چہل احادیث

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ وَمَنْ سَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ[1]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے ہم میں سےنہیں ہے  وہ شخص (جو میت کے غم میں) اپنا سر منڈا دے یا چلا کر روئے یا اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے۔


أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا[2]

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اوپر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے (مطلب یہ ہے کہ مسلمان پر ہتھیار اٹھانے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوگا) ۔


 

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْکُوا فَإِنْ لَمْ تَبْکُوا فَتَبَاکَوْا وَتَغَنَّوْا بِهِ فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا[3]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن ایک فکر آخرت کی لے کر اترا ہے اس لئے جب تم تلاوت (فکر آخرت سے) رو کر کرو اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو اور قرآن کو خوش آوازی سے پڑھو جو قرآن کو خوش آوازی سے نہ پڑھے (یعنی قواعد تجوید کی رو سے غلط پڑھے) تو وہ ہم میں سے نہیں ۔


 

قَالَ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا [4]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جس نے دھوکہ کیا وہ ہم سے نہیں


 

قَالَ مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَکَهُ فَلَيْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَی[5]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جس نے تیراندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے یا اس نے نافرمانی کی۔


 

قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا[6]

حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وتر حق ہے پس جو وتر نہ پڑھے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں وتر حق ہے بس جو وتر نہ پڑھے اس کا ہم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔


 

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَبَّبَ زَوْجَةَ امْرِئٍ أَوْ مَمْلُوکَهُ فَلَيْسَ مِنَّا[7]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے کسی کی بیوی کو یا غلام کو اس کے شوہر یا

آقا کے خلاف بھڑکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔


 

عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ کَبِيرِنَا فَلَيْسَ مِنَّا[8]

حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)  نے فرمایا کہ جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کے حقوق کو نہ پہچانا وہ ہم میں سے نہیں۔


 

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَی عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَی عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَی عَصَبِيَّةٍ[9]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے عصبیت کی دعوت دی وہ ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت پر لڑائی کی وہ ہم میں سے نہیں جس کی موت عصبیت پر ہوئی وہ ہم میں سے نہیں۔


 

قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَأْخُذْ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا[10]

زید بن ارقم سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرماتے تھے جو کوئی مونچھیں نہ لے (یعنی مونچھیں نہ کتروائے بلکہ ہونٹوں سے بڑھائے) وہ ہم میں سے نہیں ہے (یعنی ایسا شخص مسلمانوں کے راستہ پر نہیں ہے)


 

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا[11]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جس نے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے کچھ لے لیا وہ ہم میں سے نہیں۔


 

النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا يَقُولُ لَيْسَ مِنْ سُنَّتِنَا لَيْسَ مِنْ أَدَبِنَا و قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ کَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يُنْکِرُ هَذَا التَّفْسِيرَ لَيْسَ مِنَّا يَقُولُ لَيْسَ مِنْ مِلَّتِنَا[12]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے نہ روکے۔


 

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَی فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ [13]

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جس نے ہمارے علاوہ کسی اور کی مشابہت اختیار کی اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہود ونصاری کی مشابہت اختیار نہ کرو۔


قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَدَرَ عَلَى أَنْ يَنْكِحَ فَلَمْ يَنْكِحْ فَلَيْسَ مِنَّا[14]

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص نکاح کی قدرت رکھنے کے باوجود نکاح نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے


 

رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنْ النِّسَاءِ وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنْ الرِّجَالِ[15]

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتیں اور عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مرد ہم میں سے نہیں ہیں ۔


قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْکُوا فَإِنْ لَمْ تَبْکُوا فَتَبَاکَوْا وَتَغَنَّوْا بِهِ فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا[16]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ یہ قرآن ایک فکر آخرت کی لے کر اترا ہے اس لئے جب تم تلاوت (فکر آخرت سے) روّ اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو اور قرآن کو خوش آوازی سے پڑھو جو قرآن کو خوش آوازی سے نہ پڑھے (یعنی قواعد تجوید کی رو سے غلط پڑھے) تو وہ ہم میں سے نہیں ۔


قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْکُفْرِ إِلَّا تَرْکُ الصَّلَاةِ[17]

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بندہ اور کفر میں امتیاز نہیں ہے مگر نماز کا چھوڑنا۔


عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَی اللَّهُ عَنْهُ[18]

آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا (کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذاء نہ پائیں اور (پورا) مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے، جن کی اللہ نے ممانعت فرمائی ہے


عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا وَعَمِلَ سَيِّئَةً فَسَاءَتْهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ[19]

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کوئی نیکی کرے اور اس پر اسے خوشی ہو اور کوئی گناہ ہونے پر غمگین ہو تو وہ مؤمن ہے۔


قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِمَّا أَدْرَکَ النَّاسُ مِنْ کَلَامِ النُّبُوَّةِ إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ[20]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کلمات نبوت میں سے جو لوگوں نے پایا ہے یہ جملہ بھی ہے إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ۔ یعنی جب تجھ میں حیاء نہ رہے تو جو چاہے کر ڈال۔


عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ فَإِنْ کَانَ أَکْمَلَهَا وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ أَکْمِلُوا بِهِ الْفَرِيضَةَ[21]

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے بندہ سے (قیامت کے دن) نماز کا حساب لیا جائے گا پس اگر اس کی نماز (مکمل اور درست) تو ٹھیک ہے ورنہ خداوند تعالیٰ فرمائے گا میرے بندوں کے پاس کچھ نماز نفل ہے پھر اگر نماز نفل ہوگی تو اس سے فرض نماز کی کمی مکمل کر دی جائے گی


عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّؤْيَا قَالَ أَمَّا الَّذِي يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ فَإِنَّهُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفِضُهُ وَيَنَامُ عَنْ الصَّلَاةِ الْمَکْتُوبَةِ[22]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جاتا ہے وہ شخص ہے جو قرآن یاد کرتا ہے پھر اسے چھوڑ دیتا ہے اور فرض نماز سے غافل ہو کر سوجاتا ہے۔


قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَکَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ[23]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جو کوئی ہماری (جیسی) نماز پڑھے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھا لے، تو وہی مسلمان ہے، جس کے لئے اللہ اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذمہ ہے، تو تم اللہ کی ذمہ داری میں خیانت نہ کرو۔


قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَلَکَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذَلِکَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَلِلَّهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا[24]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جو شخص سامان سفر اور اپنی سواری کی ملکیت رکھتا ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے پھر اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ یہودی یا نصرانی ہو کر مرے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے (وَلِلَّهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا) اور اللہ کے لئے بیت اللہ کا حج ان لوگوں پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔


النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ کَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ[25]

حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے لئے حج کیا اور اس نے نہ فحش بات کی اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا تو اس دن کی طرح (گناہ سے پاک وصاف) ہوگا جس دن سے اس کی ماں نے جنا تھا۔


عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْئُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنْ الْحَرَامِ[26]

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب آدمی اس کی پرواہ نہیں کرے گا حلال یاحرام کس ذریعے سے اس نے مال حاصل کیا ہے۔


قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عِنْدَ کُلِّ فِطْرٍ عُتَقَائَ وَذَلِکَ فِي کُلِّ لَيْلَةٍ[27]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہر افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ بہت سوں کو دوزخ سے آزاد فرماتے ہیں اور ایسا ہر شب ہوتا ہے ۔


رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ[28]

محمد بن ابی یعقوب کر مانی، حسان، یونس، محمد، انس بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو یا اس کی عمر دراز ہو تو صلہ رحمی کرے (قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے)


أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْکَ[29]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! خرچ کر میں تیری ذات پر خرچ کروں گا۔


قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْکِحُ عَنَاقَ قَالَ فَسَکَتَ عَنِّي فَنَزَلَتْ وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْکِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ فَدَعَانِي فَقَرَأَهَا عَلَيَّ وَقَالَ لَا تَنْکِحْهَا[30]

مرثد بن ابی مرثد غنوی مکہ کے مسلمان قیدیوں کو لے کر مدینہ جایا کرتا تھا اور مکہ میں عناق نامی ایک بدکار عورت رہتی تھی جو (زمانہ جاہلیت میں) اس کی آشنارہ چکی تھی مرثد نے کہا کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا میں عناق سے نکاح کر لوں؟ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) خاموش ہو گئے پھر یہ آیت نازل ہوئی بدکار عورت سے وہی مرد نکاح کر سکتا ہے جو خود بدکار ہو یا مشرک ہو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ آیت پڑھ کر مجھے سنائی اور فرمایا اس سے نکاح نہ کرنا۔


أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا کَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ[31]

آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ بہتر صدقہ وہ ہے کہ جس سے صدقہ دینے والے کی مالداری قائم رہے اور اپنے رشتہ داروں سے شروع کرو۔


عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَکَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْکُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ[32]

آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اس سے بہتر کھانا کسی نے نہیں کھایا جو اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے کھائے اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے محنت کر کے کھاتے تھے


أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَی أَحَدٌ إِلَّا أَکَلَ الرِّبَا فَإِنْ لَمْ يَأْکُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ[33]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب کوئی شخص سود کھائے بغیر نہ رہے گا اور اگر وہ سود نہ بھی کھائے گا تو اس کے دھوئیں سے تو بچا نہ رہیگا۔


قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَمَرْتُکُمْ بِهِ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَيْتُکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا[34]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کام کا میں تمہیں حکم دوں اس کو بجا لاؤ اور جس سے روکوں اس سے رک جاؤ ۔


أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يُدْعَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَمَنْ کَانَ مِنْ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا[35]

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے اس کو ریّان کہا جاتا ہے قیامت کے روز پکار کر کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں ؟ تو جو روزہ دار ہوں گے وہ اس دروازے میں داخل ہوں گے اور جو اس میں (ایک دفعہ) داخل ہوگا (پھر) کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا ۔


لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَکَاتِبَهُ[36]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لعنت فرمائی ہے سود کھانے والے پر (سود لینے والے پر) اور سود کھلانے والے پر (سود دینے والے پر) اور اس کے گواہ پر اس کی دستاویز لکھنے والے پر۔


عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا أَعْرِفَنَّ مَا يُحَدَّثُ أَحَدُکُمْ عَنِّي الْحَدِيثَ وَهُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی أَرِيکَتِهِ فَيَقُولُ اقْرَأْ قُرْآنًا مَا قِيلَ مِنْ قَوْلٍ حَسَنٍ فَأَنَا قُلْتُهُ[37]

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کے سامنے میری حدیث بیان کی جائے اور وہ پلنگ پر تکیہ لگائے ہوئے ہو یوں کہے کہ صرف قرآن پڑھو کیونکہ جو اچھی بات ہے وہ میری کہی ہوئی ہے۔


وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا فَقَالَ إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا وَلَا تَنْکِي عَدُوًّا وَإِنَّهَا تَکْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ قَالَ فَعَادَ ابْنُ أَخِيهِ فَخَذَفَ فَقَالَ أُحَدِّثُکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ لَا أُکَلِّمُکَ أَبَدًا[38]

سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن مغفل کے متعلق مروی ہے کہ ان کے پاس ان کا بھتیجا بیٹھا ہوا تھا اس نے کنکری پھینکی، انہوں نے اسے منع فرمایا اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس سے روکا ہے اور فرمایا کہ اس سے نہ تو شکار کیا جاتا ہے اور نہ دشمن کو زخمی کیا جا سکتا ہے (الٹا گزرنے والے کی) آنکھ پھوڑ سکتا ہے اور دانت توڑ سکتا ہے، بھتیجے نے پھر وہی حرکت کی فرمانے لگے کہ میں تجھے بتاتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے منع فرمایا اور تو پھر وہ کام کرتا ہے میں تجھ سے کبھی بات نہیں کروں گا۔


عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يَلْقَاهُ بِهَا عَبْدٌ بَعْدَ الْکَبَائِرِ الَّتِي نَهَی اللَّهُ عَنْهَا أَنْ يَمُوتَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَدَعُ لَهُ قَضَائً[39]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا تحقیق گناہ کبیرہ کے بعد اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ بندہ اپنے اللہ سے اس گناہ ساتھ ملاقات کرے جس سے اس نے اپنے بندہ کو منع فرمایا ہے یعنی کوئی شخص اس حال میں مرے کہ اس کے ذمہ قرض ہو اور اس کی ادئیگی کے لئے اس کے پاس کچھ نہ ہو۔


فَقَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنْ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنْ الْقِتَالِ[40]

حضرت عثمان ثقفی نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا روزے دوزخ سے ایسے ہی ڈھال ہیں جیسے لڑائی میں تمہارے پاس ڈھال ہوتی ہے۔


[1] سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1362

[2] سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 409

[3] سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1337

[4] جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1337

[5] صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 452

[6] سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1415

[7] سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1759

[8] سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1535

[9] ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1711

[10] سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 1356

[11] جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1668

[12] جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2005

[13] جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 606

[14] سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 28

[15] مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 2365

[16] سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1337

[17] سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 467

[18] صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9

[19] مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 1351

[20] صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 742

[21] سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 470

[22] صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1095

[23] صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 388

[24] جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 796

[25] صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1461

[26] صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1980

[27] سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1644

[28] صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1987

[29] صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 331

[30] سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 286

[31] صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 335

[32] صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1992

[33] سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1555

[34] سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1

[35] سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1641

[36] سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1557

[37] سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 21

[38] سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 17

[39] سنن ابوداؤد:جلد دوم:حدیث نمبر 1566

[40] سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1640