرَةُ السَّوْءِ ۚ وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا[198]

اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے انہی پر برے حادثے واقع ہوں اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بری جگہ ہے


مَّنَّاعٍ لِّــلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِ[199]

جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ نکالنے والا تھا


اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ[200]

یقیناً تم جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو


 

يُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَ[201]

اس(قرآن) سے وہی باز رکھا جاتا ہے  جو پھیر دیا گیا


قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ       [202]

بے سند باتیں کرنے والے غارت کردیئے گئے۔


الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَ[203]

جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں۔


الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَ[204]

جو اپنی بیہودہ گوئی میں اچھل کود رہے ہیں


اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى   [205]

دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے لئے رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔


اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَــنّٰى[206]

کیا انسان کو ہر اس چیز کا حق پہنچتا ہے جس کی وہ تمنا کرے


اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى   [207]

کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منہ موڑ لیا۔


وَاَعْطٰى قَلِيْلًا وَّاَكْدٰى[208]

اور(مال) بہت کم دیا اور ہاتھ روک لیا


اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَ[209]

پس کیا تم اس(قرآن کی) بات سے تعجب کرتے ہو؟


 

وَتَضْحَكُوْنَ وَلَا تَبْكُوْنَ   [210]

اور ہنس رہے ہو؟ روتے نہیں؟


وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ[211]

بلکہ تم کھیل رہے ہو


اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ[212]

(اس نے ترازو رکھے )تاکہ تولنے میں تجاوز نہ کرو


الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ[213]

انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو۔


اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَ[214]

بیشک یہ لوگ اس (جہنم میں ڈالے جانے )سے پہلے بہت نازوں سے پلے ہوئے تھے


وَكَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ  [215]

اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے۔


وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ[216]

اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو۔


يُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ حَتّٰى جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَغَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ [217]

یہ(جہنمی) چلا چلا کر ان(جنتیوں) سے کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے  وہ کہیں گے ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسا رکھا  تھا اور وہ انتظار میں ہی رہے  اور شک وشبہ کرتے رہے  تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا  یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا  اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے رکھنے والے نے دھوکے میں رکھا۔


اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ  [218]

خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشہ زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال اولاد میں ایک دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وہ خشک ہوجاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وہ باکل چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے  اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔


لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِ[219]

تاکہ تم اپنے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہوجایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر گھمنڈ میں آجاؤ  اور گھمنڈ اور شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔


الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ[220]

جو (خود بھی) بخل کریں اور دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیں، سنو! جو بھی منہ پھیرے  اللہ بے نیاز اور سزاوار حمد و ثنا ہے۔


اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَيَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ ۡ وَاِذَا جَاۗءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ ۙوَيَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ ۭ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ ۚ يَصْلَوْنَهَا ۚ فَبِئْسَ الْمَصِيْرُ[221]

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وہ پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوبارہ کرتے ہیں  اور آپس میں گناہ کی اور ظلم کی زیادتی کی نافرمانی، پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا  اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں  دیتا ان کے لئے جہنم کافی سزا ہے جس میں یہ جائیں گے  سو وہ برا ٹھکانا ہے۔


وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعٰٓى اِلَى الْاِسْلَامِ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ[222]

اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو جھوٹ باندھے اللہ پر جب کہ اس کو بلایا جا رہا ہو اسلام (کے نور مبین) کی طرف؟ اور اللہ ہدایت (کی عظیم الشان اور بے مثل دولت) سے سرفراز نہیں فرماتا ایسے ظالم لوگوں کو


وَلَا يَتَمَنَّوْنَهٗٓ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ[223]

مگر وہ کبھی بھی اس کی تمنا نہیں کریں گے بوجہ اپنے ان کرتوتوں کے جو وہ خود اپنے ہاتھوں آگے بھیج چکے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے ایسے ظالموں کو


وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍ[224]

اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانیوالا ذلیل اوقات ہے۔


هَمَّازٍ مَّشَّاۗءٍۢ بِنَمِيْمٍ[225]

طعن آمیز اشارتیں کرنیوالا چغلیاں لئے پھرنے والا


مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍ[226]

مال میں بخل کرنیوالا حد سے بڑھا ہوا بدکار


عُتُلٍّۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ[227]

سخت خو اور اسکے علاوہ بد ذات ہے


اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِيْنَ[228]

اس سبب سے کہ مال اور بیٹے رکھتا ہے۔


اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ[229]

جب اس(کافر) کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے لوگوں کے افسانے ہیں


اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِ  [230]

یہ(کافر) نہ تو خدائے جل شانہ پر ایمان لاتا تھا


وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ[231]

اور نہ فقیر کے کھانا کھلانے پر آمادہ کرتا تھا۔


اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا   [232]

وہ (عذاب کا دن)ان لوگوں کی نگاہ میں دور ہے


تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَتَوَلّٰى[233]

(جہنم)ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے (دین حق سے) اعراض کیا


وَجَمَعَ فَاَوْعٰى   [234]

اور (مال) جمع کیا اور بند کر رکھا


اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا[235]

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے


وَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا    [236]

اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے


فَذَرْهُمْ يَخُوْضُوْا وَيَلْعَبُوْا حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَهُمُ الَّذِيْ يُوْعَدُوْنَ   [237]

تو (اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ انکے سامنے آموجود ہو


فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَاۗءِيْٓ اِلَّا فِرَارًا   [238]

لیکن میری دعوت کا اس کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوا کہ وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔


وَاِنِّىْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَهُمْ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا   [239]

جب جب میں نے انکو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے


قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِيْ وَاتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهٗ وَوَلَدُهٗٓ اِلَّا خَسَارًا[240]

(اسکے بعد) نوح نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے ہیں جن کو انکے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا


وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا   [241]

اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے


وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًا   [242]

اور یہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی


وَّجَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًا[243]

اور مال کثیر دیا۔


وَّبَنِيْنَ شُهُوْدًا  [244]

اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے (بیٹے) دیئے


وَّمَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِيْدًا   [245]

اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی


كَلَّا ۭ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيْدًا[246]

ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ہماری آیتوں کا دشمن کا رہا ہے۔


قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ[247]

وہ(جہنمی) جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے


وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ[248]

اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے


وَكُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَاۗىِٕضِيْنَ[249]

اور اہل باطل کے ساتھ مل کر (حق سے) انکار کرتے تھے۔


وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ[250]

اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے


فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ[251]

انکو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے روگرداں ہو رہے ہیں


بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً   [252]

اصل یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئے


كَلَّا ۭ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ[253]

ایسا ہرگز نہیں ہوگا حقیقت یہ ہے کہ انکو آخرت کا خوف ہی نہیں


بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗ[254]

اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا یہ ہے کہ اپنی آگے کی زندگی میں بھی ڈھٹائی سے گناہ کرتا ہے۔


كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ   [255]

مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو


وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ[256]

اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو


فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰى[257]

اس کے باوجود انسان نے نہ مانا، اور نہ نماز پڑھی


وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى  [258]

بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا


ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ يَتَمَطّٰى[259]

پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا


اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ يُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُوْنَ وَرَاۗءَهُمْ يَوْمًا ثَــقِيْلًا[260]

یہ لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور (قیامت کے) بھاری دن کو پس پشت چھوڑ دیتے ہیں


وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ  [261]

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکو تو جھکتے نہیں


اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًا[262]

یہ لوگ حساب (آخرت) کی امید ہی نہیں رکھتے تھے


وَّكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا[263]

اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلاتے رہتے تھے


فَاَمَّا مَنْ طَغٰى[264]

تو جس نے سرکشی کی


وَاٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا[265]

اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا


كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ[266]

ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے۔  لیکن تم جزا و سزا کو جھٹلاتے ہو۔


وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ[267]

ناپ اور تول میں کمی کرنے والوں کے لئے خرابی ہے


الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ[268]

جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں


وَاِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّزَنُوْهُمْ يُخْسِرُوْنَ[269]

اور جب ان کو ناپ کر یا تول کردیں تو کم دیں


اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰـتُنَا قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ[270]

جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں


اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ   [271]

جو گنہگار (یعنی کافر) ہیں وہ (دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے


وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ يَتَغَامَزُوْنَ[272]

اور جب انکے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کرتے


وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ[273]

اور جب اپنے گھر کو لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے


وَاِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْٓا اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ لَضَاۗلُّوْنَ[274]

اور جب ان (مومنوں) کو دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو گمراہ ہیں


اِنَّهٗ كَانَ فِيْٓ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا[275]

یہ اپنے اہل وعیال میں مست رہتا تھا


اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَ   [276]

اور خیال کرتا تھا کہ (خدا کی طرف) پھر کر نہ جائے گا


وَاِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَ    [277]

اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے(سجدے والی آیت)


بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَ[278]

بلکہ کافر جھٹلاتے ہیں


اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ [279]

وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ

جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں اور توبہ نہ کی ان کو دوزخ کا (اور) عذاب بھی ہوگا اور جلنے کا عذاب بھی ہوگا


وَيَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى   [280]

اور (بے خوف) بد بخت پہلو تہی کرے گا(دور رہے گا اس قرآن سے)


اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ  [281]

ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا


كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ[282]

نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے


وَلَا تَحٰۗـضُّوْنَ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ   [283]

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو


وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا   [284]

اور میراث کے مال کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو


وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا   [285]

اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو


وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ[286]

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں


وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىهَا  [287]

اور جس نے اسے(نفس کو) خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا


وَاَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰى[288]

اور جس نے بخل کیا اور بے پروا رہا


وَكَذَّبَ بِالْحُسْنٰى[289]

اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا


الَّذِيْ كَذَّبَ وَتَوَلّٰى    [290]

جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا


كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى[291]

مگر انسان سرکش ہوجاتا ہے


اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى[292]

کیونکہ اس نے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھ لیا ہے۔


اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰى[293]

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جو منع کرتا ہے(نماز سے


عَبْدًا اِذَا صَلّٰى[294]

یعنی منع کرتا ہے) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے)


نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ[295]

اس پیشانی کے بال جو جھوٹی ہے، گنہگار ہے


اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ   [296]

کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے


وَاِنَّهٗ عَلٰي ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ  [297]

اور وہ اس(ناشکری اور احسان فروشی ) سے آگاہ بھی ہے


وَاِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ[298]

وہ تو مال کی سخت محبت کرنے والا ہے


 

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ  [299]

(لوگو!) تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا


وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۨ[300]

ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے


الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ[301]

جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے


يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗٓ اَخْلَدَهٗ  [302]

اور خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسکی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہوگا


اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ    [303]

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے


فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ   [304]

یہ وہی (بدبخت) ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے


وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ[305]

اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لئے لوگوں کو ترغیب نہیں دیتا


فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ[306]

تو ایسے (غافل)نمازیوں کی خرابی ہے


الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ[307]

جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں


الَّذِيْنَ هُمْ يُرَاۗءُوْنَ[308]

جو ریاکاری کرتے ہیں


وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ   [309]

اور برتنے کی چیزیں عاریۃً نہیں دیتے


[1]البقرہ-8

[2]البقرہ-10

[3]البقرہ-27

[4]البقرہ-39

[5]البقرہ-45

[6]البقرہ-59

[7]البقرہ-99

[8]البقرہ-102

[9]البقرہ-114

[10]البقرہ-159

[11]البقرہ-165

[12]البقرہ-169

[13]البقرہ-200

[14]البقرہ-204

[15]البقرہ-205

[16]البقرہ-206

[17]آل عمران-77

[18]آل عمران-85

[19]النساء-19

[20]النساء-37

[21]النساء-38

[22]النساء-112

[23]النساء-115

[24]النساء-136

[25]النساء-142

[26]النساء-143

[27] المائدہ-41

[28]المائدہ-86

[29]الانعام-125

[30]الانعام-151

[31]الانعام-159

[32]الاعراف-33

[33]الاعراف-180

[34]الانفال-21

[35]الانفال47

[36]الانفال-56

[37]التوبة-8

[38]التوبة-10

[39]التوبة-12

[40]التوبة-37

[41]التوبة-44

[42]التوبة-48

[43]التوبة-54

[44]التوبة-56

[45]التوبة-57

[46]التوبة-67

[47]التوبة-69

[48]التوبة-76

[49]التوبة-77

[50]التوبة-85

[51]التوبة-126

[52]یونس-7

[53]یونس-11

[54]یونس-12

[55]یونس-36

[56]ھود-15

[57]ھود-19

[58]ھود-59

[59]ھود-84

[60]ھود-85

[61]ھود-113

[62]ھود-116

[63]ابراھیم-3

[64]الرعد-25

[65]ابراھیم-3

[66]ابراھیم-34

[67]الحجر-3

[68]الحجر-12

[69]الحجر-56

[70]الحجر-72

[71]النحل-4

[72]النحل-23

[73]النحل-25

[74]النحل-83

[75]النحل-94

[76]النحل-116

[77]الاسراء-11

[78]الاسراء-18

[79]الاسراء-60

[80]الاسراء-67

[81]الاسراء-83

[82]الاسراء-100

[83]الکھف-56

[84]الکھف-57

[85]الکھف-101

[86]الکھف-104

[87]مریم-59

[88]الانبیاء-1

[89]الانبیاء-2

[90]الانبیاء-24

[91]الانبیاء-42

[92]الانبیاء-111

[93]الحج-3

[94]الحج-8

[95]الحج-9

[96]الحج-11

[97]الحج-12

[98]الحج-30

[99]الحج-51

[100]الحج-55

[101]الحج-72

[102]المؤمنون-7

[103]المؤمنون-55

[104]المؤمنون-63

[105]المؤمنون-66

[106]المؤمنون-67

[107]المؤمنون-70

[108]المؤمنون-76

[109]المؤمنون-78

[110]المؤمنون-105

[111]المؤمنون-110

[112]النور-4

[113]النور-19

[114]النور-47

[115]النور-48

[116]الفرقان-18

[117]الفرقان-43

[118]الفرقان-50

[119]الفرقان-60

[120]الشعراء-128

[121]الشعراء-129

[122]الشعراء-130

[123]الشعراء-149

[124]الشعراء-165

[125]الشعراء-166

[126]الشعراء-181

[127]الشعراء-183

[128]الشعراء-222

[129]الشعراء-223

[130]الشعراء-224

[131]الشعراء-225

[132]الشعراء-226

[133]النمل-4

[134]القصص-50

[135]القصص-58

[136]العنکبوت-10

[137]العنکبوت-29

[138]العنکبوت-38

[139]العنکبوت-47

[140]العنکبوت-49

[141]العنکبوت-68

[142]الروم-7

[143]الروم-10

[144]الروم-29

[145]الروم-33

[146]الروم-34

[147]الروم-36

[148]لقمان-6

[149]لقمان-7

[150]لقمان-18

[151]لقمان-20

[152]لقمان-32

[153]السجدہ-22

[154]فاطر-5

[155]فاطر-10

[156]یٰس-46

[157]الصافات-13

[158]الصافات-14

[159]الصافات-69

[160]الصافات-70

[161]الزمر-22

[162]الزمر-45

[163]الزمر-49

[164]الزمر-60

[165]غافر-4

[166]غافر-35

[167]غافر-56

[168]غافر-69

[169]غافر-70

[170]فصلت-4

[171]فصلت-7

[172]فصلت-40

[173]فصلت-41

[174]فصلت-45

[175]فصلت-49

[176]الشوریٰ-14

[177]الشوریٰ-16

[178]الزخرف-36

[179]الزخرف-82

[180]الدخان-9

[181]الجاثیہ-8

[182]الجاثیہ-9

[183]الجاثیہ-23

[184]الجاثیہ-35

[185]الاحقاف-3

[186]الاحقاف-5

[187]الاحقاف-20

[188]محمد-1

[189]محمد-9

[190]محمد-12

[191]محمد-14

[192]محمد-20

[193]محمد-22

[194]محمد-25

[195]محمد-26

[196]محمد-28

[197] محمد-38

[198]الفتح-6

[199]ق-25

[200]الذٰاریٰت-8

[201]الذٰاریٰت-9

[202]الذٰاریٰت-10

[203]الذٰاریٰت-20

[204]الطور-12

[205]النجم-23

[206]النجم-24

[207]النجم-33

[208]النجم-34

[209]النجم-59

[210]النجم-60

[211]النجم-61

[212]الرحٰمن-8

[213]الرحٰمن-9

[214]الواقعه-45

[215]الواقعه-46

[216]الواقعه-82

[217]الحدید-14

[218]الحدید-20

[219]الحدید-23

[220]الحدید-24

[221]المجادلة-8

[222]الصف-7

[223]الجمة-7

[224]القلم-10

[225]القلم-11

[226]القلم-12

[227]القلم-13

[228]القلم-14

[229]القلم-15

[230]الحاقة-33

[231]الحاقة-34

[232]المعارج-6

[233]المعارج-17

[234]المعارج-18

[235]المعارج-20

[236]المعارج-21

[237]المعارج-42

[238]نوح-6

[239]نوح-7

[240]نوح-21

[241]نوح-22

[242]الجن-6

[243]المدثر-12

[244]المدثر-13

[245]المدثر-14

[246]المدثر-16

[247]المدثر-43

[248]المدثر-44

[249]المدثر-45

[250]المدثر-46

[251]المدثر-49

[252]المدثر-52

[253]المدثر-53

[254]القیامة-5

[255]القیامة-20

[256]القیامة-21

[257]القیامة-31

[258]القیامة-32

[259]القیامة-33

[260]الانسان-27

[261]المرسلٰت-48

[262]النبا-27

[263]النبا-28

[264]النٰزعٰت-37

[265]النٰزعٰت-38

[266]الانفطار-9

[267]المطففین-1

[268]المطففین-2

[269]المطففین-3

[270]المطففین-13

[271]المطففین-29

[272]المطففین-30

[273]المطففین-31

[274]المطففین-32

[275]الانشقاق-13

[276]الانشقاق-13

[277]الانشقاق-21

[278]الانشقاق-22

[279]البروج-10

[280]الاعلی-11

[281]الغاشیہ-23

[282]الفجر-17

[283]الفجر-18

[284]الفجر-19

[285]الفجر-20

[286]البلد-19

[287]الشمس-10

[288]اللیل-8

[289]اللیل-9

[290]اللیل-16

[291]العلق-6

[292]العلق-7

[293]العلق-9

[294]العلق-10

[295]العلق-16

[296]العٰدیٰت-6

[297]العٰدیٰت-7

[298]العٰدیٰت-8

[299]اتکاثر-1

[300]الھمزة-1

[301]الھمزة-2

[302]الھمزة-3

[303]الماعون-1

[304]الماعون-2

[305]الماعون-3

[306]الماعون-4

[307]الماعون-5

[308]الماعون-6

[309]الماعون-7