بشارت

عشرہ مبشرہ ؓ وہ صحابہ ہیں جن کو بیک وقت ایک ہی جگہ جنت کی بشارت دی گئی۔ اللہ تعالٰی قرآن میں جنت کی بشارت عام لوگوں کو بھی دیتا ہے جن میں مختلف نشانیاں پائی جاتیں ہیں۔ اس مجموعہ میں ان نشانیوں کو جمع کیا گیا ہے۔ کیا آپ بھی جنت کی بشارت قبول کرنا چاہتے ہیں؟

بَشِّرِ

خوشخبری دو،بشارت دیجیے،خبر

[ يُبَشِّرُ اللّٰهُ: خوش خبری دیتا ہے اللہ][مجھے خبر دی یا خوشخبری دیبَشَّرَنِي :] [فَيَسْتَبْشِرُواوہ خوشہوجائیں]

[لِتُبَشِّرَ بِهِ: تاکہ آپ خوشخبری دیں اس کے ساتھ][وَاَبْشِرُوْا : اور تم خوش ہو]

بشارت۔ اس خبر کو کہتے ہیں جس کو سن کر چہرے پر خوشی کے آثار پیدا ہوجائیں۔

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِكَ (لِتُبَشِّرَ) بِہِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا[1] ۔

سو ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان (عربی) میں اس لیے آسان کیا ہے کہ آپ اس سے متقیوں کو (خوشخبری سنا دیں) اور (نیز) اس سے جھگڑالو آدمیوں کو خوف دلا دیں

عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْئٍ مِنْ الدُّلْجَةِ[2]۔

آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا دین بہت آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی کرے گا وہ اس پر غالب آجائے گا، پس تم لوگ میانہ روی کرو اور (اعتدال سے) قریب رہو اور خوش ہو جاؤ (کہ تمہیں ایسا دین ملا) اور صبح اور دوپہر کے بعد اور کچھ رات میں عبادت کرنے سے دینی قوت حاصل کرو۔

وأنذرنا    نا راً و بشًر جنّةً[3]

اور وہ ہمیں ڈراتے ہیں آگ سے اور خوشخبری دیتے ہیں جنت کی

فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْم

فبشرھم۔ بشیر۔ تو خوشخبری دے۔ ۔ تبشیر (تفعیل) سے بشارت کا لفظ طنزاً استعمال ہوا ہے۔

قرآن پاک اور احادیثِ مبارکہ میں بشارت حاصل کرنے والے ایمان اور اعمال کاذکر ہے۔ اِن میں سے کچھ کاذکر اہلِ ایمان کیلئے ترغیباً کیا جاتا ہے۔

وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝۰ۭ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْہَا مِنْ ثَمَرَۃٍ رِّزْقًا۝۰ۙ قَالُوْا ھٰذَا الَّذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ۝۰ۙ وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِہًا۝۰ۭ وَلَھُمْ فِيْہَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۝۰ۤۙ وَّھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ[4]

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے (نعمت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ، جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائیگا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے ۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ رَوْضٰتِ الْجَـنّٰتِ۝۰ۚ لَہُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْفَضْلُ الْكَبِيْرُ۔ذٰلِكَ الَّذِيْ يُبَشِّرُ اللہُ عِبَادَہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝۰ۭ[5]

یہی ہے جس کی بشارت الله تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے آپ (ان سے) یوں کہیے کہ میں تم سے کچھ مطلب نہیں چاہتا بجز رشتہ داری کی محبت کے (ف ۳) اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس میں اور خوبی زیادہ کر دیں گے بےشک الله تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۝۰ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ[6]

اور جو ایمان لائے اور عمل کئے نیک وہی ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

وَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْہِمْ اُجُوْرَھُمْ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِـمِيْنَ۔ [7]

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دیگا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ۝۰ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ۝۰ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ۝۰ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰھَدُوْا۝۰ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ[8]

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب (کو قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائیں اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کاراز کے وقت ثابت قدم رہیں یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَـنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا۝۰ۭ لَھُمْ فِيْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ۝۰ۡ وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا[9]۔

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۝۲ۙ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۝۰ۥۙ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ [10]

کہ انسان نقصان میں ہے۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے

 

ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیاء (بھی) ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔[11]

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اس (پاک ذات) کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔[12]

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، کہا گیا کہ پھر کونسا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، کہا گیا کہ اس کے بعد کونسا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ حج مبرور (مقبول حج)[13]

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جو کوئی شخص کسی مسلمان کے جنازے کے ہمراہ ایمان کا کام اور ثواب سمجھ کر جاتا ہے اور جب تک اس پر نماز نہ پڑھ لی جائے اور اس کے دفن سے فراغت نہ کرلی جائے اس کے ہمراہ رہتا ہے تو وہ دو حصہ ثواب کے لے کر لوٹتا ہے، ہر حصہ احد (پہاڑ) کے برابر ہوتا ہے اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ لے اور دفن کئے جانے سے قبل لوٹ آئے، تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹتا ہے[14]

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) لوگوں کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، یکایک آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے ایک شخص آیا اور اس نے (آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے) پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور (آخرت میں) اللہ کے ملنے پر اور اللہ کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ اور قیامت کا یقین کرو۔[15]

آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ صرف اللہ پر ایمان لا نا (کس طرح ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب واقف ہے، آپ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ سوا اللہ کے کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کو نماز پڑھنے، زکوۃ دینے اور رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا اور اس بات کا حکم دیا کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ (بیت المال میں) دے دیا کرو[16]

آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میرے بندوں میں مجھ پر ایمان رکھنے والے اور میرا انکار کرنے والے (یعنی کافر) نے صبح کی، جس نے کہا کہ مجھ پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی، تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا ہے اور ستارہ کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ فلاں [17]فلاں ستارہ نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی تو وہ میرا منکر ہے اور ستارہ پر ایمان رکھنے والا ہے۔

آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا” (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو، اس کے رسولوں کو اور قیامت کے دن کو دل سے مانو اور اس بات پر یقین رکھو کہ برا بھلا جو کچھ پیش آتا ہے وہ نوشتہ تقدیر کے مطابق ہے”۔ ایمان کا تعلق تو باطن یعنی تصدیق و اعتقاد سے ہے اور اسلام کا تعلق ظاہر یعنی اعمال اور جسمانی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے۔

” اللہ کو ماننے” کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اس کی ذات اور اس کی صفات برحق ہیں، عبادت و پرستش کی سزاوار صرف اسی کی ذات ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی اس کا ہمسر و شریک نہیں۔

 ” فرشتوں کو ماننے” کا مطلب اس بات میں یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ” فرشتوں” کے نام سے موجود ہے یہ فرشتے لطیف اور نورانی اجسام ہیں۔ ان کا کام ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی تعمیل کرنا ہے۔

” کتابوں کو ماننے” کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں اور وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبروں پر جو کتابیں نازل فرمائی ہیں اور ان میں چار کتابیں نازل فرمائی ہیں اور جن کی تعداد ایک سو چار ہے۔ وہ سب کلام الٰہی اور احکام و فرامین الٰہی کا مجموعہ ہیں اور ان میں چار کتابیں تو رات، انجیل، زبور اور قرآن مجید سب سے اعلیٰ و افضل ہیں اور پھر ان چاروں میں سب سے اعلیٰ و افضل ” قرآن مجید” ہے۔

” رسولوں کا ماننے” کا مطلب اس بات پر یقین اور اعتقاد رکھنا ہے کہ اول الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفے (صلی اللہ علیہ وسلم) تک تمام نبی اور رسول اللہ تعالیٰ کے سب سے سچے، سب سے پیارے اور سب سے افضل بندے ہیں جن کو اس نے اپنے احکام و ہدایات دے کر مختلف زمانوں، مختلف قوموں میں مبعوث کیا اور انہوں نے ان خدائی احکام و ہدایات کے تحت دنیا والوں کو ابدی صداقت و نجات کا راستہ دکھانے اور نیکی و بھلائی پھیلانے کا اپنا فریضہ مکمل طور پر ادا کیا اور یہ کہ ان تمام نبیوں اور رسولوں کے سردار پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد مصطفے (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جو کسی خاص زمانہ، کسی خاص علاقہ اور کسی خاص قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے، بلکہ اللہ کا ابدی دین ” اسلام” لے کر تمام دنیا اور پوری کائنات کی طرف مبعوث ہوئے اور تا قیامت ان ہی کی نبوت اور انہی کی شریعت جاری و نافذ رہے گی۔

 ” یوم آخرت یعنی قیامت کے دن” سے مراد وہ عرصہ ہے جو مرنے کے بعد سے قیامت قائم ہونے اور پھر جنت میں داخل ہونے تک پر مشتمل ہے۔ ” قیامت کے دن کو ماننے” کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ شریعت اور شارع نے مابعد الموت اور آخرت کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے یعنی موت کے بعد پیش آنے والے احوال مثلاً قبر اور برزخ کے احوال ، نفخ صور، قیامت، حشر و نشر، حساب و کتاب اور پھر جزاء و سزا کا فیصلہ اور جنت و دوزخ یہ سب اٹل حقائق ہیں اور جن کا وقوع پذیر ہونا اور پیش آنا لازمی امر ہے۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں۔ ” تقدیر پر یقین رکھنے” کا مطلب اس حقیقت کو دل سے تسلیم کرنا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب نوشتہ تقدیر کے مطابق اپنے اپنے وقت پر وقوع پذیر ہوتا ہے، آج جو بھی علم واضح ہوتا ہے خواہ وہ نیکی کا ہو یا بدی کا ، خالق کائنات کے علم اور تقدیر میں وہ ازل سے موجود ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ مجبور و مضطر ہے۔

 کاتب تقدیر نے انسان کو ” مختار” بنایا ہے۔ یعنی اس کے سامنے نیکی و بدی کے دونوں راستے کھول کر اس کو اختیار دے دیا ہے کہ چاہے وہ نیکی کے راستہ پر چلے، چاہے بدی کے راستہ پر اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ نیکی کے راستہ پر چلو گے تو جزاء و انعام سے نوازے جاؤ گے جو اللہ کا فضل و کرم ہوگا اور اگر بدی کے راستہ پر چلو گے تو سزا اور عذاب کے حقدار بنو گے اور دوزخ میں ڈالے جاؤ گے جو عدل الٰہی کے عین مطابق ہوگا۔  حدیث میں ان چاروں فرائض کا بھی ذکر ہے جو ہر مسلمان و مومن پر اس تفصیل کے ساتھ عائد ہوتے ہیں کہ نماز اور روزہ تو وہ دو بدنی فرض عبادتیں ہیں جن کا تعلق ہر عاقل و بالغ مسلمان سے ہے جو بھی آدمی ایمان اور اسلام سے متصف ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس پر فرض ہے کہ وہ پانچوں وقت کی نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرے اور جب رمضان آئے تو اس مہینے کے پورے روزے رکھے۔ باقی دو فرض عبادتیں یعنی زکوۃ اور حج وہ مالی عبادتیں ہیں جن کا تعلق صرف اس مومن و مسلمان سے ہے جو ان کے بقدر مالی استطاعت و حیثیت رکھتا ہو۔ مثلاً زکوۃ اس مسلمان پر فرض ہوگی جو صاحب نصاب ہو۔ اور حج اس مسلمان پر فرض ہوگا جو صاحب نصاب ہی نہیں بلکہ اپنی تمام ضروریات زندگی سے فراغت کے بعد اتنا سرمایہ رکھتا ہو کہ وہ بغیر کسی تنگی و پریشانی کے آمدورفت اور سفر کے دوسرے تمام اخراجات برداشت کر سکتا ہو۔ علاوہ ازیں سفر حج کی پوری مدت کے لئے اہل و عیال اور لواحقین کے تمام ضروری اخراجات کے بقدر رقم یا سامان و اسباب ان کو دے کر جا سکتا ہو۔ زادراہ اور فرضیت حج کی اس طرح کی دوسری شرائط پوری ہوجائیں تو باقی دشواریاں جیسے سفر کا طویل اور پر صعوبت ہونا، درمیان میں سمندر یا دریا کا حائل ہونا وغیرہ، حج کی فرضیت کو ساقط نہیں کر سکتیں۔

 خلاصہ کلام یہ کہ : اس حدیث میں شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اساس اور دین کی بنیادی باتوں کو بتایا گیا ہے یعنی ” ایمان” کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ یہ ان عقائد و نظریات سے تعبیر ہے جن کو جاننے اور ماننے کے بعد کوئی آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور مومن بنتا ہے ” اسلام” کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس سے وہ عملی ذمہ داریاں (فرائض) مراد ہیں جو مومن پر عائد ہوتی ہیں اور ان عملی ذمہ داریوں یعنی فرائض کی انجام دہی ہی پیرو اسلام یعنی مسلمان بناتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی خوشنودی اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک اللہ اور اللہ کے رسول کے جاری و نافذ کئے ہوئے احکام و ہدایات پر پوری طرح عمل نہ کیا جائے اور ” عمل ” اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک اس وقت تک ” حسن قبول” کا درجہ نہیں پا سکتے جب تک اللہ کی طرف کامل توجہ نہ ہو اور پورے داخلی و خارجی وجود پر خوف وخشیت الہٰی اور حضور قلب کی کیفیت طاری نہ ہو اور ان دونوں کا اس وقت تک کوئی اعتبار نہیں ہوگا جب تک فکر و عقیدہ صحیح نہ ہو۔ اور دل و دماغ ایمان و یقین سے روشن نہ ہوں۔ پس کامل مومن یا کامل مسلمان وہی آدمی مانا جائے گا جس کا دل و دماغ میں ایمان یعنی صحیح اسلامی عقائد و نظریات کا نور موجود ہو، پھر وہ ان فرائض کو پوری طرح ادا کرے اور ان احکام و ہدایات کی کامل اطاعت کرے جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ جاری و نافذ کئے اور پھر ریاضیت و مجاہد یعنی ذکر و شغل اور اوراد و ظائف کے ذریعہ اخلاص، توجہ الی اللہ اور رضاء مولیٰ کے حصول کی جدوجہد کرے جس سے ایمان و اسلام میں حسن و کمال اور بلند قدری ملتی ہے۔ [18]

اہل ایمان کو اعمال صحالحہ کے سبب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور قرآن حکیم کے ذریعے بشارت و خوشخبری حاصل کر لینی چاہئے کہ ان کے لیے اللہ کے ہاں ایسے باغات ہیں کہ وہاں درختوں اور ان کے مکانات کے کے نیچے سے شراب ، دودھ ، شہد، اور پانی کی نہریں بہتی ہیں، جب ان کو جنت میں مختلف قسم کے پھل اور میوے کھانے کو ملیں گے تو وہ کہیں گے کہ اس جیسے ہمیں اس سے پہلے بھی کھانے کے لیے دیے گئے ، کیوں کہ انہوں نے پھل رنگ میں ایک جیسے اور مزے ولذت میں مختلف قسم کے دیے جائیں گے اور ان کے لئے جنت میں ایسی بیویاں ہوں گی جو حیض اور ہر قسم کی گندگیوں سے پاک ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، انھیں موت نہیں آئے گی اور نہ اس سے یہ لوگ کبھی بے دخل کیے جائیں گے ۔

 دعوی ایمان کے ساتھ عمل کی بھی ضرورت ہے : یعنی انہوں نے صرف زبانی کلامی ایمان کا دعوی ہی نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے عمل و کردار سے بھی اپنے عقیدے و ایمان کا ثبوت فراہم کیا۔ سو ایمان کا صرف زبانی کلامی دعوی ہی کافی نہیں بلکہ اس دعوی کی تصدیق کے لیے عمل صالح کا پایا جانا بھی ضروری ہے، سو ایمان کی مثال اس صالح بیج کی سی ہے جو زمین کے اندر ہوتا ہے، اور عمل صالح کی مثال اس پودے کی سی ہے جو اس بیج سے پھوٹ کر باہر نکلتا ہے۔ پس جس طرح بیج کے بغیر کوئی پودا پیدا ہی نہیں ہوسکتا ، اسی طرح ایمان کے بیج کے بغیر کسی عمل صالح کے وجود کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، اور جس طرح پودے کے نہ نکلنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بیج گل سڑ کر ختم ہوگیا ہے، اسی طرح عمل صالح کافقدان اس کی دلیل ہوتا ہے کہ ایمان کے نور سے اسکا باطن خالی اور محروم ہے -عمل صالح کے بغیر ایمان کا ثمر نہیں مل سکتا اور ایمان کے بغیر اعمال خیر کی عند اللہ کی کوئی اہمیت نہیں  اور عمل صالح کیا، جو سنت کے مطابق ہو اور خالص رضائے الٰہی کی نیت سے کیا جائے۔ خلاف سنت عمل بھی نامقبول اور نمود و نمائش اور ریاکاری کے لئے کئے گئے عمل بھی مردود و مطرود ہیں ۔ایمان کے ساتھ عمل صالح کی بھی قید لگائی ہے کہ ایمان بغیر عمل صالح کے انسان کو اس بشارت کا مستحق نہیں بناتا اگرچہ صرف ایمان بھی جہنم میں خلود اور دوام سے بچانے کا سبب ہے اور مومن کتنا بھی گنہگار ہو کسی نہ کسی وقت میں وہ جہنم سے نکالا جائے گا اور جنت میں پہنچنے گا مگر عذاب جہنم سے بالکل نجات کا بغیر عمل صالح کے کوئی مستحق نہیں ہوتا۔ : (وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا) [ النساء : ۱۲٤ ] ’’ اور جو شخص نیک کاموں میں سے (کوئی کام) کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور کھجور کی گٹھلی کے نقطے کے برابر ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

“صالحات یعنی نیکیاں وہ عمل ہیں جو شرعاً اچھے ہوں ان میں فرائض و نوافل سب داخل ہیں ۔عمل صالح کی پہلی شرط یہ ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔دوسری یہ کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔ آپ کا فرمان ہے : (( مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ ))’’ جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا امر نہ ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘ [ مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام ۔۔ : ۱۸؍۱۷۱۸ ]۔ نیک عمل کے سمجھنے میں بہتوں کو دھوکا ہوا ہے، اور یہ مغالطہ آج کل بہت ہوگیا ہے۔ سمجھا یہ جانے لگاہے کہ نیکی اور ایمان ایک دوسرے سے بالکل الگ اور بے تعلق چیزیں ہیں ۔ اور پھر اس مفروضہ کی ایک فرع یہ قائم کی گئی ہے کہ کوئی شخص ممکن ہے کہ بہت صالح اعمال کا ہو، لیکن ایمان سے یکلخت محروم ہے ۔ حالانکہ یہ تخیل ہی سرتاسر غلط ہے ۔

نیکی ایمان سے الگ نہیں ، ایمان ہی کی عملی شکل کانام ہے ۔ ایمان جب تک قلبی ہے ، ایمان ہے ۔ اگر قولی ولسانی ہے تو اسلام ہے ۔ ا ور وہی ایمان جب عمل کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ عمل رضائے الہی کے مطابق ہو ۔ کوئی نیکی اگر ایسی پیش کی جاتی ہے جس کی تہ میں جذبہ ایمانی خفیف سا بھی موجود نہیں تو وہ نیکی نہیں ۔، نیکی کی صرف صورت ہے ، نیکی کی صرف نقل ہے ۔ اور جس طرح نماز کی نقل محض ، نماز نہیں ، اسی طرح کسی نیکی کی نقل پر اطلاق نیکی کا نہیں ہوسکتا ۔ عمل نیک کی تو تعریف ہی یہ ہے کہ وہ عمل ضابطہ شریعت کے موافق ہو ۔  علامہ بغوی نے کہا ہے کہ معاذ (رض) نے فرمایا کہ عمل صالح وہ ہے جس میں چار چیزیں ہوں علم‘ نیت‘ صبر اور اخلاص۔ امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان (رض) نے وَعَمِلُو الصَّالِحَاتپڑھ کر فرمایا کہ عمل صالح کے یہ معنی ہیں کہ ریاء سے خالی کرکے خالص لوجہ اللہ کرے اس آیت سے یہ معلوم ہو گیا کہ اعمال ایمان سے خارج ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت کی بشارت کے استحقاق کا پورا سبب ایمان اور عمل دونوں وصف ہیں۔

 

آخرت کے خسارہ سے بچنے کے لیے صرف ایمان لانا کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ عمل صالح بھی ضروری ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جہاں ایمان حقیقۃً موجود ہو گا وہاں اس کی روشنی سے عملی زندگی بھی منور ہو گی اور انسان نیک کردار بنے گا۔ لیکن جہاں ایمان محض جامد عقیدہ کی شکل میں ہو گا جس نے شعور کو متاثر نہ کیا ہو تو عملی زندگی بھی سنور نہ سکے گی۔ اچھے بیج سے اچھا درخت ہی پیدا ہوتا ہے اور خراب بیچ خراب درخت۔ اس لیے ہو نہیں سکتا کہ ایمان تو دل میں موجود ہو اور عملی زندگی فسق و فجور سے بھی ہوئی ہو۔ عملی زندگی کا فساد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمان صحت کی حالت میں موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اعمال حسنہ کو صالحات سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس لفظ کے استعمال سے اس عظیم حکمت کی طرف رہنمائی ہوتی ہے کہ انسان کی تمام ظاہری و باطنی دینی و دنیوی، شخصی و اجتماعی ، جسمانی وہ عقلی صلاح و ترقی کا ذریعہ اعمال حسنہ ہی ہیں۔ یعنی عمل صالح وہ عمل ہوا جو انسان کے لیے زندگی اور نشو و نما کا سبب بن سکے اور جس کے ذریعہ سے انسان ترقی کے ان اعلیٰ مدارج تک ترقی کر سکے جو اس کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں۔[19]

وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْن[20]

ایمان والوں کو خوشخبری دیجئے۔

وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ۝۰ۚ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ۔[21]

اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا  اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَّنُوْا فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْہِمْ۔[22]

مگر وہ لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کر لیتا ہوں

وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ۝۰ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ۝۰ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ۝۰ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰھَدُوْا۝۰ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ۔[23]

 بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے، تنگ دستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔[24]

تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف لائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ۝۰۠ [25]

جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا۔[26]

سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں ۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْہِمْ اُجُوْرَہُمْ۝۰ۭ [27]

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ پورا ثواب دے گا

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوۃَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ [28]

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں ۔

اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَيُسَبِّحُوْنَہٗ وَلَہٗ يَسْجُدُوْنَ۔[29]

یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کو سجدہ کرتے ہیں ۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ اٰيٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔[30]

بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا۝۰ۭ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔[31]

جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد پہنچائی۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔

يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَيُطِيْعُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۝۰ۭ[32]

وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔نمازوں کی پابندی بجا لاتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں

اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ[33]

توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں)

الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَہْدِ اللہِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ۔[34]

جو اللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں  اور قول و قرار کو توڑتے نہیں

وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللہُ بِہٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ۔[35]

اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیںاور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں ۔

الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَيْبِ وَہُمْ مِّنَ السَّاعَۃِ مُشْفِقُوْنَ۔[36]

وہ لوگ جو اپنے رب سے بن دیکھے خوف کھاتے ہیں اور قیامت (کے تصور) سے کانپتے رہتے ہیں۔

الَّذِيْنَ ہُمْ فِيْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ۔ [37]

جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ۔ [38]

جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِلزَّكٰوۃِ فٰعِلُوْنَ۔[39]

جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ۔[40]

جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ۔ [41]

جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں

وَالَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَوٰتِہِمْ يُحَافِظُوْنَ۔[42]

جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ ہُمْ مِّنْ خَشْـيَۃِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ۔[43]

یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ يُؤْمِنُوْنَ۔[44]

یقیناً جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِرَبِّہِمْ لَا يُشْرِكُوْنَ۔[45]

اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔

وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّہُمْ اِلٰى رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَ۔[46]

اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

رِجَالٌ۝۰ۙ لَّا تُلْہِيْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوۃِ۝۰۠ۙ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۔[47]

ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی۔

وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔[48]

رحمان کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر مصلحت کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بےعلم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔

وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا۔[49]

اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ۝۰ۤۖ اِنَّ عَذَابَہَا كَانَ غَرَامًا۔[50]

اور جو یہ دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا۔[51]

اور جو خرچ کرتے وقت بھی اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللہِ اِلٰــہًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ۝۰ۚ[52]

اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے ،نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں

وَالَّذِيْنَ لَا يَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ۝۰ۙ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا۔[53]

اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے  اور جب کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ يَخِـرُّوْا عَلَيْہَا صُمًّا وَّعُمْيَانًا۔[54]

اور وہ ایسے ہیں جس وقت ان کو الله تعالیٰ کے احکام کے ذریعے سے نصیحت کی جاتی ہے تو ان (احکام) پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے۔

وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا۔[55]

اور وہ دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد (کی طرف) سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا دے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللہِ[56]

جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔

الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ۝۰ۭ[57]

جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں ۔ پھر جو بہترین بات ہو  اس پر عمل کرتے ہیں

وَعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ[58]

اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْـفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ يَغْفِرُوْنَ[59]

اور کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کر دیتے ہیں

وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۝۰۠ وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ۝۰۠ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ۔[60]

اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں  اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا (ہر) کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہمارے نام پر) دیتے ہیں

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَہُمُ الْبَغْيُ ہُمْ يَنْتَصِرُوْنَ۔[61]

اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں

قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰي وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىہُ وَاَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ۝۰ۭۚ اِنِّىْ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاِنِّىْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَـيِّاٰتِہِمْ فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَــنَّۃِ۝۰ۭ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ۔ [62]

(جو کہتے ہیں) اے میرے پروردگار مجھ کو اسپر مداومت دیجئے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو آپ نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں اور میں نیک کام کروں جس سے آپ خوش ہوں اور میری اولاد میں بھی میرے لئے صلاحیت پیدا کردیجئے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں فرمانبردارہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے کاموں کو قبول کرلیں گے اور انکے گناہوں سے درگذر کریں گے اس طور پر کہ یہ اہل جنت میں سے ہونگے ۔ اس وعدہ صادقہ کی وجہ سے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ[63]

مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے

ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ[64]

یہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور پابندی کرنے والا ہو

مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِۨ۔[65]

جو رحمان کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ والا دل لایا ہو

وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ[66]

اور جو لوگ اپنے دل کی لالچ سے محفوظ ہوجائیں، وہی فلاح پانے والے ہیں۔

الَّذِيْنَ ہُمْ عَلٰي صَلَاتِہِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ[67]

جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرنے والے ہیں

وَالَّذِيْنَ فِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۔ لسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ[68]

اور جن کے مالوں میں مقررہ حصہ ہے۔ مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی

وَالَّذِيْنَ يُصَدِّقُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِ[69]

اور جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ[70]

اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ[71]

اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی (حرام سے) حفاظت کرتے ہیں

وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ[72]

جو اپنی امانتوں کا اور اپنے قول و قرار کا پاس رکھتے ہیں

وَالَّذِيْنَ ہُمْ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَاۗىِٕمُوْنَ[73]

اور جو اپنی گواہیوں پر سیدھے اور قائم رہتے ہیں

يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّہٗ مُسْـتَطِيْرًا[74]

جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے

وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّہٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا[75]

اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین یتیم اور قیدیوں کو ۔

وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَى النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰى[76]

اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے  سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا۔

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى[77]

بیشک اس نے فلاح پائی جو پاک ہوگیا

وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰى[78]

اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پرھتا رہا۔

الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَہٗ يَتَزَكّٰى۔وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓى ۔اِلَّا ابْتِغَاۗءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰى[79]

جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے۔اور (اس لئے) نہیں (دیتا کہ) اس پر کسی کا احسان (ہے) جس کا وہ بدلا اتارتا ہے۔ بلکہ اپنے خداوند اعلی کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے

الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۝۰ۥۙ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ[80]

جو ایمان لائے  اور نیک عمل کئے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے۔[81]

حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے قائم اللیل اور صائم النہار لوگوں کے درجات پا لیتا ہے۔[82]

حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حجۃ الوداع میں فرمایا کیا میں تمہیں ” مومن ” کے متعلق نہ بتاؤں ؟ مؤمن وہ ہوتا ہے جس سے لوگوں کی جان مال محفوظ ہو۔[83]

حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ایک مؤمن کا اہل ایمان میں وہی درجہ ہوتا ہے جو سر کاجسم میں ہوتا ہے اور ایک مومن تمام اہل ایمان کے لئے اسی طرح تڑپتا ہے جیسے سر کی تکلیف کے لئے تڑپتا ہے۔[84]

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک انسان وہ بندہ مومن ہے جو ہلکے پھلکے سامان والا ہو نماز کا بہت سا حصہ رکھتا ہوا پنے رب کی اطاعت اور چھپ کر عمدگی سے عبادت کرتا ہو، لوگوں کی نظروں میں مخفی ہو، انگلیوں سے اس کی طرف سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں ، بقدر کفایت اس کی روزی ہو، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ جملہ دہراتے ہوئے چٹکی بجانے لگے پھر فرمایا اس کی موت جلدی آجائے ، اس کی وراثت بھی تھوڑی ہو اور اس پر رونے والے بھی تھوڑے ہوں ۔[85]

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے ساتھ تھے، نبی نے حضرت عمر فاروق کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، حضرت عمر کہنے لگے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، نبی نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بخدا! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا عمر! اب بات بنی![86]

 

یہ سعادت مومن کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے جو کہ اس کے لئے سراسر خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی سراسر خیر ہے۔[87]

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) سب سے افضل انسان کون ہے؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا وہ مومن جو اپنی جان مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بعد کون؟ فرمایا وہ مومن جو کسی گھاٹی میں ہو، اللہ سے ڈرتا ہو اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو۔[88]

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ پر، یوم آخرت، ملائکہ، کتابوں ، نبیوں ، موت اور حیات بعد الموت، جنت وجہنم، حساب و میزان اور ہر اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھو، انہوں(جبرائیل) نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کرلوں گا تو مومن بن جاؤں گا؟ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہاں ![89]

حضرت ابوشریح سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تین مرتبہ قسم کھا کر یہ جملہ دہرایا کہ وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ کون شخص فرمایا جس کے پڑوسی اس کے بوائق سے محفوظ نہ ہوں صحابہ نے بوائق کا معنی پوچھا تو فرمایا شر۔[90]

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میرا جو امتی بھی کوئی نیک عمل کرے اور وہ اسے نیکی سمجھتا بھی ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ ضرور دے گا یا کوئی گناہ کرے اور اسے یقین ہوجائے کہ یہ گناہ ہے اور وہ اس پر استغفار کرے اور یہ یقین رکھتا ہو کہ اللہ کے علاوہ اسے کوئی معاف نہیں کرسکتا تو وہ مومن ہے۔ [91]

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور کسی انسان سے اگر محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے کرے۔[92]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔[93]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔[94]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مومن کا تہبند پنڈلی کی مچھلی تک ہوتا ہے یا نصف پنڈلی تک یا ٹخنوں تک پھر جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔[95]

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مومن شریف اور بھولا بھالا ہوتا ہے جبکہ کافر دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے۔[96]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولناچھوڑ نہ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا ختم نہ کردے۔[97]

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا تقدیر پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا خواہ وہ اچھی ہو یا بری ۔[98]

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مومن لعن طعن کرنے والا یا فحش گو اور بیہودہ گو نہیں ہوتا۔[99]

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے ایمان نے جھگڑے کے پاؤں میں بیڑی ڈال دی ہے، اس لئے مومن جھگڑنے والا نہیں ہوتا۔[100]

 

جس شخص کو اپنی نیکی سے خوشی اور برائی سے غم ہو، وہ مومن ہے۔[101]

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کسی نے پوچھا کہ کیا مؤمن بودا بزدل ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پھر پوچھا کیا مومن بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں، پوچھا کیا مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔[102]

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مؤمن کے دوسرے مومن پر چھ حق ہیں ایک تو وہ جس وقت بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کے لئے جانا چاہیے دوسرے یہ کہ جس وقت وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازہ میں شریک ہونا چاہیے تیسرے یہ کہ جس وقت وہ دعوت کرے تو قبول کرے چوتھے یہ کہ جس وقت وہ ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے پانچویں یہ کہ جس وقت اس کو چھینک آئے تو اس کا جواب دے چھٹی بات یہ ہے کہ اس کے غائب ہونے کی صورت میں اور اس کی موجودگی میں اس کا خیر خواہ رہے۔[103]

وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ

صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو

 

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ۝۰ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ-[104]

اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک سے اور نقصانوں سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے اور خوش خبری دے دو صبر کرنے والوں کو

الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِيْبَۃٌ۝۰ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۔[105]

جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں

اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ[106]

اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ۔[107]

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بے آزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

وَاللہُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ[108]

اور اللہ (مصیبت میں) صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ      [109]

 تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بہت بڑی ہمت کے کام ہیں۔

اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔[110]

ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔

وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْہِ رَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً وَّيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَـنَۃِ السَّيِّئَۃَ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عُقْبَى الدَّارِ۔[111]

اور وہ اپنے رب کی رضامندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں  اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اسے چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں  اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں  ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃً۝۰ۭ اَتَصْبِرُوْنَ۝۰ۚ[112]

اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے؟

اُولٰۗىِٕكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوْا[113]

ان  لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیے جائیں گے

اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا[114]

ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں

وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ[115]

اور جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں

وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ۔[116]

اور اپنے رب (کی رضا) کے لئے صبر سے کام لیتے رہو

وَجَزٰىہُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِيْرًا[117]

اور انکے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کریگا

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کرتے ہوئے سنا ہے آپ نے فرمایا صبر(معتبر) وہ صبر ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو۔[118]

جو شخص صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور کشادہ تر نعمت نہیں ملی۔[119]

وہ مسلمان جو لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی طرف سے آنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے اجروثواب میں کہیں زیادہ ہے جو لوگوں سے میل جول نہیں رکھتا کہ ان کی تکالیف پر صبر کرنے کی نوبت آئے۔[120]

نامکمل حمل بھی اپنی ماں کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ اس نے اس پر صبر کیا ہو۔[121]

تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں ۔  ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں ، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کردے ۔[122]

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی شخص کی بینائی واپس لے لوں اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کرے تو اس کا عوض جنت ہوگی[123]

 

نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ابوسعید! صبر کرو، کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر وفاقہ اس سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے جو اوپر کی جانب سے نیچے آئے۔[124]

جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اس پر صبر کرے کیونکہ جو بھی شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے بالشت بھر الگ ہوگا اور مرتے وقت زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا۔[125]

آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بلا شبہ جب بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی درجہ مقرر کر دیا گیا جس درجہ میں وہ اپنے عمل کی وجہ سے نہ پہنچ سکتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو جسم یا مال میں یا اولاد میں (تکلیفوں کے ساتھ) مبتلا فرما دیتے ہیں پھر اس پراس کو صبر دے دیتے ہیں یہاں تک کہ اسے اسی درجہ میں پہنچا دیتے ہیں جو پہلے سے اس کے لیے طے فرما دیا تھا۔[126]

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔ ” دو خصلتیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں پائی جاتی ہیں اس کو اللہ تعالیٰ شاکر و صابر قرار دیتا ہے ایک یہ جب وہ شخص دینی معاملہ یعنی اچھے اعمال وغیرہ میں ایسے آدمی کو دیکھے جو (علم و عمل، طاعات و عبادات، قناعت واستقامت اور ریاضت ومجاہدہ کے اعتبار سے) اس سے برتر ہو تو اس کی اقتدا کرے ( یعنی اس میں دینی برتری وفضیلت سے اس طرح فیضان حاصل کرے کہ خود بھی علم وعمل کی راہ پر چلے، طاعات وعبادات کی محنت ومشقت اور برائیوں سے اجتناب پر صبر و استقامت اختیار کرے اور جو دینی و باطنی کمالات پہلے فوت ہو چکے ہیں ان پر تأسف کرے) اور دوسرے یہ کہ جب اپنی دنیا کے معاملہ میں اس آدمی کو دیکھے جو (مال و دولت اور جاہ ومنصب کے اعتبار سے) اس سے کمتر ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور اس کا شکر ادا کرے کہ اس نے اس آدمی پر اس کو فضیلت وبرتری بخشی ہے پس اللہ تعالیٰ اس شخص کو صابر و شاکر قرار دیتا ہے۔[127]

کسی مسلمان کو جو کانٹا بھی چبھتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔[128]

جو صبر کرے گا اللہ اس کو صبر کی توفیق دے گا اور کوئی نعمت جو لوگوں کو دی گئی ہے صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ نہیں ہے ۔[129]

صبر کرو، اس لئے کہ کوئی زمانہ نہیں آئے گا مگر اس کے بعد والا زمانہ اس سے زیادہ برا ہوگا حتی کے تم اپنے رب سے ملو گے۔[130]

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں صبر ایمان کیلئے وہی درجہ رکھتا ہے جو بدن کیلئے سر رکھتا ہے اور اس کا ایمان نہیں جس کا صبر نہیں۔[131]

مومن بندے صبر سے کام لیتے ہیں جس طرح کی بھی کوئی مصیبت در پیش ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں اور اللہ کی قضا و قدر پر راضی رہتے ہیں اور ثواب کی امید رکھتے ہیں جو مصیبتیں درپیش ہوتی ہیں وہ گناہوں کی سزا کے طور پر بھی پیش آتی ہیں اور کفارہ سیئات کے لیے بھی ہوتی ہیں۔ امتحان کے لیے بھی ہوتی ہیں اور رفع درجات کے لیے بھی قرآن مجید سے اور احادیث شریفہ سے یہ باتیں واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں۔

امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: کہ خوف سے اللہ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ، جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ موتیں ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے اس لئے کہ اولاد دل کا پھل ہوتی ہے حدیث شریف میں ہے سید عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی وہ عرض کرتے ہیں کہ ہاں یارب، پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا عرض کرتے ہیں ہاں یارب، فرماتا ہے اس پر میرے بندے نے کیا کہا ؟ عرض کرتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور (اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَالبقرة:156) پڑھا فرماتا ہے اس کے لئے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو ۔

سورہ نساء میں فرمایا (مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءً یُّجْزَبِہٖ) (جو شخص بھی کوئی برائی کرے گا اس کا بدلہ دیاجائے گا) تفسیر اور حدیث کی کتابوں میں یہ بات نقل کی گئی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد کیا اب کامیابی کی صورت ہے جبکہ ہر بدی کا بدلہ ملنا ضروری ہے آپ نے فرمایا اے ابوبکر اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ کیا تم مریض نہیں ہوتے ہو، کیا تمہیں تکلیف نہیں پہنچتی۔ کیا تم رنجیدہ نہیں ہوتے، کیا تم کو کوئی مصیبت در پیش نہیں ہوتی عرض کیا ہاں یہ چیزیں تو پیش آتی ہیں، آپ نے فرمایا ان چیزوں کے ذریعہ گناہوں کا بدلہ ہو جاتا ہے۔[132]

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ۝۰ۙ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللہِ۝۰ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ۔يُبَشِّرُہُمْ رَبُّہُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّہُمْ فِيْہَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ[133]

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں ۔ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

وَمَنْ يُّھَاجِرْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يَجِدْ فِي الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِيْرًا وَّسَعَۃً۝۰ۭ وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ يُدْرِكْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَي اللہِ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔[134]

اور جو شخص الله تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے گا  تو اس کو روئے زمین پر جانے کی بہت جگہ ملے گی اور بہت گنجائش اور جو شخص اپنے گھر سے (اس نیت سے) نکل کھڑا ہوا کہ الله اور رسول کی طرف ہجرت کروں گا پھر اس کو موت آپکڑے تب بھی اس کا ثواب ثابت ہوگیا الله تعالیٰ کے ذمہ اور الله تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے ہیں اور بڑے رحمت والے ہیں ۔

وَالَّذِيْنَ ہَاجَرُوْا فِي اللہِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّہُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَـنَۃً۝۰ۭ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ اَكْبَرُ۝۰ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ۔[135]

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لئے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے ۔

وَالَّذِيْنَ ہَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّہُمُ اللہُ رِزْقًا حَسَـنًا۝۰ۭ وَاِنَّ اللہَ لَہُوَخَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ۔[136]

اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مرگئے ان کو خدا اچھی روزی دے گا اور بیشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

 (اعمال کے نتیجے) نیت کے موافق ہوتے ہیں اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جو وہ نیت کرے، لہذا جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہو گی، تو اللہ کے ہاں اس کی ہجرت اسی (کام) کے لئے (لکھی جاتی) ہے، جس کے لئے اس نے ہجرت کی ہو اور جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہو کہ اسے مل جائے یا کسی عورت کیلئے ہو جس سے وہ نکاح کرے، تو اس کی ہجرت اس بات کے لئے ہو گی، جس کے لئے اس نے ہجرت کی ہو۔ [137]

ہرج (قتل) کے زمانے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرکے آنے کے برابر ہوگا۔[138]

پوچھا کہ ہجرت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا گناہ چھوڑ دو[139]

وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا۝۰ۭ[140]

اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَكُرْہٌ لَّكُمْ۝۰ۚ[141]

جہاد کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللہُ الَّذِيْنَ جٰہَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ۔[142]

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بے آزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَاُوْذُوْا فِيْ سَبِيْلِيْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَيِّاٰتِھِمْ وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ۝۰ۚ[143]

سو جن لوگوں نے ترک وطن کیا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے  اور تکلیفیں دئیے گئے میری راہ میں اور جہاد کیا اور شہید ہوگئے میں ضروران لوگوں کی تمام خطائیں معاف کردونگا

 

بِالْاٰخِرَۃِ۝۰ۭ وَمَنْ يُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَيُقْتَلْ اَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْہِ اَجْرًا عَظِيْمًا۔[144]

جو شخص الله کی راہ میں لڑے گا پھر خواہ جان سے مارا جائے یا غالب آجاوے تو ہم اس کو اجر عظیم دینگے

 

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ۔[145]

اور تمھارے پاس کیا عذر ہے کہ تم جہاد نہ کر و الله کی راہ میں اور کمزوروں کی خاطر سے جن میں کچھ مرد ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ۝۰ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِيَاۗءَ الشَّيْطٰنِ۝۰ۚ اِنَّ كَيْدَ الشَّيْطٰنِ كَانَ ضَعِيْفًا۔[146]

جو لوگ پکے ایمان دار ہیں وہ تو الله کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جو لوگ کافر ہیں شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو تم شیطان کے ساتھیوں سے جہاد کرو واقع میں شیطانی تدبیر کمزور ہوتی سے ۔

لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ۝۰ۭ فَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِيْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ دَرَجَۃً۝۰ۭ وَكُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰي۝۰ۭ وَفَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِيْنَ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا۔[147]

برابر نہیں وہ مسلمان جو بلاکسی عذر کے گھر میں بیٹھے رہیں اور وہ لوگ جو الله کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں الله تعالیٰ نے ان لوگوں کا درجہ بہت زیادہ بنایا ہے جو اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں بہ نسبت (گھر میں) بیٹھنے والوں کے اور سب سے الله تعالیٰ نے اچھے (گھر) کا وعدہ کر رکھا ہے اور الله تعالی ٰ نے مجاہدین کو بمقابلہ (گھر میں) بیٹھنے والوں کے بڑا اجر عظیم دیا ہے

وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْـتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّاللہِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ۝۰ۚ لَا تَعْلَمُوْنَہُمْ۝۰ۚ اَللہُ يَعْلَمُہُمْ۝۰ۭ[148]

اور ان کافروں کے لیے جس قدر تم سے ہوسکے قوت (ہتھیار) سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان درست رکھو اور اس کے ذریعہ سے تم (رعب) جمائے رکھو ان پر جو کہ (کفر کی وجہ سے) الله کے دشمن ہیں اور تمھارے دشمن ہیں اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم (بالیقین) نہیں جانتے ان کو الله ہی جانتا ہے ۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِيْ سَبِيْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللہُ بِاَمْرِہٖ۝۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔[149]

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَۃَ عَنْ يَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ۔[150]

اہل کتاب جو کہ نہ خدا پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حرام بتلایا ہے اور نہ سچے دین (اسلام) کو قبول کرتے ہیں ان سے یہاں تک لڑو کہ وہ ماتحت ہوکر اور رعیت بنکر جزیہ دینا منظور کریں ۔

لَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ يُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِـہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ۝۰ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ۔[151]

جو لوگ الله پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے کے بارے میں آپ سے رخصت نہ مانگیں گے (بلکہ وہ حکم کے ساتھ دوڑ پڑینگے) اور الله تعالیٰ ان متقیوں کو خوب جانتا ہے

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاہِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ وَمَاْوٰىہُمْ جَہَنَّمُ۝۰ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۔[152]

اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کفار (سے بالسنان) اور منافقین سے (باللسان) جہاد کیجئیے اور ان پر سختی کیجئیے (دنیا میں تو یہ اس کے مستحق ہیں) اور (آخرت میں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ۔ اور وہ بری جگہ ہے

 اِنَّ اللہَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ۝۰ۭ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ۝۰ۣ وَعْدًا عَلَيْہِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ۝۰ۭ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَہْدِہٖ مِنَ اللہِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِہٖ۝۰ۭ وَذٰلِكَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ[153]

بلا شبہ الله تعالیٰ نے مسلمانوں سے ا نکی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی وہ لوگ الله کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں  اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے توریت میں (بھی) اور انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی) اور (یہ مسلم ہے کہ) الله سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے (الله تعالیٰ سے) معاملہ ٹھیرایا ہے خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّۃً۝۰ۭ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــۃٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَۃٌ لِّيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْہِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ۔[154]

اور (ہمیشہ کے لیے) مسلمانوں کو یہ (بھی) نہ چاہیئے کہ (جہاد کے واسطے) سب کے سب (ہی) نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت (جہاد ) میں جایا کرے تاکہ (یہ) باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی (اس) قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس واپس آویں ڈراویں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سن کر برے کاموں (سے) احتیاط رکھیں ۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَۃً۝۰ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ[155]

اے ایمان والو ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس (رہتے) ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیئے اور یقین رکھو کہ الله تعالیٰ (کی امداد) متقی لوگوں کے ساتھ ہے (پس ان سے ڈریو مت)

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَجَاہِدْہُمْ بِہٖ جِہَادًا كَبِيْرًا[156]

پس کبھی کافروں کا کہنا نہیں ماننا اور ان سے جہاد کرو اس قران کے ذریعے بہت بڑا جہاد

حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایک آدمی کے پیٹ میں جہاد فی سبیل اللہ کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں فرمائے گا، جس شخص کے قدم راہ اللہ میں غبار آلود ہوجائیں، اللہ اس کے سارے جسم کو آگ پر حرام قرار دے دے گا، جو شخص راہ اللہ میں ایک دن کا روزہ رکھ لے، اللہ اس سے جہنم کو ایک ہزار سال کے فاصلے پر دور کر دیتا ہے جو ایک تیز رفتار سوار طے کرسکے، جس شخص کو راہ اللہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو راہ اللہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہدا کی مہر لگ جاتی ہے، اولین و آخرین اسے اس کے ذریعے پہچان کر کہیں گے کہ فلاں آدمی پر شہدا کی مہر اور جو مسلمان آدمی راہ اللہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر قتال کرے، اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔[157]

پوچھا کہ جہاد سے کیا مراد ہے؟ فرمایا کافر سے آمنا سامنا ہونے پر قتال کرنا[158]

حضرت کعب سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اشعار سے مشرکین کی مذمت بیان کیا کرو، مسلمان اپنی جان اور مال دونوں سے جہاد کرتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے، تم جو اشعار مشرکین کے متعلق کہتے ہو ایسا لگتا ہے کہ تم ان پر تیروں کی بوچھاڑ برسا رہے ہو۔[159]

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔[160]

مجاہد وہ ہوتا ہے جو اللہ کی اطاعت کے معاملے میں اپنے نفس سے جہاد کرے[161]

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سب سے افضل عمل اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھنا ہے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور جہاد کرنا ہے۔ [162]

اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔ [163]

تم میں سے کسی کا جہاد کی صف میں کھڑا ہونا ساٹھ سال کی نماز سے بہتر ہے ۔[164]

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ چیزوں کے متعلق ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص وہ کام کرے گا وہ اللہ کی حفاظت میں ہوگا، مریض کی تیماداری کرنے والا، جنازے میں شریک ہونے والا، اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے جانے والا، امام کے پاس جا کر اس کی عزت واحترام کرنے والا، یا وہ آدمی جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے کہ لوگ اس کی ایذاء سے محفوظ رہیں اور وہ لوگوں کی ایذاء سے محفوظ رہے ۔[165]

راہ اللہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ” جب تک وہ واپس نہ آجائے خواہ جب بھی واپس آئے ” اس شخص کی طرح ہے جوصائم النہار اور قائم اللیل ہو۔ [166]

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قتل تین قسم کا ہوتا ہے، ایک وہ مسلمان آدمی جو اپنی جان ومال کے ساتھ اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ تو وہ شہید ہوگا جو عرش الٰہی کے نیچے اللہ کے خیمے میں فخر کرتا ہوگا اور انبیاء کو اس پر صرف درجہ نبوت کی وجہ سے فضیلت ہوگی، دوسرا وہ مسلمان آدمی جس کے نفس پر گناہوں اور لغزشوں کی گٹھڑی لدی ہوئی ہو، وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص اس لئے گناہوں اور لغزشوں سے پاک صاف ہوجائے گا کیونکہ تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور اسے جنت کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے کا اختیار دے دیا جائے گا کہ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے بعض دوسروں کی نسبت زیادہ افضل ہیں اور تیسرا وہ منافق آدمی جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص جہنم میں جائے گا کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔[167]

جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کسی مجاہد کے ساتھ یا کسی عبد مکاتب کو آزاد کرانے میں اس کی مدد کرتا ہے اللہ اسے اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ عطا فرمائے گا جس دن کہیں سایہ نہ ہوگا۔[168]

مسلمان اپنی تلوار اور زبان دونوں سے جہاد کرتا ہے۔[169]

؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو لیکن اس سے کچھ اثر قبول نہ کرتا ہو۔[170]

جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے طاعون میں مبتلا ہوکر مرنا بھی شہادت ہے اور اللہ کے راستہ میں مرنا بھی شہادت ہے۔[171]

اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تمہارے خلاف دنیا کی قومیں ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے کھانے کی میز پر دعوت دی جاتی ہے؟ حضرت ثوبان (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہونے کی بنا پر ایسا ہوگا؟ فرمایا نہیں بلکہ اس وقت تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تمہارے دلوں میں وہن “ڈال دیا جائے گا صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہن کیا چیز ہے؟ فرمایا دنیا سے محبت اور جہاد سے نفرت۔[172]

جنت میں سو درجے ہیں جہنیں اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے۔[173]

تین آدمی ایسے ہیں کہ جن کی مدد کرنا اللہ کے ذمے واجب ہے

(١) اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا

(٢) اپنی عفت کی حفاظت کی خاطر نکاح کرنے والا

(٣) وہ عبد مکاتب جو اپنا بدل کتابت ادا کرنا چاہتا ہو۔ [174]

اگر تم نے جہاد کو ترک کردیا گائے کی دمیں پکڑنے لگے عمدہ اور بڑھیاچیزیں خریدنے لگے تو اللہ تم پر مصائب کو نازل فرمائے گا اور اس وقت تک انہیں دور نہیں کرے گا جب تک تم لوگ توبہ کر کے دین کی طرف واپس نہ آجاؤ گے۔[175]

جو شخص جہاد میں کچھ خرچ کرتا ہے تو اس کے لئے سات سو گنا ثواب لکھا جاتا ہے۔[176]

جس شخص نے جہاد کے دوران ایک روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایسی خندق بنا دیتا ہے جیسے کہ زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے۔[177]

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں جہاد کرنے والے کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ اگر میں اس کی روح قبض کرتا ہوں تو اسے جنت کا وارث بناتا ہوں اور اگر اسے زندہ واپس بھیجتا ہوں تو مال غنیمت اور ثواب کے ساتھ لوٹاتا ہوں۔[178]

وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ[179]

خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے

يٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ   ۔اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا مُسْلِمِيْنَ     [180]

اے میرے بندو ! آج تم پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگے۔جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرماں بردار ہوگئے

هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ ڏ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا [181]

اسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ[182]

اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں؟

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ۔[183]

بھلا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے؟

پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دو، لا الہ الا اللہ کی گواہی دو اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں کام کرلوں گا تو مسلمان کہلاؤں گا؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ![184]

فرمایا۔ قوی مسلمان، ضعیف مسلمان سے بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے (یعنی جو مسلمان اللہ کی ذات وصفات کے تئیں ایمان واعتماد میں مضبوط ہوتا ہے اس پر پختگی کے ساتھ توکل واعتماد رکھتا ہے ہر حالت میں نیکیاں وبھلائیاں اس کا مقصود ہوتی ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد وایثار کرتا ہے۔ یا یہ کہ جو مسلمان لوگوں کی صحبت وہم نشینی اور ان کی طرف سے پیش آنے والی ایذاء وتکلیف پر صبر کرتا ہے، مخلوق اللہ کی ہدایت کے لئے کوشش کرتا ہے اور تقریر وتحریری اور درس وتعلیم کے ذریعہ خیر و بھلائی پھیلانے میں مصروف رہتا ہے وہ اس مسلمان سے کہیں زیادہ بہتر اور اللہ کے نزدیک کہیں زیادہ محبوب وپسندیدہ ہے جو ان صفات میں اس کا ہم پلہ نہیں ہوتا اور ہر مسلمان خواہ وہ قوی ہو یا ضعیف اپنے اندر نیکی وبھلائی رکھتا ہے۔ (یعنی کوئی مسلمان نیک صفات سے خالی نہیں ہوتا ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور ہوتی ہے، کیونکہ تمام نیکیوں اور بھلائیوں کا اصل سرچشمہ بنیادی ایمان ہے اور بنیادی ایمان ہر مسلمان میں ہوتا ہے) جو چیز تمہیں دین وآخرت کے اعتبار سے نفع پہنچانے والی ہو اس کی حرص رکھو، اللہ تعالیٰ سے نیک عمل کرنے کی مدد و توفیق طلب کرو اور اس طلب مدد و توفیق سے عاجز نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس پر پوری طرح قادر ہے کہ تمہیں اپنی طاعت وعبادت کی توفیق عطا فرمائے بشرطیکہ تم اس کی استعانت پر سیدھی طرح قائم رہو۔[185]

لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ[186]

تم اس(قرآن) سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچادو

الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ۔[187]

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے، اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَيْرَۨا  ښ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ بِالْمَعْرُوْفِ  ۚ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ    [188]

تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کر جائے (خدا سے) ڈرنے والوں پر یہ ایک حق ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ   ۔[189]

مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ[190]

اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ ۭحَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ[191]

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان نفقہ دینا چاہئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ  اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ  [192]

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

اَلصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالْقٰنِـتِيْنَ وَالْمُنْفِقِيْنَ وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بِالْاَسْحَارِ  [193]

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ[194]

تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ  [195]

اور اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ   [196]

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ۔[197]

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں ۔

اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ        [198]

انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ    [199]

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ   [200]

 اور پرہیزگاروں کا گھر بہت خوب ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ ۭكَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ[201]

وہ بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں) وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلا دیتا ہے۔

يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا[202]

جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ  [203]

اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے

وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ    [204]

اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا  ۭ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ    [205]

وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اسے ان لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے

وَالْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ     [206]

اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ      [207]

(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ[208]

بے شک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے

وَاللّٰهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ           [209]

اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ      [210]

بے شک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے

كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ     [211]

رات کے تھوڑے سے حصے میں سوتے تھے

وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ      [212]

اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے

وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ       [213]

اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَعِيْمٍ[214]

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ[215]

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نہروں میں ہوں گے

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ مَفَازًا   [216]

بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے

آدمی نے نبیﷺ سے برسر منبر یہ سوال کیا تھا کہ لوگوں میں سے سب سے بہترین کون ہے؟ نبی نے فرمایا جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا، متقی، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔[217]

فرمایا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب متقی ہیں خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں ۔[218]

ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کہیں سے ایک ریشمی جوڑا ہدیہ میں آیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پہن کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔[219]

اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند فرماتے ہیں جو متقی ہو، بےنیاز ہو اور اپنے آپ کو مخفی رکھنے والا ہو۔ [220]

۔ آپ نے فرمایا جو تقوی اختیار کرے اس کے لئے مالداری میں کچھ حرج نہیں اور متقی کیلئے تندرستی الداری سے بھی بہتر ہے اور دل کا خوش ہونا (طبیعت میں فرحت) بھی ایک نعمت ہے۔ [221]

مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں ۔[222]

اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بےغبار نکل جائیں گے۔[223]

روایت:-ایک دن  ابی بن کعب(رض) سے  امیر المومنین حضرت عمر (رض) نے دریافت کیا کہ “تقوی کی حقیقت کیا ہے”؟

انھوں نے فرمایا کہ ” کبھی کانٹوں بھرے کسی راستے پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے”؟

حضرت عمر (رض) نے جواب دیا ” کیوں نہیں! بارہا ایسے راستوں پر چلنے کا اتفاق ہوا ہے”

حضرت ابی (رض) نے فرمایا”اس وقت آپ نے کیا کیا”؟

حضرت عمر (رض) نے فرمایا” میں نے اپنے جسم اور کپڑوں کو سنبھالا اور خوب کوشش کی کہ اپنے جسم اور کپڑوں کا کانٹوں سے بچا کر صحیح سالم نکل جاؤں”

حضرت ابی (رض) نے فرمایا” فذالک[224]التقوی ” (بس یہی تقوی کی حقیقت ہے)

وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ۔[225]

اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو

الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ عَلٰي مَآ اَصَابَهُمْ وَالْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِ  ۙ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ[226]

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

جو آدمی بھی اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔[227]

جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء چشم زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ ہمارے حق میں اللہ سے ڈر کیونکہ ہمارا تعلق تجھ ہی سے ہے اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔[228]

وہ لوگ ہیں جو لوگوں پر ظلم نہیں کرتے اور جب ظلم کیے جائیں تو بدلہ نہیں لیتے۔[229]

وَبَشِّرِالْمُحْسِنِيْنَ[230]

اور محسنین کو بشارت دے دیجیے

محسنین سے وہ لوگ مراد ہیں جو اسلام‘ ایمان اور تقویٰ کی منزلیں طے کرتے ہوئے درجۂ احسان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ کی توفیق سے اس درجہ کو حاصل کرلیتے ہیں[231]

بَلٰي ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗٓ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ[232]

ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ    ٻوَاَحْسِنُوْا ڔ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ    [233]

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً  ښ وَّمَتِّعُوْھُنَّ ۚ عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ  ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ ۚ حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ   [234]

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگ دسست اپنی حیثیت کے مطابق، نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ[235]

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ[236]

اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے رہو اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون کرسکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے

وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا  [237]

اور اس شخص سے کس کا دینا اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکو کار بھی ہے اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو (مسلمان) تھے؟

اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ  [238]

کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا   ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ  [239]

اور جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کریں گے ہم لازماً ان کی راہنمائی کریں گے اپنے راستوں کی طرف اور یقیناً اللہ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے

اٰخِذِيْنَ مَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ[240]

(اور) جو جو نعمتیں انکا پروردگار انہیں دیتا ہوگا انکو لے رہے ہوں گے بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں کرتے تھے

كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَہْجَعُوْنَ[241]

وہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے

وَبِالْاَسْحَارِہُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ[242]

اور صبح کے وقت استغفار کیا کرتے تھے

وَفِيْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ[243]

اور ان کے مال میں مانگنے والوں اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا

پوچھا کہ ” احسان ” کی تعریف کیا ہے؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اللہ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر ہی تصور نہ کرسکو تو پھر یہی تصور کرلو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اس نے کہا کیا ایساکرنے کے بعد میں ” محسن ” بن جاؤں گا؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ![244]

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (رحم وانصاف اور عمدگی کو) فرض فرمایا۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو عمدگی سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو عمدگی سے ذبح کرو اور تم میں سے ایک اپنی چھری کو خوب تیز کرے اور (اس طرح) اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔[245]

شرک سے حفاظت

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ[246]

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے۔ اور وہی ہدایت پانے والےہیں۔

 اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّـبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ۝۰ۚ فَبَشِّرْہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَّاَجْرٍ كَرِيْمٍ۔[247]

بیشک صرف آپ تو ڈرا سکتے ہیں (اُسے) جو پیروی کرے نصیحت کی اور وہ ڈرے رحمٰن سے بِن دیکھے پس آپ خوشخبری دے دیں اُسے مغفرت کی اور عزت والے اجر کی

وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ يَّعْبُدُوْہَا وَاَنَابُوْٓا اِلَى اللہِ لَہُمُ الْبُشْرٰى۝۰ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ۔[248]

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا تو ان کے لئے بشارت ہے تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

  اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔[249]

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کرے گا پھر ان کی طرف دیکھ کر فرمائے گا کہ ہر شخص اپنے معبود کے ساتھ کیوں نہیں آتا؟ چنانچہ صلیب والوں کے لئے صلیب کی صورت بن جائے گی، بت پرستوں کے لئے بتوں کی تصاویر اور آتش پرستوں کے لئے آگ کی شکل بن جائے گی۔ پھر وہ تمام لوگ اپنے معبودوں کے پیچھے چل پڑیں گے۔ پھر مسلمان باقی رہ جائیں گے تو ان کی طرف دیکھ کر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم لوگ ان کے پیچھے کیوں نہیں گئے۔ وہ عرض کریں گے اے رب ہم تجھ ہی سے پناہ کے طلب گار ہیں۔ ہمارا رب تو اللہ ہے لہذا ہماری جگہ یہی ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں حکم دیں گے۔ انہیں ثابت قدم کریں گے۔

 صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم لوگ چودھویں کا چاند دیکھتے ہوئے شک میں مبتلا ہوئے ہو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسی طرح عنقریب تم لوگ اپنے رب کو (یقین کامل) کے ساتھ دیکھو گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ چھپیں گے اور پھر ظاہر ہو کر انہیں اپنے متعلق بتائیں گے اور فرمائیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں لہذا میرے ساتھ چلو۔ چنانچہ سب مسلمان کھڑے ہوجائیں گے اور پل صراط رکھ دیا جائے۔ پھر اس پر سے ایک گروہ عمدہ گھوڑوں اور ایک (گروہ) عمدہ اونٹ کی طرح گزر جائے گا۔ وہ لوگ اس موقع پر یہ کہیں گے۔ سلم سلم یعنی سلامت رکھ، سلامت رکھ۔

پھر دوزخی باقی رہ جائیں گے چنانچہ ایک فوج اس (دوزخ) میں ڈالی جائے اور پوچھا جائے گا کیا تو بھر گئی۔ وہ عرض کرے گی۔ کچھ اور ہے؟ پھر ایک اور فوج ڈال کر پوچھا جائے گا تو بھی اس کا یہی جواب ہوگا۔ یہاں تک کہ سب کے ڈالے جانے پر بھی یہی جواب دے گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدم رکھ دے گا جس سے وہ (یعنی جہنم) سمٹ جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ بس ! وہ کہے گی بس، بس۔ پھر جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل کر دیئے جائیں گے تو موت کو کھینچ کر لایا جائے گا اور دونوں کے درمیان کی دیوار پر کھڑا کردیا جائے گا۔

پھر اہل جنت کو بلایا جائے گا تو وہ لوگ ڈرتے ہوئے دیکھیں گے اور دوزخیوں کو پکارا جائے تو وہ خوش ہو کر دیکھیں گے کہ شاید شفاعت ہو لیکن ان سب سے پوچھا جائے کہ کیا تم لوگ اسے جانتے ہو۔ وہ سب کہیں گے جی ہاں ! یہ موت ہے جو ہم پر مسلط تھی۔ چنانچہ اسے لٹایا جائے اور اسی دیوار پر ذبح کردیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا اے جنت والو اب تم ہمیشہ جنت میں رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو تم ہمیشہ جہنم میں رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔[250]

 

بشارت کا بیان

اَنَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ    ۭ   كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَـــرَةٍ رِّزْقًا    ۙ   قَالُوْا ھٰذَا الَّذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ    ۙ    وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا    ۭ    وَلَھُمْ فِيْهَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ     ڎ    وَّھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ[251]

 ان کے لئے (نعمت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائیگا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ  [252]

پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَاَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ  ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ    [253]

ان کے لئے خدا کے ہاں باغاتِ (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہاہے

وَاَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوْھُھُمْ فَفِيْ رَحْمَةِ اللّٰهِ  ۭ ھُمْ فِيْھَا خٰلِدُوْنَ[254]

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہونگے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ  [255]

تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ صحیح معنی میں کامیاب ہو گیا

وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ  ۭوَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ     [256]

میں ان کے گناہ دور کر دونگا اور ان کو بہشتوں میں داخل کرلوں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔

لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ  ۭ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ لِّلْاَبْرَارِ    [257]

ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) خدا کے ہاں سے (انکی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکوکاروں کے لیے بہت اچھا ہے

سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا  ۭ لَھُمْ فِيْھَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ  ۡ وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا[258]

ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا[259]

 وہ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انیباء اور صدیق اور شہد اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا[260]

 تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَيَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ[261]

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کا پورا بدلہ دے گا۔ اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا

 فَسَـيُدْخِلُهُمْ فِيْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ ۙ وَّيَهْدِيْهِمْ اِلَيْهِ صِرَاطًا مُّسْتَــقِيْمًا [262]

 ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا اور اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا۔

 لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا  ۭ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ    [263]

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچّائی ہی فائدہ دے گی۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ابد الآ باد ان میں بستے رہیں گے۔ خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْھٰرُ[264]

اور جو کینے ان کی دلوں میں ہونگے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ انکے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔

لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ[265]

ان کے لئے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے) درجے اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

  يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ[266]

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دے گا (یعنی تم کو ممتاز کر دے گا) اور تمہارے گناہ مٹا دیگا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑے فضل والا ہے۔

اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ   ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ[267]

اللہ کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمْ فِيْهَا نَعِيْمٌ مُّقِيْمٌ[268]

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ  ۭ[269]

یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ  ۭ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ  ۭ [270]

اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے وعدہ کیا ہے ان باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور ان پاکیزہ مکانات کا جو سدا بہار باغات میں ہوں گے۔ اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو سب سے بڑی چیز ہے۔یہی تو زبردست کامیابی ہے۔۔

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ[271]

اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔

يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ  ۚ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ[272]

ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا پروردگار انہیں اس منزل تک پہنچائے گا کہ نعمتوں سے بھرے باغات میں ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔

الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ  ۭ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ  ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ  ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ[273]

ان کے لئے ہے بھلائی اور زیادتی، اور نہ چڑھے گی ان کے منہ پر سیاہی اور نہ رسوائی، وہ ہیں جنت والے، وہ اسی میں رہا کریں گے،

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ[274]

ان کو مغفرت اور بڑا اجر نصیب ہوگا۔

اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــنَّةِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ[275]

یہی صاحب جنت ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

وَاَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ  ۭ عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ[276]

اور جو نیک بخت ہوں گے ہے بہشت میں (داخل کئے جائیں گے اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ کہ خدا کی بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ[277]

جو ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہونگے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے انکے پاس آئینگے

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ  ۭ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۭ اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا  [278]

وہ جنت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے پھل بھی سدا بہار ہیں، اور اس کی چھاؤں بھی !

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ[279]

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ[280]

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان (باغات) میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہو کر داخل ہوجاؤ۔

وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ[281]

ان کے سینوں میں جو کچھ رنجش ہوگی، اسے ہم نکال پھینکیں گے، (١٨) وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے اونچی نشستوں پر بیٹھے ہوں گے۔

لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ    [282]

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ ۭكَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ[283]

ہمیشہ ہمیشہ بسنے کے لیے وہ باغات جن میں وہ داخل ہوں گے، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہاں جو کچھ وہ چاہیں گے، انہیں ملے گا۔ متقی لوگوں کو اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے۔

[284]وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا

اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّيَلْبَسُوْنَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِــِٕـيْنَ فِيْهَا عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ  ۭ نِعْمَ الثَّوَابُ  ۭ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا  [285]

ان ہی لوگوں کے لیے ہیں رہنے کے ایسے باغات جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی انہیں پہنائے جائیں گے اس میں سونے کے کنگن اور وہ پہنیں گے سبز رنگ کے کپڑے باریک ریشم کے اور موٹے ریشم کے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے تختوں پر کیا ہی اچھا بدلہ ہوگا (ان کے لیے) اور کیا ہی خوب آرام گاہ ہوگی

يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا[286]

جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا مَنْ تَزَكّٰى[287]

وہ ہمیشہ رہنے والے باغات جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اس کا جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهٖ  [288]

 اس کی کوشش کی ناقدری نہیں ہوگی

اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ[289]

ان کو اس (جہنم) سے دور رکھا جائے گا۔

لَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا  ۚ وَهُمْ فِيْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ[290]

وہ اس(جہنم) کی سرسراہٹ بھی نہیں سنیں گے، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من پسند چیزوں کے درمیان رہیں گے۔

لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ[291]

ان کو وہ (قیامت کی) سب سے بڑی پریشانی غمگین نہیں کرے گی،

وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ[292]

، اور یقین رکھو کہ اللہ ایمان والوں کو سیدھے راستے کی ہدایت دینے والا ہے۔

لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا[293]

اللہ انہیں ضرور اچھا رزق دے گا

لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَهٗ[294]

وہ ان کو ایسے مقام سے داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے

لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاۗءُوْنَ خٰلِدِيْنَ[295]

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس(جنت) میں رہیں گے

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا[296]

جنت والے اس روز بہت اچھے ٹھکانوں میں ہوں گے اور ان کے  آرام  کرنے کی جگہ بھی بہت ہی اچھی ہو گی

اُولٰۗىِٕكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَيُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَّسَلٰمًا    [297]

یہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بالاخانے عطا ہوں گے، اور وہاں دعاؤں اور سلام سے ان کا استقبال کیا جائے گا۔

خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭحَسُنَتْ مُسْـتَقَرًّا وَّمُقَامًا    [298]

اس(جنت) میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے

مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا  ۚ وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ[299]

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اس روز) گھبراہٹ سے بے خوف ہوں گے

لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَـيِّاٰتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ[300]

ہم ان کے گناہوں کو ان سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے

لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ[301]

ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلا ہے

خٰلِدِيْنَ فِيْهَا  ۭ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا  [302]

ہمیشہ ان (جنت کے باغوں)میں رہیں گے خدا کا وعدہ سچا ہے

لَهُمْ جَزَاۗءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَهُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ[303]

ایسے لوگوں کو ان کے عمل کا دوہرا ثواب ملے گا، اور وہ (جنت کے) بالاخانوں میں چین کریں گے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُــؤْلُــؤًا ۚ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ[304]

ہمیشہ بسنے کے باغات ہیں جن میں وہ لوگ داخل ہوں گے وہاں ان کو سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کی جائے گا اور ان کا لباس وہاں پر ریشم ہوگا۔

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِــهُوْنَ[305]

جنت والے لوگ اس دن یقینا اپنے مشغلے میں مگن ہوں گے۔

هُمْ وَاَزْوَاجُهُمْ فِيْ ظِلٰلٍ عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ مُتَّكِــــــُٔـوْنَ[306]

وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ[307]

یہ لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے

فَوَاكِهُ ۚ وَهُمْ مُّكْـرَمُوْنَ[308]

میوے اور ان کا اعزاز کیا جائے گا

فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ[309]

نعمت کے باغوں میں

عَلٰي سُرُرٍ مُّتَـقٰبِلِيْنَ[310]

وہ اونچی نشستوں پرآمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

يُـطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۢ  [311]

ایسی لطیف شراب کے جام ان کے لیے گردش میں آئیں گے۔

بَيْضَاۗءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ[312]

جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی

لَا فِيْهَا غَوْلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ[313]

نہ اس سے دردسر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے

وَعِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِيْنٌ[314]

اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی

كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ[315]

(ان کا بےداغ وجود) ایسا لگے گا جیسے وہ (گرد و غبار سے) چھپا کر رکھے ہوئے انڈے ہوں۔

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ  [316]

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

مُتَّكِــــِٕيْنَ فِيْهَا يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ وَّشَرَابٍ[317]

اور انکے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی ہم عمر عورتیں ہونگی

اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ[318]

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گا

اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ[319]

جوصبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بے حساب دیا جائے گا۔

لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ[320]

وہ جو چاہیں گے ان کے لئے انکے پروردگار کے پاس (موجود) ہے

وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ ۡ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوْۗءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ   [321]

اور جو پرہیزگار ہیں انکی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا انکو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ وہ غمناک ہوں گے

وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ   [322]

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو جاؤ

فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ   [323]

تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں ان کو بیشمار رزق ملے گا

لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ[324]

ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ    [325]

ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ[326]

ہم(فرشتے) دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم (کو ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ[327]

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ[328]

(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس(قیامت) روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار

يٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ[329]

(جن سے کہا جائے گا کہ) اے میرے بندو ! آج تم پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگے

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ[330]

(ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (و احترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہو جاؤ

يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّاَكْوَابٍ ۚ وَفِيْهَا مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْيُنُ ۚ وَاَنْتُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ[331]

ان کے آگے سونے کے پیالے اور گلاش گردش میں لائے جائیں گے۔ اور اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی دلوں کو خواہش ہوگی اور جس سے آنکھوں کو لذت حاصل ہوگی۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) اس جنت میں تم ہمیشہ رہو گے۔

وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْٓ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ[332]

اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دئیے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ[333]

وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ[334]

بے شک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے

فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ       [335]

(یعنی) باغوں اور چشموں میں

يَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ  [336]

باریک اور موٹے ریشم کا لباس پہنیں گے‘ ایک دوسرے کی طرف رخ کیے ہوئے (بیٹھے ہوں گے)

كَذٰلِكَ ۣ وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ[337]

(وہاں) اس طرح (کا حال ہوگا) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کے جوڑے لگائیں گے

يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ[338]

وہاں خاطر جمع سے ہر قسم کے میوے منگوائیں گے (اور کھائیں گے)

لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى ۚ وَوَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ[339]

(اور) پہلی دفعہ مرنے کے سوا (کہ مرچکے تھے) موت کا مزا نہیں چکھیں گے اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

فَيُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ     [340]

انہیں اپنی رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا یہی صریح کامیابی ہے

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ ۭ فِيْهَآ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّاۗءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهٗ ۚ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۭ وَلَهُمْ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ۭ [341]

متقی لوگوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو خراب ہونے والا نہیں، ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا، ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے سراپا لذت ہوگی، اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو نتھرا ہوا ہوگا، اور ان جنتیوں کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہوں گے، اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت !

ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ ۭ ذٰلِكَ يَوْمُ الْخُلُوْدِ[342]

اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے

لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ فِيْهَا وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ[343]

وہاں وہ جو چاہیں گے انکے لئے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی (بہت کچھ) ہے

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ[344]

بے شک پرہیزگار بہشتوں اور چشموں میں (عیش کر رہے) ہوں گے

اٰخِذِيْنَ مَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ[345]

جو جو نعمتیں انکا پروردگار انہیں دیتا ہوگا انکو لے رہے ہوں گے

فٰكِهِيْنَ بِمَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۚ وَوَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ[346]

جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال، اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ[347]

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نہروں میں ہوں گے

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ[348]

اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہو نے سے ڈرا اسکے لئے دو باغ ہیں

ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ[349]

ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)

فِيْهِمَا عَيْنٰنِ تَجْرِيٰنِ[350]

ان میں دوچشمے بہہ رہے ہیں

فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ[351]

ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہیں

مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ۭ وَجَنَا الْجَنَّـتَيْنِ دَانٍ[352]

(اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استر اطلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں

فِيْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ ۙ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَاۗنٌّ[353]

ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں جن کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا اور نہ کسی جن نے

كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ[354]

گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں

وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ[355]

اور ان باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہیں

مُدْهَاۗمَّتٰنِ[356]

دونوں خوب گہرے سبز

فِيْهِمَا عَيْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ[357]

ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں

فِيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ[358]

ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں

فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ  [359]

ان میں نیک سیرت (اور) خوبصورت عورتیں ہیں

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِي الْخِيَامِ[360]

(وہ) حوریں (ہیں جو) خیموں میں مستور (ہیں)

لَمْ يَــطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَاۗنٌّ[361]

ان کو اہل جنت سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے

مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ[362]

سبز قالینوں اور نفیس مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے

عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ[363]

(لعل و یاقوت وغیرہ سے) جڑے ہوئے تختوں پر

مُّتَّكِـــِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ[364]

آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے

يَــطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ[365]

نوجوان خدمت گزار جو ہمیشہ (ایک ہی حالت میں) رہیں گے ان کے آس پاس پھریں گے

بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ ڏ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ[366]

یعنی آبخورے اور آفتابے اور صاف شراب کے گلاس لے کر

لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُوْنَ[367]

اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی

وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَ[368]

اور میوے جس طرح کے ان کو پسند ہوں

وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ   [369]

اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کا جی چاہے

وَحُوْرٌ عِيْنٌ[370]

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُـہ الْمَكْنُوْنِ[371]

جیسے (حفاظت سے) تہ کئے ہوئے (آبدار) موتی

لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا[372]

وہاں نہ بے ہودہ باتیں سنیں گے اور نہ گالی گلوچ

فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ[373]

(یعنی) بے خار کی بیریوں میں

وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ   [374]

اور تہ بہ تہ کیلوں

وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ[375]

اور لمبے لمبے سایوں

وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ[376]

اور پانی کے جھرنوں

وَّفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ[377]

اور میوہ ہائے کثیرہ (کے باغوں) میں

وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ[378]

اور اونچے اونچے فرشوں میں

اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً[379]

ہم نے (وہاں کی) ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے۔

فَجَــعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا[380]

تو ان کو کنواریاں بنایا

عُرُبًا اَتْرَابًا[381]

(اور شوہروں کی) پیاریاں اور ہم عمر

فَرَوْحٌ وَّرَيْحَانٌ ڏ وَّجَنَّتُ نَعِيْمٍ[382]

تو (اس کے لئے) آرام اور خوشبو دار پھول اور نعمت کے باغ ہیں

وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى[383]

خدا نے سب سے (ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے

وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ[384]

اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے

يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ[385]

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو باغہاے جنت میں جن میں نہریں بہہ رہی ہیں اور پاکیزہ مکانات میں جو بہشت ہائے جاودانی میں (تیار) ہیں داخل کرے گا یہ بڑی کامیابی ہے

فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ[386]

پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا

فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ[387]

(یعنی) اونچے (اونچے محلوں کے) باغ میں

قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ[388]

جن کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ[389]

جو (عمل) تم ایام گزشتہ میں آگے بھیج چکے ہو اس کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ[390]

اس روز بہت سے منہ رونق دار ہونگے

اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ[391]

(اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہونگے

اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا  [392]

جو نیکوکار ہیں وہ ایسا مشروب نوش جان کریں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی

عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ يُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِيْرًا   [393]

یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکال لیں گے

فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّسُرُوْرًا[394]

تو خدا انکو اس دن کی سختی سے بچا لے گا

وَجَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّحَرِيْرًا[395]

اور انکے صبر کے بدلے ان کو بہشت (کے باغات) اور ریشم (کے ملبوسات) عطا کریگا

مُّتَّكِــــِٕيْنَ فِيْهَا عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ ۚ لَا يَرَوْنَ فِيْهَا شَمْسًا وَّلَا زَمْهَرِيْرًا[396]

ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت

وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا   [397]

ان سے (ثمر دار شاخیں اور) انکے سائے قریب ہونگے اور میوں کے گچھے جھکے ہوئے لٹک رہے ہونگے

وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّاَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَا۩رِيْرَا۟  [398]

(خدام) چاندی کے باسن لئے ہوئے ان کے اردگرد پھریں گے اور شیشے کے (نہایت شفاف) گلاس اور شیشے بھی چاندی کے جو ٹھیک اندازے کے مطابق بنائے گئے ہیں

قَوَا۩رِيْرَا۟ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا    [399]

شیشے بھی چاندی کے  جنہیں بھرنے والوں نے توازن کے ساتھ بھرا ہوگا

وَيُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا  [400]

اور وہاں ان کو ایسے مشروب پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی

وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ ۚ اِذَا رَاَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا     [401]

اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) آئیں گے جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوے موتی ہیں

وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا   [402]

اور بہشت میں (جہاں) آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت اور عظیم (الشان) سلطنت دیکھو گے

عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا[403]

ان (کے بدن) پر سبز رنگ کے (عظیم الشان) کپڑے ہوں گے باریک اور موٹے ریشم کے اور (مزید عظمت شان سے نواز نے کے لئے) ان کو کنگن پہنائے گئے ہوں گے چاندی کے اور ان کو پلائے گا ان کا رب ایک نہایت ہی عظیم الشان پاکیزہ مشروب

حَدَاۗىِٕقَ وَاَعْنَابًا   [404]

باغات اور انگور۔

وَّكَوَاعِبَ اَتْرَابًا[405]

اور ہم عمر نوجوان عورتیں

وَّكَاْسًا دِهَاقًا[406]

اور شراب کے چھلکتے ہوئے گلاس

لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا كِذّٰبًا  [407]

وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹ (خرافات)

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ[408]

بیشک نیک لوگ چین میں ہوں گے

عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ  [409]

تختوں پر بیٹھے ہوئے نظارے کریں گے

تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِ[410]

تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کرلو گے

يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ[411]

انہیں ایسی خالص شراب پلائی جائے گی جس پر مہر لگی ہوگی۔

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ ۭ [412]

اس (شراب)کی مہر بھی مشک ہی مشک ہوگی

فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا[413]

اس سے حساب آسان لیا جائے گا

وَّيَنْقَلِبُ اِلٰٓى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا[414]

اور وہ اپنے گھروالوں میں خوش خوش آئے گا

وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ  [415]

اور سامنے رکھے ہوئے پیالے۔

وَّنَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌ[416]

اور گاؤ تکئے قطار لگے ہوئے

وَّزَرَابِيُّ مَبْثُوْثَةٌ[417]

اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی

جَزَاۗؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭرَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ[418]

ان کا بدلہ ہے ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں بہتی ہیں ان کے نیچے سے نہریں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ان میں ہمیشہ ہمیشہ راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راض ہوئے اس سے


وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ


 

 

[1]المریم 97

[2]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 38

[3](دیوان حسان بن ثابت ص14)

[4]25-البقرہ

[5]الشوری 23

[6]البقرہ -82

[7]ال عمران-57

[8]البقرہ-177

[9]النساء-57

[10]العصر-2-3

[11]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 8

[12]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 13

[13]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 25

[14]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 46

[15]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 49

[16]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 52

[17]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 998

[18]مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 2

[19](مجموعہ تفاسیر فراہی ص ۳۵۲)

[20]البقرہ-223

[21]البقرہ-4

[22]البقرہ-160

[23]البقرہ-177

[24]آل عمران -104

[25]آل عمران-135

[26]النساء-65

[27]النساء-152

[28]النساء-162

[29]الاعراف-206

[30]الانفال-2

[31]الانفال-74

[32]التوبتہ-71

[33]التوبتہ-112

[34]الرعد-20

[35]الرعد-21

[36]الانبیاء-49

[37]المومنون-2

[38]المومنون-3

[39]المومنون-4

[40]المومنون-5

[41]المومنون-8

[42]المومنون-9

[43]المومنون-57

[44]المومنون-58

[45]المومنون-59

[46]المومنون-60

[47]النور-37

[48]الفرقان-63

[49]الفرقان-64

[50]الفرقان-65

[51]الفرقان-67

[52]الفرقان-68

[53]الفرقان-72

[54]الفرقان-73

[55]الفرقان-74

[56]فاطر-29

[57]الزمر-18

[58]الشوری-36

[59]الشوری-37

[60]الشوری-38

[61]الشوری-39

[62]الاحقاف-15-16

[63]الحجرات-15

[64]ق-32

[65]ق-33

[66]التغابن-16

[67]المعارج-23

[68]المعارج-24-25

[69]المعارج-26

[70]المعارج-27

[71]المعارج-29

[72]المعارج-32

[73]المعارج-33

[74]الانسان-7

[75]الانسان-8

[76]النازعات-40

[77]الاعلی-14

[78]الاعلی-15

[79]الیل-18-20

[80]العصر-3

[81]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 6728

[82]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 5475

[83]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 3956

[84]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2881

[85]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2247

[86]مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 800

[87]مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 782

[88]مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 1153

[89]مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 333

[90]مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 2182

[91]مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 2010

[92]مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 2813

[93]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3707

[94]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3417

[95]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3330

[96]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 1934

[97]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 1590

[98]مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 2475

[99]مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 2012

[100]مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 1356

[101]مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 172

[102]موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 1713

[103]سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1944

[104]البقرہ -155

[105]البقرہ-156

[106]البقرہ-153

[107]آل عمران-142

[108]آل عمران-146

[109]آل عمران-186

[110]ھود-11

[111]الرعد-22

[112]الفرقان-20

[113]الفرقان-75

[114]القصص-54

[115]الشوری-43

[116]المدثر-7

[117]الانسان-12

[118]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1245

[119]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1412

[120]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 3093

[121]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2150

[122]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 1624

[123]مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 2951

[124]مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 392

[125]سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 365

[126]رواہ احمد و ابوداؤد کمافی المشکوٰۃ ص ۱۳۷

[127]مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1180

[128]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 2030

[129]موطا امام مالک:جلد اول:حدیث نمبر 1729

[130]صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1988

[131]حلیتہ الاولیاء

[132]ابن کثیر ص ۵۵۷۔ ۵۵۸ ج ۱

[133]20-21التوبتہ

[134]النساء-100

[135]النحل-41

[136]الحج-58

[137]صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1

[138]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 498

[139]مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 205

[140]البقرہ-190

[141]البقرہ-216

[142]آل عمران-142

[143]آل عمران-195

[144]النساء-74

[145]النساء-75

[146]النساء-76

[147]النساء-95

[148]الانفال-60

[149]التوبتہ-24

[150]التوبتہ-29

[151]التوبتہ-44

[152]التوبتہ-73

[153]التوبتہ-111

[154]التوبتہ-122

[155]التوبتہ-123

[156]الفرقان-52

[157]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 7345

[158]مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 205

[159]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 7035

[160]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 6425

[161]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 3956

[162]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 3114

[163]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2804

[164]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2334

[165]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2153

[166]مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 282

[167]مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 790

[168]مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 1823

[169]مسند احمد:جلد ششم:حدیث نمبر 1630

[170]مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 564

[171]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3523

[172]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 1535

[173]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 1246

[174]مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 288

[175]مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 1089

[176]جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1693

[177]جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1692

[178]جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 1688

[179]النحل-89

[180]الزخرف-68-69

[181]الحج-78

[182]-33فصلت

[183]القلم-35

[184]مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 643

[185]مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1226

[186]المریم-97

[187]البقرہ-2

[188]البقرہ-180

[189]البقرہ-183

[190]البقرہ-194

[191]البقرہ-241

[192]آل عمران-16

[193]آل عمران-17

[194]آل عمران-76

[195]آل عمران-133

[196]آل عمران-134

[197]الاعراف-201

[198]ھود-49

[199]الحجر-45

[200]النحل-30

[201]النحل-31

[202]المریم-85

[203]الج-32

[204]الشعرء-30

[205]القصص-83

[206]الزخرف-35

[207]الزخرف-67

[208]دخان-51

[209]الجاچثہ-19

[210]الذاریت-15

[211]الذاریت-17

[212]الذاریت-18

[213]الذاریت-19

[214]الطور-17

[215]القمر-54

[216]النباء-31

[217]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 7279

[218]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2114

[219]مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 505

[220]مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 1447

[221]سنن ابن ماجہ:جلد دوم:حدیث نمبر 299

[222]مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 3219

[223]سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869

[224]ابن کثیر جلد اول ص 40

[225]-34آلحج

[226]الحج-35

[227]صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2091

[228]مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 776

[229]البیہقی نے شعب الایمان میں عمرو بن اوس (رح) سے روایت کیا

[230]الحج-37

[231]تفسیر بیان القرآن ڈاکٹر اسرار احمد

[232]البقرہ-112

[233]البقرہ-195

[234]البقرہ-236

[235]آل عمران-134

[236]آل عمران-135

[237]النساء-125

[238]الاعراف-56

[239]العنکبوت-69

[240]الذریت-16

[241]الذریت-17

[242]الذریت-18

[243]الذریت-19

[244]مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 1377

[245]سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 51

[246]الانعام-82

[247]یس-11

[248]الزمر-17

[249]فصلت-30

[250]جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 459

[251]البقرہ-25

[252]البقرہ-38

[253]آل عمران-15

[254]آل عمران-107

[255]آل عمران-185

[256]آل عمران-195

[257]آل عمران-198

[258]النساء-57

[259]النساء-69

[260]النساء-124

[261]النساء-173

[262]النساء-175

[263]المائدہ-119

[264]الاعراف-43

[265]الانفال-4

[266]الانفال-29

[267]التوبتہ-20

[268]التوبتہ-21

[269]التوبتہ-71

[270]التوبتہ-72

[271]التوبتہ-111

[272]یونس-9

[273]یونس-26

[274]ھود-11

[275]ھود-23

[276]ھود-108

[277]الرعد-23

[278]الرعد-35

[279]الحجر-45

[280]الحجر-46

[281]الحجر-47

[282]الحجر-48

[283]نحل-31

[284]الاسراء-71

[285]الکھف-31

[286]مریم-85

[287]طہ-76

[288]الانبیاء-94

[289]الانبیاء-101

[290]الانبیاء-102

[291]الانبیاء-103

[292]الحج-54

[293]الحج-58

[294]الحج-59

[295]الفرقان-16

[296]الفرقان-24

[297]الفرقان-75

[298]الفرقان-76

[299]النمل-89

[300]العنکبوت-7

[301]العنکبوت-58

[302]لقمن-9

[303]سبا-37

[304]فاطر-33

[305]یس-56

[306]یس-57

[307]الصفت-41

[308]الصفت-42

[309]الصفت-43

[310]الصفت-44

[311]الصفت-45

[312]الصفت-46

[313]الصفت-47

[314]الصفت-48

[315]الصفت-49

[316]ص-50

[317]ص-51

[318]ص-53

[319]الزمر-10

[320]الزمر-34

[321]الزمر-61

[322]الزمر-73

[323]المومن-40

[324]فصلت-8

[325]فصلت-30

[326]فصلت-31

[327]فصلت-32

[328]الزخرف-67

[329]الزخرف-68

[330]الزخرف-70

[331]الزخرف-71

[332]الزخرف-72

[333]الزخرف-73

[334]الدخان-51

[335]الدخان-52

[336]الدخان-53

[337]الدخان-54

[338]الدخان-55

[339]الدخان-56

[340]الجاثیہ-30

[341]محمد-15

[342]ق-34

[343]ق-35

[344]الذریت-15

[345]الذریت-16

[346]الطور-18

[347]القمر-54

[348]الرحمن-46

[349]الرحمن-48

[350]الرحمن-50

[351]الرحمن-52

[352]الرحمن-54

[353]الرحمن-56

[354]الرحمن-58

[355]الرحمن-62

[356]الرحمن-64

[357]الرحمن-66

[358]الرحمن-68

[359]الرحمن-70

[360]الرحمن-72

[361]الرحمن-74

[362]الرحمن-76

[363]الواقعہ-15

[364]الواقعہ-16

[365]الواقعہ-17

[366]الواقعہ-18

[367]الواقعہ-19

[368]الواقعہ-20

[369]الواقعہ-21

[370]الواقعہ-22

[371]الواقعہ-23

[372]الواقعہ-25

[373]الواقعہ-28

[374]الواقعہ-29

[375]الواقعہ-30

[376]الواقعہ-31

[377]الواقعہ-32

[378]الواقعہ-34

[379]الواقعہ-35

[380]الواقعہ-36

[381]الواقعہ-37

[382]الواقعہ-89

[383]الحدید-10

[384]الحدید-21

[385]الصف-12

[386]الحاقۃ-21

[387]الحاقۃ-22

[388]الحاقۃ-23

[389]الحاقۃ-24

[390]القیامۃ-22

[391]القیامۃ-23

[392]الدھر-5

[393]الدھر-6

[394]الدھر-11

[395]الدھر-12

[396]الدھر-13

[397]الدھر-14

[398]الدھر-15

[399]الدھر-16

[400]الدھر-17

[401]الدھر-19

[402]الدھر-20

[403]الدھر-21

[404]النبا-32

[405]النبا-33

[406]النبا-34

[407]النبا-35

[408]المطففین-22

[409]المطففین-23

[410]المطففین-24

[411]المطففین-25

[412]المطففین-26

[413]الانشقاق-8

[414]الانشقاق-9

[415]الغاشیہ-14

[416]الغاشیہ-15

[417]الغاشیہ-16

[418]البینۃ-8